ہومیوپیتھک دواؤں کے ممکنہ نقصانات
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اپنی معروف کتاب “ہومیوپیتھی — علاج بالمثل” میں ہومیوپیتھک ادویات کے بارے میں ایک نہایت اہم اور بصیرت افروز حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ خیال کہ ہومیوپیتھک دوائیں بالکل بے ضرر ہوتی ہیں اور ان کے غلط استعمال سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا — بالکل درست نہیں۔آپؒ اس کی مثال ایک تیز رفتار مگر محفوظ کار سے دیتے ہیں کہ اگر وہ کسی اناڑی اور ناتجربہ کار شخص کے ہاتھ میں آ جائے تو وہی محفوظ کار انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ بالکل اسی طرح ہومیوپیتھک ادویات اگرچہ اصولی طور پر محفوظ ہیں، مگر ان کا غلط انتخاب اور غیر مناسب استعمال مریض کے لیے نقصان دہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح آپؒ نے بائیوکیمک ادویات کے متعلق بھی نہایت واضح تنبیہ فرمائی ہے:’’بائیوکیمک دواؤں کا مسلسل استعمال اگر خون کے وقتاً فوقتاً تجزیے کے بغیر کیا جائے تو یہ نہایت خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ان ادویات کا اندھا دھند استعمال جسم میں نمکیات کا توازن درست کرنے کی بجائے اسے شدید طور پر بگاڑ سکتا ہے۔حتّٰی کہ بعض مستند مثالیں موجود ہیں جن میں بائیوکیمک ٹانک کے غیرضروری اور مسلسل استعمال سے بچوں میں بلڈ کینسر جیسی مہلک بیماریاں پیدا ہوئیں اور وہ سنبھل نہ سکے۔
ہومیوپیتھی کا بنیادی اصول۔علاج بالمثل
ہومیوپیتھی دراصل اس اصول پر قائم ہے کہ ’’جو چیز جس طرح کی علامات پیدا کر سکتی ہے، وہی اسی قسم کی علامات والی بیماری کے علاج میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم میں یہ حیرت انگیز صلاحیت رکھی ہے کہ وہ ہر بیماری اور ہر زہر کے خلاف ایک قدرتی ردِعمل پیدا کرتا ہے جس کو عرف عام میں Immuneسسٹم کہا جاتا ہے۔لیکن جب جسم کا یہ دفاعی نظام کمزور پڑ جائے اور بیماری کا مقابلہ نہ کر سکے، تو ہومیوپیتھک دوا کے ذریعے اس سوئے ہوئے دفاعی ردِعمل کو دوبارہ متحرک کیا جاتا ہے اور انسان کا دفاعی نظام جوکہ پہلے Non-Activeتھا اور بیماری کے خلاف کوئی ردِ عمل نہیں دکھارہا تھا فوراً Activeہو جاتا ہے۔
اس لیے یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ہومیوپیتھک علاج میں دوا اسی وقت فائدہ دیتی ہے جب اس کی علامات مریض کی بیماری کی علامات سے مکمل مطابقت رکھتی ہوں۔اگر دوا اور بیماری کی علامات آپس میں مطابقت نہیں رکھتیں تو اس کے نتیجہ میں جسم کے اندر ایک نئی مصنوعی بیماری پیدا ہو جاتی ہے، جو پہلی بیماری سے مختلف ہوتی ہے۔ایسی صورت میں مریض کے ٹھیک ہونے کے بجائے ایک نئی بیماری میں مبتلا ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔اسی لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ہومیوپیتھک علاج ہمیشہ کسی مستند، تجربہ کار اور ماہر معالج کے مشورے سے کروایا جائے۔غیر تربیت یافتہ افراد یا خود سے علاج کرنا بظاہر بے ضرر مگر درحقیقت نہایت نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اس تمہید کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ ہمارے مشاہدات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض مریضوں نے ہومیوپیتھک دواؤں کو بغیر کسی مستند ڈاکٹر کے مشورے کے بے جا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف انہیں نقصان پہنچا بلکہ بعض معاملات میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہوئیں۔
ایک مریض جو دل کے مرض میں مبتلا تھے اور جن کا ہارٹ بائی پاس بھی ہو چکا تھا، اپنے دل کے مسلز کو مضبوط کرنے کے لیے بغیر کسی ڈاکٹر کے مشورہ کے کلکیریا فلور اور کالی فاس کا مسلسل استعمال کرتے رہے۔ اس کے نتیجے میں ان کے دل کی نالیاں (Blood vessels)سخت ہو گئیں اور بالآخر ان کی موت واقع ہو گئی۔اسی طرح ایک مریضہ نے آرنیکا، لیکسز اور لیڈم کو چھ سے سات ماہ تک مسلسل استعمال کیا، جس کے باعث ان کے جسم میں برقی جھٹکے آنے لگے اور انہیں آئی سی یو منتقل کرنا پڑا۔ یہ تمام علامات انہی دواؤں کے غیر ضروری اور مسلسل استعمال کا نتیجہ تھیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے آرنیکا، لیکسز اور لیڈم کو دل کے لیے مفید ٹانک قرار دیا ہے، لیکن ایسے مریضوں کے لیے جن کی علامات ان دواؤں سے مطابقت رکھتی ہوں اور ان کا استعمال صرف مستند ڈاکٹر کے مشورے کے تحت ہی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔لیکن افسوس کے ساتھ دیکھا گیا ہے کہ یوٹیوب اور دیگر ذرائع پر آرنیکا، لیکسز اور لیڈم کو ایک عام اور ہر مریض کے لیے سودمند دوا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے نقصانات اور جان لیوا اثرات کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی جاتی۔ جس کی وجہ سے نہ صرف عوام الناس کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ ہومیوپیتھک طریقہ علاج کے لیے بھی یہ ذرائع بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔
اسی طرح ایک صاحب کو دانت کے درد کے لیے مرک سول ایک ہزار تجویز کیا گیا، لیکن فائدہ نہ ہونے پر انہیں سلیشیا ایک ہزار استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ، جس کے نتیجے میں کچھ عرصے بعد ان کے سارے دانت ڈھیلے ہو کر گر گئے۔
یہ تمام مثالیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ہومیوپیتھک دواؤں کا بے جا اور غیرمحتاط استعمال کس حد تک خطرناک ہو سکتا ہے۔یہ امر بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ بعض افراد کسی دوا سے وقتی افاقہ ہونے کے بعد اسے بغیر کسی طبی راہنمائی کے مسلسل اور طویل عرصے تک استعمال کرتے رہتے ہیں۔ بالخصوص مدر ٹنکچر اور بعض بائیوکیمک مرکبات کو برسہا برس تک بلا ضرورت استعمال کیا جاتا ہے، جو کہ ایک نہایت غیر محتاط اور خطرناک طرزِ عمل ہے۔ اس کے نتیجے میں ہومیوپیتھک دوا شفا بخش ثابت ہونے کے بجائے خود مرض کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور مریض میں نئی، غیر متوقع علامات پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔مدر ٹنکچر ہومیوپیتھک دوا کی بنیادی اور انتہائی طاقتور شکل ہے۔ یہ کوئی عام شربت یا غذائی دوا نہیں بلکہ محدود مدت اور مخصوص طبی ضرورت کے تحت استعمال کے لیے تجویز کی جاتی ہے۔ اس کا غیرضروری اور مسلسل استعمال فائدے کے بجائے مریض میں پروونگ کا سبب بنتا ہے، جس سے مراد یہ ہے کہ دوا کی اپنی علامات مریض میں ظاہر ہونے لگتی ہیں اور یوں ایک نئی بیماری جنم لیتی ہے۔
اسی طرح بعض اوقات حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے خطبات یا لیکچرز کے چند منتخب اقتباسات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نشر کر کے بعض بیماریوں کے مخصوص علاج کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ جب ان ارشادات کو مکمل پس منظر اور مجموعی تعلیمات کی روشنی میں دیکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ ان دواؤں کا اطلاق ہر مریض یا ہر حالت پر درست نہیں ہوتا۔مثال کے طور پر حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے سورائینم (Psorinum) سے متعلق ایک علامت بیان فرمائی ہے کہ بعض اوقات نو جوان بچوں میں سر کے بال غیر معمولی طور پر کم عمری میں سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں، اور اگر ایسے مریض کی مجموعی علامات سورائینم سے مطابقت رکھتی ہوں تو اسے ایک ہزار طاقت میں دینے سے بعض صورتوں میں بالوں کی جڑوں سے سیاہ بال نکلنا شروع ہوجاتے ہیں۔لیکن اسی بیان کے فوراً بعد حضور رحمہ اللہ تعالیٰ یہ وضاحت بھی فرماتے ہیں کہ عام زندگی کے اصول کے مطابق بڑھاپے میں سفید ہونے والے بالوں پر سورائینم کا اثر ہوتا ہے یا نہیں، اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
نیز سورائینم کے مزاج کی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ یہ دوا انتہائی سخت سرد مزاج کے مریض کے لیے ہوتی ہے۔ ایسے مریض کے اخراجات نہایت بدبودار ہوتے ہیں، جسم گندہ اور میلا محسوس ہوتا ہے، اور مجموعی صحت کی کیفیت نہایت خراب ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ دوا شدید اور سنگین نوعیت کے جلدی امراض میں بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔لہٰذا یہ بات نہایت ضروری ہے کہ سورائینم صرف انہی مریضوں میں استعمال کی جائے جن کی علامات، مزاج اور مجموعی کیفیت اس دوا سے مکمل طور پر مطابقت رکھتی ہوں۔ چونکہ سورائینم، سورائسس (Psora) کے فاسد مادّوں سے تیار کی جانے والی دوا ہے، اس لیے اس کا غیر محتاط یا غلط استعمال مریض کے لیے شدید جسمانی و ذہنی تکلیف کا سبب بن سکتا ہے۔ چنانچہ ایسی ادویات کا استعمال ہمیشہ مکمل علم، احتیاط اور مستند معالج کی راہنمائی میں ہونا چاہیے۔
ہومیوپیتھک ادویات کے استعمال سے متعلق اہم احتیاطی ہدایات
٭… ہومیوپیتھک ادویات خصوصاً ہائی پوٹنسی کی دوائیں کبھی بھی کسی مستند اور تجربہ کار ہومیوپیتھک معالج کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریں۔
سنی سنائی باتوں، غیر مستند افراد کے مشوروں یا سوشل میڈیا پر کی جانے والی اشتہار بازی سے متاثر ہو کر دوائی کا استعمال کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
٭… ہومیوپیتھک ادویات اگرچہ قدرتی اصولوں پر مبنی ہیں اور اپنے اندر شفا کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن ان کا غلط، بے جا یا مسلسل استعمال شدید جسمانی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
٭… بہت سی ہومیوپیتھک ادویات ایسے زہریلے مادّوں (Poisons) سے تیار کی جاتی ہیں جن کا درست استعمال تو علاج کا ذریعہ بنتا ہے، مگر غلط استعمال زہر کی طرح اثر دکھا سکتا ہے۔
٭… ہومیوپیتھک علاج کے اصول کے مطابق دوا جسم میں موجود مرض یا زہریلے اثرات کو ختم کرنے کے لیے دی جاتی ہے، لیکن اگر مقدار، پوٹنسی یا مدت کا تعین درست نہ ہو تو یہی دوا مریض کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
٭… اس لیے ہر مریض کو چاہیے کہ ہومیوپیتھک دوا استعمال کرتے وقت اس حقیقت کو ذہن نشین رکھے کہ درست تشخیص اور ماہر معالج کی نگرانی کے بغیر دوا کا استعمال خدانخواستہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
(ابو مصباح الطاہر)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۱۰)(قسط ۱۳۵)




