متفرق مضامین

مکرم میر محمود احمد ناصر صاحب ۔ خلافت کا اعلیٰ مقام راسخ کرنے والے

(( سہیل احمد ثاقب۔استاد جامعہ احمدیہ کینیڈا))

مکرم و محترم میر محمود احمد ناصر صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ ربوہ کی سیرت کا ایک پہلو جو بہت نمایاں نظر آتا ہے وہ آپ کی خلافت کے ساتھ عقیدت ،محبت اور وفا ہے ۔نہ صرف آپ خود اس کے عملی نمونہ تھے بلکہ آپ نے اپنے شاگردوں میں بھی خلافت کے اعلیٰ و ارفع مقام اور محبت و عقیدت کے جذبات کو راسخ کیا۔

مثلاً جامعہ میں جب کوئی استاد رخصت پر ہوتا تو میر صاحب کلاس کو اپنے دفتر میں بلا کر پڑھاتے۔ ایک دفعہ میر صاحب حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کی درس القرآن کی ویڈیوکیسٹ ہمیں سنوا رہے تھے تو کسی وجہ سے کیسٹ کو ریوائنڈ کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ریوائنڈ کرنے کے نتیجے میں ویڈیوکیسٹ تیزی سے چلنے لگی جس کے نتیجے میں حضور کی ویڈیو غیر مناسب لگی۔ اِس پر میر صاحب نے ہمیں توجہ دلائی کہ جب بھی ریوائنڈ کرنی ہو تو اس کو پہلے بند کریں کہ ویڈیو نظر نہ آئے اور اس کے بعد اس کو ریوائنڈ کیا جائے۔ تو اس طرح انتہائی باریکی میں جاکر خلافت کے اعلیٰ مقام کو طلبہ جامعہ کے دلوں میں راسخ کیا کہ جس سے خلافت کے اعلیٰ مقام و مرتبہ میں ادنیٰ سا بھی تخفیف کا شائبہ نظر نہ آئے ۔

حضور رحمہ اللہ کے لائیو خطبہ جمعہ نشر ہونے سے قبل میر صاحب بعض اوقات جامعہ کے ہال میں آجاتے اور سب طلبہ کے ساتھ بیٹھ کر حضور رحمہ اللہ کا خطبہ سنا کرتے۔ جب خطبہ جمعہ کے لیے اذان شروع ہوجاتی تو میر صاحب ناپسند فرماتے کہ طالب علم حضور کے آنے کے بعد ہال کے اندر تشریف لائیں۔ کہا کرتے کہ خلیفۃ المسیح کے آنے سے پہلے ہمیں ہال میں موجود ہونا چاہیے اور یہ بے ادبی ہے کہ حضور خطبہ جمعہ کے لیے تشریف لاچکے ہوں اور ہم تاخیر سے آئیں۔

ایک بار آپ کو شوریٰ کے موقع پر ایوان محمود ربوہ میں خلافت کے موضوع پر کچھ کہنا تھا۔ تقریر سے قبل آپ ہال سے باہر تشریف لائے آپ نے وضو کیا اور وضو کے بعد آپ نے خلافت کے اعلیٰ و مقدس مقام پر بات کی۔

ایک دفعہ مکرم نائب ناظر صاحب اشاعت، الفضل میں شائع شدہ خاکسار کے ایک مضمون کے حوالے سے جامعہ ربوہ تشریف لائے اور کہنے لگے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نےاس مضمون پر خوشنودی کا اظہار فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ اسی مضمون کی مناسبت سے مزید مواد اکٹھا کر کے مرکز بھجوایا جائے۔ اِس پر محترم میر صاحب نے میری خوب حوصلہ افزائی فرمائی اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے ارشاد کو جامعہ کے نوٹس بورڈ پر آویزاں کردیا ۔ ساتھ ہی مجھے کہا کہ اس موضوع پر جلد مواد اکٹھا کرکے لندن مرکز بھیجنے کا انتظام کروں۔

ان ہی دنوں لجنہ کی تربیتی کلاس منعقد ہو رہی تھی جس میں غالباً محترم میر صاحب کا اپنا لیکچر تھا لیکن انہوں نے مجھے بھجوا دیا اور کہا کہ یہ مضمون آپ نے ادھر لجنہ کے پروگرام میں پڑھنا ہے ۔ چنانچہ پردہ کی رعایت سے اس کا انتظام کیا گیا۔

یہ ایسا لمحہ تھا کہ اس نے میرے اندر یہ بات راسخ کر دی کہ جس چیز کو خلیفۃ المسیح پسند فرمائیں اور خوشنودی کا اظہار فرمائیں سب سے اہم اور باعث عزت وشرف وہی چیز ہوتی ہے اور اسی کو ترجیح اور فوقیت دینی چاہیے۔

یہ چند ایک ایسی باتیں ہیں جنہوں نے خاکسار پر گہری چھاپ چھوڑی ہے۔ اِن کے علاوہ بھی بہت ساری ایسی باتیں ہیں جن پر آپ کے دور میں جامعہ میں پڑھنے والے طلبہ گواہ ہیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں آپ کے نقشِ قدم پر چلنے والا بنائے اور ہمیں ہمیشہ خلیفۃالمسیح کا وفادار اور جاںنثار بنائے رکھے۔ آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: میرےشفیق والد بزرگوارمحترم گیانی عبداللطیف صاحب درویش قادیان دارالامان

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button