احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح
پہلا اشتہار کتاب …[براہین احمدیہ]کامولوی نور احمد صاحب …کی نظر میں گذرا۔ پھر وہ اشتہار اپنے ہمراہ ڈیرہ میں لائے اور عام پبلک میں نہایت تحدی سے فرمایا کہ کتاب جب شائع ہو گی تو ایسا انقلاب پیدا کرے گی کہ تختہ زمین ہلا دے گی
حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمیؓ
حضرت میر الدین صاحبؓ بیان کرتے ہیں:’’میں ایک روز حسب معمول جہلم سبق کے لئے مولوی صاحب کے ہاں حاضر ہوا تو معلوم ہوا کہ آپ ڈپٹی راجہ جہاں داد خاں صاحب کی کوٹھی پر گئے ہوئے ہیں۔ میں اپنا سامان شیخ قمرالدین صاحب کی دکان پر رکھ کرڈپٹی صاحب کی کوٹھی پر پہنچا۔ دروازے پر ان کا نوکر کھڑا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ اندر جو لال داڑھی والا انسان(مولوی برہان الدین صاحب) بیٹھا ہے۔ اس کو جاکر کہہ دو کہ مہر دین لالہ موسیٰ والا السلام علیکم عرض کرتا ہے۔ جواب میں آپ نے پیغام بھیجا کہ اس کو اندر آنے دو۔ میں نے وہاں پہنچ کر السلام علیکم کہا ۔ راجہ جہاں داد خاں نے کہا کہ یہ بھی احمدی ہے۔ میں نے کہا ہاں۔ ان شاء اللہ اپنے اعتقاد کے لحاظ سے مولوی صاحب سے آگے ہوں۔ اس نے کہا کہ بھائی محمدی کیوں نہ رہا۔ میں نے کہا اب محمدیت کا زمانہ نہیں رہا۔ اب احمدیت کا وقت ہے۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ کیا گاڑی میں کچھ وقت ہے۔ میں نے عرض کی پندرہ منٹ ہیں۔ راجہ صاحب نے کہا کہ آج تم نہ جاؤ۔ یہاں ہی رہ جاؤ۔ میں نے کہا وجود وقف کردیا ہوا ہے۔ اس لئے میں رہ نہیں سکتا۔ اس جگہ پر ایک سید صاحب بھی تھے جو کہ حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق مولوی صاحب سے مناظرہ کررہے تھے اور راجہ پیندے خاں صاحب داراپوری بھی وہاں موجود تھے۔ سید صاحب نے کہا کہ مولوی صاحب آپ مرزا صاحب کے فریب میں آگئے۔ کیونکہ آپ کو مرزاصاحب نے کہا کہ مجھے آپ کے متعلق الہام ہوا ہے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ یہ بات نہیں بلکہ جب مرزا صاحب نے براہین احمدیہ کتاب لکھی۔ میں نے اس کتاب کو پڑھا تو میں نے خیال کیا کہ یہ شخص آئندہ کچھ ہونے والا ہے۔ اس لئے میں اس کو دیکھ آؤں۔ میں ان کو دیکھنے کے لئے قادیان پہنچا تو مجھے علم ہوا کہ آپ ہوشیار پور تشریف لے گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ بار بار آنا مشکل ہے اس لئے ہوشیار پور جاکر دیکھ آؤں۔ میں نے ان کا پتہ پوچھا تو کسی نے بتلایا کہ ان کی بہلی کے بیل سفید ہیں۔ وہ واپس آرہا ہوگا۔ آپ راستہ میں اس سے پتہ پوچھ لیں۔ جب ہم دریا پر پہنچے تو ہماری ناؤ بہلی والے کی ناؤ سے کچھ فاصلے پر گزری اس لئے اس سے کچھ دریافت نہ کرسکے۔ جب میں ہوشیار پور پہنچا تو مرزا اسماعیل بیگ حضور کے ہمراہ بطور خادم تھے۔ حضور کو انگریزی میں الہام ہوا تھا جس کا ترجمہ کرانے کے لئے وہ جارہے تھے کہ مجھے ملے میں نے ان سے پوچھا کہ مرزا صاحب کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں تلاش کرلیں۔ معلوم نہیں۔ حضرت صاحب نے منع کیا ہوا تھا یا کوئی اور بات تھی۔ آخر میں پوچھ کر آپ کے مکان پر پہنچا اور دستک دی۔ خادم آیا اور پوچھا کون ہے۔ میں نے کہا۔ برہان الدین جہلم سے حضرت مرزا صاحب کو ملنے کے لئے آیا ہے۔ اس نے کہا کہ ٹھہرو میں اجازت لے لوں۔ جب وہ پوچھنے گیا تو مجھے اسی وقت فارسی میں الہام ہوا کہ جہاں تم نے پہنچنا تھا پہنچ گیا ہے اب یہاں سے نہیں ہٹنا۔ خادم کو حضرت صاحب نے فرمایا کہ ابھی مجھے فرصت نہیں۔ ان کو کہہ دیں پھر آئیں۔خادم نے جب یہ مجھے بتلایا تو میں نے کہا کہ میرے گھر دور ہیں۔ میں یہاں ہی بیٹھتا ہوں جب فرصت ملے گی تب ہی سہی۔ جب خادم یہ کہنے کے لئے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت صاحب کو عربی میں الہام ہوا کہ مہمان آوے تو مہمان نوازی کرنی چاہئے۔ جس پر حضرت صاحب نے خادم کو حکم دیا کہ جاؤ جلدی سے دروازہ کھول دو۔ میں جب حاضر ہوا تو حضور بہت خندہ پیشانی سے مجھے ملے اور فرمایا کہ ابھی مجھے یہ الہام ہوا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے فارسی میں یہ الہام ہوا ہے کہ اس جگہ سے جانا نہیں۔ میں چند دن حضرت کے پاس رہا اور حضرت کے حالات دیکھے کہ تین وقت تک آپ نے کھانا نہیں کھایا اور نماز کے وقت جلدی سے باہر تشریف لاتے اور فرماتے کہ تھوڑا پانی لاؤ میں نے وضو کرنا ہے نماز ہمارے ساتھ ادا کرکے پھر اندر تشریف لے جاتے۔ وہاں مرزا اعظم بیگ ہوشیار پوری مہتمم بندوبست تھا۔ وہ میرا واقف تھا۔ میں ان سے ملنے کے لئے گیا۔ اس نے پوچھا کہ مولوی جی آپ کیسے آئے۔ تو میں نے کہا کہ حضرت مرزا صاحب کو دیکھنے کے لئے آیا ہوں۔ اس نے پوچھا۔ کون سے مرزا صاحب۔ میں نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی ۔ اس نے کہا کہ آدمی تو بہت اچھا تھا لیکن خراب ہوگیا ہے۔ میں نے کہا کس طرح۔ اس نے کہا کہ بچپن کی حالت میں یہ لڑکوں سے کھیلا نہیں کرتا تھا۔ اس کا والد اس پر ناراض ہی رہتا تھا کہ تم باہر ہی نہیں نکلتے۔ میں نے کہا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اس نے کہا کہ اَلْحَمْدُ کا کون سا موقع ہے۔ میں نے کہاجس زمانہ کا میں واقف نہیں تھا اس کے متعلق تم نے شہادت دے دی کہ آپ بچپن میں ہی نیک تھے اور موجودہ حالت میں نے خود دیکھ لی ہے۔ اس نے کہا کہ موجودہ حالت آپ نے کیا دیکھی۔ میں نے کہا کہ تین تین وقت کھانا نہیں کھاتے اور نماز باقاعدہ ہمارے ساتھ پڑھتے ہیں اور باقی وقت تنہائی میں رہتے ہیں۔ عصر کے وقت کوٹھے پر اس تیزی سے ٹہلتے ہیں جیسے کوئی پچاس کوس کا سفر کرنا ہے۔ میرا قیافہ یہ بات کہتا ہے کہ یہ دور پہنچنے والا آدمی ہے۔ اس نے کہا کہ خراب اس لئے ہوگیا ہے کہ کہتا ہے کہ نجات میرے قدموں پر ہے۔ میں نے کہا کس جگہ کہا ہے۔ اس نے کہا کہ اشتہار دیا ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ وہ اشتہار لادیں۔ دوسرے دن وہ اشتہار لے آئے ،جس کو میں نے پڑھا۔ اشتہار وہ تھا جو براہین احمدیہ کے متعلق حضور نے دیا تھا کہ قرآن خدا کی کتاب ہے اور محمد رسول اللہ اس کے رسول ہیں۔ میں اس کی صداقت پر تین صد دلیلیں دیتا ہوں۔ جو شخص میرے دلائل کے ربع کو تو ڑ دے میں اس کو دس ہزار کی جائداد پر قبضہ دے دوں گا۔ میں نے کہا کہ آپ کو یہ دھوکا لگ گیا ہے۔ جب وہ جائداد پر بھی قبضہ دینے کو تیار ہے تو وہ فَنَافِی الرَّسُوْل ہوچکا۔ اور اس کے قدم اپنے نہ رہے بلکہ رسول کے قدم ہوگئے۔ اس نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تم بھی اس کی امت میں ہوگئے ہو۔ میں نے کہا کہ میں تو تیار ہوں لیکن ابھی وہ بناتے ہی نہیں۔ کیونکہ بیعت ابھی شروع نہ ہوئی تھی۔‘‘(رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلد ۳ صفحہ ۲۲۲ تا ۲۲۵روایت حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمیؓ )
حضرت ڈاکٹر سید غلام غوث صاحبؓ ولد نبی بخش صاحب
’’شروع ستمبر ۱۸۹۷ء کو میں مشرقی افریقہ سرکاری طور پر گوالیار جہاز پر جا رہا تھا۔ حسن اتفاق سے اسی جہاز میں جناب ڈاکٹر رحمت علی صاحب مرحوم برادر جناب حافظ روشن علی صاحب مرحوم سفر کر رہے تھے وہ میرے میڈیکل سکول لاہور سے واقف تھے۔زمانہ سکول میں ہم دونوں احمدی نہ تھے ۔ زمانہ سکول ۱۸۹۱ء تھا مگر اب وہ احمدی ہو چکے تھے۔ بوجہ سابقہ تعارف احمدیت کے متعلق اثنائے سفر جہاز میں بے تکلف گفتگوہوتی رہی ۔ میں اپنے شکوک و اعتراض پیش کرتا تھا وہ نہایت اخلاق و محبت سے قرآن مجید اور حدیث سے نقلی اور عقلی دلائل دے کر مجھے مطمئن کر دیتے تھے ۔ ہمارا جہاز ۱۸ یوم میں ممباسہ پہنچا۔ اس اثناء میں میرے تمام شکوک و اعتراض صاف ہو گئے اور اتفاق حسنہ سے ۲ ماہ تک میں ان کے ساتھ ہی رہا اور ان کے ساتھ ہی نماز پڑھتا تھا۔ میرے لئے احمدیت کی نماز بالکل نئی تھی۔ میرے پاس حضرت رفیع الدین مرحوم کا مترجم قرآن شریف تھا لہٰذا اس کی تلاوت یہ مدنظر رکھ کر شروع کی کہ آیا حضرت عیسیٰ ؑزندہ ہیں یا فوت ہو گئے ۔ ایک ہی دور میں میری تسلی ہو گئی کہ فوت ہو گئے ۔
پھر خیال آیا کہ کیا خدا مردہ کو زندہ نہیں کر سکتا۔ پس یہ مدنظر رکھ کر پھر قرآن مجید کا دور کیا۔ جس سے تسلی ہو گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے۔ ہاں مردہ دل (کفار) یا مایوس مریض زندہ ہو سکتے ہیں۔ پس میں پکا اور سچا احمدی ہو گیا۔ علاوہ ڈاکٹر مرحوم کے بابو محمدافضل خان صاحب مرحوم جو افریقہ ہی میں تھے ۔ بعد میں اخبار البدر کے ایڈیٹر ہوئے۔ صحبت اٹھانے کا بھی موقع ملتا رہا۔ ایسا ہی حافظ حامد علی صاحب مرحوم اور حافظ محمد اسحاق صاحب اوورسیئر سے بھی ملاقات ہوتی رہی اور حضرت اقدس کی کتاب براہین احمدیہ اور اسلامی اصول کی فلاسفی وغیرہ کتابیں پڑھتا رہا۔ علاوہ ازیں نماز تہجد پابندی سے پڑھتا رہا اور دعائیں کرتا رہا کہ اللہ تعالیٰ اور انکشاف کرے۔ اس اثناء میں کئی مبشر خواب اور آپ کی صداقت کے متعلق اور زیارت حضرت محمد ﷺ اور حضرت مسیح موعودؑ کی ہوئی۔ مگر بیعت کے بارے میں یہی سمجھتا رہا کہ اب میں احمدی ہوں۔ تحریر کی کیا ضرورت ہے ۔ مگر اگست ۱۹۰۰ء میں اخبار الحکم میں مرزا یعقوب بیگ نے اپنے بھائی مرزا ایوب بیگ مرحوم کی وفات کے بعد حالات لکھے۔ جس سے مؤثر ہو کر میں نے اسی وقت ایک خط بیعت حضرت اقدس کی خدمت میں لکھا۔ جس کے جواب میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم ؓکا منظوری بیعت کا خط آیا۔ اس کا آخری فقرہ یہ تھا کہ ’’ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو ‘‘۔اس کے بعد میں ۱۹۰۱ء فروری میں چار ماہ کی رخصت پر آیا اور حضرت اقدس کے دست مبارک پر بیعت کی۔ قادیان میں کسی کو جانتا نہ تھا۔ اس لئے بابو محمد افضل خان صاحب نے مجھے ایک رقعہ ماسٹر عبدالرحمان صاحب نو مسلم کے نام دے دیا تھا۔ یہ اس وقت ایف اے کی تیاری کر رہے تھے۔ صرف چند روز قادیان رہ کر میں واپس چلا گیا ۔ اس وقت کی کوئی بات یاد نہیں۔ بعد اختتام رخصت مئی میں واپس افریقہ چلا گیا اور وہاں سے یکصد روپیہ ریویو اور یکصد روپیہ منارۃ المسیح کے لئے بذریعہ منی آرڈر بھیجا۔‘‘ (رجسٹر روایات صحابہؓ (غیرمطبوعہ) جلد ۵صفحہ۲۱تا ۲۳روایت حضرت ڈاکٹر غلام غوث صاحبؓ )
حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ
’’سلسلہ کے اجراء سے قبل مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق علم اور واقفیت ۱۸۸۶ء میں ہوئی جبکہ میں نے پہلی مرتبہ براہین احمدیہ کو دیکھا۔ میں اس کے مضامین کے سمجھنے کی اہلیت نہ رکھتا تھا مگر
جمال و حسن قرآن نور جان ہر مسلماں ہے
والی نظم اس وقت میں نے نقل کی۔ غرض یہ بیج ۱۸۸۶ء میں بویا گیا اور۱۸۸۹ء میں بارور ہوا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکَ
میں نے پہلے ۱۸۸۹ء میں جب لدھیانہ میں بیعت ہوئی بیعت کی تھی اس لئے کہ حضرت اقدس اسی محلہ میں جہاں ہمارا بھی ایک مکان تھا (محلہ نو) اترے تھے مگر بیعت کی حقیقت سے چنداں واقف نہ تھا اور پھر۱۸۹۲ء میں بمقام لاہور بمکان محبوب (ارائیاں) دوبارہ بیعت کی تھی۔‘‘(رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلد ۵صفحہ۱۱۴روایت حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ)
حضرت چوہدری نظام الدین صاحبؓ ولد میاں نبی بخش صاحب
’’ قبل از بیعت جبکہ کمترین ۱۹ یا ۲۰ سال کی عمر میں تھا تو کتاب براہین احمدیہ امرتسر میں رجب علی کے چھاپہ خانہ میں پہنچی تو جلی خط کا پہلا اشتہار کتاب مذکور ممدوح کا۔ مولوی نور احمد صاحب (جو ڈیرہ بابا نانک صاحب کے باشندے تھے) کی نظر میں گذرا۔ پھر وہ اشتہار اپنے ہمراہ ڈیرہ میں لائے اور عام پبلک میں نہایت تحدی سے فرمایا کہ کتاب جب شائع ہو گی تو ایسا انقلاب پیدا کرے گی کہ تختہ زمین ہلا دے گی مولوی صاحب مرحوم کی وہ آواز اب تک میرے کان میں گونج رہی ہے۔ زیادہ تر اسی آواز نے کمترین کو مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں پر ڈالا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔ نیز فدوی کے والد صاحب مرحوم کو بھی خاندان نبوۃ سے بوجہ خدمت ادائیگی کے گہرا تعلق تھا۔ خصوصیت سے گورداسپور میں جناب مرزا غلام قادر صاحب و جناب محمد حیات خان صاحب جج کے پارچات وغیرہ سلائی کا کام کرتے رہے۔‘‘(رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلد ۶صفحہ۲۳۰روایت حضرت چوہدری نظام الدین صاحبؓ )
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خلیفۂ وقت سے وابستگی کی ضرورت و اہمیت




