حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جماعتِ احمدیہ برطانیہ کے مبلغین کی ملاقات

ایک ایسا جامع ٹھوس پروگرام بنائیں کہ جس سے پتا لگے کہ واقعی ایک انقلاب پیدا کرنے کےلیے آپ لوگ تیار ہیں۔… بعض ملکوں میں ہمارے مربیان کا تو بہت بُرا حال ہے اور اپنے الاؤنس(allowance) میں مشکل سے ان کا دس دن بھی گزارا نہیں ہوتا ۔ تو آپ لوگوں کو تو شکر گزاری کے طور پر پہلے سے بڑھ کر کام کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔

مورخہ ۲۴؍ جنوری ۲۰۲۶ء ، بروزہفتہ، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جماعت احمدیہ برطانیہ کے ساٹھ(۶۰) مبلغین کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ جن میں سےاکیالیس(۴۱) میدانِ عمل میں جبکہ اُنیس(۱۹) مختلف جماعتی دفاتر میں خدمتِ دین کی توفیق پا رہے ہیں۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا، جبکہ ملاقات کا باقاعدہ آغاز دعا سے ہوا۔

سب سے پہلے حضورِ انور نے مشنری انچارج صاحب سے استفسارفرمایا کہ کیا میدانِ عمل میں کام کرنے والے مبلغین کی کارکردگی تسلّی بخش ہے؟ اس پر انہوں نے عرض کیا کہ وہ عاجزانہ مساعی بروئے کار لا نے کی توفیق پا رہے ہیں۔ جس پر حضورِ انور نے ارشاد فرمایا کہ محض کوشش کافی نہیں ، بلکہ انسان کو ساری زندگی مسلسل جدوجہد کرنی چاہیے اور اس کے ساتھ واضح اور ٹھوس نتائج بھی مرتب ہونے چاہئیں۔

بعد ازاں حضورِ انور نے ملک بھر میں ہونے والی تبلیغی مساعی کے بارے میں تفصیلی جائزہ لیا اور اس سلسلے میں بعض مبلغین سے انفرادی گفتگو فرماتے ہوئے انہیں زرّیں ہدایات سے بھی نوازا۔

اس تناظر میں حضورِ انور ۲۰۱۲ء میں جامعہ احمدیہ یوکے سے فارغ التحصیل ہونے والے ایک نوجوان مبلغ کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اس کی گریجوایشن کو تقریباً تیرہ سال گزر چکے ہیں، نیز دریافت فرمایا کہ اس عرصے کے دوران اس نے کون سا انقلاب برپا کیا ہے؟ حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ جامعہ یوکے کے فارغ التحصیل مبلغین مغربی ماحول میں تعلیم یافتہ ہوتے ہیں، انہیں زبان کی رکاوٹ درپیش نہیں ہوتی اور وہ مقامی ثقافت کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں، لہٰذا ان سے غیر معمولی اور نمایاں نتائج کی توقع کی جاتی ہے۔ حضورِ انور نے اس حوالے سے مزید دریافت فرمایا کہ کیا اس نوعیت کے کوئی نمایاں نتائج ظاہر ہوئے ہیں؟

اسی طرح حضورِ انور نے مبلغین کے ذاتی تبلیغی روابط کے بارے میں بھی دریافت فرمایا۔ حضورِ انور نے مشنری انچارج صاحب سے پوچھا کہ کیا ہر مبلغ کے کم از کم بیس(۲۰) ذاتی روابط ہیں؟ جب یہ عرض کیا گیا کہ اوسط تعداد اس سے کہیں کم، یعنی دو سے پانچ کے درمیان ہے، تو حضورِ انور نے ایسے مبلغین کو جن کے کم از کم دس(۱۰) روابط ہیں ارشاد فرمایا کہ وہ اپناہاتھ کھڑا کریں۔

ایک مبلغ سے گفتگو کے دوران حضورِ انور نے مقامی آبادی کے بارے میں دریافت فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ قریب ہی افریقی نژاد افراد کی ایک بڑی کمیونٹی موجود ہے۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ انہوں نے اس کمیونٹی میں خاطر خواہ روابط قائم نہیں کیے،نیز فعّال منصوبہ بندی اور باقاعدہ تبلیغی روابط کی ضرورت پر زور دیا۔

حضورِ انور نے ایک اَور مبلغ سے ان کی سالانہ بیعتوں کے اعداد و شمار کے بارے میں بھی دریافت فرمایا۔ اس پرانہوں نے عرض کیا کہ اللہ کے فضل سے امسال اکتیس(۳۱) بیعتیں ہو چکی ہیں۔ جس پر حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ ان بیعتوں میں ان کا ذاتی کردار کیا تھا؟ توانہوں نے عرض کیا کہ اس حوالے سے ہرزیرِ تبلیغ فرد کے ساتھ کم از کم چار(۴) انفرادی تبلیغی نشستیں منعقد ہوئیں اور بیعت سے قبل لٹریچر بھی دیا گیا۔ جب حضورِ انور نے استفسار فرمایاکہ یہ بیعتیں شعبہ تبلیغ کے ذریعے ہوئیں یا ذاتی روابط کے نتیجے میں؟ انہوں نے عرض کیا کہ زیادہ تر احبابِ جماعت انہیں انفرادی طور پر لے کر آتے ہیں، لیکن بعض اوقات یہ افراد خود بھی آ جاتے ہیں۔

اس ضمن میں حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ اگر آپ کے صحیح contactsہوں اور میدانِ عمل میں موجود اکیالیس(۴۱) مبلغین میں سے ہر ایک کے کم از کم دس(۱۰)ذاتی روابط ہوں تو اس طرح سے چار سو دس (۴۱۰) تبلیغی روابط بن سکتے ہیں، لیکن اتنے لوگ آپ کے زیرِتبلیغ نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں حضورِانور نے ہدایت فرمائی کہ ایک comprehensiveتبلیغی منصوبہ تیار کر کے مبلغین کو دیا جائے تاکہ بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

ایک اور مبلغ سے گفتگو کرتے ہوئے حضورِ انور نے گذشتہ ایک سال کے دوران ہونے والی بیعتوں کی تعداد کی بابت دریافت فرمایا۔ نیزجب گذشتہ دہائی کی مجموعی بیعتوں کی تعداد کے متعلق استفسار کیا گیا تو معیّن اعدادو شمار کا علم نہ ہونے کی بنا پر انہوں نے اندازاً تخمینہ لگایا۔ اس پر حضورِ انور نے کمی ٔمعلومات اور نتائج پر عدم اطمینان کا اظہار فرماتے ہوئے تبلیغ میں کمزوریوں کی ایک بنیادی وجہ سستی کو قرار دیا۔

علاوہ ازیں حضورِ انور نے اپنی ایک ہدایت کا تذکر ہ فرمایا کہ اگر جماعت ہر سال مستقل مزاجی سے ملک کی آبادی کے ایک مناسب تقریباً پانچ سے دس فیصد حصّے تک اپنا پیغام پہنچانے کی کوشش کرے تو چند ہی برسوں میں اس کے نمایاں اثرات مرتّب ہو سکتے ہیں۔ حضورِ انور نے نشاندہی فرمائی کہ بہت سے مقامات پر عوامی آگاہی کو اب بھی مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، نیز اس حوالے سے منظم منصوبہ بندی اور مسلسل تبلیغی کوششوں پر زور دیا۔

پھر حضورِ انور نے مختلف تربیتی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے حل میں مربیان پر عائد ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اسی طرح تربیت ہے۔ تربیت کے مسائل اُٹھتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر جوعائلی مسائل matrimonial issues، سارے میاں بیوی کے لڑائی جھگڑے ہیں۔ بیس بیس پچیس پچیس سال شادیوں کو ہو گئے اوربچے جوان ہو گئے، تو اب ان کو خیال آتا ہے کہ ہم خلع لے لیں یا طلاق لے لیں، تو اس قسم کے مسائل کو بھی مربیان کو حل کرنا چاہیے۔ ایک مربی صاحب ہیں، وہ شعبۂ تاریخ میں ہیں ، تو وہ تاریخ کا کام کر رہے ہیں یا اگر کسی لکھنے پڑھنے کے کام میں مصروف ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ وہی کافی ہے۔

تبلیغ کا تو یہ حال ہے کہ کوئی promising resultsنہیں آرہے۔ مربیان، مبلغین کو کام کرنا چاہیے، لیکن وہ نہیں کر رہے۔

تربیت کا یہ حال ہے کہ نمازوں میں حاضری بہت کم ہے۔ اگر بار بار توجہ دلائیں ، لوگوں کے پیچھے جائیں تو نمازوں کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔ آپس کے لڑائی جھگڑے عائلی بھی اور دوسرے بھی، وہ بڑھتے جا رہے ہیں، ان کی طرف مربیان کو توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے۔

بچوں کی تربیت اور تعلیم القرآن کے حوالے سے مربیان کے اہم فریضے کو اُجاگر کرتے ہوئے حضورِ انور نے واضح فرمایا کہ آپ سمجھتے ہیں کہ بچوں کی تربیت صرف خدام الاحمدیہ اور لجنہ کا کام ہے کہ بچوں بچیوں کی تربیت کریں، پڑھائیں اور قرآنِ کریم کی تعلیم دیں۔ ٹھیک ہے کہ جو ذیلی تنظیم ہے ، اس کا ایک انتظام ہے، لیکن تعلیم القرآن مربیان کا بھی کام ہے۔ مَیں نے چند مہینے پہلے جو خطبہ دیا تھا اس میں مَیں نے اس طرف بھی توجہ دلائی تھی کہ قرآن ِکریم کے پڑھانے کی طرف توجہ دیں۔ لوگ غیروں سے پڑھتے ہیں یا مجھے لکھتے ہیں کہ اب کہاں سے پڑھوائیں؟ اور ابھی بھی یہ شکایتیں ہیں۔ امیر صاحب سے مَیں نے پوچھا ہے ابھی بھی جماعتوں کی شکایتیں ہیں کہ مربیان کہتے ہیں کہ یہ ہمارا کام نہیں۔ اگر آپ کا کام نہیں تو کس کا کام ہے؟ اگر ہم نے ہی قرآن نہیں پڑھانا جو بنیادی چیز ہے ، اللہ تعالیٰ کے احکامات ان تک نہیں پہنچانے اور ان کو پڑھانا نہیں اور اس کا ترجمہ نہیں سکھانا تو کس نے کرنا ہے۔ ایک دفعہ پانچ منٹ کا درس دے دیا اور سمجھ لیا کہ ہم نے بہت کام کر لیا ہے، تو یہ تو کوئی کام نہیں ہے۔

مساجد میں نمازیوں کی حاضری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ بہت کم ہیں جو پانچ نمازوں کے لیےمسجد میں آتے ہیں۔ اکثر جگہ سے شکایت آ رہی ہوتی ہے یا اکثر نہیں تو کافی جگہوں سے آ رہی ہوتی ہے جو قابلِ توجہ ہے کہ نمازیں پانچ وقت نہیں ہوتیں۔ لوگوں کے پیچھے پڑنا پڑتا ہے، ان کو بار بار میسج بھیجیں، قرآن ِکریم کے ارشادات، احادیث سے، پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو باتیں ہیں ، خلفاء نے جو نصیحتیں کی ہیں، اس کے مختلف میسج ان کو بھیجتے رہیں کہ نمازوں پراور مسجد میں آنا کتنا ضروری ہے۔

خطباتِ جمعہ اور مختلف میٹنگز میں فرمودہ ہدایات سے اہم نکات اخذ کر کے مربیان کے لیے ہفتہ وار ایک عملی پلان ترتیب دیے جانے کی بابت توجہ مبذول کرواتے ہوئے حضورِ انور نے یا د دلایا کہ اتنےعرصے سے مَیں جمعہ پر یا ہر کسی میٹنگ میں نمازوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ اس کے بعد آپ مربیان کوئی پلان بناتے ہیں؟

حضور انور نے مبلغ انچارج صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر ہفتہ خطبہ سنتے ہیں ، اس خطبہ میں جو اہم پوائنٹس ہوتے ہیں ، مرکز میں اپنے ساتھ اپنی ایک ٹیم بنائیں، وہ اہم پوائنٹ نکال کے سارے مربیان کو میسج کیا کرےکہ آپ نے اس ہفتے میں اس پرزیادہ کام کرنا ہے۔اس پر زیادہemphasisدیں اور جماعت کے ممبروں کو بھی سرکولیٹ کریں ۔ دو تین لائنوں کے ہوں اور اہمیت بتائی جائے کہ آج آپ نے نماز کے اُوپر زیادہ زور دینا ہے، دعاؤں پر زیادہ زور دینا ہے یاتربیت پر زیادہ زور دینا ہے۔ ایک پلان اس طرح بنائیں، پھر ان کو بھیجیں تاکہ ان کو پتا لگے کہ ان کے کام کیا ہیں۔

بعد ازاں دورانِ ملاقات حضورِ انور نے تمام مربیان کو اس طرف بھی توجہ دلائی کہ وہ خود بھی خُطبہ جمعہ کے نکات نوٹ کیا کریں تاکہ ہدایات محفوظ رہیں اور ان پر زیادہ مؤثر طور پر عمل کیا جا سکے۔

حضورِ انور نے مربیان کو یاد دہانی کرائی کہ یہ کوئی کامیابی کی بات نہیں کہ صرف ماہانہ اجلاس میں شرکت کر لی جائے یا پانچ وقت کی نمازیں پڑھا دی جائیں، کیونکہ محض یہ کام بجا لانا بذاتِ خود کوئی نمایاں کارنامہ نہیں ہے۔

مزید برآں دورانِ ملاقات حضورِ انور نے مربیان کو تہجد اور نوافل کی ادائیگی کی اہمیت کی جانب بھی توجہ دلائی اور جماعت کی کامیابی کے لیےدعا کرنے کے بارے میں بھی تلقین فرمائی کہ اتنے عرصے سے مَیں اس طرف توجہ دلا رہا ہو ۔اکثر لوگ جو دوسرے ہیں وہ بھی لکھنے لگ گئے ہیں کہ ہماری توجہ پیدا ہو رہی ہے۔ تو جو مربیان ہیں، جن کو ایک رول ماڈل ہونا چاہیے، ان کے اگر نمونے ایسے ہیں کہ تہجد نہیں پڑھ رہے تو پھر باقیوں پرکیا اثر ڈالیں گے؟ کتنے ایسے ہیں جو اپنی جماعت کی ترقی کے لیے، ممبران کے لیے، اپنے حلقے کےلیے دو نفل روزانہ پڑھتے ہیں؟ یہ بھی ضروری چیز ہے ۔اپنے لیے تو دعائیں کر لیتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ یہ بھی دے دے ، ہمارے بچوں کو بھی دے دے، ہماری بیوی کو دے دے، ہمارےرشتہ داروں کی ضروریات بھی پوری ہو جائیں ، لیکن جماعت کے لیے جو دعا ہونی چاہیے وہ کوئی نہیں۔ اور جب دعا نہیں تو پھر اس میں برکت کیا پڑے گی؟ تو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں کہ آپ کے سپرد کیا کام کیا گیا ہے۔

خلافت کا حقیقی سلطانِ نصیر بننے، وقف کی روح کے تحت اپنے اندر قربانی کا جذبہ پیدا کرتے ہوئے وقف کا حق ادا کرنے کے ضمن میں حضورِ انور نے ارشاد فرمایا کہ خط میں لکھ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خلافت کا سلطانِ نصیر بنائے ۔ تو خلافت کے سلطانِ نصیر اس طرح تو نہیں بنتے۔ اس کے لیے تو جان مارنی پڑتی ہے، قربانیاں دینی پڑتی ہیں اور جہاد کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد آپ وہ چیز حاصل کریں گے جو آپ کا مقصد ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ صحابہؓ نے تو اپنی جانوں کو قربان کیا اور جہاد کےلیے جاتے تھے۔ آج کل وہ جہاد تو نہیں لیکن جو جہاد اس زمانے کا ہے اس کو تم لوگ صحیح طرح ادا کرو ۔ اور آپ لوگ تو ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو پیش کیا کہ ہم اس جہاد میں forefront پر رہنے والے ہیں اور ہم نے لوگوں کو بھی راہنمائی کرنی ہے اور خود بھی اپنے ایک نمونے قائم کرنے ہیں۔ جب یہ ہوگا تو تبھی وہ انقلاب آپ لا سکتے ہیں جس کے لیے آپ نے وقف کیا ہے۔ نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کو بھی دھوکا دینے والی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ دھوکے میں تو نہیں آتا۔ٹھیک ہے کہ غیروں کے لیےحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے لیکن ہر ایک کےلیے جو اپنے آپ کو صحیح سمجھتا ہے وہ بھی اس کے نیچے آئے گا۔ فرمایاالفاظ یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ ٹھگا نہیں جا سکتا۔ خدا تعالیٰ کی خاطر وقف کیا ہے تو اس کے لیےپھر قربانی بھی دینی پڑے گی۔ وقف تو نام ہی قربانی کا ہے۔ یہ کہنا کہ ہمیں یہ سہولت مل جائے، وہ مل جائے، یہ چیز ہمارے پاس نہیں ہے، فلاں چیز نہیں ہے اور فلاں مسائل میں چلے گئے۔ بچوں کے مسائل بھی ہوتے ہیں ان کا بھی حق ادا کرنا ہے ۔ بیوی کا بھی حق ادا کرنا ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھیں کہ جو اصل مقصد ہے اس کا ہم کہاں تک حق ادا کر رہے ہیں۔ اگر وہ حق ادا کرنے والے ہوں تو آپ کی ترقی جو ہے وہ کم از کم دس گنا تو ہو سکتی ہے۔

مربیان سے وابستہ توقعات اور ان کی عملی ذمہ داریوں پر گفتگو کرتے ہوئے حضورِ انور نے ارشاد فرمایا کہ آپ سے تصوّر یہ کیا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ گہرا علم تو آپ کو ہونا چاہیےاور آپ اس کا تسلّی بخش جواب دے سکتے ہیں۔ آپ میں سے بعض اللہ کے فضل سے یہاں میرے سامنے بھی بیٹھے ہوئے ہیں جو بڑی اچھی تبلیغ بھی کرتے ہیں، تربیت کے کام بھی کر رہے ہیں ، لیکن اکثریت جو ہے وہ وہ مقصد پورا نہیں کر رہی ہے کہ جو کرنا چاہیے۔ اسی طرح دفتروں میں کام کرنے والے اُنیس(۱۹) مربیان ہیں۔ اب وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے صرف انتظامی کام کرنا ہے ، انتظامی معاملات ہو گئے توبس ٹھیک ہے۔ نہ ان کی نمازوں کی طرف پوری توجہ ہے، نہ ان کی قرآن کریم پڑھنے کی طرف توجہ ہے، نہ اس کی تفسیر پڑھنے کی طرف توجہ ہے اور نہ ہی جماعتی لٹریچر پڑھنے کی طرف توجہ ہے ۔

مؤثر کارکردگی اور دائرۂ عمل کی وسعت کے تناظر میں حضورِ انور نے فعّال مربیان کا تقلیدی نمونہ اختیار کرنے کی بابت تلقین فرمائی کہ جوefficientمربیان ہیں وہ تو مجھے بعض دفعہ ہر خطبے کے بعد پوائنٹ لکھ کے دے دیتے ہیں کہ یہ یہ پوائنٹس تھے ، ان پر اب ہم نے کام شروع کرنا ہے یا شروع کیا ہے۔ تو آپ لوگ وہ efficient مربیان بننے کی کوشش کریں، جو نہیں کرتے۔ جو کر رہے ہیں وہ اپنے پلان کو مزید وسیع کریں اورexpandکریں کہ ہم کس طرح اس کو مزید پھیلا سکتے ہیں۔ حضورِ انور نے ایک مرتبہ پھر یاد دلایا کہ بیس سال پہلے مَیں نے کہا تھا کہ ملکی آبادی کا اگر پانچ دس فیصد ہم ہر سال cover کرنا شروع کریں تو دس سال میں بہت بڑی آبادی coverہو سکتی ہے، لیکن اکثر لوگ تو جماعت کو جانتے ہی نہیں، آپ کے اپنے حلقے میں نہیں جانتے کہ جہاں مربیان بھی ہیں۔

مسجد فضل کے سنگِ بنیاد کی مناسبت سے صد سالہ جوبلی کے موقع پر اس کی تاریخ سے متعلق لگائی گئی نمائش کے تناظر میں ایک مربی سلسلہ کو مخاطب کرتے ہوئے حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ آپ نے مسجد فضل کی جو سو سال پورے ہونے پر وہاں ہسٹری کی نمائش لگائی تھی، اس میں بعض قریب کے رہنے والے بھی آئےتھے اور ان کے comments یہ تھے کہ ہمیں اس کا پتا ہی نہیں تھا، نہ ہی اس کی ہسٹری پتا تھی اور نہ ہمیں اس کی اتنی واقفیت تھی ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے وہاں جو قریبی مسجد فضل کے رہنے والے ہیں ، ان کو بھی نہیں علم کہ جماعت کیا چیز ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے اور کب یہاں جماعت شروع ہوئی؟ بہت سارے جو بالکل ساتھ ساتھ رہنے والے جڑے ہوئےہیں، وہ تو جانتے ہیں، لیکن اکثریت ذرا سے فاصلے پر جو ہے ان کو پتا ہی نہیں۔ حالانکہ اس کو دیکھنا چاہیے کہ تقریباً ایک سےتین میل کے radius میں ہر ایک کو واقفیت ہونی چاہیے کہ مسجد فضل کی اہمیت کیا ہے۔

پھر حضورِ انور نے ایک مربی اور مبلغ بننے کا حق ادا کرنے کے حوالے سے روزمرّہ کی ترجیحات کو منظم انداز میں ترتیب دیتے ہوئے ایک عملی پروگرام بنانے کی بابت راہنمائی عطا فرمائی کہ اپنا پروگرام یہ بنائیں کہ صبح اُٹھنا ہے ، تہجد پڑھنی ہے ۔اور آج کل تو ویسے بھی راتیں لمبی ہیں تو تہجد پڑھیں۔ جب دن لمبے آ جائیں تو تب بھی پڑھنے کی کوشش کریں۔ کوشش نہیں کریں بلکہ پڑھیں۔ یہ ضروری ہے کیونکہ تبھی تہجدکا ثواب زیادہ ہے۔ اور ایک مقصد میرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں محبّتِ الٰہی کے ذکر کے لیے یہ بھی تھا کہ محبّتِ الٰہی جب پیدا ہوگی تو پھر ایک جوش اور جذبہ پیدا ہوگا اس کے لیے انسان خود پھر کوشش کرے گا اور آپ لوگ جو مربیان ہیں وہ زیادہ بڑھ کے کوشش کریں گے اور اس اُسوۂ حسنہ کو اپنی عملی زندگی کا حصّہ بنائیں گے اور بنانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ توتبھی کامیابیاں مل سکتی ہیں۔نہیں تو ہمارے اکتالیس(۴۱) مربیان فیلڈ میں ہوں یا چار ہزار مربیان فیلڈ میں ہوں، اگر گھر ہی بیٹھے رہنا ہے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا جماعت پر بوجھ ہی ہے اَور توکچھ نہیں۔ اس لیے جائزہ لیں کہ صبح اتنے بجے اُٹھنا ہے، تہجد پڑھنی ہے، فجر پڑھنی ہے، قرآنِ کریم کی تلاوت کرنی ہے، قرآنِ کریم کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنی ہے اور لٹریچر بھی پڑھنا ہے۔ اپنے کام کو دیکھنا کہ آج کیا کیا اور کس preference order میں مَیں نے کیا کام کرنا ہے۔ تبلیغ کا کیا کام کرنا ہے۔ تربیت کا کیا کام کرنا ہے۔ اور لوگوں سے کس طرح آپ نے رابطے بحال کرنے ہیں۔ جو پیچھے ہٹے ہوئے احمدی ہیں ان کو کس طرح ملنا ہے۔ ظہر کی نماز ہے، پھر اس کے بعد کیا کام ہے۔ عصر کی نماز ہے، کیا مصروفیات ہے۔ مغرب کی نماز ہے، عشاء کی نماز ہے اور پھر رات کو سونے تک مَیں نے کیاactivities جماعت کے لیے کیں اور علم حاصل کرنے کے لیے اور اپنی اصلاح کے لیے مَیں نےکیا کوشش کی۔ یہ ساری چیزیں جب ہوں گی تو پھر ہی آپ کو پتا لگے گا کہ آپ ایک مربی اور مبلغ بننے کا حق ادا کر رہے ہیں کہ نہیں کر رہے۔ نہیں تو جیسا کہ مَیں نے کہا کہ ہزاروں میں بھی ہو جائیں تو ہمیں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔

متفرق جماعتی میڈیا پلیٹ فارمز سے باقاعدگی سے مستفید ہونے کی جانب توجہ دلاتے ہوئےحضورِ انور نے ارشاد فرمایا کہ اب میڈیا کے ذریعے الفضل، الحکم اورایم ٹی اے کے ذریعے مَیں جو بھی کسی کو کچھ سمجھانے کے لیے کہتا ہوں، وہ بات سب تک براہِ راست پہنچ جاتی ہے۔ میرے خطبات کے علاوہ ایم ٹی اے پرگذشتہ خلفاء اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی ہدایات بھی باقاعدگی سے نشر کی جاتی ہیں۔ مبلغین کو چاہیے کہ وہ روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ ایم ٹی اے سے استفادہ کرنے کی عادت ڈالیں۔ بالکل اسی طرح جیسے کہ لوگ دیگر چینلز باقاعدگی سے دیکھتے ہیں۔ ایم ٹی اےکے متعدد چینلز اور مکمل شیڈول ، لائیو اور آن ڈیمانڈ، مختلف ڈیوائسز اور زبانوں میں دستیاب ہیں، ان سے استفادہ بالآخر ہر شخص کی دلچسپی اور جذبے پر منحصر ہے۔ بصورتِ دیگر زندگی ایک معنی خیز تبدیلی کے بغیر محض بےمقصد گزرتی ہی رہتی ہے۔

علاوہ ازیں حضورِ انور نےمربیان کوجماعت کی ذیلی تنظیموں کو معاونت وراہنمائی فراہم کرنے کی بھی ہدایت فرمائی کہ مربیان کا یہ کام بھی ہے کہ ذیلی تنظیموں کی اس طرح نگرانی کریں کہ ان سے پوچھیں کہ تمہارے جو پروگرام ہیں، اس کے مطابق تربیت کے پروگرام کیا ہو رہے ہیں، قرآنِ کریم پڑھانے کے کیا پروگرام ہو رہے ہیں؟ انصاراللہ میں بھی پوچھا جا سکتا ہے کیونکہ انصار بھی بہت سارے ایسے ہیں کہ جن کو قرآنِ کریم پڑھنا نہیں آتا اور ان کو پڑھانے کا بھی انتظام ہونا چاہیے اور اس کے لیےاپنے آپ کو پیش کریں۔

مربیان کو تربیت اور ایک جامع و ٹھوس عملی پروگرام کے ذریعے حقیقی انقلاب کی تیاری کی جانب توجہ دلاتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ ایک ایسا جامع ٹھوس پروگرام بنائیں کہ جس سے پتا لگے کہ واقعی ایک انقلاب پیدا کرنے کےلیے آپ لوگ تیار ہیں۔ سات سال آپ نے جامعہ میں لگائے۔ جماعت نے خرچ کیا۔ اس کے بعد facilities ہیں ۔ دنیاوی لحاظ سے بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم بہت بُرے ہیں۔ بعض ملکوں میں ہمارے مربیان کا تو بہت بُرا حال ہے اور اپنے الاؤنس(allowance) میں مشکل سے ان کا دس دن بھی گزارا نہیں ہوتا ۔ تو آپ لوگوں کو تو شکر گزاری کے طور پر پہلے سے بڑھ کر کام کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔ صرف اپنے گھریلو معاملات میں، اپنی گروسری(grocery) میں، اپنے کپڑوں میں، اپنی کاروں کی مرمتوں میں اور تھوڑی سی گپ بازی میں یا انٹرنیٹ دیکھ لیا،اس سے بات کر لی، اسی میں مصروف رہیں تو اس سے فائدہ کوئی نہیں ہوگا۔ اصل مقصد تو یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ جتنے اپنے لوگ ہیں ان کو پہلے تربیت دیں ، قریب لائیں، تو تبھی ہم پیغام آگے پہنچا سکتے ہیں۔ اگر ان کی تربیت نہیں ہو رہی تو آگے بڑھنے کا کیا فائدہ؟ پھر یہی ہوگا کہ ہم آگے دَوڑے جا رہے ہیں اور ہمارے پیچھے سے کوئی سنبھال نہیں رہا۔ یہ اسی طرح ہے کہ جس طرح کوئی شکاری ہو ، اس نےنیٹ لگایا ہو اور نیٹنگ کرتا رہے، پرندے پکڑتا رہے اور پچھلے سنبھالے بغیر جو پہلے پرندے پکڑے ہوئے تھے وہ اس نیٹ کو اُٹھا کے آگے لے جائے تو وہ اُڑ جائیں گے۔ آگے جا کے وہ پکڑ لے گا توپھر وہ اُڑ جائیں گےتو back to square one والا حساب ہو جائے گا۔

حضورِ انور نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ ہو سکتا ہے کہ بعض سینئر مبلغین جو جامعہ احمدیہ یو کے سے فارغ التحصیل ہیں اور برسوں تک برطانیہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں انہیں شاید تین سال کے لیے ممکنہ طور پر افریقہ میں تعینات کیا جائے اور نئے فارغ التحصیل مبلغین برطانیہ میں ان کی جگہ خدمات سرانجام دیں۔ ان سینئر فارغ التحصیل مبلغین کو افریقہ کے دُور دراز علاقوں حتّی کہ دیہات میں بھیجا جائے تاکہ وہ وہاں کی مشکلات اور خدمت کے تقاضوں کا براہِ راست تجربہ حاصل کر سکیں۔

حضورِ انور نے واضح فرمایا کہ مَیں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہاں خدمت کرنے والے اپنا کام مکمل طور پر صحیح طریقے سے انجام دے رہے ہیں لیکن کم از کم وہ مشکلات برداشت کر رہے ہیں اور صبر سیکھ رہے ہیں۔ اوراللہ تعالیٰ کے انعامات اور نعمتوں کا حقیقی شکر اسی وقت ادا ہوتا ہے کہ جب انسان اپنی کوششیں بڑھائے اور پہلے سے زیادہ محنت کرے۔

مزید برآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جوابات کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ آجکل لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ جو تسبیحات کی تحریک ہے ، تو یہ اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے اور اس کو گننا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ تو کیا ہم تسبیح یاbeads استعمال کر سکتے ہیں یا الیکٹرانک بھی بعض چیزیں مل جاتی ہیں۔ کیا اس کو استعمال کر سکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے تسبیح اور گنتی کے لیے مذکورہ آلات کے جائز استعمال پر روشنی ڈالتے ہوئے راہنمائی عطا فرمائی کہ ان کا استعمال کر سکتے ہیں ۔ کس نے کہا کہ حرج ہے؟ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ گنتی کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ حوالہ دیتے ہیں کہ آپؑ نے فرمایا کہ گن گن کر کیا یاد اللہ کرنی؟ لیکن آپؑ نے بعض دعاؤں اور اَذکار کا ذکر کیا کہ اتنی اتنی مرتبہ پڑھو۔ تو اگر وہ گنیں گے نہیں تو پتا کس طرح لگے گا کہ کتنی مرتبہ پڑھو۔ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ہاں صرف دکھاوے کے لیے نہ ہو کہ بعض لوگوں میں بیٹھے ہوئے ہیں تو پڑھ لیں۔ آپ علیحدگی میں استعمال کر سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

حضورِ انور نے ذکرِ الٰہی کے دوران غور و فکر کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے اپنے دستِ مبارک سے نشاندہی فرمائی کہ آجکل وہ انگلی پر چڑھانے والی بھی ایک الیکٹرانک ڈیوائس مل گئی ہے، اس کویوں دباتے رہو اور گنتی کرتے رہو ۔ وہ بھی ہے۔ لیکن پوری دعا پڑھنی چاہیے اور غور بھی ہونا چاہیے جب ذکرِ الٰہی کر رہے ہوں ۔ آپ درود شریف پڑھتے ہیں، نارمل طریقے سے بھی پڑھیں توپندرہ سے بیس منٹ میں دو سو(۲۰۰)دفعہ پڑھ جاتے ہیں۔ اِستغفار بھی سو (۱۰۰)دفعہ پڑھ رہے ہیں تو سات سے آٹھ منٹ میں پڑھ لیتے ہیں۔ رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَا دِمُکَ پڑھتے ہیں تو اگر غور کریں تو وہ بھی سات سے دس منٹ میں زیادہ سے زیادہ پڑھی جاتی ہے ۔

[ قارئین کے استفادےاور تحدیثِ نعمت کے لیے مذکورہ تسبیحات کی دعائیہ تحریک کی بابت مختصر پسِ منظر بیان کیا جاتا ہے کہ حضورِ انور نے جلسہ سالانہ جرمنی ۲۰۲۴ء کی مناسبت سے جلسہ سالانہ کے اغراض و مقاصد کا پُر معارف تذکرہ کرتے ہوئے مذکورہ دعاؤں کی خصوصی تلقین کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ مَیں یہاں ایک تحریک بھی کر دینا چاہتا ہوں۔حضرت خلیفةالمسیح الثّالث رحمہ الله کا ایک رؤیا تھا کہ ان کو کسی بزرگ نے کہا کہ اگر جماعت کا ہر فرد، ہر بڑا دو سو(۲۰۰) دفعہ یہ درود شریف پڑھے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّد۔ اور پھر آپؒ نے فرمایا کہ جو درمیانی عمر کے ہیں پندرہ سے پچیس سال کے لوگ وہ بھی کم از کم سو(۱۰۰) دفعہ پڑھیں۔ بچے بھی کم از کم تینتیس(۳۳)دفعہ پڑھیں۔ چھوٹی عمر کے جو بچے ہیں ان کو ان کے ماں باپ تین(۳)، چار(۴) دفعہ یہ پڑھائیں۔اور ساتھ ہی سو(۱۰۰) دفعہ اِستغفار بھی کریں۔اسی طرح میں یہ بھی شامل کرتا ہوں کہ سو(۱۰۰)دفعہ رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِیْ کا ورد بھی۔آپؒ کو رؤیا میں یہی دکھایا گیا تھا کہ اگر یہ کرو گے تو تم ایک محفوظ قلعہ میں محفوظ ہو جاؤ گے جہاں شیطان کبھی داخل نہیں ہوسکتا اور لوہے کی دیواریں ہیں اس قلعہ کی جس کی دیواریں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ پس کوئی سوراخ ایسا نہیں رہے گا جہاں سے شیطان حملہ کر سکے۔اسی طرح خطبہ کے آخری حصّے میں حضورِ انور نے یاددہانی بھی کروائی تھی کہ جو مَیں نے تحریک کی ہے درود شریف دو سو(۲۰۰) دفعہ پڑھنے اور اِستغفار سو (۱۰۰)دفعہ پڑھنے اور رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِیْ پڑھنے کی، اس طرف بھی بہت توجہ کریں اور یہ صرف تین دنوں کے لیے نہیں ہے ، بلکہ یہ مستقل تحریک ہے۔ ہر احمدی کو مستقل پڑھتے رہنا چاہیے۔ مائیں اپنے بچوں کو بھی یہ دُہرواتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔

یا د رہے کہ اس حوالے سے مسلسل یاددہانی بھی الفضل کی زینت بنتی رہتی ہے۔ (ماخوذ از روزنامہ الفضل انٹرنیشنل مورخہ۱۳؍ستمبر ۲۰۲۴ء)]

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے تسبیحات تیزی سے پڑھنے کے رجحان کی نفی فرماتے ہوئے ایک لطیفہ بھی بیان فرمایا کہ اوّل تو پُھر پُھرکر کے جو لوگ بعض پڑھتے ہیں وہ تو پانچ منٹ میں ہی ختم کر دیتے ہیں، جس طرح پاکستان کی ایک بڑی سیاستدان کا ایک لطیفہ ہے ۔ ان سے پوچھا گیا کہ تسبیح ہاتھ میں رکھتی ہو، تو بڑی جلدی دانے پھیرتی ہو ، کیا کرتی ہو؟ اس نے کہا کہ مَیں آیت الکرسی پڑھ رہی ہوتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اتنی جلدی آیت الکرسی کس طرح پڑھی جاتی ہے؟ سیاستدان تھی، اس نے کہا کہ اس میں کیا ہے، کرسی کرسی کرتی رہتی ہوں۔ تو کرسی کرسی نہ کرتے رہیں باقی اس میں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ۔

ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ برطانیہ میں فاسٹ فوڈ چینز کے گوشت کے استعمال کے بارے میں حضورِ انور کی کیا رائے ہے۔ نیز عرض کیا کہ بعض احمدی یہ خیال رکھتے ہیں کہ وہاں کا گوشت نہیں کھایا جا سکتا، چاہے بسم اللہ پڑھ لیا جائے، اور وہ یہ رائے دوسروں پر بھی مسلّط کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے اصولی راہنمائی عطا فرمائی کہ اگر یقینی طور پر معلوم ہو کہ جانور کو بغیر کسی کٹائی یا خون بہائے مکمل بےہوشی یا جھٹکے کے ذریعے ذبح کیا گیا ہے تو اسے نہیں کھانا چاہیے، تاہم عام طور پر مشینی ذبح کے باوجود بھی گردن کاٹ کر خون نکالا جاتا ہے۔ اگر کسی اَور کے نام کا ذکر نہ کیا گیا ہو اور خون نکالا گیا ہو تو اسے عام طور پر حلال سمجھا جاتا ہے۔ حضورِ انور نے ہدایت فرمائی کہ جب تک واضح علم نہ ہو کہ جانور ذبح نہیں کیا گیا اور خون نہیں نکالا گیا تو بسم اللہ پڑھ کر گوشت کھایا جا سکتا ہے۔

ایک مبلغِ سلسلہ نے ذکر کیا کہ حضورِ انور کافی عرصے سے تبلیغ کے متعلق اپنے خطبات کے ذریعے ،ارشادات کے ذریعے راہنمائی فرما رہے ہیں ، تو اس سلسلے میں یہ بھی دیکھاگیا ہے کہ آن لائن مخالفت کافی بڑھ گئی ہے اور ایک پلیٹ فارم کے ذریعے تو ہم جواب دے رہے ہیں۔ نیز راہنمائی کی درخواست کی کہ کیا حضورِ انور مناسب سمجھتے ہیں کہ مربیان کی کوئی ایسی ٹیم ہو جن کی ایک مستقل اور مخصوص تقرری اس غرض کے لیے کی جائے کہ وہ ان اعتراضات کے مدلل جوابات تحریری شکل اور آن لائن صورت میں دیں؟

اس پر حضورِ انور نے جماعت یوکے کے تبلیغی ٹیم کے ساتھ تعاون اور موجودہ نظام کو فعّال بنانے کے حوالے سے تاکید فرمائی کہ آپ کا جو یو کے کا تبلیغ ڈیپارٹمنٹ ہے وہ کوشش کر رہے ہیں اور ان کی مدد کے لیےمَیں نے اب سرکولر بھی بھیجا تھا۔ آپ کو گیا ہوگا شاید کہ سب مربیان اور مبلغین تبلیغ میں ان کا ساتھ دیں اور ان کی مدد کریں۔ تو ان کی ٹیم میں شامل ہوں اور ان کی مدد کریں۔ جو اچھے پڑھے لکھے knowledgeableہیں ، جن کو کافی وسیع دینی علم بھی ہے وہ ان کی مدد کر رہے ہیں۔ اس ٹیم سے، اسی پلیٹ فارم سے جواب جائے گا تو ایک ہو کے جواب جائے گا ۔ بجائے اس کے کہ ہر ایک اپنی ڈیڑھ اِنچ کی مسجد بنا لے اور علیحدہ علیحدہ جواب دے توalreadyایک سسٹم موجود ہے اس کو زیادہ activate اورefficientکریں۔

حضورِ انور نے تبلیغ میں حکمت اور سوشل میڈیا کے مؤثر استعمال کی ضرورت پر توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ باقی تبلیغ میں بھی حکمت سے بات کرنی ہوتی ہے اور آجکل لوگوں کا سننے کا جو thresholdہے وہ زیادہ نہیں ہے۔ مختصر بات کرنا اور سننا چاہتے ہیں۔آپ اپنے تبلیغ ڈیپارٹمنٹ کی جب مدد کر رہے ہوں گے تو مشورہ بھی دے سکتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے کلپس سوشل میڈیا پرڈالو۔ ان باتوں کا جا کے پتا لگے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے بے شمار ایسے اقتباسات ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کےلیے وہ ڈالیں تاکہ یہ جو غلط قسم کاconcept لوگوں میں پیدا کیا جا رہا ہے کہ نعوذ باللہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں یا قرآنِ کریم کو ہم نہیں مانتے ، یہ غلط تصوّر جو ہے ، اس کو زائل کرنا ہے اور اس کے لیےہم کوشش کرتے ہیں۔

مزید برآں حضورِ انور نے قادیان میں غیر اَز جماعت علماء کے ایک وفد کے دورۂ مساجد اور قرآنِ کریم کے بارے میں ان کے ذاتی مشاہدے کی روشنی میں غلط تصوّرات کے ازالے کی بابت بیان فرمایا کہ اب انڈیا میں ہمارے قادیان میں وہاں قریب ہی ایک مسجد غیر احمدیوں نے بنائی ہے ، بہشتی مقبرے کے ساتھ ہی ہے اور شرارت کےلیے باہر سے بعض لوگوں کو دعوت دیتے رہتے ہیں۔ بعض علماء بھی ایک جگہ سے آئے، ان میں بڑا اچھا ایک پروفیسر ہے، پڑھے لکھے سکالر ہیں، انہوں نے سوچا کہ ہم نے ان کی باتیں تو سن لی ہیں تواب قادیان والوں سے بھی پوچھیں یہ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے پوچھا کہ ہم آپ کے علاقے کا دورہ کر سکتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، ان کو سارا دَورہ کروایا اورکہا کہ ویسے بھی کھلی جگہ ہے آپ جہاں مرضی جا سکتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ بھی لے گئے، مسجد مبارک اور باقی جگہوں پر بھی۔ مسجد اقصیٰ میں ایک جگہ قرآنِ کریم شیلف میں پڑے ہوئے تھے تو ایک ان کا عالِم تھا، اس نے جا کے قرآنِ شریف نکال لیا ا اور س کے بعد ورق گردانی کرنے لگا ، پھولنے لگا ، تو اس کے بعد ہمارے نمائندے کو کہتا ہے کہ یہ قرآنِ شریف تو آپ کا وہی ہے جو ہمارا ہے ، ہمیں تو مولویوں نے یہ غلط تأثر ڈالا ہوا ہے کہ ان کا قرآنِ شریف مختلف ہے۔ صرف یہ ہے کہ ختم ِنبوت کی تعریف ترجمہ میں جو آپ نے کی ہوئی ہے ہماری ذرا اس سے مختلف ہے ۔ اس کے علاوہ تو کوئی فرق نہیں ہے ۔

تبلیغی کاموں میں برکت کے لیے حضورِ انور نے سوشل میڈیا کے بھر پوراستعمال کے ساتھ ساتھ دعاؤں اور نمازوں کے ذریعے الله تعالیٰ سےمسلسل مدد مانگنےکی اہمیت کو بھی اُجاگر فرمایا کہcontemporary issuesجتنے ہیں، ان کو تبلیغ کے ذریعے سے سوشل میڈیا پر ڈالو ۔ تو تبلیغی ڈیپارٹمنٹ کی مدد کرو۔ اس لیے تو مَیں نے مربیان کو کہا تھا کہ کچھ تھوڑا ساactive ہو جائیں۔ ساتھ یہ بھی مَیں بتا دوں کہ کام کر کے صرف یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے کام کر لیا اور اللہ کو راضی کر لیا۔ نہیں! بلکہ ساتھ دعاؤں کی طرف اور نمازوں کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی تب آپ کے کام میں برکت پڑے گی ۔ اور ہر کام دعا کے ساتھ شروع کریں اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں تو تب برکت پڑے گی۔ اسی تناظر میں حضورِ انور نے یاد دلایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثالیں مَیں دو تین ہفتوں سے دے رہا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ کے وعدے تھے، اب جان کر مَیں سناتا ہوں، بعض دفعہ ایک واقعہ اس سےrelated ہی ہوتا ہے اور پہلے بیان ہو چکا تھا ، لیکن اس میں تھوڑا بہت فرق ہوتا ہے اس لیےمَیں دوبارہ بیان کر دیتا ہوں تاکہ دماغوں میں بیٹھ جائے کہ تمام باتوں کو باوجود آپ ذکر ِالٰہی میں مشغول تھے اور اللہ سے رو رو کے دعائیں کر رہے ہوتےتھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے واقعات میں بھی یہی آتا ہے۔ تمام باتوں میں آپؑ نے دعاؤں کی طرف توجہ دی، تو یہ چیزیں نہ بھولو اور پھر کام کرو۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سب کچھ کرو۔ تو سب کچھ کرو کا یہ مطلب نہیں کہ غلط کام بھی کرتے رہو۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ سے ڈرو گے تو نیک کام ہی کرو گے ۔ اور اللہ سے ڈرنے کے لیے وہی ہے کہ اللہ کے حضور جھکے رہو۔

ایک مبلغِ سلسلہ نے راہنمائی کی درخواست کی کہ وہ جماعت کے عاملہ ممبران کے ساتھ مل کر کس طرح بہتر طور پر کام کر سکتے ہیں تا کہ انہیں اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کرنے کی ترغیب دی جا سکے؟

اس پر حضور انور نے تربیت اور تبلیغ کے بنیادی کام پر توجہ دینے اور متعلقہ شعبہ جات کےسیکرٹریان کے ساتھ مل کر کام کو منظم کرنے کے سلسلے میں اصولی راہنمائی عطا فرمائی کہ آپ کا کام تربیت اور تبلیغ کرنا ہے۔ سیکرٹری تبلیغ کو لیں اور تبلیغ کے کام کو آرگنائز کریں۔ سیکرٹری تربیت کو لیں اور تربیت کے کام کو آرگنائز کریں اور اگر کسی اَور شعبہ میں عاملہ آپ سے مدد چاہتی ہے تو مدد کریں۔ لیکن یہ دو کام آپ کر لیں تو یہی آپ کے لیے کافی ہے اور اگر سیکرٹری تبلیغ اور تربیت آپ کی بات نہیں مانتا توصدر جماعت کو کہیں۔ صدر جماعت اگر نہیں مانتا تو یہاں مرکز میں لکھیں اور امیر جماعت کو کہیں۔

حضورِ انور نے ہدایت فرمائی کہ اگر آپ اپنے کام کو پھیلاتے رہیں کہ مَیں نے عاملہ کے ہر کام میں تعاون کرنا ہے، اگر امورِ عامہ کے کام میں آپ سے تعاون مانگا جاتا ہے تو دیں، نہیں تو دخل اندازی کی ضرورت نہیں ہے۔ main کام جو آپ کا ہے ، وہ تربیت اور تبلیغ کا ہے۔ اس میں اگر آپ کام کر لیں تو امور ِعامہ کے کام کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور باقی دوسرے مال کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔

مزید برآں مقامی عاملہ میں اصلاح اور تعاون کے لیے مؤثر طریقۂ کار اپنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے حضورِ انور نے یاد دلایا کہ مربیان مقامی عاملہ کےممبر ہیں۔ بس وہاں آپ سوال اُٹھائیں، عاملہ میں discussکریں اور ان کو بتائیں۔ اور اس کے بعد بھی اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ جماعتی مفاد متأثر ہو رہا ہے اور یہ غلط نہج پر کام کر رہے ہیں تو پھر آپ اپنے مشنری انچارج کو اور پھر ان کی وساطت سے امیر صاحب کو لکھیں۔ پھر جو آپ کی ماہانہ رپورٹ آتی ہیں، اس میں بھی آپ ذکر کر سکتے ہیں تو معاملہ ہمیں بھی پہنچ جائے گا۔ جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اِس اَمر پر زور دیا کہ مقصد تو یہ ہے کہ کام کرنا ۔ صرف یہ کرنا کہ تعاون نہیں کر رہے تو مَیں بھی لڑ پڑوں، تو آپ بھی پھر ویسے ہی ہو جائیں گے ۔ ہم نے تو ان لوگوں کی اصلاح کرنی ہے ان سے مزید لڑائیاں نہیں کرنی۔ اس لیے کوشش کریں کہ ہم کس طرح اصلاح کر سکتے ہیں۔

ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ بعض مسیحی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی دعائیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وسیلے سے قبول ہو جاتی ہیں اور پوچھتے ہیں کہ پھر انہیں اسلام کی ضرورت کیا ہے؟

اس پر حضورِ انور نے راہنمائی عطا فرمائی کہ اگرچہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک جلیل القدر نبی کے طور پر احترام دیتے ہیں، مگر اس دعوے کی اصل حقیقت، نتائج اور ایسے مبیّنہ معجزات کی کمیّت کا بغورجائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ حضورِ انور نے اس حوالے سے مزید واضح فرمایا کہ غیر معمولی واقعات بعض اوقات ملحدین کے ساتھ بھی پیش آ جاتے ہیں یا بعض نفسیاتی اثرات کے تحت بھی مرتّب ہو سکتے ہیں، لیکن اس سے اُن کے عقائد کی سچائی ثابت نہیں ہوتی۔ نیز جواب کے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حقیقی تعلق کی پہچان مسلسل نشانات اور ایسی دعاؤں کے قبول ہونے سے ہوتی ہے کہ جو شرک یا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے سے پاک ہوں۔

ایک مبلغِ سلسلہ نے دریافت کیا کہ اگر طویل مدّت دعا کرنے کے باوجود بھی قبولیت نظر نہ آئے تو کیا کیا جائے؟

اس پر حضورِ انور نے ارشاد فرمایا کہ تاخیر اکثر اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ قبولیت کی بڑی صلاحیت موجود ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر جواب نہیں آ رہا تو تمہارے اندرکوئی کمزوری موجودہے اور یہ کہ کیا تم واقعی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق پوری طرح اور صحیح طور پر ادا کر رہے ہو؟

حضورِ انور نے قبولیتِ دعا کے ضمن میں غیر معمولی صبر اور مستقل مزاجی پر مبنی ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض اوقات جواب دیر سے بھی آتا ہے۔ تم وہ واقعہ بھی بیان کرتے ہو کہ ایک شخص تیس سال تک دعا کرتا رہا مگر قبول نہیں ہوئی۔ ایک دن اس کے شاگرد کے سامنے الہام ہوا کہ اس کی دعا قبول نہیں ہوگی۔ شاگرد نے کہا کہ پھر اب چھوڑ دیں تواس نے کہا کہ مَیں توتیس سال سے دعا کر رہا ہوں تو اب کہاں جاؤں؟اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دعا قبول ہو گئی ہے، بلکہ ان تیس سالوں کی ساری دعائیں قبول ہو چکی ہیں۔ اسی طرح حضورِ انور نے یاد دلایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی یہ فلسفہ بیان فرمایا ہےکہ جتنی زیادہ دعا کی قبولیت میں تاخیر ہوتی ہے اتنی ہی قبولیت کی صلاحیت بڑھتی جاتی ہے۔

مزید برآں قبولیتِ دعا کے بنیادی لوازمات کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے حضورِ انور نے واضح فرمایا کہ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ انسان اپنی حالت کا جائزہ لے کہ کیا مَیں نے دعا کا وہ حق ادا کیا، کیا میرے نوافل، میرا ذکرِ الٰہی، میری نمازیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف میری توجہ ویسی ہی ہے جیسی ہونی چاہیے، کیا یہ تو نہیں کہ محض سرسری سی عبادت کر کے کہہ دیا کہ ہمیں اب لازماً جواب ملنا چاہیے؟ ضروری نہیں کہ ہر بات کا کوئی الہامی جواب ملے، کبھی دل کو اطمینان مل جانا بھی جواب ہوتا ہے۔اور اگر کسی خاص معاملے میں جواب نہ ملے تو یوں دعا کرو کہ اے اللہ! اگر یہ میرے لیے بہتر نہیں تو اسے میرے دل سے نکال دے اور اگر بہتر ہے تو میرے دل میں اس کا اطمینان پیدا کر دے اور اسے مجھ پر ظاہر بھی فرما دے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے قبولیتِ دعا کے لیےصبر اور استقامت پر زور دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ دعا کا ایک وقت ہوتا ہے، اس کا ایک طریق ہوتا ہے اور اس میں وقت بھی لگ سکتا ہے۔ یہ کہنا کہ مَیں نے دس دن، پندرہ دن یا ایک مہینہ دیا ہے، اب اللہ تعالیٰ جواب دے، تو اللہ تعالیٰ ہمارا پابند تو نہیں۔ جب شریعت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم پر نازل ہو رہی تھی، کیا وہ بغیر وقفے کے نازل ہوتی رہی؟ کبھی طویل وقفہ بھی آ جاتا تھا اور کفّار تمسخر کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ دوبارہ آیات نازل فرماتا تھا۔ تواللہ تعالیٰ کے اپنے طریق ہیں، اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ برابر اللہ تعالیٰ سے مانگتا رہے اور دعا کرتا رہے۔

ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے قلم بطورِ تبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔

آخر پر حضورِ انور نے تمام شاملینِ مجلس سے دریافت فرمایا کہ باتیں نوٹ کر لی ہیں؟ اثبات میں جواب سماعت فرمانے پر مزید دریافت فرمایا کہ عمل کرنے کا ارادہ ہے کہ نہیں؟ اس پر سب نے کامل اطاعت و وفا کے جذبات سے لبریز آواز میں یک زبان ہو کر اپنے مصمّم عزم کا اظہار کیا کہ ان شاء اللہ!

یہ روح پرور نشست حضورِ انور کے دعائیہ کلمات ’’چلو! السّلام علیکم‘‘ پر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ اراکینِ نیشنل مجلس عاملہ انصار الله سوئٹزرلینڈ کے ایک وفد کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button