خدا کے علاوہ کسی اَور پر انحصار نہ کرو
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنْفَعُکُمْ شَیْئًا (الانبیاء: 67) اس نے کہا کیا تم اللہ کے سوا اس کی عبادت کرتے ہوجو نہ تمہیں ذرا بھر فائدہ پہنچا سکتا ہے وَلَا یَضُرُّکُمْ (الانبیاء: 67) اور نہ تمہیں کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے؟ پس اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی فائدہ دینے والی ہے۔ بعض شرک تو ظاہری ہوتے ہیں لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں، شرک کرتے ہیں۔ جو مشرکین تھے وہ اُس زمانے میں بھی کیا کرتے تھے۔ آج کل بھی بتوں کی پوجا کرنے والے ہیں جو خود انہوں نے ہاتھوں سے بنائے ہوئے ہیں، جو نہ ہی کسی قسم کا نفع دے سکتے ہیں، نہ کسی قسم کا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اور یہ شرک جو ظاہری شرک ہے، یہ ہر ایک کو نظر آ رہا ہوتا ہے۔ بعض مخفی شرک بھی ہوتے ہیں۔ کسی مشکل وقت میں دنیاوی وسائل کی طرف نظر رکھنا۔ دنیاوی اسباب کو ضرورت سے زیادہ توجہ دینا اور تلاش کرنا۔ افسروں کی بے جا خوشامد کرنا حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو تو دنیاوی اسباب جو ہیں یہ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔
ایک شخص نے کسی کا واقعہ بیان کیا کہ اس کو ملازمت نہیں مل رہی تھی۔ آخر ایک دن اس کے کسی عزیز رشتہ دار کو پتہ لگا کہ ملازمت کی تلاش میں ہے۔ تعلیم مکمل کر لی ہے۔ بڑا پڑھا لکھا ہے تو اس نے کہا ٹھیک ہے میرا ایک بہت بڑا افسر دوست واقف ہے۔ تم صبح میرے پاس آ جانا اس کے گھر چلیں گے۔ خیر اس کو ملنے گئے۔ اس نے کہا ٹھیک ہے کل تم صبح میرے دفتر آ جانا، تو مَیں تمہارا کام کردوں گا۔ ایک جگہ خالی ہے وہاں تمہیں نوکری مل جائے گی۔ وہ کہتا ہے کہ میں صبح سائیکل پر دفتر میں گیا تو گیٹ بند تھا۔ چوکیدار نے کہا کیوں آئے ہو؟ مَیں نے کہا فلاں صاحب نے مجھے کہا ہے اس لئے مَیں ان کو ملنے کے لئے آیا ہوں اور بڑے رعب سے اور فخر سے چوکیدار سے بات کی۔ اس نے کہا گیٹ کھول دو تو چوکیدار نے بتایا کہ ان صاحب کو تو صبح دفتر آنے سے پہلے ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور وہ فوت ہو چکے ہیں۔ یہ جو خدا کے علاوہ دوسروں پر انحصار کرتے ہیں اس طرح اللہ تعالیٰ ان کے یہ زعم توڑ دیتا ہے۔ تو وہ کہتاہے کہ مَیں سخت مایوس ہو کے واپس آیا۔
پس جب بھی انسانوں کو خدا بنایا جاتا ہے تو یہ حال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر حقیقت میں میری طرف رجوع کرو تو میں ہی ہوں جو تمہیں نفع پہنچانے والا ہوں۔ تمہارے فائدے کے کام کرنے والا ہوں۔ تمہیں ہر چیز میسر کروانے والا ہوں۔ ہر چیز دینے والا ہوں۔ ایک جگہ مزید کھول کر فرمایا کہ یہ دنیا تو عارضی ہے تمہیں ہمیشہ اپنی آخرت کی فکرکرنی چاہئے۔ آخرت کی زندگی کی پرواہ کرنی چاہئے کیونکہ تمام نفع اور نقصان آخرت میں ظاہر ہو کر سامنے آنے والا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَابَنُوْنَ۔ اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ (الشعراء: 89-90) کہ جس دن نہ کوئی مال فائدہ دے گا اور نہ بیٹے مگر وہی (فائدہ میں رہے گا) جو اللہ تعالیٰ کے حضور (قلب سلیم)، اطاعت شعار دل کے ساتھ حاضر ہو گا۔ پس فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں اور جو اس نے نیکیاں بتائی ہیں، ان پر عمل نہیں تو مال اور اولاد پر خوش نہ ہو یہ کسی کام نہیں آئیں گے۔ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۴؍ اپریل ۲۰۰۹ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۱۵؍ مئی ۲۰۰۹ء)
مزید پڑھیں: اللہ تعالیٰ پاکیزہ اذکار کی برکت سےشفا عطا فرماتا ہے



