الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

احمدیت کی برکات

رسالہ ’’انصارالدین‘‘ نومبرودسمبر۲۰۱۴ء میں مکرم چودھری اللہ دتہ پنوںصاحب کے خود نوشت حالات زندگی شامل اشاعت ہیں جن میں وہ اپنی ذاتی زندگی اور خاندان پر احمدیت کی برکات کی بارش پر اظہار تشکر کرتے ہیں۔

مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ خاکسار موضع باسوپنوں تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ کا رہنے والا ہے۔ ۱۹۷۴ء میں ایک دن ہمارے ٹیوب ویل کے انجن میں خرابی ہو گئی تو مستری نے ایک پرزہ لانے کا کہا تو والد صاحب نے مجھے گوجرانوالہ شہر بھیجا۔ وہاں میں نے چوک گھنٹہ گھر میں لوگوں کا بہت بڑا ہجوم دیکھا جو ایک آتش زدہ مکان کو گھیرے کھڑے تھے۔ خاکسار نے بڑی سادگی سے ایک آدمی سے پوچھاکہ اس آگ کو بجھانے کی کیوں کوشش نہیں کرتے؟ اس نے کہا کہ یہ مرزائی ہیں۔ مَیں یہ ظالمانہ واقعہ دیکھ کر بہت پریشان ہوا اور سوچا کہ مولوی تو شور مچاتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ سب انسانوں بلکہ جانوروں پر بھی رحم فرماتے تھے،کبھی نہیں سناکہ صحابہؓ کو حکم دیا ہو کہ فلاں یہودی کاگھرجلا دو۔ الغرض سوالات کے ہجوم میں بھاری دل لے کر واپس گائوں پہنچا اور گاؤں کے اہل سنّت مولوی سے یہ واقعہ بیان کیا تو جواب ملا کہ مرزائی مرتد ہیں ،انہوں نے رسول کریم ﷺ کو چھوڑ کر نیا نبی بنا لیا ہے، کلمہ بھی اسی قادیانی کا پڑھتے ہیںاس لیے ان کو تباہ وبرباد کرنا، مال و جان سے محروم کرنا بہت بڑا جہاد ہے۔ یہ انگریز کا فتنہ ہے جو اس کا قلع قمع کرتا ہے وہ جنت میں جائے گا۔ پھر مَیں اہلحدیث مولوی احمد حسن نامی سے راہنمائی حاصل کرنے گیا تو اس نے توپہلے مولوی سے بھی بڑھ کر ظالمانہ جواب دیا۔ یوں میرا دل دکھ سے اَور بھی بھر گیا۔

خاکسار کی عمر اُس وقت ۲۶؍سال تھی۔ زمیندار گھرانہ سے تعلق تھا، دینی علم محدود تھا، نمازجمعہ بھی شاذ کے طور پر ادا کرتا۔ درسی تعلیم پرائمری تک تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ واقعہ ٔگوجرانوالہ دل سے نکلتا نہ تھا۔ کچھ دنوں کے بعد قلعہ کالروالہ گیا اور ایک احمدی سے مل کر حقیقت پوچھی تو معلوم ہوا کہ احمدیوں کے متعلق محض جھوٹ پھیلایا گیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ غیراحمدی ابھی مہدی کے منتظر ہیں اور احمدی اس کو مان چکے ہیں۔ اُس نے مجھے قرآن کریم سے وفات مسیح اور ختم نبوت کے متعلق کچھ حوالہ جات بھی دیے تو مَیں غور کرنے لگا۔ کچھ عرصہ بعد ایک احمدی محمد نواز صاحب نے بیعت فارم دیا تو تسلّی ہوگئی۔ تب مَیں نے اور میری بیوی نے بیعت کرلی اور اس خوشی سے سرشار ہوگئے کہ ہم ظالمو ں سے نکل کر مظلوموں میں شامل ہوگئے ہیں۔

۱۹۷۴ء سے ۱۹۸۹ء تک ہم احمدی تو تھے لیکن نہ چندہ دینے کا پتہ تھا اور نہ کسی اَور مسئلے کا۔ غیراحمدیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتےاور بدرسوم میں حصہ لیتے۔ صرف اتنا علم تھا کہ ہم نے امام مہدیؑ کو مان لیا ہے۔ سب کو بتابھی دیتے کہ ہم نے احمدیوں پر ظلم و ستم دیکھ کر احمدیت قبول کرلی ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے تین بیٹے اور تین بیٹیاں دیں۔ ۱۹۸۹ء میں بچوں کی تعلیم کی خاطر عارضی طور پر گوجرانوالہ شہر میں کرایہ پر مکان لے کر رہائش پذیر ہوگیا تو وہاں احمدیہ مسجد میںجمعہ کے لیے گیا اور جماعتی روایات، قواعد و ضوابط،چندہ جات، مرکز کی اہمیت اور خلافت کی برکات کا علم ہوا۔ پھر ’’احمدیہ پاکٹ بک‘‘ کا مطالعہ کیا تو مخالفین سے دلائل کے ساتھ بات کرنے کی جرأت پیدا ہوئی اور تبلیغ بھی شروع کردی۔ کئی دفعہ مولویوںسے گھنٹوں بات ہوتی۔ یہ بھی خدا تعالیٰ کاخاص فضل تھا کہ مولوی ہمیشہ اخلاق کے دائرہ میں رہے۔ ۱۹۹۳ء میں اللہ تعالیٰ نے مجھے چھ پھل عطا فرمائے تو شدید مخالفت شروع ہوگئی۔ ایک نومبائع محمد بشیر پنوںکی اہلیہ اس مخالفت کی تاب نہ لاسکی اور بچے چھوڑ کر میکے چلی گئی۔ خاکسار نے محمد بشیر کو صبرکی تلقین کی اورمعہ بچے ان کے کھانے پینے کا انتظام اپنے گھر سے کروادیا۔ اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور ایک ماہ نہیںگزرا تھا کہ ان کی بیوی واپس آگئی۔ پھر محمد بشیر کا بڑا بھائی اپنی بڑی بہن کے ہمراہ ان کو سمجھانے آیا۔ بہن نے سمجھاتے ہوئے کہا کہ تم نے باپ کو نہیں دیکھا؟ دادا کو نہیں دیکھا؟ کیوں اسلام چھوڑ کر کفر قبول کرلیا؟ بشیر صاحب نے کہا کہ دادا سے آگے بھی جاؤ! (دراصل ان کے پردادا نے سکھ مت سے اسلام قبول کیا تھا۔) کہنے لگے: بہن! اُس وقت پرہمارے پردادا نے قربانی دی تھی اور اب اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی ہے اور مَیں نے امامِ وقت کو مانا ہے، اب کچھ بھی کرو، انکار نہیں کرسکتا۔

پھر خاکسار کی ایک ہمشیرہ عزیزہ بیگم صاحبہ کے میاں فوت ہو گئے تو ان کی نماز جنازہ پرمخالفین کی طرف سے شرارت کی صورت پیدا ہوئی۔ لیکن چھ ماہ بعد ہی میری ہمشیرہ نے اپنے بیٹے منور احمدصاحب اور ان کی اہلیہ نسیم بیگم صاحبہ کے ہمراہ احمدیت قبول کرلی۔ منور صاحب بعد میں حلقہ کے صدر جماعت اور گوجرانوالہ شہر کی عاملہ کے رُکن بھی رہے۔

۱۹۹۸ء تک یہ کیفیت تھی کہ خاکسار روزانہ تبلیغ کے نشہ سے سرشار اٹھتا اور سوتا۔ تبلیغ کے علاوہ کسی کام میںجی نہیں لگتا تھا۔ احمدیہ پاکٹ بک کا ہر تیر نشانے پر لگتا۔ حالانکہ نہ کوئی تنظیم تھی اور نہ کوئی رپورٹ وغیرہ بھجوانے کا علم تھا۔

ایک دن مَیں ایک سکول ٹیچر نصیر احمد صاحب کو ملنے گیا تو انہوں نے اچانک ایک اہلحدیث مولوی اور دیگر اساتذہ کو بھی بات چیت کے لیے بلالیا۔ مَیں نے گھبراکر دل میں دعا کی اور پھر مولوی صاحب سے کہا کہ مَیں تو ایک زراعت پیشہ اَن پڑھ آدمی ہوں۔ آپ عالم ہیں، قرآن کریم سے حضرت عیسیٰؑ کے آسمان پر زندہ جانے کا سمجھا دیں۔ مولوی نے فوراً مَاقَتَلُوْہُ والی آیت نکالی۔ مَیں نے کہا کہ زندہ اور جسم سمیت کس لفظ کا ترجمہ ہے؟ وہ جواب نہ دے سکا۔ پھر مَیں نے پوچھا کہ کوئی اَور نبی بھی بمعہ جسم آسمان پر زندہ گیا ہے؟ مولوی نے کہا کہ نہیں۔ اس پر مَیں نے سورت مریم کی آیت دکھائی جس میں حضرت ادریسؑ کے متعلق رفع کا لفظ آیا ہے۔ لوگوں نے مولوی سے بار بار جواب طلب کیا لیکن وہ تو پتھر کا سا بت بن کر رہ گیا۔ خاکسار کا دل اللہ تعالیٰ کی حمد کے گیت گا رہا تھا۔ تب ماسٹر خالق احمد صاحب نے کھڑے ہوکر کہا کہ اے لوگو! اب بھی اگر ہم نہ مانیں تو ہماری ہٹ دھرمی ہے۔

جب اس واقعہ کی خبر مدرسہ کے انچارج مولوی عبدالقیوم کو ملی تو وہ ماسٹر نصیر صاحب سے کہنے لگے کہ اس واقعہ سے ہماری بڑی بے عزتی ہوئی ہے، میں نے سات سال کا جامعہ پاس کیا ہوا ہے اور عرصہ بیس سال سے مدرسہ چلا رہا ہوں آج تک کوئی ہمارے سامنے ٹھہر نہیں سکا لیکن اب ہم کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے اس لیے ایک بار پھر ہمارے درمیان بات کروادو۔ ماسٹر نصیر صاحب نے وعدہ کرلیا۔ پھر ایک دن جب مَیں مدرسہ گیا تو انہوں نے مولوی عبدالقیوم کو پیغام بھیجا۔ وہ کہنے لگا کہ مَیںمولوی اکرم ججہ کو بھی لے کرآتا ہوں کیونکہ مرزائیوں کے پاس بہت علم ہوتا ہے، تم اسے جانے نہ دینا۔ (البتہ اس بحث کا موقع کبھی نہ آسکا۔)

ایک رات خواب میں مجھے واضح آواز سنائی دی کہ پانچ سات سورتیں یاد کرلو۔ چنانچہ مَیں نے چھوٹی چھوٹی دس سورتیں یاد کرلیں۔ اس کے چھ سات ماہ بعد ۱۹۹۸ء میں مکرم خواجہ ظفر احمد صاحب امیر ضلع سیالکوٹ دورہ پر تشریف لائے توہماری مقامی جماعت کا قیام عمل میں آیا اور خاکسار اس کا صدر منتخب ہوا۔ تب مجھے گھر کے صحن میں چھوٹی سی مسجد بنانے کی توفیق ملی اور باجماعت نمازیں پڑھانے کا موقع بھی ملا تو ایمان مزید تقویت پکڑتا گیا۔ پھر خاکسار کے چھوٹے بھائی مکرم شوکت علی پنوں بمعہ اہلیہ بھی احمدی ہوگئے۔ جو میری ہجرت کے بعد سے بطور صدر جماعت خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

مخالفت کا دائرہ بھی وسیع ہونے لگا۔ قریبی دیہات کی مساجد میں بھی لاؤڈسپیکر کے ذریعے جماعت کے خلاف زہر اُگلا جاتا۔ گاؤں کی دونوں مساجد کے مولویوں نے ہمارا بائیکاٹ کرنے کا منصوبہ بنایالیکن اللہ کی خاص قدرت سے وہ بائیکاٹ اُن پر ہی پلٹ گیا۔ اسی طرح جب ایک اشتہاری ڈاکو نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گاؤں والوں کو کئی دن تک یرغمال بنائے رکھا۔ اس دوران کئی لوگوں کی فصلیں تباہ ہوئیں، انہیں مارا پیٹا اور بے عزت کیا گیا، جبراً رقمیں بھی وصول کی گئیں۔ کئی مخالفین نے اُن اشتہاریوں کو ہمارے خلاف ورغلایا لیکن اللہ تعالیٰ نے میری اور میرے اسباب کی حفاظت کی۔

ایک اَوربہت بڑے ابتلا سے بھی خدا تعالیٰ نے اپنی حفاظت میں رکھا جب مولوی محمد الیاس پنوں نے مخالفین کے ساتھ مل کر ہم پر توہین رسالت کا مقدمہ بنانے کا منصوبہ بنایا۔ معاندین کا منصوبہ اتنا کاری تھا کہ ہم اپنی تمام تر کوشش کرکے بھی اس سے نہیں بچ سکتے تھے۔ صرف خدانے بچایا۔

جلسہ سالانہ جرمنی ۲۰۰۱ء کا اختتامی خطاب گاؤں میں سنانے کے لیے مَیں نے خاص اہتمام کیا۔ چالیس سے زیادہ معزز غیراحمدی مہمانوں کو دعوت پر بلایا اور پلائو اور زردہ وغیرہ تیار کروایا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کا روح پرور خطاب سننے کے لیے بےشمار مردو زن آگئے۔ عورتوں کے لیے چھت پر ٹی وی لگادیا گیا۔ قریبی گھروں کی چھتوں پر بھی لوگ بیٹھے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اگلی صبح علی الاعلان مخالفت شروع ہوگئی، سپیکروں پر اعلان ہوا کہ خطاب سننے والوں کے نکاح ٹوٹ گئے ہیں اور جن لوگوں نے ہمارا کھانا کھایا وہ بھی حرام تھا۔ جب یہ فتنہ بڑھتا چلاگیا تو آخر معاملہ ڈی ایس پی پسرور تک پہنچا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے معاندین کو ناکام و نامراد کیا اور ہماری حفاظت فرمائی۔

احمدی ہونے والوں میں چاچا جی عنایت اللہ صاحب بھی شامل تھے۔ ان کے کچھ ملنے جلنے والوں سے بات چیت ہوئی تو انہوں نے ہمیں اور اپنے ایک عالم فاضل مولوی محمد بوٹا صاحب کو بھی بلالیا۔ بات چیت کسی بھی موضوع پر شروع ہوتی تو مولوی صاحب فوراً لائن تبدیل کرجاتے حتٰی کہ رات کے دو پہر گزر گئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد یوں فرمائی کہ مولوی صاحب کہنے لگے کہ حدیث میں آیا ہے کہ امام مہدی کی بیعت سب سے پہلے چالیس ابدال کریں گے، ہم اس بات پر فیصلہ کرلیتے ہیں کہ ہمیں وہ ابدال دکھادو جنہوں نے مرزا صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی ہو۔ خاکسار نے کہا کہ آپ عالم ہیں ہمیں ابدال کے معنی بتادو۔پہلے وہ خاموش رہے تو مَیں نے دوبارہ عرض کیا۔ تب انہوں نے صاف گوئی سے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا تو اُن کی اس بات پر مجھے خوشی ہوئی اور خاکسار نے عرض کیا کہ ابدال کے معنی ہیں کہ ہادی یا مہدی کی بعثت پر اوّل وقت میں اُس پر ایمان لا کر اپنے آپ میں مکمل تبدیلی کرلینے والے۔ چنانچہ جب امام مہدیؑ کو بیعت لینے کا اذن ہوا تو پہلے روز ہی چالیس ابدال نے اُن کی بیعت کی جن کا مکمل ریکارڈ بھی تاریخ میں محفوظ ہے۔

اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ ساری چالاکیاں جو مولوی صاحب نے ابتدا میں چلائی تھیں وہ جاتی رہیں۔

جب گھٹیالیاں میں نماز فجر کے وقت احمدیوں کو مسجد میں شہید کیا گیا تو مجھے بھی معاندین کی طرف سے شدید دھمکیاں ملنے لگیں۔ چنانچہ امیر حلقہ کے مشورے پر خاکسار زمین فروخت کرکے مارچ ۲۰۰۳ء میں ربوہ منتقل ہوگیا۔ تب تک ۱۹۹۸ء میں قائم ہونے والی اس نوزائیدہ جماعت میں ۳۵؍احمدی موجود تھےجن میں دس سے زیادہ نظام وصیت میں شامل تھے اور اکثر اپنا حصہ جائیداد بھی ادا کرچکے تھے۔ جبکہ تیس سے زیادہ گاؤں سے ہجرت کرچکے تھے۔ بظاہر انسانی عقل کے خلاف ہے کہ میرے جیسا ایک اَن پڑھ نئی جماعت قائم کرلے سوائے اس کے کہ سچا خدا معجزات دکھائے۔

ربوہ پہنچ کر ایک مکان خریدا اور اپنے بڑے بیٹے کو لندن بھجوادیا۔ ربوہ میں بطور زعیم انصاراللہ اور صدر محلّہ بھی خدمت کی توفیق ملتی رہی۔ پھر ۲۰۱۱ء میں مَیں بھی فیملی سمیت لندن آگیا جہاں اس وقت میرے سارے بچے اپنی اپنی فیملیوں کے ساتھ اپنے اپنے گھروں میں آباد ہیں اور حسب توفیق ہم سب خدمت دین کی توفیق بھی پارہے ہیں۔

تیرا یہ سب کرم ہے تُو رحمتِ اتم ہے

کیونکر ہو حمد تیری کب طاقتِ قلم ہے

………٭………٭………٭………

مزید پڑھیں: ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button