الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
عائلی زندگی کے بارے میں اسلامی تعلیمات
مجلس انصاراللہ برطانیہ کے رسالہ ’’انصارالدین‘‘ کے دو شماروں (نومبر و دسمبر۲۰۱۴ء اور جنوری و فروری ۲۰۱۵ء) میں مکرم مولانا عطاءالمجیب راشد صاحب امام مسجد فضل لندن کی ایک اہم تربیتی تقریر شامل اشاعت ہے۔
اسلامی تعلیم میں ازدواجی زندگی کو کامیاب اور خوشگوار بنانے کے سلسلہ میں کامل راہنمائی موجود ہے جس کی کلید تقویٰ بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ نکاح کے موقع پر تلاوت کے لیے آنحضورﷺ نے جن چار آیات کا انتخاب فرمایا ان میں پانچ مرتبہ تقویٰ کی تاکید کی گئی ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے پانچ جگہ نکاح کے موقع پر تقویٰ کا لفظ استعمال کرکے ہمیں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ تمہارا ہر فعل، تمہارا ہر قول، تمہارا ہر عمل صرف اپنی ذات کے لیے نہ ہو بلکہ تقویٰ پر بنیاد رکھتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے اللہ کے بھی حقوق ادا کرنے والا ہو اور ایک دوسرے کے بھی حقوق ادا کرنے والا ہو۔‘‘ (خطاب جلسہ سالانہ یوکے۲۰۱۱ء)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے: ’’قرآن شریف میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پرہیزگاری کے لیے بڑی تاکید ہے۔ وجہ یہ کہ تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لیے قوّت بخشتی ہے اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لیے حرکت دیتی ہے۔ اور اس قدر تاکید فرمانے میں بھید یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک باب میں انسان کے لیے سلامتی کا تعویذ ہے اور ہر ایک قسم کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لیے حصنِ حصین ہے۔‘‘ (ایام الصلح، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ۳۴۲)
عجب گوہر ہے جس کا نام تقویٰ
مبارک وہ ہے جس کا کام تقویٰ
سنو! ہے حاصلِ اسلام تقویٰ
خدا کا عشق، مے اور جام تقویٰ
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’تقویٰ یہی ہے کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بُرائی کو بھی بیزار ہو کر ترک کرنا، ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو دل کی گہرائیوں سے چاہتے ہوئے اختیار کرنا۔‘‘ (خطاب فرمودہ ۲۳؍جولائی ۲۰۱۱ء جلسہ سالانہ برطانیہ)
عائلی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ مَردوں کو تاکیداً فرماتا ہےکہ تم اپنے گھروں کو جنّت کا گہوارہ بنانا چاہتے ہو تو ہمیشہ اپنی بیویوں سے نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو۔ (النساء:۲۰)
آنحضور ﷺ کا ارشاد ہے: تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنی بیوی سے سلوک کرنے میں سب سے بہتر ہے اور مَیں اپنے اہلِ خانہ سے سلوک کرنے میں تم سب سے بہتر ہوں۔ (مشکوٰۃ۔ باب عشرۃ النّساء) (پس میرے نمونہ کی پیروی کرو تو تم بھی خداکے محبوب بن جاؤ گے۔)
حضرت مسیح موعودؑ کے پاس کسی دوست کی شکایت ہوئی کہ وہ بیوی سے سختی سے پیش آتا ہے تو آپؑ نے فرمایا: ’’ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہیے۔‘‘ (ملفوظات جلد۲ صفحہ۲۔ ایڈیشن۱۹۸۴ء)
نیز فرمایا: ’’چاہیے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو سچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔ انسان کے اخلاق فاضلہ اور خداتعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں۔ اگر ان ہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خداتعالیٰ سے صلح ہو۔‘‘ (ملفوظات جلد۵ صفحہ۴۱۸ ایڈیشن ۱۹۸۴ء)
خوشگوار عائلی زندگی کی کلید اور تیربہدف نسخہ دعا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ اگر مُردے زندہ ہوسکتے ہیں تو دعا سے اور اگر اندھے بینا ہو سکتے ہیں تو دعا سے۔ پس یہی دعا ہے جو پتھر دل خاوند کو موم کر سکتی ہے اور جو باغیانہ سرشت کی بےباک عورت کو رام کر سکتی ہے۔
قرآن مجید میں عبادالرحمٰن کی ایک خوبی یہ دعا کرنا بیان کی گئی ہے: رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (الفرقان:۷۵) کہ اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنے جیون ساتھیوں اور اپنی اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقیوں کا امام بنا دے۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:’’میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں مَیں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لیے دعا نہیں کرتا۔‘‘ (تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد۶ صفحہ۳۵۵)
خدا تعالیٰ کی نظر میں مرد و عورت بحیثیت انسان یکساں درجہ رکھتے ہیں۔ تاہم جسمانی لحاظ سے مختلف قویٰ کی نسبت سے ان کے حقوق و فرائض مقرر فرما دیے ہیں۔ (البقرۃ:۲۲۹)
نیز فرمایا کہ مرد عورتوں پر نگران ہیں اس فضیلت کی وجہ سے جو اللہ نے ان میں سے بعض کوبعض پر بخشی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ وہ اپنے اموال ان پر خرچ کرتے ہیں۔ (النساء:۳۵) قوّام کے لفظ میں مردوں کی وسیع ذمہ داریوں کا ذکر ہے جو عائلی زندگی کے حوالے سے ان پر عائد ہوتی ہیں۔
ازدواجی زندگی کو خوشگوار اور کامیاب بنانا مرد اور عورت دونوں کی ذمہ داری ہے۔ دونوں کے درمیان باہم موافقت اور تعاون سے ہی یہ رشتہ ہر دو کے لیے جسمانی اور روحانی تسکین اور خوشی کا موجب ہوسکتا ہے۔ چنانچہ فرمایا: اے مَردو! عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لیے بطور لباس ہو (البقرۃ:۱۸۸)۔ حضرت مصلح موعودؓ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’مردوں اور عورتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے ہمیشہ لباس کا کام دیں۔ یعنی (۱) ایک دوسرے کے عیب چھپائیں۔ (۲) ایک دوسرے کے لیے زینت کا موجب بنیں۔ (۳) پھر جس طرح لباس سردی گرمی کے ضرر سے انسانی جسم کو محفوظ رکھتا ہے اُسی طرح مردو عورت سُکھ دُکھ کی گھڑیوں میں ایک دوسرے کے کام آئیں اور پریشانی کے عالم میں ایک دوسرے کی دلجمعی اور سکون کا باعث بنیں۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد۲ صفحہ ۴۱۱)
شادی وہ مقدّس رشتہ ہے جس کو مودّت و رحمت اور باہمی سکون و سکینت کے لیے قائم کیا جاتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر دلوں میں کدورت پیدا کرنا اور معمولی باتوں کو طول دے کر گھر کی فضا کو مکدّر کردینا پرلے درجہ کی جہالت ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’وہ گھر بہشت کی طرح پاک اور برکتوں سے بھرا ہوا ہے جس میں مرد اور عورت میں محبت و اخلاص و موافقت ہو۔‘‘(مکتوبات احمد جلد دوم، مکتوب ۳۷)
اسلام نے مومنہ بیوی کے اوصاف کا بھی واضح ذکر کیا ہے (الاحزاب:۳۶)۔ آنحضورﷺ نے فرمایا:کوئی عورت اس وقت تک خدا تعالیٰ کا حق ادا کرنے والی نہیں سمجھی جاسکتی جب تک کہ وہ اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کرتی۔ (سنن ابن ماجہ)۔ یہ بھی فرمایا : جس عورت نے پانچوں وقت کی نماز پڑھی، رمضان کے روزے رکھے، اپنے خاوند کی فرمانبرداری کی اور اُس کا کہا مانا۔ ایسی عورت کو اختیار ہے کہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔ (طبرانی)۔ نیز فرمایا کہ بہترین عورت وہ ہے جسے اس کا خاوند دیکھے تو اس کا دل خوش ہو اور جب خاوند اس کو کوئی حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جس بات کو اُس کا خاوند نا پسند کرے اُس سے بچے۔ (مشکوٰۃ)
حضرت اُمّ سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا : جو عورت اس حالت میں فوت ہوئی کہ اس کا خاوند اس سے خوش اور راضی ہے تو وہ جنت میں جائے گی۔ (ابن ماجہ)
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:’’عورتوں کے لیے خداتعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر وہ اپنے خاوندوں کی اطاعت کریں گی تو خدا ان کو ہر ایک بلا سے بچاوے گا اور ان کی اولاد عمر والی ہوگی اور نیک بخت ہوگی۔‘‘ (تفسیرحضرت مسیح موعودؑ سورۃالنساء)
مزید فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ اَصْلِحْ فِی ذُرِّیَّتِیْ میرے بیوی بچوں کی بھی اصلاح فرما۔ اپنی حالت کی پاک تبدیلی اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد اور بیوی کے واسطے بھی دعا کرتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ اکثر فتنے اولاد کی وجہ سے انسان پر پڑجاتے ہیں اور اکثر بیوی کی وجہ سے۔‘‘ (ملفوظات جلددہم صفحہ۱۳۹۔ ایڈیشن ۱۹۸۴ء)
وقتِ آخر ماں یا باپ کو اگر یہ نظر آئے کہ وہ متقی اولاد پیچھے چھوڑ رہے ہیں تو ان کا سفر آخرت پُرسکون ہوجاتا ہے۔ آنحضورﷺنے بھی فرمایا ہے کہ کیا ہی خوش قسمت وہ شخص ہے جو اپنے پیچھے ایسی اولاد چھوڑ کر جاتا ہے جو اس کے لیے دعا کرنے والی ہوتی ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ اچھی تربیت سے بڑھ کر کوئی تحفہ نہیں جو ایک باپ اپنی اولاد کو دے سکتا ہے۔
بچوں کی تربیت ماں اور باپ دونوں کی ذمہ داری ہے۔ حضرت مسیح پاکؑ نے فرمایا: ’’خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لیے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہوجاؤ اور اس کو متقی اور دیندار بنانے کے لیے سعی اور دُعا کرو۔ …ضروری ہے کہ سب سے اوّل خود اپنی اصلاح کرو۔ اگر تم اعلیٰ درجہ کے متقی اور پرہیزگار بن جاؤگے اور خدا تعالیٰ کو راضی کرلوگے تو یقین کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرے گا۔‘‘ (ملفوظات جلد۸ ۔صفحہ۱۰۹۔ ایڈیشن۱۹۸۴ء)
آنحضورﷺ اپنے اہل و عیال سے ہمیشہ خندہ پیشانی سے پیش آتے۔ ازواج مطہرات کی دلداری فرماتے۔ گھر کے کاموں میں مدد فرماتے۔ اگر کوئی بیوی آٹا گوندھ رہی ہوتی تو پانی لا دیتے۔ کھانا تیار ہورہا ہوتا تو چولہے میں لکڑیاں ڈال دیتے۔ گویا کہ بلاتکلّف گھر کے کام کاج کرتے۔ (صحیح بخاری)
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جتنا وقت آپؐ گھر پر ہوتے تو گھر والوں کی مدد اور خدمت میں مصروف رہتے۔ (بخاری)
اگر کبھی رات کو دیر سے گھر لَوٹتے تو کسی کو زحمت دیے یا جگائے بغیر کھانا یا دودھ خود ہی تناول فرما لیتے۔ (مسلم)
ایک دفعہ آنحضور ﷺحضرت صفیہؓ کے ساتھ اونٹ پر سوار تھے کہ اونٹ کا پاؤں پھسلا اور آپ دونوں گر پڑے۔ حضرت ابو طلحہؓ فوراً آپؐ کی طرف بڑھے تو آپؐ نے فرمایا: کہ پہلے عورت کا خیال کرو۔ اسی طرح ایک دفعہ کچھ ازواج مطہرات آپﷺکے ساتھ سفر میں ہمراہ تھیں۔ ایک غلام انجشہ حُدی پڑھنے لگے جس کی وجہ سے اونٹ تیز چلنے لگے اور خطرہ پیدا ہوا کہ اُن پر سوار ازواج مطہرات کہیں گر نہ جائیں۔ آپؐ نے فرمایا: ذرا آہستہ چلو، آبگینوں کا خیال رکھو۔
آنحضرتﷺ نے جب حضرت صفیہؓ بنت حیی کو اپنے عقد میں لیا تو خیبر سے واپسی کے وقت اُن کے لیے اونٹ پر خود جگہ بنائی۔ وہ عبا جو آپؐ نے زیب تن کر رکھی تھی، اُتاری اور اُسے تہ کرکے حضرت صفیہؓ کے بیٹھنے کی جگہ پر بچھادیا۔ پھر ان کو سوار کراتے وقت اپنا گھٹنا ان کے آگے جھکا دیا اور فرمایا: اس پر پاؤں رکھ کر اونٹ پر سوار ہو جاؤ۔ (بخاری)
ہمارے آقا ﷺکے حسن معاشرت کی اس سے زیادہ روشن دلیل اَور کیا ہو سکتی ہے کہ اپنی وفات سے قبل جب آپؐ نے بیویوں سے فرمایا کہ تم میں سے سب سے پہلے مجھے آکر دوسرے جہاں میں وہ ملے گی جس کے ہاتھ لمبے ہوں گے تو بیویوں کی محبت کا اور آپؐ کی قربت کے شوق کا یہ عالم تھا کہ وہ فورًااپنے ہاتھ ناپنے لگ گئیں۔ اس شوق میں وہ یہ بات کلیۃً فراموش کر بیٹھیں کہ یہ تو تب ہوگا جب موت کے دروازہ سے گزریں گی۔ یہ تڑپ اور شوقِ لقا آنحضرت ﷺکے حسن و احسان اور حسن معاشرت کی بےمثل دلیل ہے۔
حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ جو طبیعت کے ذرا سخت تھے، ایک بار اپنی بیوی کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش آئے تو حضرت مسیح موعودؑ کو الہام ہوا: ’’یہ طریق اچھا نہیں۔ اس سے روک دیا جائے مسلمانوں کے لیڈر عبدالکریم کو۔ خُذُوالرِّفْقَ۔ اَلرِّفْقَ فَاِنَّ الرِّفْقَ رَأْسُ الْخَیْرَاتِ۔ نرمی کرو۔ نرمی کرو کہ تمام نیکیوں کا سر نرمی ہے۔‘‘ (تذکرہ)۔
اس الہام الٰہی کی تشریح میں آپؑ فرماتے ہیں: ’’اس الہام میں تمام جماعت کے لیے تعلیم ہے کہ اپنی بیویوں سے رِفق اور نرمی کے ساتھ پیش آویں۔ وہ ان کی کنیزکیں نہیں ہیں۔ درحقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے۔ پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغاباز نہ ٹھہرو۔ … روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ ان کے لیے دعا کرتے رہو۔‘‘(اربعین نمبر۳۔ روحانی خزائن جلد۱۷صفحہ۴۲۸حاشیہ)
اسی طرح جب حضرت مسیح موعودؑ کے علم میں آیا کہ کسی دوست کا سلوک اپنی اہلیہ سے اچھا نہیں تو اُن کے نام ایک مکتوب میں آپؑ نے تحریر فرمایا: ’’اپنی بیویوں…کو اس مسافرخانہ میں اپنا ایک دلی رفیق سمجھو اور احسان کے ساتھ معاشرت کرو۔ … عزیز من! انسان کی بیوی ایک مسکین اور ضعیف ہے جس کو خدا نے اس کے حوالہ کردیا اور وہ دیکھتا ہے کہ ہر یک انسان اس سے کیا معاملہ کرتا ہے۔ نرمی برتنی چاہیے اور ہر یک وقت دل میں یہ خیال کرنا چاہیے کہ میری بیوی ایک مہمان عزیز ہے جس کو خدا تعالیٰ نے میرے سپرد کیا ہے اور وہ دیکھ رہا ہے کہ میں کیونکر شرائط مہمان داری بجالاتا ہوں۔ میں ایک خدا کا بندہ ہوں اور یہ بھی ایک خدا کی بندی ہے۔ مجھے اس پر کونسی زیادتی ہے۔ خونخوار انسان نہیں بننا چاہیے۔ بیویوں پر رحم کرنا چاہیے اور ان کو دین سکھلانا چاہیے۔ درحقیقت میرا یہی عقیدہ ہے کہ انسان کے اخلاق کے امتحان کا پہلا موقعہ اس کی بیوی ہے۔‘‘ (تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد۲صفحہ ۲۳۰)
حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ فرماتے ہیں: مَیں نے اپنے ہوش میں نہ کبھی حضورؑ کو حضرت امّ المومنین سے ناراض دیکھا، نہ سنا۔ بلکہ ہمیشہ وہ حالت دیکھی جو ایک آئیڈیل (Ideal) مثالی جوڑے کی ہونی چاہیے۔
حضرت امّ المومنینؓ بیان فرماتی ہیں کہ مَیں پہلے پہل جب دلّی سے آئی تو مجھے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعودؑ گُڑ کے میٹھے چاول پسند فرماتے ہیں۔ چنانچہ مَیں نے بہت شوق سے اور اہتمام سے میٹھے چاول پکانے کا انتظام کیا۔ تھوڑے سے چاول منگوائے اور اس میں چار گنا گُڑ ڈال دیا۔ وہ بالکل راب سی بن گئی۔ جب پتیلی چولہے سے اتاری اور چاول برتن میں نکالے تو دیکھ کر سخت رنج اور صدمہ ہوا کہ یہ تو خراب ہو گئے۔ اُدھر کھانے کا وقت ہو گیا تھا۔ حیران تھی کہ اب کیا کروں اتنے میں حضرت صاحب آگئے۔ میرے چہرے کو دیکھا جو رنج اور صدمہ سے رونے والوں کا سابنا ہوا تھا۔ آپؑ دیکھ کر ہنسے اور فرمایا: کیا چاول اچھے نہ پکنے کا افسوس ہے؟ پھر فرمایا: نہیں، یہ تو بہت اچھے ہیں۔ میرے مزاج کے مطابق پکے ہیں۔ ایسے زیادہ گُڑ والے تو مجھے پسند ہیں۔یہ تو بہت ہی اچھے ہیں اور پھر بہت خوش ہو کر کھائے۔ حضرت صاحب نے مجھے خوش کرنے کی اتنی باتیں کیں کہ میرا دل بھی خوش ہوگیا۔ (سیرت حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ از شیخ محمود احمد عرفانی، حصہ اول صفحہ ۲۱۷ ۲۱۸-)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت امّاں جان کی چھوٹی سے چھوٹی بات کا خیال رکھا کرتے تھے اور ہر تکلیف کو فوری دُور کرنے کی کوشش کرتے۔ بیماری میں تیمارداری کرتے۔ آپؓ کی بات کو بڑی عزت دیا کرتے تھے یہاں تک کہ جو خادمائیں گھر میں آیا کرتی تھیں وہ یہ کہا کرتی تھیں کہ ’’مِر جا بیوی دی گل بڑی مندا ہے۔‘‘ (سیرت حضرت مسیح موعودؑ صفحہ۴۰)
حضرت مسیح موعودؑ کی اہلی زندگی میں باہمی محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک روز حضرت امّاں جانؓ نے حضورؑ سے کہا: ’’میں ہمیشہ دعا کرتی ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھے آپ کا غم نہ دکھائے اور مجھے آپ سے پہلے اٹھالے۔‘‘ یہ سن کر حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا: ’’اور میں ہمیشہ دعا کرتا ہوں کہ تم میرے بعد زندہ رہو اور میں تم کو سلامت چھوڑ جاؤں۔‘‘(سیرت حضرت امّاں جانؓ۔ شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان صفحہ۳)
میاں بیوی کے اکثر جھگڑے ایک دوسرے کی خامیاں تلاش کرنے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ایک دوسرے کی خامیاں تلاش کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی خوبیاں تلاش کریں۔‘‘ (خطبہ جمعہ ۸؍نومبر۲۰۱۳ء)۔ نیز فرمایا: ’’آپس میں صلح و صفائی کی فضا پیدا کرنی چاہیے۔ یہ میاں بیوی دونوں کو نصیحت ہے کہ اگر دونوں ہی اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھیں …. ذرا ذرا سی بات پر معاملات بعض دفعہ اس قدر تکلیف دِہ صورت اختیار کرجاتے ہیں کہ انسان سوچ کر پریشان ہوجاتا ہے کہ ایسے لوگ بھی اس دنیا میں موجود ہیں کہ جو کہنے کو تو انسان ہیں مگر جانوروں سے بھی بدتر۔‘‘ (خطبہ جمعہ ۲؍جولائی ۲۰۰۴ء)
اگر میاں بیوی میں کسی بات پر اختلاف ہو جائے اور کوئی غصہ میں آجائے تو وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ کے مطابق جواب دینے کی بجائے خاموشی اختیار کرلیں۔
پھر میاں بیوی کو ہمیشہ باہم ایک دوسرے پر پورا اعتماد رکھنا چاہیے۔ بلا وجہ تجسّس اور عیب چینی کا طریق اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ ایک دوسرے کے خطوط پڑھنا، فونوں پر نظر رکھنا ، جیبوں کی خفیہ تلاشی لینا وغیرہ بہت سی باتیں ہیں جو بد ظنی کا موجب بن کر بالآخر تعلقات کو ختم کرنے کا باعث بن جاتی ہیں۔ اس ضمن میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی ایک بات ہمیشہ یاد رکھنے والی ہے ، آپؓ فرماتے ہیں کہ مَیں نے آج تک اپنی کسی بیوی کا کوئی صندوق کبھی ایک مرتبہ بھی کھول کر نہیں دیکھا۔ (بحوالہ الفضل ربوہ ۵؍اکتوبر۲۰۰۹ء)
خطبہ نکاح والی آیات میں ایک خاص نصیحت قول سدید کے بارہ میں ہے یعنی جب بھی بات کی جائے سچی اور کھری ہو۔ یہ ایک ایسی سنہری نصیحت ہے جس کو اگر دیانتداری سے پلّے باندھ لیا جائے تو وہ مشکلات اور مسائل جو شادی کے بعد سر اٹھاتے ہیں کبھی پیدا نہیں ہوسکتے۔ جھوٹ اور اخفا سے اور قولِ سدید سے کام نہ لینے کی وجہ سے دونوں خاندان ساری زندگی مشکلات میں گرفتار رہتے ہیں۔
علیحدگی کی ایک وجہ والدین کا بچوں کے عائلی معاملات میں بےجا مداخلت بھی ہے۔ اسلام نے والدین کو نصیحت فرمائی کہ چھوٹی عمر میں بچوں کی تربیت کا پورا پورا حق ادا کریں اور بلوغت کے بعد ان پر واضح کردیں کہ اب وہ اپنے اعمال کے خود ذمہ دار اور اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دِہ ہیں۔ شادی کے بعد ازدواجی زندگی میں انہیں آزادی اور باہمی اتفاق سے اپنے معاملات طے کرنے کا موقع دینا صحیح طریق عمل ہے۔
ایک اہم بات رحمی رشتہ داروں سے حسن سلوک ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے تنبیہ فرمائی ہے کہ ’’جو شخص اپنی اہلیہ اور اس کے اقارب سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاشرت نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔‘‘ (کشتی نوح)
نیز فرمایا: ’’طلاق سے پرہیز کرو کیونکہ نہایت بد، خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے۔ جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندہ برتن کی طرح جلد مت توڑو۔‘‘ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ اور اربعین نمبر۳)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی افریقہ میں ملازم تھے۔ ان کی دو بیویاں قادیان میں رہا کرتی تھیں۔ انہوں نے حضرت حکیم مولانا نورالدینؓ کو خط میں درخواست کی کہ دونوں بیویوں کو افریقہ بھجوادیا جائے۔ اور جو بیوی آنے سے انکار کرے اسے مَیں طلاق دیتا ہوں۔ اُن کا یہ خط حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپؑ کو بہت ہی دکھ پہنچا اور آپؑ نے فرمایا:ایسے شخص کا ہمارے ساتھ تعلق نہیں رہ سکتا کیونکہ جو اتنے عزیز رشتہ کو ذرا سی بات پر قطع کرسکتا ہے وہ ہمارے تعلقات میں وفاداری سے کیا کام لے گا۔
………٭………٭………٭………
مزید پڑھیں: سیم ہیرس صاحب کا اسلام کے خلاف اعلانِ جنگ




