افریقہ (رپورٹس)

عوامی جمہوریہ کونگو کے ریجن Mbanza-Ngungu کا پندرھواں جلسہ سالانہ ۲۰۲۵ء

عوامی جمہوریہ کونگو براعظم افریقہ کا دوسرا بڑا ملک ہے جو وسیع وعریض رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ جلسہ سالانہ میں زیادہ سے زیادہ احباب کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ریجنز کی سطح پر جلسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

امسال اللہ تعالیٰ کے فضل سے عوامی جمہوریہ کونگو کے ریجن بانزاگونگو (Mbanza-Ngungu)کا ۱۵واں جلسہ سالانہ مورخہ ۲۸؍دسمبر ۲۰۲۵ء بروز اتوار منعقد ہوا۔ کونگو کا یہ ریجن بھی دوسرے ریجنز کی طرح بہت بڑے علاقے پر مشتمل ہے جہاں ہماری جماعتیں قائم ہیں۔ امسال جلسہ سالانہ میں شرکت کے لیے ۴۵؍سے زائد جماعتوں سے احباب مشکل سفر کرکے شامل ہوئے۔ بعض ایسے دیہات میں جہاں پر احباب کو ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر نہ تھی وہ ۴۵؍کلومیٹر پیدل چل کر بس سٹاپ پر پہنچے اورپھر وہاں سے بمشکل بذریعہ موٹر سائیکل جلسہ سالانہ کے لیے تشریف لائے۔

مکرم نوید احمد صاحب ریجنل مبلغ کی رپورٹ کے مطابق جلسے کے مہمانوں کی آمد اور جلسے کی تیاری کے وسیع تر کاموں کی انجام دہی کے لیے مختلف نظامتوں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ ہر ایک نظامت نے اپنی ذمہ داریوں کو بھرپور رنگ میں انجام دینے کی پوری کوشش کی۔ ان خدمت بجالانے والوں میں اکثر افراد نومبائعین تھے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں جلسے کی کامیابی کے لیے دعائیہ خط لکھا گیا۔ تمام احباب نے بڑی محنت سے وقار عمل کرکےجلسہ گاہ، مسجد اور اس سے ملحقہ جگہوں کی صفائی کی نیز بینرز اور جھنڈیاں لگا کرجلسہ گاہ کو خوب سجایا۔

ریجنل جلسہ سالانہ میں شرکت کے لیے مکرم حافظ مزمل شاہد صاحب مبلغ سلسلہ اجوفا مکرم خالد محمود شاہد صاحب امیر و مبلغ انچارج کے نمائندہ کے طور پر شامل ہوئے اور مکرم عطاءالقیوم صاحب مبلغ سلسلہ ریجن ککوت بھی بطور خاص جلسے سالانہ میں شرکت کے لیے تشریف لائے۔ جلسہ سالانہ میں شرکت کے لیے ریجن بوما سے مکرم سلام علی صاحب قائد خدام الاحمدیہ بھی خصوصی طور پر تشریف لائے۔

جلسہ سالانہ کا پہلا دن: جلسہ سالانہ کے پہلے دن کا آغاز اجتماعی نماز تہجد، نماز فجر اور درس سے ہوا جس کے بعد تمام مہمانان کے لیے ناشتے کا انتظام کیا گیا تھا۔

صبح ۹ بج کر ۴۵؍منٹ پر پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ مکرم امیر صاحب کے نمائندہ نے لوائے احمدیت اور مکرم ابو بکر ایمپیلو صاحب صدر جماعت بانزا گونگو نے کونگو کا پرچم فضا میں بلند کیا اور دعا کروائی۔

جلسے کے اجلاس کی کارروائی کا آغاز صبح دس بجے تلاوت قرآن کریم و ترجمہ اور نظم و ترجمہ سے ہوا۔ اس روز کی ایک خاص بات جلسہ سالانہ قادیان سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا اختتامی خطاب تھا اور کونگو کی تاریخ میں پہلی دفعہ جلسہ سالانہ قادیان کے ہی موقع پر کونگو کنشاسا کے بھی دو ریجنز میں جلسہ جات منعقد ہورہے تھے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطاب سے قبل یہ تین تقاریر ہوئیں:’’حضرت عیسٰیؑ کی آمد ثانی اور نظام خلافت‘‘ از مکرم صدر صاحب جماعت بانزا گونگو، ’’بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار اسلامی نقطہ نظر میں‘‘ از مکرم راشد کیفاتا صاحب معلم سلسلہ اور ’’انسانیت کی بہبود کے لیے اسلامی تعلیمات اور خدمات‘‘ از مکرم احمد بوبا صاحب معلم سلسلہ۔

بعدازاں تمام شاملین جلسے نے نہایت ادب واحترام سے جلسہ سالانہ قادیان سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا اختتامی خطاب سنا۔

جلسے کا ایک اور اہم حصہ نمائندہ خصوصی مکرم امیر جماعت صاحب کونگو کی اختتامی تقریر تھی جس میں آپ نے جامع انداز میں اسلام احمدیت کی تعلیمات اور دنیا میں امن قائم کرنے کے ذریعہ پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں جلسے میں شامل ہونے والے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اختتامی دعا کے بعد احباب نے اپنے مخصوص انداز میں اونچی آواز میں کلمہ طیبہ پڑھا۔

جلسے کے دن غیر از جماعت مہمانوں کی بھی ایک بڑی تعداد بڑے جوش و خروش سے جلسے میں شرکت کے لیے آئی تھی۔ علاقے کے اعلیٰ حکومتی عہدیدارجن میں شیف آف ڈویژن، امیگریشن کے افسران اورکرنلز کے علاوہ دیگر مقامی اٹھارٹیز اور میڈیا کے بھی نمائندے شامل تھے۔ وقت کی رعایت سے صرف بعض مہمانان کو سٹیج پر آکر اپنے تاثرات بیان کرنے کا موقع دیا گیا۔

انہی مہمانان میں سے ایک مکرم سموئیل معصومو صاحب شیف آف ڈویژن یونیک تھے جنہوں نے جماعت احمدیہ کو اس کی انسانیت کے لیےخدمات پر بڑے ہی احسن رنگ میں خراج تحسین پیش کیا۔ اسی طرح دوسرے مہمانان نے خصوصی طور پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے روح پرور خطاب پر انتہائی خوشنودی کا بڑے واضح الفاظ میں اظہار کیا اور وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جلسے میں شریک ہونے اور اس روحانی مائدہ کو پانے کی توفیق بخشی۔

جلسے کا سب سے آخری پروگرام مہمانان کے ساتھ مجلس سوال وجواب کا انعقاد تھا۔ مہمانان کے سوالات کے جواب صدر اجلاس نے دیے۔

جلسہ سالانہ سے تین روز قبل سے لوکل ریڈیو سٹیشنز پر جماعت احمدیہ کا تعارف اور جلسے کے انعقاد کا اعلان کروایا جاتا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسے کی کل حاضری ۶۹۴؍تھی۔ جلسے کااختتام دعا سے ہوا جس کے بعد تمام حاضرین کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔

نومبائعین کے لیے جلسہ تربیت کا انعقاد

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ سالانہ سے ایک روز قبل مورخہ ۲۷؍دسمبر ۲۰۲۵ء بروز ہفتہ بعد از نماز مغرب و عشاء جماعت احمدیہ ریجن بانزا گونگو کو جلسہ تربیت منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ اس جلسے کی صدارت مکرم حافظ مزمل شاہد صاحب مبلغ سلسلہ ریجن ا جوفا، مکرم عطاء القیوم صاحب مبلغ سلسلہ ریجن ککوت اور مکرم سلام علی صاحب قائد خدام الاحمدیہ ریجن بوما نے کی۔ یہ جلسہ خاص طور پر نومبائعین کی تعلیم وتربیت کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔

اس جلسے کا آغاز تلاوت قرآن کریم و نظم سے ہوا جس کے بعد مہمان خصوصی نے بنیادی ارکان اسلام اور خصوصی طور پر نماز کے قیام کے بارے میں حاضرین کو معلومات فراہم کی جبکہ مکرم علی کونگولو صاحب معلم سلسلہ نے مالی قربانی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

بعد ازاں مجلس سوال وجواب بھی منعقد کی گئی جس میں نومبائع احباب نے علم کی جستجو میں بہت سے سوالات پوچھے اور مہمان خصوصی نے ان کے جواب دیے۔ یہ مجلس رات ساڑھے نو بجے تک جاری رہی جس کا اختتام دعا کے ساتھ ہوا۔ اس اجلاس کی کل حاضری ۲۷۶؍تھی۔ الحمدللہ علیٰ ذالک

(رپورٹ: شاهد محمود خان۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button