الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
محترم میجر جنرل نذیر احمد ملک صاحب
روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ ۱۲؍مارچ ۲۰۱۴ء میں پہلے احمدی جرنیل محترم نذیر احمد ملک صاحب کا ذکرخیر مکرم پروفیسر راجا نصراللہ خان صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
میجر جنرل نذیر احمد ملک صاحب کا تعلق دوالمیال ضلع جہلم سے تھا۔ جو ڈلوال سے قریب ہی ہے۔ ڈلوال کے راجگان نے انیسویں صدی کے اواخر میں آٹھ ایکڑ زرعی رقبہ بیلجیم مشن کو بطور عطیہ دیا تھا جہاں ۱۹۰۰ء میں علاقے کا پہلا ہائی سکول تعمیر کیا گیا۔ فوج میں کمیشن لینے کے لیے میٹرک تک کی تعلیم لازمی تھی چنانچہ بےشمار خاندانوں کے بچے ڈلوال مشن ہائی سکول سے میٹرک کرکے فوج میں بھرتی ہوتے گئے۔ انہی میں نذیر احمد ملک بھی شامل تھے جنہوں نے کمیشن حاصل کرنے کے بعد مختلف عسکری کورسز کیے اور ترقی کے زینے طے کرتے چلے گئے۔ آپ بلند قدوقامت اور سڈول جسم کے مالک تھے اور بارعب و باوقار شخصیت کے حامل تھے۔
آپ انتہائی مخلص احمدی تھے اور حضرت مصلح موعودؓ کے شیدائی تھے۔ قادیان کے جلسے میں بھی شمولیت کرتے رہتے۔ آپ کے چھوٹے بھائی کیپٹن عطاءاللہ ملک صاحب کو قادیان سے ہجرت کے موقع پر حضورؓ اور جماعت کی خاص خدمت کی توفیق بھی ملی۔
محترم چودھری انور احمد کاہلوں صاحب بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۴۲ء میں وائسرائے ہند نے حضرت چودھری سرمحمدظفراللہ خان صاحبؓ سے چین میں خودمختار بھارتی مشن قائم کرنے کے لیے کہا تو حضرت چودھری صاحبؓ نے میری فرم سے چند ماہ کے لیے مجھے رخصت دینے کے بارے میں پوچھا لیکن یہ درخواست منظور نہ ہوسکی اور مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ بہرحال میری جگہ پھر میجر نذیر احمد اُن کے ہمراہ گئے۔
مذکورہ سفر کے حوالے سے حضرت چودھری صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ چنگ کنگ (چین) کے ہوائی اڈّے پر برطانوی سفیر کی طرف سے فرسٹ سیکرٹری ہماری پیشوائی کے لیے موجود تھے۔ میجر نذیر احمد صاحب اُن کے ہاں مہمان ہوئے اور مجھے سفیر صاحب نے اپنے ہاں ٹھہرایا۔ ہمارا مستقل قیام ایک بنگلے میں تھا جو بلندی پر درختوں کے جھنڈ میں واقع تھا۔ میجر صاحب کے ساتھ ہونے کی وجہ سے مجھےانتظام کے متعلق کوئی پریشانی نہیں تھی۔ دفتر ہمارا سفارت خانے میں ہی تھا۔ آنے جانے کے لیے میجر صاحب پہاڑ کی چڑھائی چڑھنے کے لیے ایک ٹٹو کرائے پر لے لیتے۔ وہ طویل قامت تھے جبکہ ٹٹو پستہ قد تھے لیکن تھے مضبوط اور چالاک۔ میجر صاحب کو سوار ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ ٹٹو اُن کی ٹانگوں میں سے گزر کر کھڑا ہوجاتا اور وہ اُس کی پیٹھ پر جم جاتے۔
میجر نذیر احمد صاحب کی کارکردگی کی بنیاد پر برطانوی حکومت نے اُنہیں بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی دے کر ٹوانہ (مدراس) کے قریب ایک مقام آدریؔ میں متعین کردیا۔ جنوری ۱۹۴۸ء میں قیام پاکستان کے بعد آپ کو میجرجنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی اور بعد میں اعلیٰ کورسز اور ٹریننگ کے لیے انگلینڈ بھیجا گیا۔
میجرجنرل محمد اکبر کی قیادت میں جب لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی کوشش ۱۹۴۷ء میں کی گئی تو کئی ملزموں پر جرم ثابت ہوگیا اور اُن کو لمبی سزائیں سنائی گئیں۔ میجر جنرل نذیر احمد پر الزام تو ثابت نہ ہوا لیکن اُن کو کہا گیا کہ انہیں اس سازش کے بارے میں آگاہ ہونا چاہیے تھا لہٰذا انہیں عدالت برخاست ہونے تک کی سزا سنائی گئی۔
کیپٹن ظفراللہ پوشنی بھی مذکورہ مقدمے میں ملوّث تھے وہ اپنی کتاب میں عدالت کا حال یوں بیان کرتے ہیں کہ ۱۵؍جون۱۹۵۱ء کی صبح حیدرآباد جیل کی خفیہ عدالت میں راولپنڈی سازش کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ہم تیرہ مرد اور ایک خاتون ملزموں کے طور پر لکڑی کی چھوٹی چھوٹی کرسیوں پر ڈٹے ہوئے تھے۔ یہ کرسیاں اپنی ساخت میں نہایت ہلکی پھلکی تھیں۔ چنانچہ چھ فٹ تین انچ لمبے اور ۲۱۰؍پاؤنڈ وزنی جنرل نذیر نے اپنا بوجھ جو ایک کرسی پر ڈالا تو اُس نے فوراً چرچر کرکے اپنی بےبسی کا اعلان کردیا۔ بعد میں جنرل نذیر کو نسبتاً ایک بڑی اور مضبوط کرسی دے دی گئی۔ جنرل نذیر سمیت چار ملزمان کو جیل میں اےکلاس دی گئی تھی جبکہ ہم دس ملزمان بی کلاس میں تھے۔ اے کلاس کے کمرے ہمارے کمروں سے دُگنے بڑے تھے۔ گرمیوں میں ہمارے کمرے تنور کی طرح ہوجاتے تھے لیکن اےکلاس کے کمروں کی یہ حالت کبھی نہ ہوتی۔ اسی لیے ہم نے اپنے وارڈ کا نام سرائے اور اےکلاس وارڈ کا نام خانقاہ رکھ لیا تھا۔ عدالت دونوں وارڈوں کے وسط میں تھی۔ ہفتے اور اتوار کو عدالت بند رہتی تو ہم سرائے کے باشندے صبح نودس بجے خانقاہ والوں سے ملنے جاتے۔ خانقاہ میں داخل ہوتے ہی ہماری نظر سب سے پہلے جنرل نذیر احمد پر پڑتی جو سر اور پاؤں کے تلووں میں مہندی لگاکر برآمدے میں آرام کرسی پر دراز اخبار بینی میں مصروف ہوتے۔ ہم نے دس گیارہ بار مشاعرے کی محفلیں بھی برپا کیں۔ جنرل نذیر احمد جب تک ہمارے ساتھ رہے مستقل طور پر صدارت کے فرائض سرانجام دیتے رہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ہم نے اُن کو مستقل مشاعرہ پریذیڈنٹ مقرر کردیا تھا۔ ۵؍جنوری۱۹۵۳ء کو ہمارے مقدمے کا فیصلہ ہوا تو جنرل نذیر ملازمت سے برطرف اور تا برخاستِ عدالت سزا کاٹ کر چند گھنٹے بعد جیل خانے سے رخصت ہوئے۔ باقی تیرہ مجرمین کو چار سے بارہ سال کی سزائے قید ہوئی۔ اُن کی روانگی کے بعد علاوہ دیگر مسائل کے ہمارے لیے مشاعرے کا نیا صدر بنانے کا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔
اگست۱۹۵۲ء میں جنرل نذیر احمد کی صدارت میں جو مشاعرہ ہوا تو مَیں نے بطور سیکرٹری اُن کو ایک فہرست دی جس میں نشان لگادیے کہ کون کونسے شعراء غزل لکھ کر لائے ہیں اور کون سے یونہی خالی ہاتھ چلے آئے ہیں۔ جنرل صاحب نے اُن حضرات کو جو خالی ہاتھ آئے تھے باری باری اُن کی لاپروائی پر ڈانٹا اور اُن کے غیرذمہ دارانہ رویے کی سخت مذمت کی۔ بعد میں جب معلوم ہوا کہ صاحب صدر خود بھی کچھ لکھ کر نہیں لائے تو محفل قہقہوں سے گونج اُٹھی۔
ایک بار ٹینس کھیلتے ہوئے میرے اور حسن کے درمیان تکرار ہوئی جو بڑھ گئی اور آوازیں بلند ہونے لگیں۔ جنرل نذیر نماز پڑھنے جارہے تھے، انہوںنے آواز دی: ٹھنڈا پانی پلاؤ ان بیوقوفوں کو! چند منٹ بعد میرا غصہ جاتا رہا اور حسن کا پارا بھی کچھ نیچے آگیا۔ جنرل نذیر نے نماز سے فارغ ہوکر ہم دونوں کو اپنے پاس بلالیا۔ بزرگانہ نصیحت کی اور ہمارے درمیان صلح کروادی اور ہم دونوں نے ایک دوسرے سے بغلگیر ہوکر معافی مانگی۔
کیپٹن ظفراللہ پوشنی مزید لکھتے ہیں کہ پہلے ہم یہ کہتے تھے کہ ہندو دشمن ہے اس کو مارو، پھر یہ کہا جانے لگا کہ احمدی اس سے بھی بڑا دشمن ہے اس کو پہلے مارو۔ ضیاءالحق نے مذہبی جنونیت اور عدم رواداری میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اب ہم یہاں پہنچ گئے ہیں کہ شیعہ کافر ہے اسے بھی مارو۔ شاید ایک دن وہ سٹیج بھی آجائے کہ دیوبندی کہے گا کہ بریلوی کافر ہے اور بریلوی کہے گا کافر تو دراصل دیوبندی ہے انہیں مارو، واصل جہنم کرو۔ ہماری دعا ہے کہ کبھی کوئی ایسی ذی ہوش قیادت اس ملک میں اُبھرے جو اِن خرد کے دشمنوں کو لگام ڈالے اور امن و آشتی کی فضا قائم کرے۔
مقدمے سے بری ہونے کے بعد جنرل نذیر احمد صاحب کو نمایاں معاشرتی خدمات کی توفیق ملتی رہی۔ آپ لاہور کارپوریشن کے چیئرمین بھی رہے۔ اُسی زمانے میں ملکہ برطانیہ الزبتھ جب لاہور کے دورے پر آئیں تو شہریوں کی جانب سے شالامار باغ میں اُن کو استقبالیہ دیا گیا جس میں جنرل صاحب نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔
جنرل نذیر احمد ملک صاحب کی وفات دل کے دورے کے نتیجے میں ۲۰؍جنوری۱۹۶۴ء کو ہوئی اور آپ کی تدفین ربوہ کے قبرستان میں عمل میں آئی۔ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ نے اس حوالے سے تفصیلی خبر میں یہ بھی لکھا کہ ربوہ لے جانے سے قبل گلبرگ لاہور میں جنرل نذیراحمد کی رہائشگاہ پر جنازہ پڑھا گیا جس میں لاہور کارپوریشن کے عملے اور دیگر معززین شہر کے علاوہ اعلیٰ سول و فوجی حکام نے بھی شرکت کی۔ لاہور کارپوریشن نے جنازے میں شرکت کے لیے عملے کو دو گھنٹے کی چھٹی دی تھی۔ اس سے قبل ۲۱؍جنوری کو لاہور میونسپل کارپوریشن کا ہنگامی اجلاس چیئرمین مسٹر محمد اسلم باجوہ کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں کارپوریشن کے سابق چیئرمین میجر جنرل نذیر احمد کی وفات پر گہرے رنج و غم اور موصوف کے پسماندگان سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر موصوف کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔
پاکستان میں جاری کیے جانے والے پانچ روپے کے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ پر قائداعظم محمدعلی جناح اور مادرملّت محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ جنرل نذیر احمد ملک کی باوردی تصویر موجود ہے۔ اس تصویر کے ساتھ تحریر ہے:
Quaid-e-Azam at
Armoured Corps Center April 14, 1948
………٭………٭………٭………
اسکندریہ (مصر)
مصر کے دوسرے بڑے شہر اور بحیرہ روم پر واقع مصر کی اہم بندرگاہ اسکندریہ کے بارے میں ایک مختصر مضمون روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ ۵؍اگست۲۰۱۴ء میں (مرسلہ مکرم امان اللہ امجد صاحب) شامل اشاعت ہے۔
اسکندریہ کو سکندراعظم نے ۳۳۲قبل مسیح میں آباد کیا تھا اور یہ ۳۰۴قبل مسیح میں بطلیموس کا دارالحکومت بھی رہا۔ اسے یونانی اور یہودی ثقافتی مرکز کی حیثیت بھی حاصل رہی۔ ۳۰قبل مسیح میں یہ روما سلطنت میں شامل ہوا۔۶۱۶ء میں اہل فارس نے اسے فتح کرلیا اور ۶۲۶ء میں عربوں نے اس پر قبضہ کرلیا۔ اُس وقت اس کی آبادی چھ ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔
یہ ایک صنعتی شہر ہے جہاں تیل صاف کرنے، چاول چھڑنے، چمڑے اور کاغذ بنانے کے کارخانے بھی قائم ہیں۔ تعلیمی لحاظ سے بھی اسکندریہ ترقی یافتہ ہے۔ یہاں یونیورسٹی کا قیام ۱۹۴۲ء میں عمل میں آیا تھا۔
اسکندریہ کے مشہور مقامات میں میدان التحریر (آزادی چوک)، روشنی کا مینار (جس کا شمار دنیا کے عجائبات میں ہوتا ہے)، یونانی رومن عجائب گھر، عالمین کا قبرستان اور بہت سے دیگر مقامات شامل ہیں۔
………٭………٭………٭………
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۱۰؍نومبر۲۰۱۴ء میں مکرم منظور احمد منظور صاحب بھیروی کی ایک نظم شامل اشاعت ہے ۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:
کچھ مجھے تدبیر بتلا دو وصالِ یار کی
ورنہ بچنے کی نہیں اُمید اس بیمار کی
مجھ کو حاصل ہو اسی میں دولتِ ہر دو جہاں
گر میسر ہو گدائی کوچۂ دلدار کی
مَیں نہ دشمن کا کروں شکوہ نہ قسمت کا گِلا
ہاں اسی پہ خوش ہوں جو مرضی مری سرکار کی
جنت و دوزخ کی مولا کچھ نہیں پروا مجھے
ہوں جہاں ہوتی رہے مجھ کو زیارت یار کی
لے گیا بازی تو دنیا سے وہ سلطان القلم
کیا حقیقت ہے مخالف آہنی تلوار کی
دیکھ کر دنیا نشانوں پر نشاں بےخوف ہے
آجکل دیکھو ہوئی کیا زار حالت زار کی
گالیوں پر اب اُتر آئے ہیں دشمن حیف ہے
جب کوئی صورت نظر آئی نہیں انکار کی




