ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر۲۰۷)
میں اپنی جماعت میں صحابہ کا نمونہ دیکھنا چاہتا ہوں
’’میں یہی نمونہ صحابہ کا اپنی جماعت میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ کو وہ مقدم کر لیں اور کوئی امر ان کی راہ میں روک نہ ہو۔ وہ اپنے مال و جان کو ہیچ سمجھیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگوں کے کارڈ آتے ہیں۔کسی تجارت یا اور کام میں نقصان ہوا یا اور کسی قسم کا ابتلا آیا تو جھٹ شبہات میں پڑگئے۔ایسی حالت میں ہر شخص سمجھ سکتاہے کہ ا صل مطلب اور مقصد سے وہ کس قدر دور ہیں۔ غور کرو کیا فرق ہے صحابہؓ میں اور ان لوگوں میں۔ صحابہؓ یہ چاہتے تھے کہ خدا تعالیٰ کو راضی کریں خواہ اس راہ میں کیسی ہی سختیاں اور تکلیفیں اُٹھانی پڑیں۔ اگر کوئی مصائب اور مشکلات میں نہ پڑتا اور اسے دیر ہوتی تو وہ روتا اور چلاتا تھا۔ وہ سمجھ چکے تھے کہ ان ابتلاؤں کے نیچے خدا تعالیٰ کی رضا کا پروانہ اور خزانہ مخفی ہے۔؎
ہر بلا کیں قوم را حق دادہ است
زیر آں گنج کرم بنہادہ است
قرآن شریف ان کی تعریف سے بھرا ہوا ہے۔ اسے کھول کر دیکھو۔ صحابہؓ کی زندگی آنحضرت ﷺ کی صداقت کا عملی ثبوت تھا۔ صحابہؓ جس مقام پر پہنچے تھے اس کو قرآن شریف میں اس طرح پر بیان فرمایا ہے: مِنۡہُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحۡبَہٗ وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡتَظِرُ(الاحزاب : ۲۴) یعنے بعض ان میں سے شہادت پا چکے اور انہوں نے گویا اصل مقصود حاصل کر لیا۔ اور بعض اس انتظار میں ہیں کہ چاہتے ہیں کہ شہادت نصیب ہو۔ صحابہؓ دنیا کی طرف نہیں جھکے کہ عمریں لمبی ہوں اور اس قدر مال و دولت ملے اور یوں بے فکری اور عیش کے سامان ہوں۔ میں جب صحابہؓ کے اس نمونہ کو دیکھتا ہوں تو آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی کمال فیضان کا بے اختیار اقرار کرنا پڑتا ہے کہ کس طرح پر آپ نے ان کی کا یا پلٹ دی اور اُنہیں بالکل رُوبخدا کر دیا۔اللّٰہم صلّ علٰی محمّدٍ وعلٰی آلِ محمّدٍ و بارک وسلم۔‘‘(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۸۲-۸۳ ایڈیشن ۱۹۸۴ء)
تفصیل :اس حصہ ملفوظات میں آمدہ فارسی شعر مولانا روم کا ہے جو کہ مع اعراب و اردوترجمہ پیش خدمت ہے۔
ہَرْ بَلَا کِیْں قَوْم رَا حَقْ دَادِہ اَسْت
زِیْرِآںْ گَنْجِ کَرَمْ بِنِہَادِہْ اَسْت
ترجمہ: ہر آزمائش جو خدا نے اس قوم کے لیے مقدر کی ہے اس کے نیچے رحمتوں کا خزانہ چھپا رکھا ہے ۔
لغوی بحث: ہَرْ(ہر) بَلَا(آزمائش) کِیْں(کہ اس؍کہ یہ) قَوْم(قوم) رَا(کو) حَقْ(خدا) دَادِہ اَسْت(دیاہے) دادن(دینا) مصدر سے ماضی قریب سوم شخص مفرد۔ زِیْرِ(نیچے) آںْ(اُس؍وہ) گَنْجِ(خزانہ) کَرَمْ(رحمت) بِنِہَادِہْ اَسْت(رکھاہے)
مزید پڑھیں: ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر۲۰۶)



