ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر۲۰۶)
انبیاء کی جذب و کشش اور اس کے اثرات
‘‘جس قدر کوئی نبی عظیم الشان ہوتاہے اسی قدر یہ پیاس زیادہ ہوتی ہے اور یہ پیاس جس قدر تیز ہوتی ہے اسی قدر جذب اور کشش اس میں ہوتی ہے۔ آنحضرت ﷺ چونکہ خاتم الانبیاء اور جمیع کمالات نبوت کے مظہر تھے اسی لیے یہ پیاس آپ میں بہت زیادہ تھی اور چونکہ یہ پیاس بہت تھی اسی واسطے آپ میں جذب اور کشش کی قوت بھی تمام راستبازوں اور ماموروں سے بڑھ کر تھی جس کا ثبوت اس سے بڑھ کرکیا ہوگاکہ آپؐ کی زندگی ہی میں کل عرب مسلمان ہو گیا۔ یہ کشش اور جذب جو مامورین کو دیا جاتا ہے وہ مستعد دلوں کو تو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور ان لوگوں کو جو اس سے حصہ نہیں رکھتے دشمنی میں ترقی کرنے کا موقعہ دیتا ہے ؎
باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست
در باغ لالہ روید و در شورہ بوم و خس
اسی طرح پر انبیاء علیہم السلام کی خاصیت ہوتی ہے کہ مومن اور کافر ان کے طفیل سے اپنے کفر اور ایمان میں کمال کرتے ہیں۔ لکھا ہے کہ ابو جہل کا کفر پورا نہ ہوتا اگر آنحضرتﷺ نہ آتے۔ پہلے اس کا کفر مخفی تھا لیکن آنحضرت ﷺ کی بعثت پر اس کا اظہار ہو گیا۔ اسی طرح حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا صدق بھی مخفی تھا جو اس وقت ظاہر ہوا۔آنحضرت ﷺ نے روحانی دعوت کی۔ ایک نے اس دعوت کو قبول کیا اور دوسرے نے انکار کر دیا۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اﷲ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے: فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا (البقرۃ:۱۱)
انبیاء و رسل اس خباثت اور شقاوت کو جو اُن کے اندر ہوتی ہے ظاہر کر دیتے ہیں۔ قرآن شریف نے انبیاء و رسل کی بعثت کی مثال مینہ سے دی ہے۔
وَالۡبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخۡرُجُ نَبَاتُہٗ بِاِذۡنِ رَبِّہٖ ۚ وَالَّذِیۡ خَبُثَ لَا یَخۡرُجُ اِلَّا نَکِدًا (الاعراف:۵۹)
یہ تمثیل اسلام کی ہے۔ جب کوئی رسول آتا ہے تو انسانی فطرتوں کے سارے خواص ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ان کے ظہور کا یہ خاصہ اور علامات ہیں کہ مخلص سعید الفطرت اور مستعد طبیعت کے لوگ اپنے اخلاص اور ارادت میں ترقی کرتے ہیں اور شریر شرارت میں بڑھ جاتے ہیں۔’’(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۸۱-۸۲۔ مطبوعہ ۱۹۸۴ء)
تفصیل: اس حصہ ملفوظات میں آمدہ فارسی شعر شیخ سعدی کا ہے ۔شعرمع اعراب واردو ترجمہ ذیل میں درج ہے۔
بَارَاں کِہْ دَرْلَطَافَتِ طَبْعَشْ خِلَافْ نِیْسْت
دَرْبَاغْ لَالِہْ رُوْیَدْ و دَرْ شُوْرِہْ بُوْم خَسْ
ترجمہ: بارش جس کی پاکیزہ فطرت میں کوئی ناموافقت نہیں وہ باغ میں تو پھول کے اُگنے(کاباعث) ہے اور شورہ زمین میں گھاس پھونس۔
لغوی بحث: بَارَاں(بارش) کِہْ(کہ) دَرْ(میں) لَطَافَتِ طَبْعَشْ(اس کی پاکیزہ فطرت) خِلَافْ(ناموافقت) نِیْسْت(نہیں ہے)
دَرْ(میں) بَاغْ(باغ) لَالِہْ(پھول) رُوْیَدْ(اگتا ہے)روییدن(اگنا) مصدرسے مضارع سادہ سوم شخص مفرد۔ و(اور) دَرْ(میں) شُوْرِہْ(شورہ زمین)بُوْم خَسْ(گھاس پھونس)
مزید پڑھیں: ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر۲۰۵)




