سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

صداقت قرآن کریم جوکہ کتاب اللہ ہےبراہین احمدیہ کے تفصیلی اور اہم مضامین میں سے ایک یہ مضمون ہے…آنحضرت محمدمصطفیٰ ﷺ کی نبوت کی صداقت یہ ایک دوسرااہم ترین مضمون اس کتاب کاہے

باب دوازدہم:

براہین احمدیہ کے مضامین پرایک اجمالی نظر

براہین احمدیہ کے بنیادی مضمون تو دو ہیں جیساکہ کتاب کے پورے نام سے ہی واضح ہوتاہے۔جوکہ یہ ہے:اَلْبَرَاہِیْنُ الْاَحْمَدِیَّہ عَلیٰ حَقِیَّتِ کِتَابِ اللّٰہِ الْقُرآنِ وَالنُّبُوّۃِ الْمُحَمَّدِیَّہ ۔ یعنی

صداقت قرآن کریم جوکہ کتاب اللہ ہے

براہین احمدیہ کے تفصیلی اور اہم مضامین میں سے ایک یہ مضمون ہے۔اس میں قرآن کریم کے نزول کے مقاصد،ضرورت قرآن اور اس کے دلائل کابیان ہے،اور نزول قرآن کی علل اربعہ ،قرآن کریم کی بے نظیری اور وجوہ بے نظیری،قرآن کی سب کتابوں پرفضیلت،قرآن کے فضائل اور خوبیاں،اور حقیت قرآن اورافضلیت پرشہادتوں کی چاراقسام، عقل اور قرآن کریم ،اوریہ ایک بہت بڑی خوبی اور فضیلت ہے جواس کوتمام دوسری کتب سے ممتازکرتی ہے۔حضورؑ اس ضمن میں بیان فرماتے ہیں :’’قرآن شریف میں دوامرکاالتزام اول سے آخر تک پایاجاتاہے۔ایک عقلی وجوہ اور دوسری الہامی شہادت۔یہ دونوں امرفرقان مجیدمیں دوبزرگ نہروں کی طرح جاری ہیں۔‘‘ (براہین احمدیہ ص۹۱ح،رخ جلد ۱ صفحہ ۸۱حاشیہ)

قرآن مجیدکی خوبیاں اور تاثیرات،اس کے معجزات کی تفصیل اور اس کی فصاحت وبلاغت۔

قرآن کریم پربعض اعتراضات اور ان کاجواب

قرآن کوسب الہامی کتابوں پرافضل قرارکیوں دیاجاتاہے ؟خدانے ایساادق اور باریک کلام کیوں بنایا؟ خداکے کلام کی مثل کیوں نہیں بن سکتی؟اس میں فصاحت وبلاغت کااہتمام نہیں کیاگیا۔فیضی کی تفسیرزیادہ فصیح وبلیغ ہے وغیرہ وغیرہ کئی دیگراعتراضات کاردّ کیاگیاہے اور ایک جگہ حضرت اقدسؑ قرآن کریم کی عظمت اورمکمل کتاب ہونے کی بابت تحریرفرماتے ہیں کہ ’’اگرکوئی شخص ایک ذرّہ کاہزارم حصہ بھی قرآن شریف کی تعلیم میں کچھ نقص نکال سکے یابمقابلہ اس کے اپنی کسی کتاب کی ایک ذرّہ بھرکوئی ایسی خوبی ثابت کرسکے کہ جوقرآنی تعلیم کے برخلاف ہواوراس سے بہترہو توہم سزائے موت بھی قبول کرنے کوطیارہیں۔‘‘(براہین احمدیہ صفحہ ۲۶۸ح ح نمبر ۲،رخ جلد ۱صفحہ ۲۹۸ ح ح نمبر۲)

آنحضرت محمدمصطفیٰ ﷺ کی نبوت کی صداقت

یہ ایک دوسرااہم ترین مضمون اس کتاب کاہے۔جس میں آنحضرت ﷺ کی صداقت کے طورپرضرورتِ زمانہ کوایک دلیل کے طورپربیان کیاہے۔اورپھر زمانے کی اصلاح ایک اور دلیل ،آپ ﷺ کے سچے ہادی ہونے کے طورپرسورۃ النحل کی آیات بیان کرتے ہوئے دلائل اور آپ کے خاتم الرسل اور تمام انبیاء کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔آپؐ کے اُمّی ہونے کابیان اوراس پرکیے جانے والے اعتراض کاجواب۔اور کئی مضامین کابیان ہے جوآپؐ کی نہ صرف سچائی کے روشن دلائل ہیں بلکہ آپؐ کے افضل الرسل اور خاتم النبیین ہونے کے بھی واضح ثبوت ہیں۔آنحضرتﷺ کے افضل الرسل ہونے کابیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اصل حقیقت یہ ہے کہ سب نبیوں سے افضل وہ نبی ہے کہ جو دنیا کا مربی اعظم ہے۔ یعنی وہ شخص کہ جس کے ہاتھ سے فساد اعظم دنیا کا اصلاح پذیر ہوا جس نے توحید گم گشتہ اور ناپدید شدہ کو پھر زمین پر قائم کیا۔ جس نے تمام مذاہب باطلہ کو حجت اور دلیل سے مغلوب کرکے ہریک گمراہ کے شبہات مٹائے جس نے ہریک ملحد کے وسواس دور کئے اور سچا سامان نجات کا کہ جس کے لئے کسی بے گناہ کو پھانسی دینا ضرور نہیں اور خدا کو اپنی قدیمی اور ازلی جگہ سے کھسکا کر کسی عورت کے پیٹ میں ڈالنا کچھ حاجت نہیں۔ اصول حقہ کی تعلیم سے ازسرنو عطا فرمایا۔ پس اس دلیل سے کہ اس کا فائدہ اور افاضہ سب سے زیادہ ہے۔ اس کا درجہ اور رتبہ بھی سب سے زیادہ ہے۔ اب تواریخ بتلاتی ہے۔ کتاب آسمانی شاہد ہے اور جن کی آنکھیں ہیں وہ آپ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ نبی جو بموجب اس قاعدہ کے سب نبیوں سے افضل ٹھہرتا ہے وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جیسا کہ عنقریب اسی کتاب میں یہ ثبوت آفتاب کی طرح روشن ہوجائے گا۔‘‘ (براہین احمدیہ ص ۱۰۶حاشیہ نمبر ۶،رخ جلد ۱صفحہ۹۷ ح نمبر ۶)

آنحضرت ﷺ کی سوانح اور سیرت کابیان

حضرت اقدسؑ کی جملہ تحریرات کاایک انتہائی اہم اور بحرزخارکی طرح ٹھاٹھیں مارتاہواسمندرسیرت النبی ﷺ ہے جس میں آپؐ کی سوانح اور فیضان اور فضائل کاتفصیلی عارفانہ بیان ہے۔براہین احمدیہ میں ایک جگہ آپؑ لکھتے ہیں: ’’انبیاء وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنی کامل راستبازی کی قوی حجت پیش کرکے اپنے دشمنوں کو بھی الزام دیا جیسا کہ یہ الزام قرآن شریف میں ہے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے موجود ہے جہاں فرمایا ہے فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔(سورۂ یونس الجزو ۱۱) یعنے میں ایسا نہیں کہ جھوٹ بولوں اور افتراء کروں۔ دیکھو میں چالیس برس اس سے پہلے تم میں ہی رہتا رہا ہوں کیا کبھی تم نے میرا کوئی جھوٹ یا افترا ثابت کیا پھر کیا تم کو اتنی سمجھ نہیں یعنے یہ سمجھ کہ جس نے کبھی آج تک کسی قسم کا جھوٹ نہیں بولا۔ وہ اب خدا پر کیوں جھوٹ بولنے لگا۔ غرض انبیاء کے واقعات عمری اور ان کی سلامت روشی ایسی بدیہی اور ثابت ہے کہ اگر سب باتوں کو چھوڑ کر ان کے واقعات کو ہی دیکھا جائے تو ان کی صداقت ان کے واقعات سے ہی روشن ہورہی ہے مثلاً اگر کوئی منصف اور عاقل ان تمام براہین اور دلائل صدق نبوت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے جو اس کتاب میں لکھی جائیں گی قطع نظر کرکے محض ان کے حالات پر ہی غور کرے تو بلاشبہ انہیں حالات پر غور کرنے سے ان کے نبی صادق ہونے پر دل سے یقین کرے گا اور کیونکر یقین نہ کرے وہ واقعات ہی ایسے کمال سچائی اور صفائی سے معطر ہیں کہ حق کے طالبوں کے دل بلااختیار ان کی طرف کھینچے جاتے ہیں۔ خیال کرنا چاہئے کہ کس استقلال سے آنحضرت اپنے دعویٰ نبوت پر باوجود پیدا ہوجانے ہزاروں خطرات اور کھڑے ہوجانے لاکھوں معاندوں اورمزاحموں اور ڈرانے والوں کے اوّل سے اخیر دم تک ثابت اور قائم رہے برسوں تک وہ مصیبتیں دیکھیں اور وہ دکھ اٹھانے پڑے جو کامیابی سے بکلی مایوس کرتے تھے اور روزبروز بڑھتے جاتے تھے کہ جن پر صبر کرنے سے کسی دنیوی مقصد کا حاصل ہوجانا وہم بھی نہیں گذرتا تھا بلکہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے ازدست اپنی پہلی جمعیت کو بھی کھو بیٹھے اور ایک بات کہہ کر لاکھ تفرقہ خرید لیا اور ہزاروں بلاؤں کو اپنے سر پر بلالیا۔ وطن سے نکالے گئے۔ قتل کے لئے تعاقب کئے گئے۔ گھر اور اسباب تباہ اور برباد ہوگیا۔ بارہا زہر دی گئی۔ اور جو خیر خواہ تھے وہ بدخواہ بن گئے اور جو دوست تھے وہ دشمنی کرنے لگے اور ایک زمانہ دراز تک وہ تلخیاں اٹھانی پڑیں کہ جن پر ثابت قدمی سے ٹھہرے رہنا کسی فریبی اور مکار کا کام نہیں۔ اور پھر جب مدت مدید کے بعد غلبہ اسلام کا ہوا تو ان دولت اور اقبال کے دنوں میں کوئی خزانہ اکٹھا نہ کیا۔ کوئی عمارت نہ بنائی۔ کوئی بارگاہ طیار نہ ہوئی۔ کوئی سامان شاہانہ عیش وعشرت کا تجویز نہ کیا گیا۔ کوئی اور ذاتی نفع نہ اٹھایا۔ بلکہ جو کچھ آیا وہ سب یتیموں اور مسکینوں اور بیوہ عورتوں اور مقروضوں کی خبر گیری میں خرچ ہوتا رہا اور کبھی ایک وقت بھی سیر ہوکر نہ کھایا۔ اور پھر صاف گوئی اس قدر کہ توحید کا وعظ کرکے سب قوموں اور سارے فرقوں اور تمام جہان کے لوگوں کو جو شرک میں ڈوبے ہوئے تھے مخالف بنالیا۔ جو اپنے اور خویش تھے ان کو بت پرستی سے منع کر کے سب سے پہلے دشمن بنایا۔ یہودیوں سے بھی بات بگاڑلی۔ کیونکہ ان کو طرح طرح کی مخلوق پرستی اور پیر پرستی اور بداعمالیوں سے روکا۔ حضرت مسیح کی تکذیب اور توہین سے منع کیا جس سے ان کا نہایت دل جل گیا اور سخت عداوت پر آمادہ ہوگئے اور ہر دم قتل کردینے کی گھات میں رہنے لگے۔ اسی طرح عیسائیوں کو بھی خفا کردیا گیا۔ کیونکہ جیسا کہ ان کا اعتقاد تھا۔ حضرت عیسیٰ کو نہ خدا نہ خدا کا بیٹا قرار دیا اور نہ ان کو پھانسی مل کر دوسروں کو بچانے والا تسلیم کیا۔ آتش پرست اور ستارہ پرست بھی ناراض ہوگئے۔ کیونکہ ان کو بھی ان کے دیوتوں کی پرستش سے ممانعت کی گئی اور مدار نجات کا صرف توحید ٹھہرائی گئی۔ اب جائے انصاف ہے کہ کیا دنیا حاصل کرنے کی یہی تدبیر تھی کہ ہریک فرقہ کو ایسی ایسی صاف اور دلآزار باتیں سنائی گئیں کہ جس سے سب نے مخالفت پر کمر باندھ لی اور سب کے دل ٹوٹ گئے اور قبل اس کے کہ اپنی کچھ ذرّہ بھی جمعیت بنی ہوتی یا کسی کا حملہ روکنے کے لئے کچھ طاقت بہم پہنچ جاتی سب کی طبیعت کو ایسا اشتعال دے دیا کہ جس سے وہ خون کرنے کے پیاسے ہوگئے۔ زمانہ سازی کی تدبیر تو یہ تھی کہ جیسا بعضوں کو جھوٹا کہا تھا ویسا ہی بعضوں کو سچا بھی کہا جاتا۔ تا اگر بعض مخالف ہوتے تو بعض موافق بھی رہتے۔ بلکہ اگر عربوں کو کہا جاتا کہ تمہارے ہی لات و عُزٰی سچے ہیں تو وہ تو اسی دم قدموں پر گر پڑتے اور جو چاہتے ان سے کراتے۔ کیونکہ وہ سب خویش اور اقارب اور حمیت قومی میں بے مثل تھے اور ساری بات مانی منائی تھی صرف تعلیم بت پرستی سے خوش ہوجاتے اور بدل و جان اطاعت اختیار کرتے۔ لیکن سوچنا چاہئے کہ آنحضرت کا یکلخت ہرایک خویش و بیگانہ سے بگاڑ لینا اور صرف توحید کو جو ان دنوں میں اس سے زیادہ دنیا کے لئے کوئی نفرتی چیز نہ تھی اور جس کے باعث سے صدہا مشکلیں پڑتی جاتی تھیں بلکہ جان سے مارے جانا نظر آتا تھا مضبوط پکڑلینا یہ کس مصلحت دنیوی کا تقاضا تھا اور جبکہ پہلے اسی کے باعث سے اپنی تمام دنیا اور جمعیت برباد کرچکے تھے تو پھر اسی بلاانگیز اعتقاد پر اصرار کرنے سے کہ جس کو ظاہر کرتے ہی نو مسلمانوں کو قید اور زنجیر اور سخت سخت ماریں نصیب ہوئیں کس مقصد کا حاصل کرنا مراد تھا۔ کیا دنیا کمانے کے لئے یہی ڈھنگ تھا کہ ہر ایک کو کلمہ تلخ جو اس کی طبع اور عادت اور مرضی اور اعتقاد کے برخلاف تھا۔ سناکر سب کو ایک دم کے دم میں جانی دشمن بنادیا اور کسی ایک آدھ قوم سے بھی پیوند نہ رکھا۔ جو لوگ طامع اور مکار ہوتے ہیں۔ کیا وہ ایسی ہی تدبیریں کیا کرتے ہیں کہ جس سے دوست بھی دشمن ہوجائیں۔ جو لوگ کسی مکر سے دنیا کو کمانا چاہتے ہیں کیا ان کا یہی اصول ہوا کرتا ہے کہ بیکبارگی ساری دنیا کو عداوت کرنے کا جوش دلاویں اور اپنی جان کو ہر وقت کی فکر میں ڈال لیں۔ وہ تو اپنا مطلب سادھنے کے لئے سب سے صلح کاری اختیار کرتے ہیں اور ہرایک فرقہ کو سچائی کا ہی سرٹیفکیٹ دیتے ہیں۔ خدا کے لئے یک رنگ ہوجانا ان کی عادت کہاں ہوا کرتی ہے خدا کی وحدانیت اور عظمت کا کب وہ کچھ دھیان رکھا کرتے ہیں۔ ان کو اس سے غرض کیا ہوتی ہے کہ ناحق خدا کے لئے دکھ اٹھاتے پھریں۔ وہ تو صیاد کی طرح وہیں دام بچھاتے ہیں کہ جو شکار مارنے کا بہت آسان راستہ ہوتا ہے اور وہی طریق اختیار کرتے ہیں کہ جس میں محنت کم اور فائدہ دنیا کا بہت زیادہ ہو۔ نفاق ان کا پیشہ اور خوشامد ان کی سیرت ہوتی ہے۔ سب سے میٹھی میٹھی باتیں کرنا اور ہر ایک چور اور سادھ سے برابر رابطہ رکھنا ان کا ایک خاص اصول ہوتا ہے۔ مسلمانوں سے اللہ اللہ اور ہندوؤں سے رام رام کہنے کو ہر وقت مستعد رہتے ہیں اور ہر ایک مجلس میں ہاں سے ہاں اور نہیں سے نہیں ملاتے رہتے ہیں اور اگر کوئی میر مجلس دن کو رات کہے تو چاند اور گیٹیاں دکھلانے کو بھی طیار ہوجاتے ہیں۔ ان کو خدا سے کیا تعلق اور اس کے ساتھ وفاداری کرنے سے کیا واسطہ اور اپنی خوش باش جان کو مفت میں ادھر ادھر کا غم لگا لینا انہیں کیا ضرورت۔ استاد نے ان کو سبق ہی ایک پڑھایا ہوا ہوتا ہے کہ ہر ایک کو یہی بات کہنا چاہئے کہ جو تیرا راستہ ہے وہی سیدھا ہے اور جو تیری رائے ہے وہی درست ہے اور جو تو نے سمجھا ہے وہی ٹھیک ہے غرض ان کی راست اور ناراست اور حق اور باطل اور نیک اور بد پر کچھ نظر ہی نہیں ہوتی بلکہ جس کے ہاتھ سے ان کا کچھ منہ میٹھا ہوجائے وہی ان کے حساب میں بھگت اور سدھ اور جنٹلمین ہوتا ہے اور جس کی تعریف سے کچھ پیٹ کا دوزخ بھرتا نظر آوے اسی کو مکتی پانے والا اور سرگ کا وارث اور حیات ابدی کا مالک بنا دیتے ہیں۔ لیکن واقعات حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر کرنے سے یہ بات نہایت واضح اور نمایاں اور روشن ہے کہ آنحضرت اعلیٰ درجہ کے یک رنگ اور صاف باطن اور خدا کے لئے جان باز اور خلقت کے بیم و امید سے بالکل منہ پھیرنے والے اور محض خدا پر توکل کرنے والے تھے۔ کہ جنہوں نے خدا کی خواہش اور مرضی میں محو اور فنا ہوکر اس بات کی کچھ بھی پروا نہ کی کہ توحید کی منادی کرنے سے کیا کیا بلا میرے سر پر آوے گی اور مشرکوں کے ہاتھ سے کیا کچھ دکھ اور درد اٹھانا ہوگا۔ بلکہ تمام شدتوں اور سختیوں اور مشکلوں کو اپنے نفس پر گوارا کرکے اپنے مولیٰ کا حکم بجا لائے۔ اور جو جو شرط مجاہدہ اور وعظ اور نصیحت کی ہوتی ہے وہ سب پوری کی اور کسی ڈرانے والے کو کچھ حقیقت نہ سمجھا۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ تمام نبیوں کے واقعات میں ایسے مواضعاتِ خطرات اور پھر کوئی ایسا خدا پر توکل کرکے کھلا کھلے شرک اور مخلوق پرستی سے منع کرنے والا اور اس قدر دشمن اور پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا ایک بھی ثابت نہیں۔ پس ذرہ ایمانداری سے سوچنا چاہئے کہ یہ سب حالات کیسے آنحضرتؐ کے اندرونی صداقت پر دلالت کررہے ہیں۔ ماسوا اس کے جب عاقل آدمی ان حالات پر اور بھی غور کرے کہ وہ زمانہ کہ جس میں آنحضرت مبعوث ہوئے حقیقت میں ایسا زمانہ تھا کہ جس کی حالت موجودہ ایک بزرگ اور عظیم القدر مصلح ربانی اور ہادیٔ آسمانی کی اشد محتاج تھی اور جو جو تعلیم دی گئی۔ وہ بھی واقعہ میں سچی اور ایسی تھی کہ جس کی نہایت ضرورت تھی۔ اور ان تمام امور کی جامع تھی کہ جس سے تمام ضرورتیں زمانہ کی پوری ہوتی تھیں۔ اور پھر اس تعلیم نے اثر بھی ایسا کر دکھایا کہ لاکھوں دلوں کو حق اور راستی کی طرف کھینچ لائی اور لاکھوں سینوں پر لا الہ الا اللّٰہ کا نقش جما دیا اور جو نبوت کی علت غائی ہوتی ہے یعنی تعلیم اصول نجات کے اس کو ایسا کمال تک پہنچایا جو کسی دوسرے نبی کے ہاتھ سے وہ کمال کسی زمانہ میں بہم نہیں پہنچا۔ تو ان واقعات پر نظر ڈالنے سے بلا اختیار یہ شہادت دل سے جوش مار کر نکلے گی کہ آنحضرتؐ ضرور خدا کی طرف سے سچے ہادی ہیں۔ جو شخص تعصب اور ضدیت سے انکاری ہو اس کی مرض تو لاعلاج ہے خواہ وہ خدا سے بھی منکر ہوجائے ورنہ یہ سارے آثار صداقت جو آں حضرتؐ میں کامل طور پر جمع ہیں کسی اور نبی میں کوئی ایک تو ثابت کرکے دکھلاوے تاہم بھی جانیں۔‘‘(براہین احمدیہ صفحہ۱۱۶تا ۱۲۲ جلد ۱صفحہ۱۰۷تا ۱۱۴)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button