قانونِ خدا

(فارسی منظوم کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)
ہر کہ حق را یافت از الہام یافت ہر رخے کو تافت از الہام تافت
جس کسی نے خدا کو پایا الہام سے پایا۔ ہر ایک چہرہ جو چمکا وہ الہام سے چمکا
تو نۂ اہلِ محبت زیں سبب از کلام یار مے داری عجب
تو محبت کے کوچہ کا واقف نہیں اس لئے کلام یار پر تعجب کرتا ہے
عشق می خواهد کلام یار را رو بپرس از عاشق ایں اسرار را
عشق تو دوست کے کلام کو چاہتا ہے جا اور عاشق سے اس راز کو پوچھ
ایں مگو کز درگہش دُوریم ما ربط او با مُشتِ خاک ما کجا
یہ نہ کہہ کہ چونکہ ہم اُس کی درگاہ سے دور ہیں اس لئے اُس کا تعلق ہماری مُشت خاک سے نہیں ہوسکتا
داند آں مردے کہ روشن جاں بود کیں طلب در فطرتِ انساں بود
اس بات کو وہی جانتا ہے جو روشن ضمیر ہے کہ خدا کی طلب انسان کی فطرت میں داخل ہے
دل نمی گیرد تسلّی جز خدا ایں چنیں افتاد فطرت ز ابتدا
خدا کے بغیر انسان کا دل تسلی نہیں پاتا۔ ابتدا سے آدمی کی یہی فطرت ہے
دل ندارد صبر از قول نگار کاشتند ایں تخم از آغاز کار
محبوب کے کلام کے سوا دل کو صبر نہیں آتا۔ ازل سے خدا نے یہ بیج اس کی فطرت میں بویا ہے
آنکہ انساں را چنیں فطرت بداد چوں کمال فطرتش دادے بباد
وہ خدا جس نے انسان کو ایسی فطرت دی وہ کس طرح اس کی فطرت کے اس کمال کو برباد کر دیتا
کارِ حق کے از بشر گردد ادا کے شود از کِرمکے کارِ خدا
خدا کا کام انسان سے کیونکر ہوسکتا ہے۔ ایک کیڑے سے خدائی کام کب ہو سکتے ہیں
ما ہمہ جہلیم و او دانائے راز ما ہمہ کوریم و او را دیدہ باز
ہم سب جہل محض ہیں۔ اور وہی واقف اسرار ہے ہم سب اندھے ہیں اور وہی ایک بینا ہے
با خدا ہم دعوئے فرزانگی سخت جہلست و رگِ دیوانگی
خدا کے مقابل پر عقلمندی کا دعویٰ کرنا سخت جہالت اور دیوانہ پن ہے
تافتن رو از خورِ تاباں کہ من خود برارم روشنی از خویشتن
روشن سورج سے منہ پھیر لینا اس خیال سے کہ میں اپنے اندر سے آپ ہی روشنی نکال لوں گا
(براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ ۱۷۱-۱۷۲ بحوالہ درثمین فارسی مترجم صفحہ ۸۲-۸۳)




