متفرق شعراء

اے خدا ! بچھڑے ملا دے عید پر

معجزہ ایسا دِکھا دے عید پر
اے خدا! بچھڑے ملا دے عید پر

میرے دل کا ختم کر دے اضطراب
دید اُن کی تُو کرا دے عید پر

زندگی کانٹوں پہ گزری ہجر میں
وصل کا نغمہ سُنا دے عید پر

قربتوں میں ان کی گزریں روز و شب
فاصلے سارے مٹا دے عید پر

آج تو خوشیاں منا لیں مل کے ہم
مت جدائی کی سزا دے عید پر

رس بھری آواز آئے کان میں
پیار سے کوئی صدا دے عید پر

تشنگی بشریٰؔ کی مٹ جائے خدا
جام الفت کا پلا دے عید پر

(بشریٰ سعید عاطف۔ مالٹا)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button