خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 6؍مارچ 2026ء

ہمارا کام تو یہی ہے کہ خاص طور پر مسلمان دنیا اور معصوموں کے لیے دعا کریں۔ رمضان کے مہینے میں خاص طور پر صرف اپنی ذاتی دعاؤں کی طرف توجہ نہ دیں بلکہ اُمّتِ مسلمہ کے لیے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ انہیں عقل دے کہ دنیا میں اور خاص طور پر مسلم دنیا میں امن قائم ہو سکے۔مسلمان مسلمان کی گردن کاٹنے والا نہ ہو۔ یہ لوگ جو آپس میں لڑ کر غلط طریقے سے ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں اس عمل سے وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بن رہے ہیں۔ ایسے لوگ نہ صرف اس جہان میں نقصان اٹھانے والے ہیں بلکہ اگلے جہان میں بھی نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ اس لیے اس بات کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہمیں خاص طور پر دعا کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی رنگ میں دعاؤں کی توفیق بھی عطا فرمائے

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو پیغام لائے اس کا مقصد خدائے واحد و یگانہ پر ایمان لانا ،اس کی عبادت کرنا ،اس کی توحید کا قیام اور اس کے لیے کوشش کرنا اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کرنا ہے اور پھر ایک اُمّتِ واحدہ بن کر آپس میں بھائی بھائی بن کر رہنا ہے۔لیکن آج اس دعوے کے باوجود کہ ہم کلمہ گو ہیں اور لاالٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ پر یقین رکھتے ہیں ہمارے اندر پھاڑ ہے اور اکائی نہیں۔ ہمارے اعمال وہ نہیں ہیں جس تعلیم کا ہم دعویٰ کرتے ہیں۔ نتیجۃً اگر ہم مسلم دنیا کی موجودہ حالت پر غور کریں تو وہ انتہائی قابل فکر ہے

مسلمان حکومتوں، سیاست دانوں اور بادشاہتوں کو چاہیے کہ صرف وہ اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کی بجائے یہ کوشش کریں کہ ہم نے بحیثیت ملّتِ اسلامیہ ایک ہونا ہے اور اس کے لیے ہم نے بھرپور کوشش کرنی ہے۔ جب ایسا ہوگا تبھی ہم دنیا کے حملوں سے بچ سکیں گے ۔تبھی اپنا وقار قائم کر سکیں گے اور تبھی اسلام مخالف طاقتوں کو اپنے اندر پھاڑ ڈالنے سے روک سکیں گے۔ اس کے لیے ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں کیا انتظام فرمایا ہے۔ وہ کون سا الٰہی انتظام ہے جس پر اگر ہم عمل کریں یا اس کو مانیں تو ہم ان باتوں سے بچ سکتے ہیں اور ایک ملّتِ واحدہ بن سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا وہ انتظام یہ ہے کہ اس نے مسیح موعود کو بھیجا تاکہ وہ ایک اُمّتِ واحدہ بنائے

احمدی ہونے کی حیثیت سے ہماری تو یہی کوشش اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلم اُمّت کو ایک کرے اور انہیں ان فسادوں اور مظالم سے بچائے جن میں وہ آج کل پِس رہے ہیں

ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ دجالی طاقتیں ہم مسلمانوں کو کبھی امن اور سکون سے رہتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتیں۔ ان کا اصل ایجنڈا ہی یہی ہے کہ مسلم دنیا میں ہمیشہ فساد پیدا کیا جاتا رہے۔ دجالی طاقتیں ہمیشہ یہ دھوکا دیتی رہی ہیں کہ عرب ممالک میں جہاں تیل کی دولت یا دوسرے وسائل ہیں ہم امن کے قیام کے لیے تم سے معاہدہ کرتے ہیں لیکن درحقیقت ان کے اندرونی منصوبے کچھ اَور تھے جو آج کھل کر سامنے آ چکے ہیں

ہمارا کام یہ ہے کہ آج دعاؤں کے ذریعے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکیں اور مسلم دنیا کے لیے خاص دعا کریں ۔اس کی اس وقت بہت ضرورت ہے

ہمیں دعائیں بھی کرنی چاہئیںکہ اللہ تعالیٰ مسلم دنیا کو اس بدامنی اور فساد سے بچائے اور محفوظ رکھے اور مسلمان دنیا اور مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ پُرامن ہو جائیں اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہیں۔ یہی ان کی اسلامی تعلیم ہے نہ یہ کہ وہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے والے ہوں

ہمارا یہی کام ہے اور ہم ایک عرصے سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ہم نے اپنوں اور غیروں دونوں کو ظلم سے روکنے کے لیے آگاہی دینی ہے،ان کو ہوشیار کرنا ہے کیونکہ یہ ظلم اب جس طرح روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اس سے لگ رہا ہے کہ وسیع پیمانے پر جنگ عظیم ہونی ہے بلکہ بعض مغربی تبصرہ نگاروں کے نزدیک تو عالمی جنگ شروع ہوچکی ہے۔مَیں بھی یہی کہتا ہوں کہ شروع ہو چکی ہے ۔لیکن اگر اب بھی مسلمان دنیا عقل سے کام لے، ہوش کرے، ایک ہو جائے اور آپس میں سر جوڑ لے تو وہ اب بھی دجال کے فتنوں سے محفوظ رہ سکتی ہے

مَیں ایک عرصے سے لوگوں کو توجہ دلاتا رہا ہوں ۔وہی لوگ جو اس وقت میری باتیں سن کے کہا کرتے تھے کہ تم دنیا کے بارے میں بہت مایوس کن باتیں کرتے ہو، منفی قسم کا تصوّر رکھتے ہو کہ دنیا خطرناک جنگ میں شامل ہو جائے گی آج وہی لوگ خود کہنے لگ گئے ہیں کہ چند سال پہلے جس چیز کو ہم ناممکن سمجھتے تھے اب وہی چیز ممکن بن گئی ہے اور جنگیں شروع ہو چکی ہیں

ایسے حالات میں مسلمان دنیا کو بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے ۔لیکن ہم احمدی باوجود درد رکھنے کے مجبور ہیں ہم کچھ کر نہیں سکتے سوائے اس کے کہ انہیں ہوشیار کریں، ان کے لیے دعا کریں اور یہ بات سمجھانے کی کوشش کریں کہ جو ہو رہا ہے غلط ہو رہا ہے۔ مسلمان حکومتیں اب بھی سمجھ جائیں اور صرف اپنے ملکی مفادات کو نہیں بلکہ مسلم امّہ کے مفادات کو سامنے رکھیں اور کسی بھی قسم کی غدّاری کی مرتکب نہ ہوں۔ تو اب بھی ایک حد تک بچت ہو سکتی ہے

اسلام توحید کے قیام کے لیے آیا ہے۔ اس لیے اس کی کوشش کرنی چاہیے۔ بڑی طاقتوں کو اپنا خدا نہ سمجھیں کیونکہ ہمیشہ رہنے والی طاقت صرف خدا تعالیٰ کی ہے۔ اگر ان بڑی طاقتوں کو ہی سب کچھ سمجھ لیا تو پھر یہ لوگ ایک ایک کر کے تمام اسلامی دنیا پر قبضہ کر لیں گے اور یہ جو ظاہری حکومتیں ہیں یہ بھی ختم ہو جائیں گی۔ پس اب بھی وقت ہے، ہوش کرنے کی ضرورت ہے ۔خدا تعالیٰ کی طرف جھکیں

اگر مسلمانوں میں اختلاف ہو بھی جائے جیسا کہ ایران اور بعض عرب ممالک کے درمیان کہا جاتا ہے کہ اختلاف ہے یا دوسرے مسلم ممالک میں اختلاف ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا آپس میں اصل تعلق اسلامی اخوّت اور بھائی چارے کا ہے۔ چھوٹے چھوٹے جھگڑے اس اسلامی اخوّت کو توڑنے کی وجہ نہیں بننے چاہئیں اور اس بات پر مسلمان ممالک کو خاص طور پر توجہ دینی چاہیے ورنہ جیسا کہ میں نے کہا کہ اسلام مخالف طاقتیں اس سے فائدہ اٹھائیں گی

مشرق وسطیٰ میں حالیہ جنگی صورت حال کے تناظر میں امّت مسلمہ کو زرّیں نصائح نیز دعاؤں کی تحریک

محترمہ صاحبزادی امۃ الجمیل صاحبہ بنت حضرت مصلح موعودؓ، مکرم ڈاکٹر رشید احمد خان صاحب آف ہالینڈ اورمکرمہ زینب بی بی صاحبہ اہلیہ مکرم بشیر احمد صاحب سابق صدر جماعت اور امام مسجد چک 275کرتار پور کی وفات پر مرحومین کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 06؍مارچ 2026ء بمطابق 06؍امان1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو پیغام لائے اس کا مقصد خدائے واحد و یگانہ پر ایمان لانا،اس کی عبادت کرنا،اس کی توحید کا قیام اور اس کے لیے کوشش کرنا اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کرنا ہے اور پھر ایک اُمّتِ واحدہ بن کر آپس میں بھائی بھائی بن کر رہنا ہے۔لیکن آج اس دعوے کے باوجود کہ ہم کلمہ گو ہیں اور لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ پر یقین رکھتے ہیں ہمارے اندر پھاڑ ہے اور اکائی نہیں۔ ہمارے اعمال وہ نہیں ہیں جس تعلیم کا ہم دعویٰ کرتے ہیں۔ نتیجۃً اگر ہم مسلم دنیا کی موجودہ حالت پر غور کریں تو وہ انتہائی قابل فکر ہے۔

اگرچہ بعض اسلامی ممالک کے پاس قدرتی وسائل اور دولت بھی ہے لیکن اس کے باوجود دنیا کی طاقتوں کے سامنے نہ ان کا کوئی خاص مقام ہے اور نہ دین کی ترقی کے لیے ان کا کوئی خاص کردار ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے وہ کوشش نظر آتی ہے جو ہونی چاہیے۔ اس کا نتیجہ بالکل ظاہر ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی مرتبہ کہا ہے کہ پھر غیر اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

پس

مسلمان حکومتوں، سیاست دانوں اور بادشاہتوں کو چاہیے کہ صرف وہ اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کی بجائے یہ کوشش کریں کہ ہم نے بحیثیت ملّتِ اسلامیہ ایک ہونا ہے اور اس کے لیے ہم نے بھرپور کوشش کرنی ہے۔ جب ایسا ہوگا تبھی ہم دنیا کے حملوں سے بچ سکیں گے۔تبھی اپنا وقار قائم کر سکیں گے اور تبھی اسلام مخالف طاقتوں کو اپنے اندر پھاڑ ڈالنے سے روک سکیں گے۔ اس کے لیے ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں کیا انتظام فرمایا ہے۔ وہ کون سا الٰہی انتظام ہے جس پر اگر ہم عمل کریں یا اس کو مانیں تو ہم ان باتوں سے بچ سکتے ہیں اور ایک ملّتِ واحدہ بن سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا وہ انتظام یہ ہے کہ اس نے مسیح موعود کو بھیجا تاکہ وہ ایک اُمّتِ واحدہ بنائے۔

پس ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ جب ہم اس بارے میں سوچیں گے۔ اسلامی دنیا کے یہ مسلمان ممالک اس بات پہ سوچیں گے تبھی اپنے خلاف اٹھنے والے فتنوں اور فسادوں سے بچ سکیں گے۔ بہرحال

احمدی ہونے کی حیثیت سے ہماری تو یہی کوشش اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلم اُمّت کو ایک کرے اور انہیں ان فسادوں اور مظالم سے بچائے جن میں وہ آج کل پِس رہے ہیں۔

دنیا کے حالات کے بارے میں ایک عرصے سے میں کہہ رہا ہوں۔ پہلے تو یہ خیال تھا کہ شاید صرف یورپ اور دیگر مغربی ممالک ان حالات کی وجہ بنیں گے لیکن وہ تو اس کی وجہ بن ہی رہے ہیں لیکن خود اسلامی ممالک بھی اس کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔ اس کے لیے ان مغربی طاقتوں نے ہی پہلے اسلامی ممالک میں فساد پیدا کروایا اور پھر آہستہ آہستہ اس فساد کو ہوا دیتے ہوئے اسے ایک سے دوسرے ملک تک پھیلاتے چلے گئے۔ اس کے پیچھے ان کے کیا منصوبے ہیں؟یہ بالکل ظاہر ہے کہ وہ اپنی طاقت کے ذریعے سے ان ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور انہیں اپنے زیر استعمال لانا چاہتے ہیں۔ اگرچہ بعض عرب ممالک کے پاس دولت بھی ہے جیسا کہ پہلے بھی مَیں نے کہا لیکن اس کے باوجود یہ مغربی طاقتیں انہیں اپنا زیر نگیں بنائے ہوئے ہیں۔ بہرحال مَیں جو باتیں ایک عرصے سے کرتا آ رہا ہوں ان لوگوں کے سامنے،غیروں کے سامنے اور اپنوں کے سامنے بھی آج ان کے نتائج ہم بہت کھل کر دیکھ رہے ہیں۔

ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ دجالی طاقتیں ہم مسلمانوں کو کبھی امن اور سکون سے رہتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتیں۔ ان کا اصل ایجنڈا ہی یہی ہے کہ مسلم دنیا میں ہمیشہ فساد پیدا کیا جاتا رہے۔ دجالی طاقتیں ہمیشہ یہ دھوکا دیتی رہی ہیں کہ عرب ممالک میں جہاں تیل کی دولت یا دوسرے وسائل ہیں ہم امن کے قیام کے لیے تم سے معاہدہ کرتے ہیں لیکن درحقیقت ان کے اندرونی منصوبے کچھ اَور تھے جو آج کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔

پس

ہمارا کام یہ ہے کہ آج دعاؤں کے ذریعے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکیں اور مسلم دنیا کے لیے خاص دعا کریں۔اس کی اس وقت بہت ضرورت ہے۔

آج کل کی یہ جنگ جو مڈل ایسٹ میں ہورہی ہے، کا جائزہ لینے سے ہم دیکھتے ہیں اور یہ بات بڑی واضح ہوتی ہے کہ امریکہ نے بہت سارے مسلم ممالک میں اپنے فوجی اڈّے قائم کیے ہوئے ہیں لیکن کس لیے ؟اس کی کیا وجہ ہے ؟کیا ان ممالک کی حفاظت کے لیے؟ آخر ان عرب ممالک کو خطرہ کس سے تھا؟ ان طاقتوں نے خود ہی خطرات پیدا کیے اور پھر یہ تصوّر قائم کیا کہ تم لوگوں کو خطرہ ہے اس لیے تمہاری حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ ان اڈّوں کو قائم کیا جائے۔اور جس سے مسلمانوں کو خطرہ تھا اس کے خلاف تو ہو سکتا ہے کہ یہ کبھی اپنی طاقت یا ہتھیار استعمال بھی نہیں کریں گے۔یا پھر ان کی طرف سے مسلمانوں کو اس بات پر قائل کیا گیا کہ ہمیں اڈّے فراہم کرو،ہم تمہارے مفادات اور تجارت کو فائدہ دیں گے۔حالانکہ ان کا اصل مقصد اس ریجن میں اور اس علاقے میں یہ تھا کہ جو ان کی اپنی مخالف طاقتیں ہیں ان کے مقابلے میں مضبوط بنیادوں پر اپنی موجودگی کو قائم رکھا جائے۔ اگر عرب ممالک کو کوئی خطرہ تھا بھی تو وہ ان طاقتوں کا اپنا ہی پیدا کردہ تھا ورنہ تو ان کے آپس میں کوئی ایسے خطرے کی بات نہیں تھی۔ بہرحال انہوں نے یہ اڈّے اس لیے قائم کیے تاکہ ریجن میں ان کی برتری قائم رہے۔ غیراسلامی دنیا پر بھی اور اسلامی دنیا پر بھی اپنی برتری قائم کرنا چاہتے تھے۔ ایران تو ہمیشہ سے ان لوگوں کو کھٹکتا رہتا تھا اور عقائد کے اختلاف کی وجہ سے بعض مسلمان ممالک بھی ان کے مخالف تھے جس کا ان طاقتوں نے پھر فائدہ اٹھایا۔چونکہ اسرائیل کے خلاف ایران کی پالیسی زیادہ سخت تھی اس لیے انہوں نے یہی مناسب سمجھا کہ عرب ممالک کو کسی طرح رام کر کے وہاں اڈّے قائم کیے جائیں تاکہ اسرائیل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور ایران کو خوفزدہ کرنے کے لیے اپنی موجودگی قائم رکھی جائے۔ یہ بات بالکل ظاہر ہے اور ہم اس کا نتیجہ دیکھ بھی چکے ہیں کہ ان اڈّوں کی وجہ سے عرب ممالک پر بھی حملے کے امکانات تھے جو بالآخر ہوئے اور ان کی معیشت بھی تباہ ہوئی۔ جہاں تیل کی دولت ہے یا tourismہے ان پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں اور پڑے۔ اس صورتحال کا فائدہ بھی انہی طاقتوں کو ہوا ہے اور آئندہ بھی ہوگا کیونکہ جب جنگ ہوتی ہے اور معیشت متاثر ہوتی ہے تو ظاہر ہے کہ مخالف فریق بھی جو ابی حملہ کرتا ہے اور دوسروں کے اڈّوں کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ چونکہ ان کی ایران کے ساتھ جنگ تھی اس لیے ایران نے بھی وہی کیا جو آج ہمیں نظر آ رہا ہے کہ اس نے عرب ممالک میں موجود امریکی اڈّوں کو نشانہ بنایا اور انہیں تباہ کیا یا نقصان پہنچایا۔ ایک عرب جرنلسٹ نے کل ہی لکھا ہے کہ عربوں کو محتاط رہنا چاہیے کیونکہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ یہ سب حملہ ایران کر رہا ہے، یہ ایران نہیں کر رہا بلکہ امریکہ اور اسرائیل خود بھی کر سکتے ہیں۔ اگر پہلے ایران نے کیے بھی ہیں تو اب ان سے فائدہ اٹھا کے وہ کریں گے اور بعض حملوں کی ایران نے تردید بھی کی ہے۔اور اس نے یہاں تک بھی لکھ دیا ہے کہ ممکن ہے کہ ایک وقت میں امریکہ اور اسرائیل اس جنگ سے نکل جائیں اور یہ مسلم دنیا آپس میں لڑتی رہے جو وہ چاہتے ہیں۔

حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے عراق کی جنگ کے دوران بھی یہ تنبیہ فرمائی تھی کہ اب یہ فساد دنیا میں پھیلتا چلا جائے گا۔ (ماخوذ از خلیج کا بحران صفحہ 29، 76)

کاش کہ مسلمان دنیا اس بات کو سمجھے۔

اب جائزہ لے لیں کہ عراق کی جنگ کے ساتھ ہی دوسرے مسلمان ممالک میں بھی بد امنی پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان میں فساد پیدا کیا گیا ہے اور اس کے بعد سے دوسرے مسلمان ملکوں میں بھی مسلسل بدامنی پیدا ہو رہی ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان دنیا میں بعض مسلمان ملک ہی ایک دوسرے کے خلاف لڑ بھی رہے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ بدامنی انہی مغربی طاقتوں کی پھیلائی ہوئی ہے اور بظاہر اس کے رکنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی خاص تقدیر ہو اور اس کے لیے بھی بہرحال ان کو کوشش کرنی پڑے گی۔ اس کے لیے بہرحال

ہمیں دعائیں بھی کرنی چاہئیںکہ اللہ تعالیٰ مسلم دنیا کو اس بدامنی اور فساد سے بچائے اور محفوظ رکھے اور مسلمان دنیا اور مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ پُرامن ہو جائیں اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہیں۔ یہی ان کی اسلامی تعلیم ہے نہ یہ کہ وہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے والے ہوں۔

پس

ہمارا یہی کام ہے اور ہم ایک عرصے سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ہم نے اپنوں اور غیروں دونوں کو ظلم سے روکنے کے لیے آگاہی دینی ہے،ان کو ہوشیار کرنا ہے کیونکہ یہ ظلم اب جس طرح روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اس سے لگ رہا ہے کہ وسیع پیمانے پر جنگ عظیم ہونی ہے بلکہ بعض مغربی تبصرہ نگاروں کے نزدیک تو عالمی جنگ شروع ہو چکی ہے۔مَیں بھی یہی کہتا ہوں کہ شروع ہو چکی ہے۔لیکن اگر اب بھی مسلمان دنیا عقل سے کام لے، ہوش کرے، ایک ہو جائے اور آپس میں سرجوڑ لے تو وہ اب بھی دجال کے فتنوں سے محفوظ رہ سکتی ہے۔

دنیا کا جائزہ لے کر دیکھیں تو اس وقت خطرہ بہت بڑا ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ ہر ایک کے اپنے مفادات ہیں اور جب انتہا درجے کی خودغرضی پیدا ہو جائے تو پھر انسان کچھ اَور نہیں سوچتا صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے۔

پس ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اگر دنیا میں فساد کم کرنا ہے تو یہ صرف اپنا حق لینے سے کم نہیں ہوگا بلکہ حق دینا بھی پڑے گا۔ اگر مسلمان دنیا اس بات کو سمجھ لے اور مغربی اور بڑی طاقتوں میں موجود اپنے ہمدردوں سے کہے کہ امن کے قیام کے لیے تمہیں بھی اپنے کچھ حقوق چھوڑنے پڑیں گے بلکہ حقوق کیا چھوڑنے پڑیں گے وہ تو خود دوسروں کے حقوق غصب کر رہے ہیں۔انہیں یہ بتانا ہوگا کہ تمہیں بھی انصاف سے کام لینا ہوگا تب ہی ہم دنیا میں امن قائم کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے جیسا کہ مَیں نے کہا

مَیں ایک عرصے سے لوگوں کو توجہ دلاتا رہا ہوں۔وہی لوگ جو اس وقت میری باتیں سن کے کہا کرتے تھے کہ تم دنیا کے بارے میں بہت مایوس کن باتیں کرتے ہو،منفی قسم کا تصوّر رکھتے ہو کہ دنیا خطرناک جنگ میں شامل ہو جائے گی آج وہی لوگ خود کہنے لگ گئے ہیں کہ چند سال پہلے جس چیز کو ہم ناممکن سمجھتے تھے اب وہی چیز ممکن بن گئی ہے اور جنگیں شروع ہو چکی ہیں۔

ان کے اپنے تجزیہ نگار جو امریکہ اور یورپ میں بیٹھے ہیں اب یہ لکھنے لگ گئے ہیں کہ جنگ عظیم کی شروعات ہو چکی ہیں جیسا کہ پہلے میں نے کہا اور یہ بڑھتی چلی جائے گی اور جب تک یہ لوگ اپنے غلط قسم کے مفادات کے حصول کے لیے کوششیں کرتے رہیں گے اس خطرے میں کمی ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جب جنگ ہوتی ہے تو نقصان دونوں طرف کا ہوتا ہے۔ اب مشرق وسطیٰ میں جو جنگ ہو رہی ہے کہنے کو تو یہ جنگ امریکہ نے ایران پر حملہ کر کے شروع کی ہے لیکن ایران نے واضح طور پر پہلے وارننگ دی تھی کہ اگر ہم پہ حملہ ہوا تو عرب ممالک میں امریکہ کے جو اڈّے ہیں جو انہوں نے کسی خاص مقصد کے لیے بنائے تھے اور اب وہ مقصد حاصل بھی کر رہے ہیں ہم ان پر حملہ کریں گے۔ ایران نے واضح طور پر کہا تھا۔پھر جب جنگ شروع ہوئی تو ایران پر بمباری ہوئی۔ ان کے شہروں کو تباہ و برباد کیا گیا۔ معصوموں اور بچوں کو مارا گیا۔ ان کے روحانی لیڈر کی رہائش گاہ پر حملہ کیا گیا۔ان کے اکثر افراد خاندان کی زندگی کا خاتمہ کیا گیا۔ ان طاقتوں کا یہ خیال تھا اور یہ نعرے لگاتے تھے کہ ہم اس regimeکو ختم کریں گے تو پھر ایرانیوں کو آزادی مل جائے گی۔لیکن اس سے کیا اثر ہوا؟ جو کچھ تھوڑے بہت مخالف بھی تھے وہ بھی اب ان کے حق میں ہوگئے۔اور

اس لیڈر کو، خامنہ ای صاحب نام ہے جن کا ان کوتو شہادت کا مقام مل گیا۔اور اس شہادت کے مقام کی وجہ سے قوم میں ان کی اَور عزّت بڑھ گئی۔

ان کے بچوں کو بھی مار دیا گیا، پورے خاندان کو مارا گیا۔ تو یہ ظلم جو ہوا اس سے regime change تو کیا ہونی تھی ان کی عزّت اور احترام اَور زیادہ بڑھ گیا ہے۔ بہرحال ایران نے بھی ردّعمل کے طور پر عرب ممالک میں ان اڈّوں پر حملہ کیا جو مغربی طاقتوں اور امریکہ کے اڈّے تھے۔اس کے علاوہ بعض ایسی جگہیںبھی ہیں جیسے تیل کے کنویں وغیرہ ہیں جہاں امریکہ نے یہ دھمکی دینی شروع کر دی کہ ایران نے سعودی عرب کے فلاں تیل کے علاقے پر حملہ کیا تو ہم یوں کر دیں گے اور بعض جگہ کہا بھی کہ حملہ کر دیا ہے اس لیے ہم یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے۔ اس پر ایران نے واضح کہا کہ نہ ہم نے ایسی جگہوں پہ حملہ کیا ہے اور نہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ ہے۔ یہ مسلمانوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرتیں پیدا کرنے کی ایک اَور چال ہے۔ لڑائی تو پہلے ہی ہو رہی ہے۔ یہ کہہ کے صرف ان نفرتوں کو مزید ہوا دینے کی کوشش ہے اور جیسا کہ پہلے ایک جرنلسٹ کا میں نے بیان پڑھا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ خود بھی نقصان پہنچائیں اور ایران کا نام لگا دیں۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے

ایسے حالات میں مسلمان دنیا کو بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے۔لیکن ہم احمدی باوجود درد رکھنے کے مجبور ہیں ہم کچھ کر نہیں سکتے سوائے اس کے کہ انہیں ہوشیار کریں۔ ان کے لیے دعا کریں اور یہ بات سمجھانے کی کوشش کریں کہ جو ہو رہا ہے غلط ہو رہا ہے۔ مسلمان حکومتیں اب بھی سمجھ جائیں اور صرف اپنے ملکی مفادات کو نہیں بلکہ مسلم امّہکے مفادات کو سامنے رکھیں اور کسی بھی قسم کی غدّاری کی مرتکب نہ ہوں۔ تو اب بھی ایک حد تک بچت ہو سکتی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے جو عرب ممالک ہیں گو ان میں سے بعض کے پاس تیل کی دولت ہے لیکن نہ تو ان میں دفاعی صلاحیت ہے،نہ ہی ان کی صنعت ترقی کر رہی ہے۔ صرف تیل کی دولت یا بعض جگہوں پر tourismکے فروغ دینے سے اور اس کو develope کرنے سے ترقی نہیں ہوسکتی۔ ان کا مکمل انحصار مغربی دنیا اور مغربی طاقتوں پر ہے۔جیسا کہ میں نے کہا ان کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغربی طاقتوں نے وہاں اپنے اڈّے بنائے ہیں۔ پھر جب ایران کے خلاف جنگ شروع ہوئی تو ایران نے بھی عرب ملکوں پر حملے شروع کر دیے۔ نہ عرب ملکوں پر حملے نہیں کیے بلکہ امریکی اڈّوں پر حملے کیے ہیں لیکن اب عربوں کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ تمہارے پہ حملہ کیا ہے۔ جیسا کہ واضح ہے کہ اب یہ جنگ ایک خوفناک صورت اختیار کر چکی ہے۔ ایران کی طرف سے میزائل پھینکے جا رہے ہیں جنہیں interceptکرنے کے لیے امریکیوں نے اپنا ایک دفاعی نظام تو بنایا ہوا ہے لیکن تجزیہ نگار اب یہ لکھ رہے ہیں کہ اگر ایران پچاس ہزار ڈالر کا ایک میزائل پھینکتا ہے تو اسے تباہ کرنے پر آنے والا خرچہ جو ہے جو میزائل اس کاتوڑ کر رہے ہیں، وہ کئی ملین ڈالرز کا ہے۔ بعض تجزیہ نگار تو یہ لکھتے ہیں کہ معاشی لحاظ سے اس کا نقصان امریکہ کو ہو رہا ہے لیکن صرف یہ ایک خیال ہے۔ یہ طاقتیں پہلے ہی ہر چیز کا حساب رکھتی ہیں اور پورا جائزہ لیتی ہیں۔ انہوں نے یہ سب کچھ طے کیا ہوا ہے اور

میرا خیال نہیں ہے کہ یہ طاقتیں کبھی یہ نقصان اپنے اوپر ڈالیں گی بلکہ وہ ان عرب ممالک سے ہی یہ رقم وصول کر رہی ہوں گی کہ ہم تمہارا دفاع کر رہے ہیں۔ ایک طرف تو ان کے تیل کے کنویں بند ہو رہے ہیں،مہنگائی بڑھ رہی ہے اور تیل کی پیداوار میں کمی آ رہی ہے تو دوسری طرف انہیں یہ نقصان بھی پورا کرنا پڑے گا جس سے ان کے ریزرو بہت کم ہو جائیں گے یاختم ہو جائیں گے۔ آخرکار عرب دنیا کی معیشت کو بہت زیادہ نقصان ہوگا۔ گو کہ مغربی دنیا یابڑی طاقتوں کو بھی نقصان ہوگا لیکن سب سے زیادہ نقصان عربوں کو پہنچے گا اور اس بات کو انہیں اب بھی سمجھنا چاہیے۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ کے موجودہ صدر اپنی پرانی حکومتوں کی پالیسی کو ہی عملی شکل دے رہے ہیں۔ یہ صرف آج کی حکومت کی پالیسی نہیں ہے بلکہ ہمیشہ سے ان کی یہی پالیسی رہی ہے کہ جہاں دل چاہے وہاں کے وسائل پر زبردستی قبضہ کر لو اور پھر کسی نہ کسی بہانے سے اس کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کرو کہ یہ وجہ ہوئی یا وہ وجہ ہوئی بلکہ اب تو آج امریکہ کے جو موجودہ وائس پریذیڈنٹ ہیں اس نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر فلاں ملک ہمارے ساتھ شامل نہیں ہوتا تو ہم زبردستی ان کے وسائل پر قبضہ کریں گے اور اسے اپنے ساتھ شامل کروائیں گے۔ جو ممالک جنگ میں شامل نہیں ہوتے ان پر پابندیاں لگائی جاتی ہیںsanction لگائی جاتی ہیں۔

پچھلے دنوں

سپین کے وزیر اعظم نے یہ جرأت دکھائی اور کہا کہ ہم اس جنگ میں حصہ دار نہیں بنیں گے اور نہ ہی اپنے اڈّے دیں گے

تو اسے دھمکی دی گئی کہ امریکہ تمہارے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کر دے گا۔یوں دھونس جما کر اور غلط طریقوں سے نقصان پہنچانے کی کوشش کر کے ممالک کو اور لوگوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ شامل ہوں۔ اس صورتحال میں انصاف تو کہیں باقی نہیں رہا اور جب انصاف نہ رہے تو پھر تباہی آتی ہے اور ایسے خطرناک نتائج نکلتے ہیں جو اب پیدا ہو رہے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک نتائج اور بھیانک نتائج پیدا ہوں گے۔

گذشتہ دنوں یورپین پارلیمنٹ میں ان کی ایک ممبر پارلیمنٹ جو سپینش ہیں اور خاتون ہیں انہوں نے بڑا کھل کے وہاں بیان دیا کہ امریکہ کی کسی جنگ سے عورت کو آزادی نہیں ملی۔ کیونکہ عورت تھی تو انہوں نے عورت کا نکتہ اٹھایا۔ کہتی ہیں امریکیوں کا جو یہ دعویٰ ہے کہ ہم ایرانی عورتوں کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں تو یہ سب جھوٹ ہے اور کبھی اس سے ایرانی عورت کو آزادی نہیں ملے گی اور نہ کبھی امریکہ نے کسی عورت کی آزادی کے لیے جنگ لڑی ہے اور نہ اس کے ذریعہ ان کو آزادی دلانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ بہرحال خلاصہ یہ ہے کہ ان ملکوں میں گو امریکہ کی پہلے سے ہی ایک حد تک اجارہ داری تھی لیکن اب اس میں اسرائیل کو کھلے عام شامل کر کے اس اجارہ داری کو مضبوط تر کیا جا رہا ہے۔

عرب اور اسلامی ممالک یہ بات نہیں سمجھتے کہ زبردستی، دھونس، غلط طریقوں اور دجالی چالوں سے ہمیں ایک ایسی جگہ پھنسایا جا رہا ہے جہاں ہم اپنے ہی ایک مسلمان ملک سے جنگ کریں۔ مسلمانوں کو مسلمانوں سے ہی لڑایا جا رہا ہے۔

بہرحال اب روس اور چین بھی اپنا بلاک بنا رہے ہیں اور یہ بات تو ظاہر ہے کہ بلاک جو اب بن رہے ہیں آئندہ بھی بنیں گے یا ان میں وسعت پیدا ہوگی اور مزید بنتے چلے جائیں گے اور مضبوط ہوں گے۔ اسلامی دنیا اب جنگ کا میدان بنی رہے گی کیونکہ ان کے پاس ایسے وسائل ہیں جن پر یہ لوگ قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ کاش !مسلمان اس بات کو سمجھیں اور عقل کریں۔

اب یہ یعنی امریکہ اور اس کے ساتھی کہتے ہیںکہ ہم نے ایران پر اس لیے حملہ کیا کیونکہ اس کا فلاں ارادہ تھا اگر وہ ایسا کرتا تو یوں ہو جاتا۔ ایٹم بم بنا لیتا یا فلاں ہو جاتا۔ یعنی صرف ایک تصوّر پیدا کر کے جنگ شروع کر دی کہ اگر یوں ہوتا تو یہ ہو جاتا۔ یہ تو سراسر زبردستی والی بات ہے۔ اب تو خود ان کے اپنے مغربی تجزیہ نگاروں نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ ایران کو تباہ کرنا یا اس سے جنگ کرنا اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہ یہ سمجھ رہے تھے۔ ایران ایک بڑا وسیع اور پھیلا ہواملک ہے۔ ان کے پاس کچھ نہ کچھ طاقت ہے اور یہ جنگ لمبی بھی چل سکتی ہے گو کہ اس کا نقصان پوری دنیا کی معیشت پر ہوگا لیکن مسلمان دنیا پر اس کا اثر بہت زیادہ ہوگا مگر پھر سب سے بڑی اور افسوسناک بات یہ ہے کہ اس میں مسلمان ہی مسلمان کا خون بہا رہا ہے۔ بہرحال مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے۔ سینکڑوں بچے مار دیے،سینکڑوں معصوم مار دیے۔اگر مغربی ممالک کی طرف دیکھیں تو وہاں کے کالم نگار یہ لکھنے لگ گئے ہیں کہ اگر اسرائیل یا امریکہ میں یا کسی بھی مغربی ملک میں حملہ ہو اور ہمارے چند بچے مارے جائیں تو اخبارات میں کالم پر کالم لکھے جاتے ہیں اور کئی کئی دن لکھتے چلے جائیں گے لیکن یہاں ایک سکول پر بمباری کر کے سینکڑوں بچے مار دیے مگر وہاں کوئی کچھ کہنے والا نہیں۔ پہلے فلسطین میں یہ حال کیا اور اب ایران میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک مسلمان کی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

بہرحال اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقل دے کہ وہ عقل سے کام لیں۔آپس میں مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔ جب وہ توحید کا دعویٰ کرنے والے ہیں تو انہیں توحید کے قیام کے لیے ایک ہونا چاہیے۔ یونہی الزام تراشیوں سے جھگڑے بنانے کی ضرورت کوئی نہیں ہےاور یہ کہہ دینا کہ فلاں کے عقائد کی وجہ سے جھگڑے بڑھ رہے ہیں، بعض دفعہ عقائد کی وجہ سے بھی جھگڑے بڑھ رہے ہوتے ہیں اور یہ تو عام ہوتا ہے۔ جو مرضی چاہیں وہ کر لیںمسلمانوں میں آپس میں جو چپقلشیںہیں وہ اس وجہ سے بھی ہیں حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو اتنے محتاط اور اتنے شفقت کرنے والے تھے کہ صحابہؓ نے بعض دفعہ آپؐ کے سامنے بیان کیا کہ فلاں شخص منافق ہے تو آپؐ نے فرمایا :جب تک وہ لا الٰہ الّااللّٰہکہتا ہے مَیں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا اور تم بھی اسے منافق نہ کہو۔

(صحیح البخاری کتاب الصلاۃ باب المساجد فی البیوت حدیث:425)

پس ذرا ذرا سی بات پر جھگڑے کرنا دراصل اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچانے والی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمان دنیا کو اس کی بھی عقل دے۔ اب بھی وہ سمجھ جائیں۔صرف عقائد کے اختلاف کی وجہ سے ایران کے خلاف نہ ہو جائیں۔

اسلام توحید کے قیام کے لیے آیا ہے۔ اس لیے اس کی کوشش کرنی چاہیے۔ بڑی طاقتوں کو اپنا خدا نہ سمجھیں کیونکہ ہمیشہ رہنے والی طاقت صرف خدا تعالیٰ کی ہے۔ اگر ان بڑی طاقتوں کو ہی سب کچھ سمجھ لیا تو پھر یہ لوگ ایک ایک کر کے تمام اسلامی دنیا پر قبضہ کرلیں گے اور یہ جو ظاہری حکومتیں ہیں یہ بھی ختم ہو جائیں گی۔ پس اب بھی وقت ہے ہوش کرنے کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف جھکیں۔

ان دنیا داروں نے دنیا کا امن و سکون اور خاص طور پر مسلم دنیا کا امن و سکون برباد کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ

وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا ۚ فَاِنۡۢ بَغَتۡ اِحۡدٰٮہُمَا عَلَی الۡاُخۡرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیۡ تَبۡغِیۡ حَتّٰی تَفِیۡٓءَ اِلٰۤی اَمۡرِ اللّٰہِ ۚ فَاِنۡ فَآءَتۡ فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا بِالۡعَدۡلِ وَاَقۡسِطُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ۔ (الحجرات:10)

کہ اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان دونوں میں صلح کرا دو پھر اگر صلح ہو جانے کے بعد ان میں سے کوئی ایک دوسرے پر چڑھائی کرے تو سب مل کر اس چڑھائی کرنے والے کے خلاف جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ پھر اگر وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے تو عدل کے ساتھ ان دونوں لڑنے والوں میں صلح کرا دو اور انصاف کو مد نظر رکھو۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

پس یہ

وہ نقشہ ہے،یہ وہ نکتہ ہے جو گو کہ دنیا کے امن کے لیے بھی بہت ضروری ہے لیکن مسلمان دنیا کو تو خاص طور پر اس پر عمل کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کے لیے یہ واضح ہدایت فرمائی ہے۔

پس

عدل اور انصاف کے تقاضے پورے کریں اور اسلامی ممالک کی جو تنظیم ہے وہ بھی اس میں اپنا کردار ادا کرے۔

یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ صلح کرواتے وقت اپنے ذاتی مفادات سامنے نہیں رکھنے بلکہ اصل مسئلے کا فیصلہ کرنا چاہیے کہ اس کی کیا وجوہات ہیں اور وجوہات تو وہی ہیں جو ہمیں صاف نظر آرہی ہیں کہ دجالی طاقتیں ہمیں لڑانا چاہتی ہیں۔اقوام متحدہ یو این وغیرہ جو بنی ہیں انہوں نے بھی کوئی مثبت کردار ادا نہیں کیا بلکہ اب تو خود یہ لوگ اس کے خلاف بولنے لگ گئے ہیں۔ پس اگر ہم ذاتی مفادات سے بالا ہو کر اپنے ملکی مفادات سے بالا ہو کر یہ کام کریں گے تو تب ہی ہم بچ سکتے ہیں ورنہ ہم ان دجالی طاقتوں کی گود میں چلے جائیں گے۔ پس سب مسلم ممالک کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ اس آیت کے آگے فرماتا ہے کہ

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۔(الحجرات:11) کہ مومنوں کا رشتہ آپس میں صرف بھائی بھائی کا ہے۔ پس تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان جو آپس میں لڑتے ہوں صلح کروا دیا کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

اگر مسلمانوں میں اختلاف ہو بھی جائے جیسا کہ ایران اور بعض عرب ممالک کے درمیان کہا جاتا ہے کہ اختلاف ہے یا دوسرے مسلم ممالک میں اختلاف ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا آپس میں اصل تعلق اسلامی اخوّت اور بھائی چارے کا ہے۔ چھوٹے چھوٹے جھگڑے اس اسلامی اخوّت کو توڑنے کی وجہ نہیں بننے چاہئیں اور اس بات پر مسلمان ممالک کو خاص طور پر توجہ دینی چاہیے ورنہ جیساکہ میں نے کہا کہ اسلام مخالف طاقتیں اس سے فائدہ اٹھائیں گی۔

پس عرب ممالک کو چاہیے اور ایران کی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ صلح کا حل نکالیں۔چین اور بعض دوسرے ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے انہوں نے صلح کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ کاش !کہ مسلم دنیا اس بات کو سمجھے۔اللہ تعالیٰ انہیں عقل دے۔ بہرحال

ہمارا کام تو یہی ہے کہ خاص طور پر مسلمان دنیا اور معصوموں کے لیے دعا کریں۔ رمضان کے مہینے میں خاص طور پر صرف اپنی ذاتی دعاؤں کی طرف توجہ نہ دیں بلکہ اُمّتِ مسلمہ کے لیے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ انہیں عقل دے کہ دنیا میں اور خاص طور پر مسلم دنیا میں امن قائم ہو سکے۔مسلمان مسلمان کی گردن کاٹنے والا نہ ہو۔ یہ لوگ جو آپس میں لڑ کر غلط طریقے سے ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں اس عمل سے وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بن رہے ہیں۔ ایسے لوگ نہ صرف اس جہان میں نقصان اٹھانے والے ہیں بلکہ اگلے جہان میں بھی نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ اس لیے اس بات کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہمیں خاص طور پر دعا کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی رنگ میں دعاؤں کی توفیق بھی عطا فرمائے۔

آج کچھ

جنازہ غائب بھی مَیں پڑھاؤں گا۔

کچھ مرحومین کا میں ذکر کرتا ہوں۔پہلا ذکر

مکرمہ صاحبزادی امة الجمیل صاحبہ

کا ہے جو حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں اور ناصر محمد سیال صاحب مرحوم کی اہلیہ تھیں۔ چودھری فتح محمد سیال صاحبؓ جو یہاں مبلغ بھی رہے ہیں ان کی بہو تھیں۔ تقریباً انانوے (89)سال کی عمر میں پچھلے دنوں ان کی وفات ہوئی ہے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔مرحومہ موصیہ تھیں۔ یہ حضرت سیدہ مریم بیگم صاحبہؓ ام طاہر کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں اور حضرت مصلح موعودؓکے بچوں میں بھی سب سے چھوٹی تھیں۔ ان کا نکاح حضرت مصلح موعودؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 1955ء میں پڑھایا تھا اور حضور ؓکیونکہ بیمار تھے،بستر پر لیٹے ہوئے ہی آپؓ نے نکاح کاخطبہ دیا اور دعا کروائی اور چند گھر کے لوگ بیچ میں شامل تھے۔لیکن لکھنے والے نے لکھا ہے کہ اس تقریب کے دوران اوّل سے آخر تک حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ پر ایک خاص کیفیت طاری رہی اور پھر حضرت مصلح موعود ؓنے ہی 1956ء میں ان کی شادی کی اور دعا سے ان کو رخصت کیا۔ ان کے چار بچے ہیں۔ایک بیٹا ظاہر مصطفیٰ جو ان کا پہلابیٹا ہے، جو انہوں نے اپنی ہمشیرہ صاحبزادی امة القیوم صاحبہ کو دے دیا تھا جنہوں نے بچپن سے ہی اس کو پالاہے۔ بیٹی ہے یاسمین ملک۔ یہ بھی کینیڈا میں ہے۔ سعدیہ احمد، یہ یہاں یوکے میں رہتی ہیں۔ صوفیہ احمد یہ ربوہ میں ہیں۔ناظر خدمت درویشاں مرزا صمد احمد کی اہلیہ ہیں۔ مکرم ناصر محمد سیال صاحب وقف زندگی تھے۔ حضرت مصلح موعودؓنے جب فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ شروع کیا تو اس میں ان کو ریسرچ کے لیے لگایا۔ اس کے بعد جب ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بند ہو گیا تو پھر جماعت نے ان کو اجازت دے دی کہ اپنا کام کریں۔

ان کی بیٹی صوفیہ لکھتی ہیں کہ غریبوں کاخیال رکھنے والی تھیں۔اَور لوگوں نے بھی مجھے لکھا ہے کہ ہمارا خیال رکھنے والی اور ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنے والی تھیں۔ ان کے بچپن میں حضرت مصلح موعودؓ کے ساتھ ان کے بعض واقعات بھی ہیں،بعض خوابیں ہیں حضرت مصلح موعودؓ کی جن میں ان کا ذکر ہے۔ اس لحاظ سے ان کے ذکر کے ساتھ ہی کچھ پرانی تاریخ بھی آ جاتی ہے۔

حضرت مصلح موعودؓ کی اصول پرستی اور جماعتی کارکن کی عزّت کا آپ کو کتنا خیال ہے اس کا ایک گھریلو واقعہ انہوں نے خود بیان کیا کہ حضرت مصلح موعودؓ کی جوتی باہر پڑی ہوتی تھی جو وہ صاف کردیتے تھے۔ تو انہوں نے اپنی جوتی بھی وہاں رکھ دی۔ حضرت مصلح موعودؓ جوتی اٹھا کے لے آئے۔ اور کہا یہ کس کی جوتی ہے؟ خیر غصے میں تھے تو کوئی بولا نہیں۔ خیر آخر میں انہوں نے کہا اچھا بتاؤ کس کی ہے میں کچھ نہیں کہتا۔تو انہوں نے حالانکہ یہ حضرت مصلح موعودؓ کی بڑی لاڈلی تھیںکہا کہ میری۔ حضرت مصلح موعودؓ نے کہا آئندہ سے تم اگر خود نہیں پالش کر سکتی تو مجھے دے دیا کرو مگر جماعتی کارکن سے پالش نہیں کروانی۔ بہرحال صدقہ خیرات دینے والی تھیں اور غریبوں کا خیال رکھنے والی تھیں۔ کہتی ہیں میں نے پرانے کھاتے ان کے کتابوں میں سے نکالے تو بہت سارے اخراجات غریبوں کی مدد کے لیے اس حساب میں لکھے ہوئے تھے جو باقاعدہ دیتی تھیں۔

جب یہ سات سال کی تھیں تو ان کی والدہ امّ طاہر حضرت مریم صاحبہؓ  فوت ہو گئیں۔ حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے کہ ’’مرحومہ کو لے کر ہم شیخ بشیر احمد صاحب کے گھر پہنچے تو چھوٹی لڑکی امة الجمیل جو ان کی اور میری بہت لاڈلی تھی اور کل سات برس کی عمر کی ہے، اسے میں نے دیکھا کہ ہائے امی!ہائے امی! کہہ کر چیخیں مار کر رو رہی ہے۔ میں اس بچی کے پاس گیا اور اسے کہا جمی! (ہم اسے جمی کہتے ہیں)‘‘ لاڈ سے۔ حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں میں نے اسے کہا کہ ’’امی اللہ میاں کے گھر گئی ہیں۔ وہاں ان کو زیادہ آرام ملے گا اور اللہ میاں کی یہی مرضی تھی کہ اب وہ وہاں چلی جائیں۔ دیکھو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔ تمہارے دادا جان فوت ہو گئے۔ کیا تمہاری امی ان سے بڑھ کر تھیں؟‘‘ پھر حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں: ’’میرے خدا کا سایہ اس بچی سے ایک منٹ کے لیے بھی جدا نہ ہو۔ میرے اس فقرہ کے بعد اس نے ماں کے لیے آج تک کوئی چیخ نہیں ماری اور یہ فقرہ سنتے ہی بالکل خاموش ہوگئی بلکہ دوسرے دن جنازے کے وقت جب اس کی بڑی بہن …صدمہ سے چیخ مار کر بےہوش ہو گئی تو میری چھوٹی بیوی مریم صدیقہ کے پاس جا کر میری جمی ان سے کہنے لگی چھوٹی آپا!…‘‘ حضرت مریم صدیقہ صاحبہ کو بچے چھوٹی آپا کہتے تھے کہ ’’باجی کتنی پاگل ہے۔ ابا جان کہتے ہیں امی کے مرنے میں اللہ کی مرضی تھی یہ پھر بھی روتی ہے۔‘‘ پھر حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ ’’اے میرے ربّ! اے میرے ربّ !جس کی چھوٹی بچی نے تیری رضا ءکے لیے اپنی ماں کی موت پر غم نہ کیا، کیا تُو اسے اگلے جہان میں ہر غم سے محفوظ نہ رکھے گا۔‘‘ پھر آپؓ نے حضرت مریم صاحبہ، حضرت ام طاہر صاحبہ کے لیے دعا کی کہ ’’اے میرے رحیم خدا !تجھ سے ایسی امید رکھنا تیرے بندوں کا حق ہے اور اس امید کا پورا کرنا تیرے شایانِ شان ہے۔‘‘

(میری مریم، انوار العلوم جلد 17 صفحہ 365-366)

بہرحال چندوں وغیرہ میں بڑی باقاعدہ تھیں۔ حصہ جائیداد اپنا پورا حساب صاف کر کے پہلے سے رکھا ہوا تھا اور ہمسایوں کی وفات پر ان کے گھروں میں کھانا باقاعدہ بھجوایا کرتی تھیں اور ہمیشہ آنے جانے والوں کو کہتی تھیں، مجھے بھی انہوں نے کئی دفعہ کہا کہ دعا کرو کہ میرا انجام بخیر ہو۔

ان کی نواسی نصرت کہتی ہیں کہ نانی نماز کے وقت سے پہلے ہی تیاری کر کے بیٹھ جاتیں اور بڑی بے تابی سے وقت کاانتظار کر رہی ہوتیں اور لمبی لمبی دعائیں کرتیں بلکہ انہوں نے فہرست بنائی تھی جن لوگوں کے لیے دعا کرنی ہے۔ کہتی ہیں مَیں بچپن میں چھوٹی عمر میں تھی تو اپنی نانی کی لمبی اور روتی ہوئی دعائیں سن کر گھبرا جاتی تھی لیکن بہرحال ان لوگوں کے لیے بھی دعا کیاکرتی تھیں۔

حضرت ہادی علی صاحب نے لکھا ہے جیسا کہ میں نے کہا ان کے ساتھ بعض پرانی یادیں بھی وابستہ ہیں، واقعات بھی ہیں، حضرت مصلح موعودؓ کی بعض رؤیا بھی ہیں۔ بہرحال حضرت ہادی علی صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک دفعہ مَیں حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کے ساتھ کار پر سفر کر رہی تھی تو حضورؓ کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی۔کہتی ہیں مَیں نے دیکھا کہ حضرت مصلح موعودؓ انگلیوں پر بار بار کچھ گن رہے ہیں تو آپ نے پوچھا ابا جان !آپ کیا گن رہے ہیں ؟تو حضورؓ نے بتایا کہ میں دنیا کے تمام ملکوں میں اپنے مبلغین کی تعداد کے اندازے کر رہا ہوں اور مجھے ساری دنیا میں کم از کم اتنے لاکھ مبلغین چاہئیں تبھی ہم دنیا کو حقیقی اسلام سے آگاہ کر سکتے ہیں۔تو یہ تڑپ تھی حضرت مصلح موعودؓ کی اور ان کی بعض روایتیں اس بارہ میں ہیں۔

حضرت مصلح موعودؓ کا ایک رؤیا بھی ہے اور کیونکہ وہ ان کے حوالے سے ہے اس لیے بیان کرتا ہوں۔جون 1948ء کا یہ رؤیا ہے۔آپؓ نے فرمایا کہ جون میں مَیں ناصر آباد سندھ میں تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ایک مینار ہے بہت اونچا اور سفید،قادیان کے مینارے کی شکل کا،اس کی نچلی منزل کے اوپر کے چھجے پر دروازے کے پاس میری لڑکی امة الجمیل بیٹھی ہے اور بڑی بے تکلفی سے چھجے پر سے اس نے پیر لٹکائے ہوئے ہیں۔ اتنے میں میری نظر مینارے پر پڑی تو میں نے دیکھا کہ مینارے کے سب سے اوپر کی منزل یعنی اس سے نچلی منزل کے دروازے میں سے ایک بہت بڑا سانپ جو کئی گز لمبا اور ڈیڑھ فٹ موٹا ہے سبز رنگ کا ہے وہ سر نکال کے نچلی منزل کی طرف آ رہا ہے۔ اس سے اُترا اور اس طرح وہ نچلی منزل پہ آیا۔ مختصراً بیان کر دیتا ہوں۔ بیان تو کافی لمبا ہے اور حتّٰی کہ سب سے نچلی منزل سے اوپر کی منزل پر پہنچ گیا اور پھر اس نے نچلی منزل کی چھت کی طرف رخ کیا۔ اس وقت یہ خیال حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں میرے دل میں آیا کہ امةالجمیل چھجے پر دروازے کے پاس بیٹھی ہوئی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ مڑ کر سانپ ان کو کاٹ لے۔ ساتھ ہی میں ڈرتا ہوں کہ اگر لڑکی ہلی تو گر جائے گی اسے چوٹ لگے گی۔ تب میں نے نہایت لجاجت سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرنی شروع کی۔ اس کا یہ فقرہ مجھے یاد ہے کہ اللّٰھُمَّ اَعِذْھَالِیْ وَلِلْجَمَاعَةِ الْاَحْمَدِیَّةِ وَلِغُرَبَائِھَا۔ کہ ہمارے اللہ! اس کو میری خاطر اور جماعت احمدیہ کی خاطر اور اس کے غرباء کی خاطر اس بلا سے نجات دے۔ حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں عربی میں غرباء کے معنی مسافروں کے ہوتے ہیں اور اردو میں غرباء کے معنی مسکینوں کے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس جگہ اردو محاورہ استعمال کیا گیا ہے یا عربی محاورہ اور اس میں بعض مسافروں کی طرف بھی اشارہ ہے۔بہرحال کہتے ہیں کہ مَیں یہ دعا کرتا گیا اور میں نے دیکھا کہ امة الجمیل نے خود بخود خطرہ محسوس کر کے چھجے کی طرف سے سرکنا شروع کیا اور سرکتے سرکتے کئی گز وہ دروازے سے پرے ہٹ گئی اور اتنے میں سانپ اس دروازے سے اتر کر جمیل کی طرف متوجہ ہوا مگر پھر چونکہ وہ کچھ دور تھی اس لیے اس کا پیچھا نہیں کیا بلکہ زمین کی طرف اترنا شروع کیا۔ آپؓ لکھتے ہیں کہ یہ رؤیا بظاہر بچی کے لیے نہایت مبارک ہے کہ اس میں دعا ہے۔ وہ میرے لیے ٹھنڈک کاموجب ہونے کے علاوہ جماعت اور غرباء کے لیے بھی مفید ہوگی۔ واللہ اعلم۔

(ماخوذ ازرؤیا و کشوف سیدنا محمود صفحہ 416-417)(ماخوذ ازالفضل جلد 2 نمبر 287، مورخہ 19، دسمبر 1948ء صفحہ 3)

اَور بھی حضرت مصلح موعودؓ کی بعض رؤیا ہیں جن میں ان کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔

دوسرا جنازہ جس کا ذکر کرنا ہے وہ ہالینڈ کے

ڈاکٹر رشید احمد خان صاحب

ہیں جو مکرم نظام الدین صاحب کے بیٹے تھے۔ گذشتہ دنوں اکانوے (91)سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے اور ان کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ ڈاکٹر رشید صاحب کے والد نظام الدین صاحب صوبہ سرحد کے سابق امیر ڈاکٹر فتح دین صاحب (بحوالہ صوبہ خیبر پختونخواہ (سابقہ صوبہ سرحد) میں احمدیت کا نفوذ صفحہ107)کے چھوٹے بھائی تھے اور ان کے ذریعے سے ہی ان کے خاندان میں احمدیت آئی۔1905ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لدھیانہ میں ایک خطاب فرمایا اس وقت ڈاکٹر فتح دین صاحب سکول میں پڑھتے تھے۔ سکول کے اساتذہ نے طالب علموں کو سختی سے منع کیا تھا کہ کبھی بھی یہاں ان کی تقریر سننے نہ جانا۔ یہ جادوگر ہے اورتمہیں پھر قابو کر لے گا۔ ہمیشہ سے جو الزام نبیوں پہ لگایا جاتا ہے مولوی حضرت مسیح موعودؑ پر یہ الزام لگاتے تھے۔ بہرحال یہ کہتے ہیں فتح دین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کاخطاب سننے چلے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چہرہ دیکھ کر چھوٹی سی عمر میں ان کو یقین ہو گیا کہ یہ سچے ہیں۔چنانچہ بعد میں تعلیم مکمل کر کے 1914ء میں حضرت خلیفة المسیح الاوّلؓ کے زمانے میں جا کے انہوں نے بیعت کی۔ بڑے نیک فطرت تھے۔ مرحوم رشید صاحب بھی بڑے نیک فطرت تھے۔ سلیم الطبع تھے۔ ملنسار تھے۔ خدا ترس تھے۔ صلہ رحمی کرنے والے تھے۔ دوسروں کے لیے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالتے تھے۔ بڑے نڈر اور شجاع تھے۔خلافت کے شیدائی تھے اور ہر وقت ہر قربانی کے لیے تیار رہنے والے تھے۔ غریبوں کی کفالت،مستحقین کی مدد کسی کو بتائے بغیر کیا کرتے تھے۔ کئی نومبائعین جن پرمخالفین جھوٹے مقدمے بنا لیتے ان کی ضمانت کے لیے بھی آپ چلے جاتے اور فرقان فورس میں بھی شامل رہے۔ ان کو یہ بھی سعادت حاصل ہوئی کہ ان کو اور ان کے سسر عباس خان صاحب کو اور ان کے بھائی منظور صاحب کو صوبہ سرحد میں حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ نے وقف جدید کے تحت مختلف علاقوں میں بھجوایا اور یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ پرانے احمدی خاندانوں سے رابطہ بحال کریں اور تبلیغ کا کام سرانجام دیں۔چنانچہ انہوں نے یہ کام بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیا۔

تبلیغ کا ان کو بڑا شوق تھا۔ ایک دوست دولت خان صاحب کو تبلیغ کی تو انہوں نے بیعت کی۔ ان پر اس پر مقدمہ بھی شروع ہو گیا۔ان پہ بھی مقدمہ ہو گیا اور ان کی گرفتاری بھی ہو گئی۔ ضمانت کے لیے کوئی سامنے نہیں آرہا تھا۔ مچلکے قبول نہیں ہو رہے تھے تو رشید صاحب خود ہی اپنے داماد کو لے کے وہاں گئے۔ وہاں مولویوں کا پانچ ہزار کا جلوس تھا۔انہوں نے ان پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ ان کے داماد کے سر پر پتھر لگا پھر وہ گر گئے تو ان کو مارا۔آخر ان کی وہیں شہادت ہو گئی اور پولیس نے بقول ان کے جو ان شیطانوں کا عمل ہے کہ ہم تو ثواب حاصل کر رہے ہیں۔ پھر پولیس نے بھی اس لاش کو ٹھڈے مارنے شروع کیے کہ ہم بھی ثواب حاصل کریں۔ بہرحال ان کو بھی مارا اور ان کے جسم کی تقریبا ًتمام ہڈیاں ہی توڑ دیں۔بہت چوٹیں لگیں۔ان کے نشان بعد میں بھی مَیں دیکھتا رہا ہوں۔چہرے پر بھی نشان تھے اور بازو وغیرہ بھی مڑ جاتے تھے۔ انہی چوٹوں کی وجہ سے مڑے ہوئے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بچایا اور مار مار کے ان کو مردہ سمجھ کے چھوڑ گئے۔ بعد میں پولیس ان کی لاش کو لے کے جارہی تھی۔ جب یہ ہسپتال کے قریب پہنچے تو انہوں نے کہا کہ میں زندہ ہوں اور مجھے فلاں جگہ پہنچا دو۔ بہرحال ڈاکٹروں نے انہیں دیکھا۔ ان کو بھی حیرت تھی کہ زندہ کس طرح ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نےان کو زندہ رکھنا تھا اس کے بعد ان چوٹوں کے باوجود تیس سال سے زائد یہ زندہ رہے اور بڑے activeرہے اور بہرحال پولیس کو انہوں نے کہا کہ مجھے پشاور پہنچا دو اور وہاں پولیس مخالف بھی تھی، پہنچانا مشکل بھی تھا لیکن وہاں بعض لوگوں کو یہ بھی فائدہ ہو جاتا ہے کہ پیسے اگر دو پولیس کو تو کام بن جاتا ہے۔تو انہوں نے کہا تم نے جو رقم مجھ سے لینی ہے لے لو تو مجھے پہنچا دو۔بہرحال اس پر وہاں جو پولیس والا افسر تھا وہ مان گیا اور ان کو پشاور پہنچایا۔پھر یہ ربوہ آئے ان کا علاج ہوا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نئی زندگی دی۔ کہاں تو یہ تھا کہ ان کو مردہ خانے پہنچایا جا رہا تھا اور کہاں یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کے بعد بھی تیس سال تک زندہ رکھا اور بڑا active زندہ رکھا۔ ہالینڈ میں بھی رہے۔ وہاں جماعت کے کام بھی کرتے رہے۔ 74ء میں بھی ان پہ دشمنوں نے پستول تان لیا تھا تو اس وقت بھی انہوں نے بڑی جرأت سے کہا تھا۔ مولویوں کے یہ کہنے پر کہ کلمہ پڑھو،مسلمان ہو جاؤ تو انہوں نے کہا لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہتو میں پہلے ہی پڑھتا ہوں۔ اسی پرمیرا ایمان ہے اَور میں کس طرح مسلمان بنوں؟ انہوں نے کہا نہیں !مرزا صاحب کو گالیاں دو۔ انہوں نے کہا مَیں گالیاں تو نہیں دوں گا۔یہ کوئی اسلام نہیں ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ میں تو درود پڑھنے والا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر عمل کرنے والا ہوں۔مَیں اس قسم کی حرکتیں نہیں کر سکتا۔ پھر انہوں نے کہا کہ مَیں نے ان کو ایک صحابی کا واقعہ سنایا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ اُحد میں شہادت کی خبر مشہور ہوئی تو انہوں نے کہا میرے اور جنت کے درمیان تو ایک کھجور ہی حائل ہے اور اس کو اٹھا کے ایک طرف پھینک دیا اور دشمن کے اوپر تنہا حملہ آور ہوئے اور ان کے جسم کے ٹکڑے ہو گئے۔ یہ واقعہ کہتے ہیں مَیں نے ان کو سنایا اور مَیں نے کہا کہ میرے اور تمہارے درمیان تو یہ کھجور بھی ابھی حائل نہیں کیونکہ تم نے میرے سینے پہ بندوق رکھی ہوئی ہے تم دبادو اور شہید کر دو لیکن مَیں یہ باتیں نہیں کروں گا جو تم کہتے ہو کہ مسیح موعود ؑکو گالیاں دو۔ اور بڑی جرأت کا انہوں نے مظاہرہ کیا۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے۔ ان کے بچوں کو بھی نیکیاں قائم کرنے کی توفیق دے۔

تیسرا ذکر ہے

مکرمہ زینب بی بی صاحبہ

کا، جوبشیر احمد صاحب مرحوم سابق صدر جماعت اور امام مسجد چک 275کرتار پور کی اہلیہ تھیں۔ گذشتہ دنوں پچاسی (85)سال کی عمر میںان کی وفات ہوئی ہے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں اور ان کے والد علی محمد صاحب خادم مسجد دار الذکر فیصل آباد تھے۔ بڑی دعا گو، تہجد گزار، نمازوں کی پابند، قرآن کریم کی روزانہ تلاوت کرنے والی، مہمان نواز،خلافت کے ساتھ گہری عقیدت رکھنے والی،نیک فطرت خاتون تھیں۔ غریب لوگوں کی مدد بھی کیا کرتی تھیں اور خطبہ جمعہ بھی بڑی باقاعدگی سے سنتیں،گھر والوں کو بلا کر سناتیں۔ پسماندگان میں ان کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ کئی پوتے پوتیاں واقف زندگی ہیں۔ ان کی بیٹی امةالرشید صاحبہ جو طاہر احمد سیفی صاحب مبلغ سلسلہ کی اہلیہ ہیں جو لوساکا زیمبیا میں مبلغ سلسلہ ہیں۔ اور آج کل لوساکا میں ہی تھیں جب ان کی وفات ہوئی ہے تو وہ بیٹی بھی اپنی والدہ کی وفات پہ شامل نہیں ہو سکیں،جا نہیں سکیں،جنازہ نہیں دیکھا۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور مرحومہ سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔

٭٭٭

مزید پڑھین: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 27؍فروری 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button