حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭… ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے پیر، ۳۰؍مارچ تک ایرانی جامعات پر حالیہ حملوں کی مذمت نہ کی تو مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی جامعات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ایران کے دو بڑے تعلیمی ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔ پاسداران نے امریکی جامعات کے طلبہ، عملے اور قریبی رہائشیوں کو ایک کلومیٹر دور رہنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ خلیجی ممالک میں متعدد امریکی جامعات کی شاخیں موجود ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور ایران جوابی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

٭… رپورٹس کے مطابق پینٹاگون ایران میں ممکنہ زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے، جن میں جزیرہ خارگ اور آبنائے ہرمز کے قریب محدود نوعیت کے آپریشن شامل ہو سکتے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ مکمل جنگ نہیں بلکہ اسپیشل فورسز اور انفنٹری پر مشتمل چھاپہ مار کارروائیاں ہوں گی، جن کا مقصد ایران کی عسکری و بحری تنصیبات پر دباؤ بڑھانا ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال کسی کارروائی کی منظوری نہیں دی۔ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے پیش نظر حتمی فیصلہ صدر کے اختیار میں ہے۔

٭… پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز کر رہا ہے۔ اسلام آباد میں سعودی عرب، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس منعقد ہو رہے ہیں جن میں بحران کے حل اور امن کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان حالیہ عرصے میں ایران اور امریکہ کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ بھی بنا ہے اور دونوں کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔ یہ کوششیں خلیجی خطے میں تناؤ کم کرنے اور ممکنہ تصادم سے بچنے کی عالمی کاوشوں کا حصہ ہیں۔

٭… امریکی ٹیرف پالیسیوں، بند سرحدوں اور سیاسی کشیدگی نے جنوبی ایشیا کی تجارت کو شدید متاثر کیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان براہ راست تجارت تقریباً معطل ہے جس کے باعث اشیا کو مہنگے اور طویل متبادل راستوں سے منتقل کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کاروباری لاگت بڑھ گئی اور طلب غیر یقینی ہو گئی ہے۔ علاقائی تجارت، جو معاشی استحکام کا ذریعہ بن سکتی تھی، سیاسی عدم اعتماد اور پالیسیوں کے فقدان کے باعث فروغ نہیں پا سکی۔ ماہرین کے مطابق اگر خطے کے ممالک نے تعاون اور مستقل پالیسیوں کو فروغ نہ دیا تو جنوبی ایشیا عالمی معیشت میں پیچھے رہ جائے گا۔

٭… جرمنی کے شہر وٹن میں ایک ۱۳؍سالہ لڑکا چاقو لگنے کے باعث ہلاک ہو گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس کے والد کو بطور مشتبہ قاتل حراست میں لیا گیا ہے۔ لڑکے کی والدہ اور نو سالہ بہن بھی شدید زخمی ہوئیں اور انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ جھگڑا ایک رہائشی عمارت سے شروع ہو کر سڑک تک پہنچا۔ پولیس نے تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی ہے اور مشتبہ شخص کو جلد مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی توقع ہے۔ قتل کی وجہ ابھی واضح نہیں ہوئی۔

٭… جرمنی کے آٹوموبائل شعبے کے بڑے ادارے فوکس ویگن گروپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ۲۰۳۰ء تک جرمنی میں اپنی افرادی قوّت میں پچاس ہزار ملازمتیں ختم کرے گا۔ یہ فیصلہ منافع میں واضح کمی، پیداواری لاگت میں اضافہ، امریکی ٹیرفس اور چین کی الیکٹرک گاڑیوں کے مقابلے کے سبب کیا گیا ہے۔ ۳۵؍ہزار ملازمتیں فوکس ویگن برانڈ میں کم ہوں گی جبکہ باقی ۱۵؍ہزار دیگر ذیلی اداروں جیسے آؤڈی، پورشے اور سافٹ ویئر کمپنی کارییاڈ میں متاثر ہوں گی۔ گروپ سالانہ ۱۵؍بلین یورو کی بچت کا ہدف رکھتا ہے اور CEO اولیور بلُومے نے اس اقدام کو کمپنی کی پائیداری اور جدت پسندی کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔

٭…امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکہ ایران میں ممکنہ زمینی فوجی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے، خاص طور پر جزیرہ خارگ اور آبنائے ہرمز کے قریب ساحلی مقامات پر۔ یہ منصوبے اسپیشل آپریشنز فورسز اور دیگر فوجی دستوں کے چھاپے شامل کر سکتے ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک کسی تعیناتی کی منظوری نہیں دی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق امریکہ اپنے تمام مقاصد زمینی دستوں کے بغیر بھی حاصل کر سکتا ہے، لیکن منصوبہ بندی جاری ہے اور یہ آخری لمحات کی تیاری نہیں ہے۔ اس دوران، ایران میں جاری جنگ کے پانچویں ہفتے میں امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں میرینز تعینات کر دیے ہیں اور ۸۲ویں ایئربورن ڈویژن سے ہزاروں اہلکار بھی خطے میں بھیجنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اب بھی خطے میں فوجی متبادل تیار رکھے ہوئے ہے، جبکہ کسی بڑی زمینی کارروائی کا فیصلہ ابھی زیرِغور ہے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button