جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کے 92 ویں جلسہ سالانہ کی اختتامی تقریب میں ایم ٹی اے کے مواصلاتی رابطہ کے ذریعےامیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی بابرکت شمولیت اور براہِ راست خطاب
لندن 07؍ فروری 2016ء(نمائندہ الفضل انٹرنیشنل) امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 07؍فروری2016ء بروز اتوار طاہر ہال مسجد بیت الفتوح لندن سے ایم ٹی اے کے مواصلاتی رابطہ کے ذریعہ جلسہ سالانہ جماعتِ احمدیہ بنگلہ دیش میں شمولیت فرما کر اسے برکت بخشی اوراختتامی خطاب فرمایا۔
حضورِ انور اس تقریب میں شمولیت کے لئے ساڑھے دس بجے صبح مسجد بیت الفتوح کے کمپاؤنڈ میں واقع طاہر ہال میں رونق افروز ہوئے۔ اس سے قبل ایم ٹی اے کی لائیو نشریات بنگلہ دیش سے جاری تھیں۔حضورِ انور کے ارشاد پر محترم فیروز عالم صاحب (انچارج بنگلہ ڈیسک۔ لندن) نے سورۃ آل عمران کی آیات 103 تا108کی تلاوت اور پھر ان کا بنگلہ ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جبکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاکیزہ اردومنظوم کلام ؎
ہمیں اس یار سے تقویٰ عطا ہے
نہ یہ ہم سے کہ احسانِ خدا ہے
میں سے کچھ اشعاراور ان کا بنگلہ ترجمہ سلطان احمد صاحب نے پیش کیا۔
جونہی حضورِ انور خطاب کے لئے ڈائس پر تشریف لائے ہمارے ایک مصری احمدی محترم فتحی عبدالسلام صاحب نے جذبات میں آ کر اپنے مخصوص انداز میں اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم و اصحاب و ازواج النبیؐ پر درود و سلام بھیجتے ہوئے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے خلافتِ احمدیہ کی صورت میں ایک نعمتِ عظمیٰ ہمیں عطا کر رکھی ہے۔

اس کے بعد حضورِ انور ایّدہ اللہ نے حاضرینِ جلسہ سے اختتامی خطاب فرمایا۔ حضورِ انور کے براہِ راست خطاب کا رواں بنگالی ترجمہ محترم فیروز عالم صاحب نے پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔
حضورِ انور ایّدہ اللہ نے اپنے اس خطاب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشادات کے حوالہ سے سلسلہ احمدیہ کے قیام اوراپنی بعثت کا حقیقی مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ’ آپ کی بعثت کا یہ مقصد تھا کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اِدراک رکھنے والے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ پر چلنے والے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والے لوگ پیدا ہوں۔ وہ لوگ پیدا ہوں جو عملی نمونوں کی ایک مثال ہوں۔‘
حضورِ انور نے اس امر کے پیشِ نظر دنیا بھر میں بسنے والے احمدیوں کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ پس ہر احمدی جو چاہے دنیا کے کسی بھی حصے اور خطے میں رہ رہا ہو اس کا فرض بنتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو سامنے رکھے۔‘
نیز حضورِ انور نے فرمایا ’ اس بات کو اپنے ذہن میں بٹھا کر یہ عہد کریں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے ایک نمونہ آپ نے بننا ہے۔ان باتوں کا صحیح علم اور اِدراک حاصل کرنے کے لئے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات اور ارشادات اور فرمودات سے مدد لینی ہو گی۔‘
(حضورِ انور ایّدہ اللہ کے خطاب کا مکمل متن الفضل انٹرنیشنل کے آئندہ کسی شمارہ کی زینت بنے گا۔ انشاء اللہ)
قریبًا سوا گھنٹہ تک جاری رہنے والے اس خطاب کے بعد حضورِ انورنے دعا کروائی اور ایک مرتبہ پھر کرسیٔ صدارت پر رونق افروز ہوئے۔ اپنے پیارے امام کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرنے کے لئے بنگلہ دیش سے بچوں ، نوجوانوں ، بزرگوں اور خواتین پر مشتمل مختلف گروپس نے عربی، اردو اور بنگلہ زبانوں میں نظمیں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔
جلسہ سالانہ بنگلہ دیش کی اس اختتامی تقریب میں بنگلہ دیش میں جلسہ گاہ میں 5800 ؍افراد جبکہ مسجد بیت الفتوح کے کمپاؤنڈ میں 3726؍ خواتین و احباب نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ ایم ٹی اے کے توسّط سے لاکھوں افراد نے اپنے پیارے امام کے خطاب کو براہِ راست سنا۔ حضورِ انور کے اس خطاب کا متعدد زبانوں میں رواں ترجمہ بھی نشر کیا گیا۔ حضورِ انور نے بعد ازاں مسجد بیت الفتوح میں نمازِ ظہر و عصر پڑھائیں۔




