فرینکفرٹ کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر 9 اور 10نومبر 2015ء کو جماعت احمدیہ جرمنی کے زیر اہتمام اسلام کے امن اور محبت کے پیغام پر مشتمل شاندار نمائش کا انعقاد
40ہزار سے زائد افراد نے اس نمائش کو دیکھا۔ 30مختلف اسلامی موضوعات پر جرمن، عربی، ترکی، انگریزی، البانین اور فارسی زبانوں میں 31ہزار سے زائد لٹریچر کی تقسیم۔’ محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں ‘ کے پیغام پر مشتمل مختلف تحائف کی تقسیم۔ مسلم اور غیر مسلم افراد کی طرف سے نمائش کے انعقاد پر خوشی کا اظہار
ماہ نومبر میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ جرمنی کوFrankfurtکے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر مسلسل48گھنٹے اسلام نمائش لگانے کی توفیق ملی۔یاد رہے کہ جرمنی میں کسی بھی ریلوے اسٹیشن پر لگنے والی یہ پہلی نمائش تھی۔
جرمنی کے شہرFrankfurt کا شمار جرمنی کے قدیم اور مشہورشہروں میں ہوتا ہے جس کی تاریخ تقریباً3ہزار سال قبل مسیح بیان کی جاتی ہے۔یہ شہر جرمنی کے صوبہ ہیسن کا سب سے بڑا شہر ہے اور جرمنی کے بڑے شہروں میں اس کا نمبر پانچواں ہے۔یہ شہر عالمگیر شہرت کا حامل ہے۔اور معاشی امور(بنکاری) کے لئے پورے یورپ کا ہیڈ کواٹر جانا جاتاہے۔ ٹریڈنگ کی عالمی منڈیاں بھی یہاں موجود ہیں اس وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں روزانہ لوگ اس شہر میں آتے جاتے ہیں ۔اس شہر کی کل آبادی7لاکھ کے قریب ہے۔

یہ شہر وسطی یورپ کے مشہور دریا مائن کے کنارے آباد ہے۔ جرمن زبان میں Furtاُس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پانی زیادہ گہرا نہ ہو اور اُس کے ساتھ ساتھ آبادی ہو اور فرانک ایک قدیم جرمن قبیلے کا نام ہے اس لئے اس شہر کو Frankfurtکہا جاتا ہے اور اس شہر کی وجہ تسمیہ بھی یہی بیان کی جاتی ہے۔
1240ئمیں Frankfurtکے تجارتی میلے کو شاہی تجارتی میلے کا درجہ دیا گیا اور1585ئمیں یہاں اسٹاک ایکسچینج شروع ہوئی۔ ہر سال یہاں متعدد نمائشیں لگتی ہیں جن میں سے بعض کا شمار دنیا کی بڑی نمائشوں میں ہوتا ہے-
اس ریلوے اسٹیشن کے 24پلیٹ فارم اور 26ٹریکس ہیں ۔اور ریلوے اسٹیشن کے نیچے سات انڈرگراؤنڈ ٹریک ہیں جن پر ٹرام چلتی ہے۔یعنی پورے Frankfurtکے نیچے ٹرام چلتی ہے۔اور اوپر عالی شان عمارتیں اور سڑکیں بنی ہوئی ہیں ۔اسی طرح ریلوے اسٹیشن کے باہرمختلف سمتوں میں جانے والی لوکل بسوں کے علاوہ جرمنی کے ہمسایہ ممالک کے لئے بس اسٹیشن بھی موجود ہے جہاں سے روزانہ ہزاروں مسافر ان کے ذریعہ سفر اختیار کرتے ہیں ۔
اس شہر میں 19ویں صدی کے اوائل میں ریلوے ٹریک بچھایا گیا اور 1866ئمیں موجودہ جگہ پر ریلوے اسٹیشن بنایا گیا۔ یہ ٹریک پہلے پہل صرف Frankfurt اور Wiesbaden کے درمیان تھا۔ ریلوے اسٹیشن کی موجودہ عمارت1883ئمیں بننا شروع ہوئی۔اس عمارت کو لوہے اور شیشوں سے بنایا اور پلیٹ فارمز کو تین بڑے بڑے ہالوں کے ذریعہ مسقف کیاگیا۔اس عمارت کا افتتاح 18اگست 1888ء کی شام کو ہوا۔دوسری جنگ عظیم میں اس اسٹیشن کا کافی نقصان ہوا۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس کی آرائش، خوبصورتی اورعمارت میں اضافے ہوتے رہے۔ 1924ء میں ریلوے اسٹیشن کی دونوں جانب مزید ہالوں کا اضافہ کیا گیا اسی طرح 1956ئمیں اس اسٹیشن کو مکمل طور پر بجلی سے چلنے والا بنایا گیا۔1971ء میں انڈر گراؤنڈ ٹرینوں کے چلنے کے لئے سرنگیں تیار کی گئیں اور فرینکفورٹ کے چاروں اطراف اس کا جال بچھایا گیا۔اسی طرح انڈر گراؤنڈ ریلوے اسٹیشن کے اردگرد بہت بڑا شاپنگ مال تعمیرکیا گیا جس کی تکمیل 1978ء میں ہوئی۔
ریلوے اسٹیشن کے مین گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی وسیع وعریض اور بلند چھت والا ہال ہے جس کی دائیں جانب Coffe Shop ، پھولوں اورمصنوعی جیولری کی دکانیں وغیرہ ہیں جبکہ بائیں طرف ریلوے اسٹیشن کے دفاتر ہیں جہاں سے لوگ ٹکٹ خرید کرتے ہیں اورسفری معلومات لیتے ہیں ۔اس ہال میں مسافروں کے بیٹھنے اور انتظار کے لئے بنچ بھی لگے ہوئے ہیں ۔اس ہال کومختلف نمائشوں اور میلوں کے لئے ہی بنایا گیا ہے جسے ریلوے انتظامیہ کرائے پر دیتی ہے جہاں مختلف کمپنیاں اپنی اپنی اشیاء کی مشہوری کرتی ہیں ۔اس ہال کی پیمائش 600مربع میٹر سے زائد ہے۔یہ جگہ بہت مصروف ہوتی ہے شائد ہی کوئی دن ایسا ہوتا ہو کہ یہاں کوئی نمائش نہ لگی ہو اس جگہ کو کرائے پر حاصل کرنا کافی مشکل ہے بعض اوقات سال ڈیڑھ سال بعد باری آتی ہے لوگوں نے ایڈوانس بکنگ کروائی ہوتی ہے۔
اللہ کے فضل سے شعبہ تبلیغ جرمنی کی ایک لمبے عرصہ سے خواہش تھی کہ یہاں اسلام نمائش لگائی جائے۔مکرم مبین جاوید صاحب معاون شعبہ تبلیغ نے اس کی اجازت لینے کی مسلسل کوشش کی اور بالآخر ایک سال کی محنت کے بعد مختلف مراحل سے ہوتے ہوئے مورخہ9اور 10نومبر کو یہ نمائش لگانے کی اجازت مل گئی۔
شعبہ تبلیغ کے معاونین اور لوکل امارت فرنکفورٹ کے احباب جماعت نے مل کرمحترم محمد اشرف ضیاء صاحب مبلغ سلسلہ Frankfurtکی رہنمائی میں اس نمائش کو مورخہ8نومبر رات 12بجے لگانا شروع کیا اور صبح 4بجے الحمدللہ خوبصورت نمائش کو مکمل طورپرمہمانوں کے لئے کھول دیا گیا۔اس موقع پر جہاں خاکسار مکرم ادریس احمد صاحب لوکل امیر Frankfurt،مکرم منصور احمد لوکل سیکریٹری تبلیغ، مکرم میاں عبدالسلام صاحب صدر حلقہ بیت السبوح اور اُن کی ٹیم کا بے حدممنون ہے وہاں بعض اوراحباب کا بھی ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ جنہوں نے کمال محنت اور شوق سے مسلسل کام کیا اور اپنی خدمات پیش کیں ۔مکرم قمر شہباز بٹ صاحب مکرم منظور احمد صاحب مکرم چوہدری عزیز احمد بنگالی صاحب اور اُن کی پوری ٹیم جنہوں نے لٹریچر کی فراہمی اور دیگر اہم امور میں مدد کی سب کے نام بموجب طوالت ہونگے۔اللہ تعالیٰ سب معاونین کو جزائے خیر سے نوازے۔آمین

اللہ کے فضل سے نمائش لگانے کے دوران ہی لوگوں نے اس کے قدآدم پوسٹرز پڑھنا شروع کردئے تھے۔اس نمائش میں مندجہ ذیل مضامین کے 16بڑے بڑے پوسٹر لگائے گئے۔ مثلاً اللہ،قرآن کریم، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، مقدس شہر ، اسلام، ارکان اسلام، اسلام میں عورت کا مقام، جہاد، اسلامک سائنس، اسلام کی امن پسندتعلیمات، تعارف حضرت مسیح موعود علیہ السلام، تعارف خلفاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام، اسلام کی دنیا، ڈاکٹر عبدالسلام ، مذہبی آزادی اور اسلام میں عورت کا مقام وغیرہ۔ ان کے علاوہ قرآنی آیات ،احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کے چھوٹے بینرز بھی لگائے گئے۔
اسی طرح ملٹی میڈیا کا بھی انتظام کیا گیا ایک 4 دیواروں والا کیبن بنایا گیا جس کے چاروں اطراف ٹیلی ویژن لگے ہوئے تھے اور ان ٹیلی ویژنز پر جماعت احمدیہ کا تعارف اور حضورِانور کے دورہ جات اور مساجد کے افتتاح اور سنگ بنیاد کی ویڈیوزنشر ہوتی رہیں ۔ اسی طرح حضورِانور کے مختلف ممالک کے دوروں اور یورپین پارلیمنٹ سے خطاب قابل ذکر ہیں ۔اس کے علاوہ ایک خوبصورت سفید رنگ کی ٹچ سکرین بھی لگائی گئی جس میں ارکان ایمان اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصاویر اورآپ علیہ السلام کا مختصر تعارف درج تھا۔ اسی طرح خلفائے احمدیت کا مع تصاویر تعارف تھا۔نیز جرمنی میں احمدیہ مساجد کی تصاویر اور اُن کا مختصر تعارف کہ کس سن میں اس مسجد کی تعمیر ہوئی گویا کہ ابتدائی معلومات کا خزانہ کوزے میں بند کیا ہواتھا جسے لوگوں نے بہت پسند کیا۔ بے شمار لوگوں نے نمائش کی تصاویر لیں اور خوشی کا اظہار کیا کہ اسلام کی یہ تصویر تو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ اسی طرح بعض شریف النفس مسلمانوں کی خوشی دیدنی تھی کہ اسلام کی تبلیغ اس انداز میں کی جارہی ہے۔ ہر وقت ایک جم غفیر نمائش میں موجود رہتا۔محترم محمد اشرف ضیا ء صاحب مبلغ سلسلہ ہمہ وقت نمائش گاہ میں موجودرہے اور نوجوانوں کی رہنمائی کرتے رہے اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازے۔ آمین
(اس نمائش کی تصاویرآپ مندرجہ ذیل لنک کے ذریعہ سے دیکھ سکتے ہیں )
http://www.ahmadiyya.de/bilderga
lerie/art/die-islamausstellung-
am-frankfurter-hauptbahnhof/
مختصراً یہ کہ اس ریلوے اسٹیشن پر روزانہ تقریبًا 4لاکھ مسافروں کا آنا جانا ہوتا ہے۔ اللہ کے فضل سے احباب جماعت نے یہاں 48گھنٹے مسلسل ڈیوٹیاں دیں اور جرمن، ترکی ،عربی، فارسی ،البانین،پشتو اور اردو کے علاوہ دیگر کئی زبانوں میں لوگوں کے سوالات کے جواب دیئے گئے۔اس نمائش کی خبر(جدید الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ) پورے جرمنی کے احمدیوں تک پہنچی اور تبلیغ کا شوق اور خدمت دین کا جذبہ رکھنے والے اپنے آپ کو روک نہ پائے اور اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے از خوداس نمائش میں مدد اور ڈیوٹی دینے کے لئے دیوانہ وار آتے رہے۔ گو کہ یہ چھٹی والے دن نہیں تھے پھر بھی اللہ کے فضل سے اس نمائش کو انتہائی منظم طریق پر لگانے کی توفیق ملی۔اس نمائش کو اللہ کے فضل سے 40ہزار سے زائد لوگوں نے وزٹ کیا اوراس کے نتیجہ میں جرمن زبان میں کل30موضوعات پر 28019عدد لٹریچر حاصل کیا۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر مشتمل کتاب کو لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔نیز حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے مختلف خطابات پر مشتمل کتاب عالمی بحران اور امن کا راستہ بھی لوگوں نے حاصل کیں ۔اس کے علاوہ 12موضوعات پر عربی ، ترکی،انگلش، البانین اور فارسی میں لٹریچر وزیٹرز کو دینے کی توفیق ملی۔ اللہ کے فضل سے مجموعی طور پر48 گھنٹوں میں کل 31135عدد لٹریچر تقسیم ہوا۔

لٹریچر کے علاوہ ہمارے پروگراموں میں شامل ہونے والے مہمانوں کے لئے جماعت جرمنی کی طرف سے بعض تحائف بھی تیا ر کئے گئے تھے جن پر جماعت احمدیہ کا موٹو ’’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں ‘‘ہاٹ لائن فون نمبراور جرمنی جماعت کی ویب سائٹ پرنٹ تھا دیئے گئے جن کی مجموعی تعداد 15075بنتی ہے جن میں نوٹ پیڈ، مختصر اسلامی تعلیمات پر مشتمل پوسٹ کارڈز، وزیٹنگ کارڈز، غبارے اور اس کے علاوہ لٹریچر ڈالنے کے لئے خوبصورت اور دیدہ زیب شاپنگ بیگ بھی لوگوں کو دیئے گئے۔
بے شمار لوگوں نے اپنے ایڈریس دئیے اور مختلف زبانوں میں تراجم شدہ قرآن کریم مانگے۔ بعدازاں ان احباب کو دیئے گئے ایڈریسز پر اُن کی متعلقہ ڈیمانڈ بذریعہ پوسٹ بھجوا دی گئی۔
تأثرات
اس موقع پر MTAجرمن سٹوڈیوکی ٹیم نے نمائش دیکھنے والے بے شمار لوگوں کے انٹرویو اور تاثرات فلم بند کئے۔
٭…ایک ضعیف العمر جرمن خاتوں اپنی خمیدہ کمر اور کمزور نظر کے ساتھ بینرز کے ساتھ آنکھیں لگائے اُس پر لکھی تحریر پڑھ رہی تھی خاکسار نے جب یہ منظر دیکھا تو مجھے افسوس ہوا کہ بیچاری پڑھ نہیں پارہی تو میں نے ایک نوجوان کو کہا ان سے کہوکہ میں آپ کے لئے اس تحریر کو پڑھ دیتا ہوں تو اس پر اُس نے کہا میں سُن بھی تو نہیں سکتی اسلام کی اس خوبصورت تعلیم کو خود ہی پڑھ لوں گی اور شکریہ ادا کیا۔

٭…مکرم طلحہ طاہر صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک جرمن سرکاری ملازم نے انہیں بتایا کہ مجھے یہاں آج اسلام کی نمائش دیکھ کر دوہری خوشی ہوئی ہے۔ مَیں گورنمنٹ کی ملازم ہوں اور ملک شام سے آنے والے پناہ گزینوں کی مدد اور ترجمہ کے لئے مجھے کافی پریشانی کا سامنا تھا اور میں سوچ رہی تھی کہ کیا کروں ۔ اسی اثنا ء میں میری Frankfurt میں ایک میٹنگ تھی اور میں عموماً اپنی گاڑی پر آتی ہوں لیکن آج میں نے پتانہیں کیوں ٹرین پرآنے کا فیصلہ کیا اور یہاں آکر احسا س ہوا کہ اللہ نے میرے ملاقات آپ سے کروانی تھی اس لئے مَیں اس راستہ سے آئی۔ بعدازاں اس خاتون کو جماعت کا رابطہ نمبر دے دیا گیا اور کہاکہ انشاء اللہ جماعت احمدیہ دکھی انسانیت کی خدمت اور مددکے لئے ہر وقت تیار ہے۔
٭…ایک ترک خاتون نے MTAکی ٹیم کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اسلام نمائش دیکھ کر بہت زیادہ خوشی ہے کیونکہ ہم ہر وقت اسلام کے خلاف ہی سنتے ہیں اور اسلام کے لئے کچھ کر نہیں پاتے۔آج اس نمائش کو دیکھ کر میرا سرفخر سے اونچا ہے کہ اسلام کی ایک جماعت عیسائی ممالک میں اسلام کی حقیقی تعلیم کو پھیلا رہی ہے۔

٭…ایک جرمن عورت نمائش کو دیکھنے آئیں اور کہا جب میں صبح کام پر جارہی تھی تو میں نے یہاں نمائش کو دیکھا لیکن وقت نہیں تھا اور میں نے فیصلہ کیا کہ واپسی پر اس نمائش کو ضرور دیکھوں گی۔نیز اُس نے بتایا کہ جب میں 17سال کی تھی تو ایک احمدی صغیر احمد صاحب کی دعوت پر میں 1989ئمیں آپ کی مسجد نور میں ایک پروگرام میں شریک ہوئی تھی۔بعدازاں میرا رابطہ اس جماعت سے نہ ہوپایا۔اُس کو یاد نہیں آرہا تھا کہ وہ کون سا پروگرام تھا۔ جب اُسے نمائش میں لگی ٹائم لائن پر 1989 ء میں ہونے والے پروگراموں کی تصاویر دکھائیں اور بتایا کہ اُس سال جماعت احمدیہ کی صد سالہ تقریبات منعقد ہوئی تھیں ۔ مسجد نور کی تصویر دیکھتے ہی اُس نے کہا میں اس مسجد میں گئی تھی۔ خوش قسمتی سے صغیر صاحب بھی اُس وقت نمائش میں ڈیوٹی دے رہے تھے جب اُس کی اُن سے ملاقات کرائی گئی تو وہ بہت خوش ہوئی اور کہا میں جب صبح جا رہی تھی تو مجھے احساس ہورہا تھا کہ یہ احمدیہ جماعت کے لوگ ہی ہوں گے جو اتنی خندہ پیشانی سے پیش آرہے ہیں ۔

٭…ایک جرمن آیا اور کہنے لگا آپ یہاں کیا کررہے ہیں ؟ آپ لوگوں کی سنتا کون ہے؟ معاً اُس وقت اُس جرمن کے پیچھے لگی ہوئی ٹائم لائن پر حضورِانور کا امریکن پارلیمنٹ کا خطاب لگا ہوا تھا۔ ہمارے دوست نے کہا یہ دیکھو یہ لوگ سنتے ہیں ۔ جب اُس نے خطاب کا منظر دیکھا تو چپ ہوگیا جس پر اُسے بتایا گیا کہ اللہ کے فضل سے جرمنی کے لوگ بھی ہماری باتوں کو نہ صرف سنتے ہیں بلکہ اُن کو اہمیت بھی دیتے ہیں ۔
٭…ایک جرمن آیا اور کہا میں بہت حیران ہوں اور خوش ہوں کہ اسلام کے پیغام کے لئے اس قسم کی نمائش بھی ہے۔
٭…ایک مہمان نے کہا کہ آپ بہت اچھا کام کررہے ہیں جو امن کی تعلیم کو پھیلا رہے ہیں ۔
٭…ایک مصری عیسائی تشریف لائے انہوں نے کہا کہ مصر میں مسلمانوں نے میرے ایک عزیز کو مار ڈالا ہے جبکہ اسلام میں کوئی جبر نہیں ۔ میرا دل کہتا تھا کہ اچھے مسلمان بھی ہوں گے اور وہ اچھے مسلمان آج یہاں مجھے مل گئے ہیں ۔
٭…مکرم مبین جاوید صاحب بیان کرتے ہیں کہ جس کمپنی کے ذریعہ اس نمائش کی اجازت حاصل کی گئی تھی اُس کمپنی کے ملازم نے کہا کہ ہم نے اس جگہ پر بے شمار نمائشیں لگوائی ہیں لیکن آج تک اُن کے ہاں کام کرنے والوں کے چہروں پر ایسی رونق اور بشاشت میں نے نہیں دیکھی۔ ہر بندہ خندہ پیشانی سے لوگوں کے سوالات کے جواب دے رہا تھا۔ میں نے خود سنا ہے کہ کئی لوگ نہایت ترش روئی سے بات کرتے تھے اور اسلام پر بیہودہ اعتراضات کررہے تھے لیکن ہر جواب دینے والا تحمل اور شائستگی سے جواب دے رہا تھا۔ ہر کوئی دوڑ دوڑ کے کام کر رہا تھا یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا ان کا ذاتی کام ہے۔اسی طرح اس کی کمپنی کے دیگر ملازمین نے اسے مبارکباد دی اور اُسے کہا کہ تمہیں یہ گاہک بہت اچھا مل گیا ہے۔
٭…بعض پاکستانی غیر احمدی بڑے حیران ہورہے تھے کہ آپ کو یہاں جگہ کیسے مل گئی۔
٭…ایک جرمن نے کہا کہ اسلام کی اتنی بڑی اور خوبصورت نمائش بھی لگ سکتی ہے ہم نے کبھی سوچا نہ تھا۔
٭…ایک جرمن خاتون نے ذکر کیا کہ ہم خوش ہیں کہ آپ نے یہاں نمائش لگائی اور یہ نمائش وقت کا تقاضا تھی۔
٭…ایک پاکستانی نمائش دیکھتے ہوئے فون پر پاکستان اپنے کسی عزیز سے باتیں کررہا تھا اور اُسے بتا رہا تھا کہ بہت اچھی اور خوبصورت اسلام کی نمائش لگی ہوئی ہے۔ بہت زیادہ لوگ اسے دیکھ رہے ہیں اور انہیں اسلام کی تعلیمات بتائی جارہی ہیں ۔ نیز کتابیں تقسیم کررہے ہیں ۔بعدازاں اُس سے بات ہوئی تو اُس نے کہا کہ آپ کافروں کے ملک میں اسلام کی تعلیم کو عام کررہے ہیں جس سے ہمارے سر فخرسے بلند ہوئے ہیں ۔ باتوں باتوں میں جب اُس کے علم میں آیاکہ ہم احمدی مسلمان ہیں تو پھر خاموشی سے نکل گیا۔
٭…ایک جرمن نے کہا کہ اس وقت نمائش کالگانابہت ضروری تھا کیونکہ میڈیا اسلام کےمتعلق غلط معلومات دے رہا ہے اور اسلام پر ہر طرف سے حملے ہو رہے ہیں آپ کا یہاں نمائش لگانا اور لوگوں کو اسلام کی حقیقی تعلیم بتانا بہت فائدہ مندہے۔آپ اسلام کی صحیح تصویر دکھا رہے ہیں اللہ کامیاب کرے۔
٭…ایک افغانی نے کہا کہ ہم لوگ آپ کو تو مسلمان نہیں سمجھتے لیکن حقیقت میں آپ ہی صحیح مسلمان ہیں جو پوری دنیا میں اسلام کی حقیقی تعلیم پہنچا رہے ہیں ۔
٭…اکثر لوگوں نے کہا کہ ہم نے اسلام کے بارہ میں بہت منفی باتیں سن رکھی تھیں لیکن آج آپ سے ملاقات کے بعد احساس ہوا کہ سب غلط پراپیگنڈا تھا۔ اسلام کی اصل تعلیم تو بہت خوبصورت اور امن و امان سے بھری ہوئی بھائی چارے کا درس دیتی ہے۔
٭…ایک جرمن عورت سے بات ہوئی تو اُس نے کہا آپ کون سے اسلام کی باتیں کرتے ہیں جو لوگوں کو بلادریغ قتل کرتے ہیں اور پوری دنیا میں فساد برپا کیا ہوا ہے۔ جب اُسے تفصیل سے اسلام کی تعلیمات کا بتایا گیا تو اس کی کیفیت بدل گئی اور کہنے لگی کیا عیسائیوں اور یہودیوں نے بھی بہت ظلم کئے ہیں اور لوگوں کو بلاتفریق قتل کیا۔ جاتے ہوئے کہنے لگی کہ واقعی اسلام کی تعلیم بہت اچھی ہے لیکن بعض لوگ اسے بدنام کررہے ہیں ۔
قارئین سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ جرمنی کو حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی تمام ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ترقیات نصیب فرمائے۔اور سعید روحوں کو غلامان مسیح موعود میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
٭…٭…٭




