صحت

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۱۵)(قسط ۱۴۰)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

کینیبس سٹائیوا

Cannabis sativa

کینیبس سٹائیواکی علامتیں کینیبس انڈیکا سے بہت حد تک ملتی ہیں بلکہ کئی ہو میو پیتھ ایک کی جگہ دوسری کو بھی استعمال کر لیتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے اثر کو زائل بھی کرتی ہیں۔کینیبس سٹائیوا کی علامات کینیبس انڈیکا سے زیادہ شدید ہوتی ہیں۔ مثلاً کینیبس انڈیکا کے مریض میں یہ احساس پایا جا تا ہے کہ میں دو شخصیتوں میں منقسم ہو گیا ہوں۔ مریض بہت یقین ، وضاحت اور لطف کے ساتھ یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ بیک وقت دو دنیاؤں میں بس رہا ہے لیکن کینیبس سٹائیوا میں ذاتی تشخص کے بارے میں مستقل شک پیدا ہو جاتا ہے کہ میں کیا ہوں۔(صفحہ۲۲۷)

کینیبس سٹائیوا میں دل سے بھی پانی کی بوندیں گرنے کا احساس ہوتا ہے۔دھڑکن کے ساتھ درد محسوس ہوتا ہے۔سیڑھیاں چڑھتے ہوئے گھٹنے کی ہڈی میں تکلیف ہوتی ہےاور پاؤں بوجھل ہوجاتے ہیں۔لیٹنے کے بعد بھی تکلیفیں بڑھتی ہیں۔(صفحہ۲۲۸)

کینتھرس

Cantharis

اگر انتہائی سردی کے نتیجہ میں خون کا درجہ حرارت بھی تیزی سے گرنے لگے تو ایسے مریض کی زندگی بچانے کے لیے کینتھرس بھی بہت کام آتی ہے۔یہ بجھتے ہوئے رد عمل کو بیدار کردیتی ہے۔(صفحہ۲۳۱)

کینتھرس کی تکلیفیں لمس سے،ٹھنڈے پانی سے اور پیشاب کرتے ہوئے بڑھ جاتی ہیں۔(صفحہ۲۳۱)

کیپسیکم

Capsicum

(Cayenne Pepper)

اگرچہ مرچیں جلن اور گرمی پیدا کرتی ہیں لیکن کیپسیکم کا مریض خود ٹھنڈا ہوتا ہےاور گرم کمرے میں رہنا پسند کرتا ہے۔(صفحہ۲۳۳)

حنجرہ اور ہوا کی نالی میں خشک کھانسی کے ساتھ سرسراہٹ اور کھانسنے سے مثانہ میں دباؤ پیدا ہوتا ہے۔سانس کے ساتھ سینے میں درد ،دل کے نچلے حصہ میں پسلیوں کے پاس درد،مریض کھلی ہوا پسند نہ کرے ،گرمی سے اور کھانا کھانے سے کچھ آرام آئے ،مریض جسم کے مختلف اعضاء میں درد محسوس کرے، چہرے کے بعض عضلات میں درد کے ساتھ جھٹکے بھی لگتے ہوں، کنپٹی کی ہڈیوں پر ابھار بن جائیں جن میں سوزش نمایاں ہو۔یہ سب علامتیں کیپسیکم میں پائی جاتی ہیں۔صفحہ۲۳۵)

کاربو اینیمیلس

Carbo animalis

کاربواینیمیلس، کاربوویج سے بہت مشابہ دوا ہے۔ کاربوویج نباتات کے کوئلے سے بنتی ہے جبکہ کاربواینیمیلس حیوانات کے کوئلے سے بنائی جاتی ہے۔ اگر چہ کیمیاوی لحاظ سے ان دونوں میں بہت تھوڑا فرق ہے مگر بعض علامتوں میں نمایاں فرق دکھائی دیتا ہے۔ کاربواینیمیلس کی علامتیں رکھنے والی بیماریاں کینسر کی شکل اختیار کر لینے کا رجحان رکھتی ہیں۔ عمر رسیدہ افراد کی بیماریوں میں یہ دوا بطور خاص بہت مفید ہے۔ اس کا مریض خون کی کمی کا مستقل شکار رہتا ہے۔ چہرہ پیلا پڑ جاتا ہے، قویٰ مضمحل ہو جاتے ہیں اور جسم کی دفاعی طاقتیں جواب دینے لگتی ہیں۔ کاربو و یج کی طرح اس میں بھی غدود سخت ہو جاتے ہیں جو کینسر میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اگر وریدوں میں خون جم جائے اور وہ نیلے جال کی صورت میں جگہ جگہ سے ابھر گئی ہوں تو اس بیماری میں بھی کاربواینیمیلس مفید ہے۔ اس پہلو سے اس دوا کا مزاج ایسکولس سے ملتا ہے۔ (صفحہ۲۳۷)

اگر دودھ پلانے کے زمانے میں سخت کمزوری واقع ہوجائے اور اعصاب جواب دے جائیں تو کار بو اینیمیلس کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ یہ فم رحم کی طرح رحم کے عمومی کینسر کی بھی دوا ہے۔

اس کی خاص علامت یہ ہے کہ غدود یں پھول جاتی ہیں۔ ہونٹوں اور گالوں کا رنگ نیلا ہو جاتا ہے۔ (صفحہ۲۳۸)

ٹھنڈی ہوا میں علامات میں اضافہ ہوجاتا ہے،گرمی سے کمی محسوس ہوتی ہے۔(صفحہ۲۴۰)

کاربوویج

Carbo vegetabilis

کاربوویج ایک ایسی دوا ہے جس کا شمار زندگی بچانے والی چوٹی کی دواؤں میں کیا جاتا ہے۔ جب کسی بیماری کے بہت بڑھ جانے کے نتیجہ میں زندگی کی رمق کالعدم ہو جائے تو ان نازک لمحات میں کاربو و یج ڈوبتی ہوئی زندگی کو واپس کھینچ لانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کاربوویج کے ان غیر معمولی اثرات کی کنہ تک پہنچنا تو مشکل امر ہے لیکن بارہا تجربوں سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جب زندگی بالکل ختم ہونے کے قریب ہو تو کاربوویج فوراً اثر کرتی ہے اور جسم کی حرارت بحال کر دیتی ہے۔ اس خاص اثر سے میں نے یہ اندازہ لگایا کہ کاربوویج گرتے ہوئے بلڈپریشر کو بھی اونچا کرتی ہو گی۔ جب میں نے اس پر تجربہ کیا تو واقعتاً یہ اثر نمایاں نظر آیا لیکن یہ بات بھی واضح ہوئی کہ یہ بے وجہ بلڈپریشر کو زیادہ نہیں کرتی۔ یعنی یہ خطرہ نہیں ہے کہ کاربوویج کھانے سے بلڈ پریشرضرورت سے زیادہ ہو جائے گا بلکہ اگر خون کا دباؤ معمول سے زیادہ گر گیا ہو تو یہ اسے نارمل کر دیتی ہے۔ مریض جب آخری دموں پر ہو تو خون کا دباؤ اکثر گر جاتا ہے۔ کار بوو یج کی ایک خوراک سے ہی اچانک گرمی پیدا ہونے لگتی ہے۔ ایک دفعہ ایک مریض کو دل کا شدید حملہ ہوا۔ جب میں وہاں پہنچا تو وہ بظاہر بےجان ہوچکے تھے۔ ماتھے پرسخت ٹھنڈا پسینہ تھا اور سانس کالعدم تھا۔ میں نے فوراً کار بو و یج کے دو تین قطرے ان کے منہ میں ٹپکا دیے۔ تھوڑی دیر میں ہی ان کا سانس بحال ہو گیا۔ ماتھے کا پسینہ ختم ہو گیا اور جسم میں آہستہ آہستہ گرمی پیدا ہونے لگی۔ ان کی حالت سنبھلنے پر میں نے انہیں دل کی طاقت کے لیے دوائیں دیں لیکن اس مزید علاج کے قابل بنانے میں کاربوویج نے حیرت انگیز اثر دکھایا۔ ان کے علاوہ میں نے اور بھی بہت سے مریضوں پر یہ تجربہ کیا ہے اور ہمیشہ اسے بہت مؤثر پایا ہے۔ اس لیے زندگی بچانے کی دوا کے طور پر اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھنا چاہیے۔ (صفحہ۲۴۱-۲۴۱)

کاربوو یج کی علامات میں ہاتھ اور پاؤں کا سونا بھی شامل ہے۔ ٹانگیں بھی سن ہوجاتی ہیں خاص طور پر پنڈلیوں کے اعصاب پر اثر ہوتا ہے۔ پنڈلیوں کے عضلات کو عموماً دوسرا دل کہا جا تا ہے کیونکہ یہ خون کو نیچے سے پمپ کر کے اوپر بھیجتے ہیں۔ اچانک کھڑے ہونے سے سر خالی خالی ہو جائے تو یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ پنڈلیوں سے خون صحیح طرح پمپ ہو کر اوپر نہیں آیا۔ اس کیفیت میں کاربو ویج بہت مفید ہے کیونکہ یہ دوران خون کی کمزوری اور عضلاتی کمزوریوں دونوں کو دور کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موت کے قریب کے لمحات میں نئی حرکت پیدا کرنے میں کاربو و یج کام آتی ہے۔(صفحہ۲۴۳-۲۴۴)

کار بوو یج میں شام کے وقت گلا بیٹھنے کی علامت پائی جاتی ہے۔ ہاتھ پاؤں سوتے ہیں۔ دماغی اور جسمانی طور پر سستی طاری ہو جاتی ہے اور سارا نظام حیات ہی سست رفتار ہو جاتا ہے۔ جسم کے اندر جلن کا احساس ہو تا ہے جبکہ بیرونی طور پر سردی محسوس ہوتی ہے۔ مریض عموماً غم، خوشی اور تعجب کی خبروں سے بے نیاز ہو جاتا ہے گویا دماغ ان باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ محسوس ہوتا ہے کہ سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں رہی۔(صفحہ۲۴۶)

کاربالک ایسڈ

Carbolic acid

کاربالک ایسڈ میں درد بہت شدید اور اچانک ہوتے ہیں۔ اچانک آتے ہیں اور اچانک چلے بھی جاتے ہیں۔ بعض اعضاء پر فالجی اثر پایا جاتا ہے۔ اسی طرح بعض اعضاء پر ربڑ کے بینڈ بندھے ہونے کا احساس ہو تا ہے۔ اگر ہونٹوں اور گالوں کے اندر سوزش کے حلقے بن جائیں تو اس میں بھی کاربالک ایسڈمفید ثابت ہوتی ہے۔(صفحہ۲۴۹)

کاربونیم سلفیوریٹم

Carboneum sulphuratum

(Alcohol Sulphris-Bisulphide of Carbon)

کاربونیم سلف کی علامتیں رکھنے والا مریض کاربوویج کے مریض کی طرح کھلی اور تازہ ہوا پسند کرتا ہے۔اگرچہ اس کا جسم ٹھنڈا ہوتا ہےلیکن کھڑکی بند کرنا برداشت نہیں کرتا کیونکہ اسے آکسیجن کی کمی محسوس ہوتی ہے۔کاربونیم سلف میں سلفر موجود ہوتی ہےجس کا مزاج اس کے برعکس ہے۔اس کے باوجود مریض کھڑکیاں کھلی رکھنا چاہتا ہےلیکن ہوا کے جھونکے براہ راست برداشت نہیں کرسکتا۔(صفحہ۲۵۱)

کاربونیم سلف کے مریض کی تکلیفیں نہانے سے بڑھ جاتی ہیں جو سلفر کے عنصر کی موجودگی سے ہوتا ہےجس کے مزاج میں نہانے سے نفرت پائی جاتی ہے۔یہاں بھی ایک باریک فرق مدنظر رکھنا چاہیے کہ سلفر کے مریض کی تکلیفیں نہانے سے بڑھتی نہیں بلکہ وہ نہانے سے گھبراتا ہےجبکہ کاربونیم سلف میں نہانےسے واقعتاً بیماری میں اضافہ ہوجاتا ہے۔دونوں کے اثرات الگ الگ طریق پر ظاہر ہوتے ہیں۔ (صفحہ۲۵۱-۲۵۲)

کاربونیم سلف کے دونوں عناصر کاربن اور سلفر ایک دوسرے سے متضاد علامات رکھتے ہیں۔ سلفر گرم اور کاربن بہت ٹھنڈی دوا ہے۔ اس میں بیرونی طور پر ہمیشہ سردی کا احساس ہو تا ہے اور جسم ٹھنڈا رہتا ہے لیکن اندرونی طور پر بعض جگہوں میں جلن ہوتی ہے۔ سلفرمیں مسلسل گرمی پائی جاتی ہے جو جسم کا جزو بن جاتی ہے۔ ہاتھ پاؤں اور سر کی چوٹی جلتے ہیں۔ پلسٹیلا میں بھی گرمی کا احساس ہو تا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ پلسٹیلا میں پیاس نہیں ہوتی اور سلفرپیاس والی دوا ہے۔(صفحہ۲۵۲۔۲۵۳)

کاربونیم سلف کا مریض سردی برداشت نہیں کرتا پاؤں ذرا بھی ٹھنڈے ہوجائیں تو فوراً بیمار پڑجاتا ہے۔اگر کسی کا مزاج کاربونیم سلف کا ہو تو اسے اپنے پاؤں گرم رکھنے چاہئیں۔(صفحہ۲۵۳)

کاربونیم سلف میں غدودوں کی عمومی سختی بھی پائی جاتی ہے۔(صفحہ۲۵۴)

(ڈاکٹر لئیق احمد)

(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۱۴)(قسط ۱۳۹)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button