حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

جماعت احمدیہ برطانیہ کی واقفات نَو کے سالانہ اجتماع کا کامیاب و بابرکت انعقاد حضرت امیرالمومنین خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی بابرکت شمولیت اور اختتامی خطاب

اللہ کے فضل سے واقفات نو لجنہ اور ناصرات کا سالانہ اجتماع27فروری 2016ء کو مسجد بیت الفتوح میں منعقد ہوا۔1755 واقفات نو میں سے 1420کی تعداد ایسی واقفات کی ہے جن کی عمر سات سال سے اوپر ہے چنانچہ انہیں ہی اس تقریب میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔ دوران سال 984 واقفات اجتماع میں شامل ہوئیں۔ الحمدللہ۔ کچھ مائیں بھی بچوں کے ساتھ شامل ہوئیں اور چند دوسرے مہمان بھی شامل ہوئے جس سے کل ملا کرحاضری 1522رہی

صبح 8:30رجسٹریشن شروع ہوئی اور ناشتہ دیا گیاجس کے بعد 9:30پر اجتماع کی کارروائی کا آغاز ہوا۔تلاو ت اور نظم کے بعد استقبالیہ خطاب ہوا جس کے بعد واقفات کو چار گروپس میں تقسیم کیا گیا : 7-11, 12-16, 17+ اور چوتھا شادی شدہ لڑکیوں کا۔ان تمام گروپس کا سالانہ امتحان کے ساتھ ساتھ ورک شاپس بھی ہوئیں جو خاص ان کی دلچسپی کے لئے رکھی گئی تھیں۔

7-11سال کی بچیوں کو محترمہ قانتہ قریشی صاحبہ نے انتہائی دلچسپ اور سبق آموز کہانی سنائی۔محترمہ عطیہ احمدی صاحبہ نے بچیوں کے ساتھ سوال جواب کئے۔ محترمہ متین بھٹی صاحبہ نے بچیوں کو ایک دلچسپ نظم سنائی اور اس کے مشکل الفاظ کے معانی بھی بعد میں بتائے۔

12-16سال کی بچیوں کے لئے صحت وصفائی اور اسلامی نقطہ نظر پر مشتمل ایک ورکشاپ ڈاکٹر امۃالسلام صاحبہ نے کروائی۔ اس کے علاوہ محترمہ نمرہ بٹ صاحبہ کی صدارت میں ایک تعلیمی اور کیریئر کے موضوع پر ورکشاپ ہوئی جس میں پروفیشنل ڈاکٹر، ٹیچر، صحافی، فارمسسٹ اور AMWSA کی انچارج پر مشتمل پینل تھا۔بچیوں نے بعد میں پینل سے سوال جواب بھی کئے۔

17+گروپ کی ورکشاپ محترمہ فرزانہ یوسف صاحبہ نے موجودہ معاشرے میں تبلیغی سرگر میوں کے موضوع پر کروائی۔جب کہ ایک اور ورک شاپ ڈاکٹر فریحہ خان صاحبہ نے پردہ کیوں کیا جاتا ہے اور اس کی کیا اہمیت کے موضوع پر کروائی۔

شادی شدہ لڑکیوں کی ورکشاپ محترمہ صفیہ سلام صاحبہ نے گھر کے ماحول کوکس طرح پُر امن بنایا جا سکتا ہے کے موضوع پر کی۔اسی طرح اچھی ماں کے موضوع پر محترمہ مریم چوہدری صاحبہ نے ورکشاپ کروائی۔

بہت سی واقفات نو نے نماز اور کھانے سے پہلے ہی امتحان دے چکی تھیں۔ 1بجے ظہر اور عصر کی نماز ہوئی جس کے بعد مارکی میں کھانا دیا گیا۔

2:30پر آخری اجلاس کی کارروائی محترمہ ناصرہ رحمان صاحبہ (صدر لجنہ اماء اللہ برطانیہ) کی صدارت میں شروع ہوئی۔ محترمہ ناصرہ رحمان صاحبہ (صدر لجنہ اماء اللہ برطانیہ) نے خصوصی انعامات ان واقفات نو کو دیئے جنہوں نے اپنے نصاب سے بڑھ کر اور اپنی عمر سے بڑھ کر نصاب یاد کیا تھا۔ 21بچیوں کو مکمل قصیدہ حفظ کرنے پر انعام دیا گیا ان میں 7سال کی بچیاں بھی تھیں۔ 19بچیوں نے قصیدہ مکمل کرنے کے ساتھ قرآن کریم کا بڑا حصہ حفظ کیا ہوا تھا۔27واقفات کو دیگر غیرمعمولی سرگرمیوں کی وجہ سے انعام دیا گیا۔

اس کے بعد محترمہ ناصرہ رحمان صاحبہ، محترمہ قانتہ راشد صاحبہ، محترمہ زنوبیہ احمد صاحبہ، محترمہ فریحہ خان صاحبہ پر مشتمل ایک پینل تشکیل دیا گیا جن سے بچوں نے سوال جواب کیے۔ سوالات مذہبی اور غیر مذہبی دونوں کے متعلق تھے۔ پینل نے وقت کی کمی کے باوجود زیادہ سے زیادہ سوالات کے جوابات دیے۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ اور حضرت آپا جان 4بجے تشریف لائے جس کے ساتھ ہی آخری اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔ صالحہ بختیار صاحبہ نے تلاوت کی اور انیقہ شاکر صاحبہ نے نظم پڑھی۔ بعدازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 5ایسی واقفات کو خصوصی انعامات دیئے جنہوں نے پورا قرآن کریم حفظ کیا تھا۔اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے انگریزی زبان میں واقفات سے خطاب فرمایا جس میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے واقفات نَو کو نہایت مفید نصائح کیں اور واقفات کو ان کی ذمہ داریوں کے بارہ میں بتایا۔ ( اس نہایت اہم خطاب کی تفصیلی رپورٹ الگ شائع کی جائے گی۔ انشاء اللہ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button