الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصہ میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کئے جاتے ہیں۔
…………………………
غار حرا
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16نومبر 2011ء میں غارحرا کے بارہ میں ایک معلوماتی مضمون (ماخوذ از گلوبل سائنس) شامل اشاعت ہے۔
مغربی سعودی عرب میں زیادہ تر آتشیں چٹانیں پائی جاتی ہیں ۔ اس طرح کا علاقہ ارضیاتی زبان میں شیلڈ ایریا (Shield Area)کہلاتا ہے۔ یہ ایریا زمین کا سب سے زیادہ مضبوط حصہ سمجھا جاتا ہے جہاں زلزلے وغیرہ آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں ۔ شیلڈ ایریا کی چٹانیں دنیا کی قدیم ترین چٹانیں ہیں ۔ یعنی جب زمین نے تقریباًچار ارب سال پہلے ٹھوس شکل اختیار کی تو یہ اس وقت سے مو جود ہیں اور تقریباً ساٹھ کروڑ سال پر پھیلے ہوئے زمینی ادوار میں انہی کی ٹوٹ پھوٹ سے مختلف قسم کی تہہ دار چٹانیں پانی اور خشکی پر بنتی رہی ہیں ۔ انہی حقائق کی بِنا پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ غار ہمیشہ سے موجود تھا۔
مکّہ کے چاروں طرف ریتلے صحرا میں چھوٹی بڑی اونچائی کی پہاڑیاں موجود ہیں جن میں کعبہ سے قریباً 5کلومیٹر کے فاصلے پر واقع جبل النور ہے جس کے درمیان میں اونچی چوٹی پر ایک ہموار سطح موجود ہے جس کے ایک کونے پر غارِحرا موجود ہے۔ یہ حقیقی معنوں میں ایک غار نہیں جو کہ عام غاروں کی طرح شکست و ریخت کے عمل اور چٹانوں کے تحلیل ہونے سے بنا ہو۔ یہ گرینائٹ چٹانوں کے ٹکڑوں کی ایک خاص ترتیب سے بنا ہے جس سے ایک مثلث نما مخروطی خلا سا بن گیا ہے۔ ان پتھروں کی ترتیب کچھ اس طرح ہے کہ چھوٹی چھوٹی درزیں بھی موجود ہیں جن سے دوپہر کے بعد سورج کی پتلی پتلی شعاعیں اندر آسکتی ہیں اور غار ہمیشہ ہوادار بھی رہتا ہے۔
غارِحرا بمشکل 2میٹر لمبا ہے اور جس کے تکونے منہ کی اونچائی پونے 2میٹر ہے جبکہ نچلی دہلیز سے غار کے منہ کی چوڑائی قریباً ایک میٹر ہے۔ مکہ سے جبلِ نور تک کا درمیانی راستہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو بالکل سنسان اور غیرآباد ہوگا۔ یقینا ایک بہت جری انسان ہی اس راستے پر اس زمانے میں آ جا سکتا تھا اور ایک بہت طاقتور انسان ہی اتنی بلندی پر اکثر جا سکتا ہے۔
جبلِ نور کی اونچائی سطح سمندر سے قریباً ساڑھے پانچ سو میٹر ہے جبکہ مقامی طور پر پہاڑ کی چڑھائی قریباً 200میٹر ہے جو خاصی مشکل بھی ہے۔ پہاڑ پر تمام اطراف میں پتھروں کے ٹکڑے پڑے ہیں اور اوپر جا کر چڑھائی تقریباً عمودی رُخ پر ہو جا تی ہے۔ اس سے اوپر چڑھنا خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔
پہاڑکے اوپر پہنچ کر خاصا چلنے کے بعد اچانک تقریباً 8 میٹر اونچا کٹاؤنظر آتا ہے جس کے نیچے پہلی بار غار نظر آتا ہے۔ پھر غار تک پہنچنے کے لئے تقریباً 60 درجہ کی اترائی ہے جس میں اب چھوٹی چھوٹی سیڑھیاں بنادی گئی ہیں ۔
نیچے تقریباً2میٹر چوڑا فرش سا ہے جس میں بڑے بڑے پتھر اس طرح پڑے ہوئے ہیں کہ دوسری طرف جانے کا راستہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن ان پتھروں کے درمیان میں ایک پتلا راستہ موجود ہے جس سے ایک دبلا پتلا آدمی ہی گزر سکتا ہے۔ ان پتھروں کے درمیان سے گزر کر جب دوسری طرف پہنچیں تو بائیں ہاتھ پر غارِحرا موجود ہے۔ یہ سوچ کر کہ یہ پتھر اس وقت بھی موجود تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام پر آتے تھے، ایک بہت خوش کن احساس ہوتا ہے کہ ہم ان پتھروں کو چھوتے ہوئے گزر رہے ہیں جنہیں آپؐ نے چھوا ہو گا۔
غار کے سامنے قریباً 4×6میٹرکی مسطح جگہ ہے جو غارحرا اور اس کے سامنے 8میٹر اونچی عمودی دیوار کے درمیان موجود ہے۔ غار کے اندر سیدھے ہاتھ کی طرف تقریباً60سینٹی میٹر لمبی، 50سینٹی میٹر چوڑی اور 30سینٹی میٹراونچی مسطح سی جگہ ہے جس کے ساتھ باہر کی طرف ایک آرام کرسی کی پشت جیسا اتنا ہی چوڑا ایک پتھر ہے جس سے ٹیک لگا کر اور ٹانگیں پھیلا کر آرام کیا جا سکتا ہے۔غار کے بالکل آخری کونے پرایک مربع شکل کی سٹول نما چھوٹی سی چٹان ہے جس پر بیٹھ کر انسان بہت سکون اور مکمل تنہائی میں سوچ بچار کر سکتا ہے۔ کسی عقیدتمند نے غیرضروری طور پر غار کے فرش پر سفید رنگ کی ٹائلیں لگا دی ہیں جس سے غار کی اصل شکل برقرار نہیں رہی۔
دراصل ایک درمیانے قد اور جثّہ کاانسان ہی غار کے اندر کھڑے ہوکرنماز پڑھ سکتا ہے۔ اور ایک دبلا پتلا انسان ہی ان چٹانوں کے درمیان میں موجود درز نما جگہ سے گزر کر غار تک پہنچ سکتا ہے۔
…٭…٭…٭…
محترم مولانا ظفر محمد ظفر صاحب کا کلام
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍ نومبر 2011ء میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں مکرم پروفیسرڈاکٹر پرویز پروازی صاحب کے قلم سے محترم مولانا ظفر محمد ظفر صاحب کے علم کلام کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔
1952-53ء میں ربوہ میں مکرم مولوی ظفر محمد صاحب پر و فیسر جامعہ احمدیہ کی نظموں کا بہت شہرہ تھا۔ مولوی صاحب موصوف احمد نگر میں رہتے تھے۔ ویسے تعلق ڈیرہ غازیخان کے علا قہ سے تھا۔ اُن کے والد صاحب نے 1903 ء میں احمدیت قبول کی۔ وہ زمیندار طبقہ سے تعلق رکھتے تھے مگر ذاتی شوق سے عربی فارسی کے علوم کی تحصیل کی۔یہی ذوق ان کے خلف رشید، مولوی ظفر محمد صاحب کو ورثہ میں ملا۔آپ عربی،فارسی اور اردو کے فاضل تھے۔ مدرسہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہو کر سلسلہ کی خدمت میں مستعد رہے۔ ان کی اکثر نظمیں رسالہ ’’الفرقان‘‘ اور اخبار ’’الفضل‘‘ میں احترام سے چھاپی جاتی تھیں ۔
درویشان قادیان کے حوالہ سے کہی جانے والی آپ کی ایک خوبصورت نظم نے بہت شہرہ حاصل کیا ؎
بہت بڑا ہے تمہارا مقام درویشو!
کرو قبول ہمارا سلام درویشو!
اس کے ساتھ آپ کی ایک اور نظم نے بھی عوام و خواص سے قبول عام کی سند حاصل کی ؎
نہ بھر آہیں فراق قادیاں میں
نہ ہو مصروف یوں آہ و فغاں میں
خدا کے کام بے حکمت نہیں ہیں
ہوا ہے مبتلا تُو کس گماں میں
رفتہ رفتہ قادیان کی ہجرت کا کرب گوارا ہوتا گیا۔وہ زخم مندمل تو نہ ہوا مگر اس کی کسک کم ہو تی گئی۔ ربوہ میں پروانے شمع خلا فت کے گرد جمع ہو تے رہے۔ ربوہ نے مرجع خلائق ہونے کا شرف حاصل کر لیا۔ اس مرکز کے ساتھ بھی مولوی صاحب کی وابستگی اسی طرح پختہ اور مستحکم رہی۔
1973ء میں سیلاب آیا تو آغا شورش کاشمیری نے ایک نظم لکھی :
ربوہ بھی غرق ہوگا کسی وقت بالضرور
تاخیر ہو گئی ہے خدا کے عذاب میں !
اس زور دار نظم کا جواب مولوی ظفر محمد صاحب نے اس سے بھی زیادہ زوردار اور شاندار الفاظ میں لکھا:
آغا ہے آج جانئے کیوں پیچ و تاب میں
دل اس کا بے قرار ہے، جاں اضطراب میں
کوئی یہ اس سے پوچھے کہ اے بے ادب بتا!
گستاخیاں یہ کیسی ہیں ربوہ کے باب میں !
ربوہ کے پاؤں چوم کر جاتا ہے کیوں گزر!
پاسِ ادب ہے گویا کہ آب چناب میں !
نادان تیرے دل میں تعصّب کی آگ ہے
تُو جل رہا ہے بغض و حسد کے عذاب میں !
مولوی صاحب کی یہ نظم اپنے اندر سیلاب کی سی روانی رکھتی تھی اور شورش کا شمیری کی نظم کا مسکت جواب ہے۔
مکرم مولوی صاحب کے ہاں بیانیہ نظمیں بہت ہیں ۔ اور بیانیہ نظمیں لکھنے کے لئے زبان پر قدرت کا ہونا لازمی امر ہوتا ہے۔مثلاً درج ذیل نظم جامعہ احمدیہ احمدنگر کے ان فارغ التحصیل مہمانو ں کی تقریب میں پڑھی گئی جو 1955ء میں جامعہ میں تشریف لائے تھے۔
اے طالبانِ علم دبستانِ جامعہ
دیکھو انہیں جو آج ہیں مہمانِ جامعہ
ظاہر ہیں قوم قوم میں آثارِ زندگی
جاری ہے ملک ملک میں فیضانِ جامعہ
لیکن وہ علم موت ہے جس میں عمل نہ ہو
نکتہ رہے یہ یاد، عزیزانِ جامعہ!
کیا صاف ستھری،سادہ،شستہ اور رفتہ زبان ہے۔اسی لئے تو حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر نے لکھاہے: ’’ان کا اسلوب کلام، سلاست اور روانی، محاورہ اور بندش کی خوبی اور فن شاعری کے لحاظ سے قابل قدر تصنیف ہے اور بہت سی نظمیں اپنی خوبی کے لحاظ سے سہل ممتنع ہیں !‘‘
مکرم مولوی ظفر محمد ظفر صاحب کے ہاں مقصدی شاعری کی فراوانی ہے۔بے مقصد قافیہ پیمائی یا تُک بندی نہیں ۔ خود فرماتے ہیں :
یا ربّ مشاعرے کو نہ اپنا قدم چلے
جب تک دماغ لے کے نہ مضموں اہم چلے
بے سُود شاعری میں نہ اپنا گھِسے قلم
تائیدِ دینِ حق میں ہمارا قدم چلے!
آپ کو عربی،فارسی اور اردو تینوں زبانوں پر قدرت حاصل تھی اس لئے ان کے ہاں تینوں زبانوں کی یکجائی کے نمونے ملتے ہیں اور تینوں زبانوں میں علیحدہ علیحدہ طبع آزمائی کے نمونے بھی۔حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے اسی لئے فرما یا تھا کہ ان کا ’’طرز بیان نہایت دل نشیں (ہے) فارسی اردو اور عربی پر برابر دسترس‘‘ (حاصل ہے)۔
مکرم حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر نے بھی ان خصوصیات کو سراہا ہے کہ: ’’انہیں عربی اور فارسی نظم لکھنے کا بھی ملکہ ہے‘‘۔
ان کے عربی اور فارسی کے امتزاج کا ایک نمونہ ان کی وہ نظم ہے جس کا ایک مصرعہ عربی اور دوسرا فارسی کا ہے:
شراب روح پرور بخش ساقی
تَکَادُ تَبْلُغُ النَّفْسُ التَّرَاقِی
قسم بخدا کہ صادق ہست احمد
اِلَی رَبِّ الْعُلیٰ نِعْمَ الْمُرَاقِی
پیام وصل جاناں احمدیت
تُبَشِّرُنَا بِرَیْحَانِ التَّلَاقِی
ظفرؔ گر ہوش میداری تَوَکَّلْ
عَلَی اللّٰہِ الَّذِیْ حَیٌّ وَّ بَاقِی
…٭…٭…٭…
محترم مسعود احمد خان صاحب دہلوی
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍نومبر 2011ء میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق جماعت احمدیہ کے دیرینہ خادم، واقف زندگی اور سابق ایڈیٹر روزنامہ الفضل محترم مسعود احمد خان صاحب دہلوی 3نومبر 2011ء کو ربوہ میں بعمر 91 سال وفات پا گئے۔
آپ 16فروری 1920ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا حضرت مولوی محمود حسن خان صاحبؓ (یکے از 313 صحابہ) نے 1890ء میں اور آپ کے والد حضرت محمدحسن آسان صاحبؓ دہلوی نے 1900ء میں حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کا شرف حاصل کیا تھا۔
محترم مسعود احمد خان صاحب نے 1944ء میں خدمت دین کے لئے زندگی وقف کی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے آپ کا روزنامہ الفضل میں بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر تقرر فرمایا اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے جرنلزم میں پوسٹ گریجوایٹ کروایا۔ بعد ازاں آپ نے 1946ء تا 1971ء اسسٹنٹ ایڈیٹر اور 1971ء تا 1988ء ایڈیٹر روزنامہ الفضل کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ 1960ء تا 1973ء ایڈیٹر ماہنامہ انصاراللہ رہے۔ آپ مجموعی طور پر 43سال تک الفضل قادیان، لاہور اور ربوہ کے ادارہ کے ساتھ وابستہ رہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے ہمراہ بعض دوروں پر بیرونی ممالک میں جانے کی سعادت بھی پائی۔ 1989ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی ہدایت پر آپ کو جرمنی میں قضاء کا نظام قائم کرنے کی توفیق ملی۔
آپ کی خودنوشت سوانح ’’سفر حیات‘‘ پر تبصرہ الفضل انٹرنیشنل 4دسمبر 2015ء کے الفضل انٹرنیشنل کے ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘ کی زینت بن چکا ہے۔
…٭…٭…٭…
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16نومبر 2011ء میں مکرم عطا ء المجیب راشد صاحب کے قلم سے سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ایک نعتیہ عربی شعر کا منظوم ترجمہ شامل اشاعت ہے۔ ملاحظہ فرمائیں :
عشق رسول ؐ عربی کا ایک منفرد انداز
یُحِبُّ جَنَانِیْ کُلَّ اَرْضٍ وَطَئْتَھَا
فَیَالَیْتَ لِیْ کَانَتْ بِلَادُکَ مَوْلِدَا
منظوم اردو ترجمہ
مجھے اس زمیں سے محبت بہت ہے
جہاں بھی پڑے ہیں تمہارےؐ قدم
مقدر میں میرے بھی اے کاش ہوتا
کہ بستی میں تیری میں لیتا جنم




