ان (مقربین الٰہی) کی مثال عبداللطیف کی مثال کی طرح ہے۔ وہ میری جماعت کے ایک فرد تھے۔ ان کا تعلق سرزمین کابل سے تھا۔
وہ اپنی قوم کے لیڈر ، سردار، ان سب سے اعلیٰ، سب سے زیادہ عالم، متقی، دلیرتھا اور وہ سیادت میں ان میں اوّل درجہ پر تھا اور
وہ ان سب میں درخشندہ وجود تھا۔ اس نے یہ ایمان دکھایا جبکہ انہوں نے اسے سنگسار کرنے کی دھمکی دی تا وہ حق کو چھوڑ دے
لیکن اس نے موت کو ترجیح دی اور رحمان کو راضی کر لیا۔ وہ امیر کے حکم پر سنگسار کر دیا گیا اور اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔بلاشبہ اس میں رشک کرنے والوں کے لئے ایک نہایت اعلیٰ نمونہ ہے۔
‘‘ان (مقربین الٰہی) کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ اپنی نفسانیت سے ایسے باہر نکل آتے ہیں جیسے سانپ اپنی کینچلی سے نکلتے ہیں۔ ان کی (خواہشات کی) آگ بھڑکنے کے بعد بجھ جاتی ہے۔ بعد ازاں ان کے اندر نئی پاک خواہشیں جنم لیتی ہیں اور ان کے نفوس مطمئنہ جس چیز کی بھی خواہش کریں وہ ان کے لئے تیار کر دی جاتی ہے۔نیز قحط سالی کے زمانے میں ان کے لئے روحانی دعوتوںکااہتمام کیاجاتاہے تو وہ اسے نہ صرف کھاتے بلکہ خوب چبا چبا کر کھاتے ہیں۔ وہ نیکیوں کو ایسے جمع کرتے ہیں جیسے ہر سال بچے جننے والی عورت۔ اور وہ ناقص باتوں سے مجتنب رہتے ہیں اور (ان کے) قریب بھی نہیں پھٹکتے۔ وہ ایک زمین سے دوسری زمین کی طرف جاتے ہیں اور وہ اپنے نفس کو سیاہ نہیں رہنے دیتے بلکہ انہیں سفید کرتے ہیں۔
ان کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ کلمۂ حق اور اپنے زمانے کے امام کا انکار نہیں کرتے خواہ انہیں آگ میں ڈال دیا جائے۔ وہ اپنا ایمان ضائع نہیں کرتے خواہ انہیں صیقل شدہ تلواروں سے قتل کردیاجائے یا سنگسار کر دیا جائے اور ان کاصدق فرشتوں کو تعجب میں ڈالتا ہے اور آسمان میں ان کی تعریف کی جاتی ہے۔ وہ ایسے لوگ ہیں جو ہر بہادر پر سبقت لے جاتے ہیں اور کمزور اور بزدل کی طرح نہیں۔ انہوں نے اپنے وجود کے محل کو اس محبوب کی خاطر جسے وہ مقدم رکھتے ہیں منہدم کر دیا ہے۔ اللہ اور اس کے فرشتے ان پر درود بھیجتے ہیں اور تمام صلحاء و ابدال بھی۔ انہوں نے جو بھی عہد کیا اُسے سچ کر دکھایا۔ اور انہوں نے رضائے الٰہی کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیں ۔ پس ایمان تو یہ ایمان ہے۔ پس مبارک ہو اُن لوگوں کو جو اس ایمان سے مُتّصف ہوں۔
ان (مقربین الٰہی) کی مثال عبداللطیف کی مثال کی طرح ہے۔ وہ میری جماعت کے ایک فرد تھے۔ ان کا تعلق سرزمین کابل سے تھا۔ وہ اپنی قوم کے لیڈر ، سردار، ان سب سے اعلیٰ، سب سے زیادہ عالم، متقی، دلیرتھا اور وہ سیادت میں ان میں اوّل درجہ پر تھا اور وہ ان سب میں درخشندہ وجود تھا۔ اس نے یہ ایمان دکھایا جبکہ انہوں نے اسے سنگسار کرنے کی دھمکی دی تا وہ حق کو چھوڑ دے لیکن اس نے موت کو ترجیح دی اور رحمان کو راضی کر لیا۔ وہ امیر کے حکم پر سنگسار کر دیا گیا اور اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔ بلاشبہ اس میں رشک کرنے والوں کے لئے ایک نہایت اعلیٰ نمونہ ہے۔
وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں تم انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں۔ اللہ کے حضور وہ رزق دئیے جاتے ہیں اور جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے تو اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ایک لمبے عرصہ تک رہے گا۔ اللہ اس پر ناراض ہو گا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے دردناک عذاب تیار کیا ہے اور ظالموں کو یہ جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ کس طرح انہیں زیروزبر کر دیا جائے گا۔ آسمان اس شہید (کی شہادت) پر رویا اور اس کے لئے اس نے نشان ظاہر کئے اور آسمانوں کے خالق اللہ کے نزدیک یہی مقدر تھا کہ ایسا ہی ہو۔جیسا کہ آپ براہین احمدیہ میں پڑھتے ہیں یا سنتے ہیں کہ میرے ربّ نے اس معاملہ کے متعلق اپنی واضح وحی میں مجھے پہلے ہی سے بتا دیا تھا۔ عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لئے بہتر ہو۔ کیونکہ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ جب شہید مرحوم اس دارِفانی سے رحلت فرما گیا اور اس نے اپنی روح دل کی خوشی اور رضا کے ساتھ اپنے ربّ کے سپرد کر دی تو ابھی ظالموں نے صبح بھی نہیں کی تھی اور وہ ابھی سو ہی رہے تھے کہ آسمانی عذاب میں مبتلا ہو گئے اور وہ کابل کی سرزمین سے بھاگنے لگے۔ پھر وہ جہاں بھی تھے الٰہی گرفت میں آگئے۔ بھلا یہ فاسق بھاگ کر کہاں جا سکتے تھے۔ بلاشبہ اس واقعہ میں (خدا سے ) ڈرنے والوں کے لئے عبرت کا سامان ہے۔’’
(تذکرۃ الشہادتین مع علامات المقرّبین۔(مع اردو ترجمہ) صفحہ 76تا 79)



