یادِ رفتگاں

نائیجیریا کے ایک قومی رہنما الحاجی مشہودابیولا M.K.O.Abeola) Chief)

(ڈاکٹر طارق احمد مرزا۔ آسٹریلیا)

آپ امام وقت سے مشورہ لینے میں بے انتہاعاجز تھے

خلیفۂ وقت کی ذات رُوح القدس سے ممسوح اور موید من اللہ ہوتی ہے ۔اس کے متبعین اپنے دینی و دنیاوی معاملات ِزندگی میں اس کی مقبول دعاؤں ، مشاورت اور رہنمائی سے تو فیضیاب ہوتے ہی ہیں،بعض غیر ازجماعت جوہر شناس افراد بھی علم و حکمت اور برکت کے اس بحر زخّار سے استفادہ کرکے اپنی زندگی کے نقشے میں کامیابی و کامرانی کے رنگ بھرلیتے ہیں۔ان میں سے بعض کاتو افراد جماعت کے توسط سے خلیفۂ وقت سے رابطہ استوار ہو تا ہے اور بعض اپنے ذاتی ذرائع اورخداداد فراست سے چاردانگ عالم میں پھیلی اس انوکھی خوشگوار خوشبو کے مأخذ تک خود ہی پہنچ جاتے ہیں ۔ انہی میں شامل ایک ایسے ہی وجود الحاجی مشہودابیولاصاحب (Chief Moshood Kashimawo Olawale Abiola) کا ذکریہاں مقصود ہے جو نائیجیریا کے ایک نمایاںقومی رہنما تھے، جنہیں اگر ایک طرف ذاتی طور پرحضرت امام جماعت احمدیہ سے برسہابرس استفادہ کرنے کا موقع ملا تو دوسری طرف یہ اعزاز بھی نصیب ہوا کہ ان کی افسوسناک وفات کے حوالے سے امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ میں تفصیلی طور پر ان کی شخصیت اور اوصاف کاذکرفرمایا ۔اس کی تفصیل بیان کرنے سے قبل آپ کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے۔

آپ 24 ؍ اگست 1937 ء کو ایک غریب گھرانے میں پیدا ہو ئے ۔ اپنے والدین کی 23ویںاولاد تھے۔چونکہ اس سے قبل آپ کے تمام بہن بھائی صغرسنی میں ہی اللہ کو پیارے ہوچکے تھے ،آپ کے دکھی والدین کو آپ کی زندگی کی بھی کوئی امید نہ تھی۔ چنانچہ کوئی باقاعدہ نام رکھنے کی بجائے آپ کا ذکر یوروبا ؔزبان میں Kashimawo کہہ کر کرتے جس کا اردو ترجمہ ’’ پہلے دیکھو، ہوتا کیا ہے‘‘ بنتا ہے۔ پندرہ برس کے طویل انتظار اوروالدین کی پوری ’’تسلی‘‘ہو جانے کے بعد آپ کو اپناذاتی نام نصیب ہوا مگر آپ نے اپنی خداداد صلاحیتوں اور سخت محنت سے ہر قسم کی تاخیرکی تلافی اس طرح سے کردی تھی کہ نو برس کی عمر سے جنگل سے لکڑیاں جمع کرکے فروخت کرتے اور نہ صرف اپنی تعلیم بلکہ گھرکے بھی اخراجات اٹھاتے۔ہائی سکول میں نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ انیس برس کی عمر میں میدانِ سیاست میں قدم رکھنے کے ساتھ ساتھ تعلیم جاری رکھی حتیٰ کہ برطانیہ کی گلاسگو یونیورسٹی سے accountancy میں فرسٹ کلاس ڈگری حاصل کی جس کے بعدمتعدد ملکی وغیرملکی مالیاتی اداروں میں کام کرنے کا موقع ملا ۔ اپنی آمدنی کا ایک حصہ تجارت میں لگاتے(جن میںایک پرائیویٹ ائر لائن کمپنی اور پٹرولیم آئل کمپنی کا قیام شامل ہے) تو دوسرا حصہ نائیجیریا میں سماجی، رفاہی، تعلیمی اور قومی مدّات میں عطیہ کر دیتے جس کے نتیجے میں جلد ہی آپ کوایک ہردلعزیز قومی شخصیت کا مقام حاصل ہوگیا۔ 1993 میں صدارتی انتخاب میں حصہ لیا اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آپ الیکشن جیت گئے مگر فوراً ہی ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا اور آپ کو پابند زنداں کردیا گیا۔طویل عرصہ بعد 1998ء میں نئے فوجی حکمران نے آپ کی رہائی کا اعلان کیامگرعین رہائی کے دن آپ کی وفات ہوگئی جس پر دنیا بھر نے شدید صدمہ، غم وغصہ اور شکوک کا اظہار کیا۔

آپ کے انتقال پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 7؍اگست 1998ء میں فرمایا:

 ’’ابیولا صاحب سے میرے اور جماعت کے بہت گہرے ذاتی تعلقات تھے۔ وہ جب یہاں تشریف لایا کرتے تھے تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ ہمارے پاس نہ پہنچے ہوں ۔ اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے اپنے معاملات میں جو پیچیدہ تھے مجھ سے مشورہ نہ کیا ہو۔اس کے بعد دنیا میں جہاں جاتے تھے وہاں سے ٹیلی فون پر رابطہ کرتے تھے۔ … لازمہ بنا رکھا تھا کہ مجھ سے ٹیلی فون پر بات کریں گے اور پوچھا کرتے تھے کہ یہاں میں اس غرض سے آیا ہوا ہوں، یہ میرا دنیا کا ،تجارت کا معاملہ ہے ،یہ ایسا معاملہ ہے جس کا ہماری سیاست سے تعلق ہے،آپ بتائیں مجھے کیا کرنا چاہیے۔یعنی مجھ سے مشورہ لینے میں بے انتہا عاجز تھے لیکن ان کے رشتہ داروں اور ان کے باقی لوگوں کو تو یہ باتیں معلوم نہیں‘‘۔

(ہفت روزہ الفضل انٹرنیشنل۔ اشاعت 25ستمبر 1998ء تا یکم اکتوبر 1998ء)

 جیسا کہ پہلے بیان ہو ا، الحاجی مشہودابیولا صاحب کی وفات عین اس دن ہوئی تھی جس دن انہیں جیل سے آزادکیا جانا تھا اس لئے اس بارہ میں بہت سے حلقوں کی طرف سے شکوک و شبہات اور تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے اس ضمن میںمذکورہ خطبہ جمعہ میں آپ کے بارہ میں خطاب جاری رکھتے ہوئے فرمایا:

’’حاجی ابیولا کو ایسادل کا دورہ پڑا جس کے متعلق آج تک ماہرین جو ہیں وہ دو گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ پہلے فوجی سربراہ کے عین ایک مہینہ بعد،بعینہٖ ایک مہینہ بعد ویسا ہی دل کا دورہ پڑا جیسے اس کو (جنرل ثانی اباچہ۔ناقل) کو پڑا تھا اور اس کی چھان بین کس نے کی؟مغربی طاقتوں کے نمائندوں نے، یونائیٹڈ نیشنز کے نمائندوں نے اور انہوں نے حالات کا جائزہ لے کر اعلان کر دیا کہ کوئی بھی اس میں خرابی نہیں تھی۔… اللہ بہتر جانتا ہے کہ یہ اتفاق تھا، حسنِ اتفاق تھا یا کچھ اور بات تھی مگر ان کی بیٹی سے ہمارا رابطہ ہوا اور ان کی بیٹی یہاں آکر مجھ سے ملتی بھی رہی ہیں۔ بہت سمجھدار،سلجھی ہوئی خاتون ہیں اور بعید نہیں کہ انہی کو آئندہ راہنما بنا لیا جائے۔انہوںنے مجھ سے تفصیل سے یہ باتیں کیں کہ ہمارے خلاف سازشوں کا ایک تانا بانا بُنا جارہا ہے ۔اب جبکہ وہ نائیجیریا پہنچیں تو میرے نمائندوں نے ان سے ملاقات کی اور انہوں نے ہمارے نمائندوں کو بتا یا کہ ان کو اس فیصلے پر ادنیٰ بھی اطمینان نہیں جو یہ دے چکے ہیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ مَیں کروں کیا،میرے اختیار میں اورکچھ بھی نہیں ،ساری ٹیمیں یونائیٹڈ نیشنز کی نگرانی میں کام کر رہی ہیں۔ وہ بتا رہی ہیں کہ کیا واقعہ ہوا اور میری آواز کو کون سنے گا۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 7؍اگست 1998ء ۔ مطبوعہ اخبار ہفت روزہ الفضل انٹرنیشنل۔ اشاعت 25ستمبر 1998ء تا یکم اکتوبر 1998ء)

حضور انور رحمہ اللہ نے آپ کی وفات پردکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اور آپ کی وفات سے پیدا ہونے والے خلا اوربحران کا ایک گہرا جائزہ پیش کرتے ہوئے فرمایا:

’’ایک بہت بڑا نائیجیرین، قوم کا ہمدرد اور رہنما رخصت ہو گیا ،جو جماعت احمدیہ سے جو استفادہ کیا کرتا تھا وہ بھی اس کے دماغ کے ساتھ ہی رخصت ہوگیا۔ اگر وہ رہتا تومجھے یقین ہے کہ اسی طرح ہمارے مشورے کے مطابق رفتہ رفتہ ان انتہاپسندوں کا رُخ بھی اسی طرف پھیر دیتا۔لیکن اس بیچارے کی زندگی نے وفا نہیں کی۔‘‘

(ایضاً)

محترم مشہود ابیولا صاحب ایک غیر متعصب، غیرمتنازع، عوامی شخصیت تھے۔ آپ ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے مگرجہاں آپ نے متعدد سکول، کالج، لائبریریاں اور مساجدتعمیر کروائیں وہاں کئی گرجا گھربھی اپنے خرچ پہ تعمیر کروائے ۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نائیجیریا کے عیسائیوں میں فادر کرسمس "Father Christmas” کے نام سے مشہور تھے۔

حضور انور رحمہ اللہ کا تجزیہ بالکل درست تھا۔ آج نائیجیریا میں مذہبی انتہا پسندی سے ملکی فضا انتہائی مسموم ہو چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button