مَصَالِحُ الْعَرَب (قسط نمبر399)
(عربوں میں تبلیغ احمدیت کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود؈ او رخلفائے مسیح موعودؑ کی بشارات،گرانقدرمساعی اور ان کے شیریں ثمرات کا ایمان افروزتذکرہ)
مکرم محمد دحو صاحب
مکرم محمد دحو صاحب کا تعلق الجزائر سے ہے جہاں ان کی پیدائش 1966ئمیں ہوئی اورپھر انہیں 2008ئمیں بیعت کرکے احمدیت میں شمولیت کی توفیق ملی۔ احمدیت کی طرف اپنے سفر کا احوال بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں :
محمد فالی صاحب اس وقت جماعت کے مخلص ممبران میں سے ایک ہیں ۔ جماعت سے تعارف سے قبل ہی ہم دونوں اچھے ہمسائے اور گہرے دوست تھے۔ گاہے گاہے ہمارے مابین دینی امور کے بارہ میں تبادلۂ خیال ہوتا رہتا تھا۔ دینی امورکے بارہ میں بات چلتی تو ہم اسلام اور امّت محمدیہ کی دینی واخلاقی زبوں حالی پر افسوس کا اظہار کئے بغیر نہ رہ سکتے۔ محمد فالی صاحب کا ہمارے علاقے میں موجود دینی جماعتوں کے بارہ میں اچھا خاصا علم تھاکیونکہ انہوں نے حق کی تلاش میں متعدد جماعتوں میں شمولیت اختیار کی لیکن ہر جماعت کو کچھ عرصہ کے بعد یہ کہتے ہوئے خیر باد کہہ دیا کہ اس میں انہیں وہ کچھ نہیں ملاجس کی انہیں تلاش تھی۔ ان کے بہت سے سوالات بِلا جواب ہی رہے اور یوں مختلف جماعتوں میں داخل ہونے کے باوجود ان کی پیاس جوں کی توں رہی۔ ان کی تحقیق کا دائرہ کار صرف اسلامی جماعتوں تک ہی محدود نہ رہاتھا بلکہ انہوں نے ایک عیسائی چینل سے رابطہ کر کے بائبل منگوائی اور اس کا بھی مطالعہ کیا۔
دینی رجحانات
گو مَیں محمد فالی صاحب کی تحقیق سے مستفید ہوتا تھا لیکن ان کے برعکس مَیں بعض سوالات اور متعدد امور کے بارہ میں اطمینان نہ ہونے کے باوجود اس یقین پر قائم تھا کہ اسلام ہی دنیا کابہترین مذہب ہے۔ مَیں مرحوم شیخ محمد الغزالی کے معروف ٹی وی پروگرام ‘‘حدیث الاثنین’’ کا دلدادہ تھا جو ہمارے قومی ٹی وی پرآتا تھا۔ اسی طرح میں شیخ محمد الغزالی کی کتب پڑھتا اوران کے دروس کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر سنتا تھااور ان کی راہنمائی کو ہی حقیقی اسلام سمجھتا تھا۔
میرے چچا کا ایک عیسائی پادری دوست تھا۔اس نے ایک بار مجھے لوقا کی انجیل اور ایک تختی دی جس پر لکھا تھا کہ اللہ محبت ہے۔ میں نے وہ کتاب ایک دن میں ہی پڑھ لی اور پھر جب پادری صاحب کو واپس کی تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ تمہاری اس کے بارہ میں کیا رائے ہے؟ میں نے صاف کہہ دیا کہ اس میں کئی عبارتیں بہت اچھی ہیں جو مجھے قرآن کریم کی بعض تعلیمات سے ملتی جلتی دکھائی دی ہیں لیکن اناجیل میں تحریف کی وجہ سے ان میں وہ حسن اور رنگ نہیں رہا جو قرآنی آیات میں پایا جاتا ہے۔ نیز میں نے کہا کہ مجھے اپنے دین کی صداقت اور حقانیت کے بارہ میں تو کسی قسم کا شک نہیں تاہم اس بات کا احساس بہت شدّت سے دامنگیر ہے کہ آج اسلام کے حسن وجمال کو نکھار کر پیش کرنے اور اس کی تعلیمات کے حقیقی جوہر سے دنیا کو متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔
قیامِ خلافت کے نام پرکشت وخون
مختلف دینی کتب کے مطالعہ کے بعد مَیں اس یقین پر قائم تھا کہ اس زمانے میں اسلام کی ترقی خلافت سے وابستہ ہے۔ اسی بنا پر شروع شروع میں مَیں ‘‘الجبہۃ الإسلامیۃ للإنقاذ’’ نامی اپنے ملک کی ایک دینی اور سیاسی پارٹی سے منسلک ہو گیا کیونکہ ان کے منشور میں خلافت کا قیام بھی شامل تھا۔مَیں ان کے کئی جلسوں اور مظاہروں میں بھی شامل ہوا لیکن جب میں نے وہاں ان کی شر انگیزتقاریر سنیں تو اس سے علیحدگی اختیار کرلی کیونکہ میرا ضمیر یہ کہتا تھا کہ لوگوں کی لاشوں اور خون کی ندیوں میں سے ہو کر گزرنے والا راستہ ضرور شر اور فساد کی طرف ہی لے جانے والا ہے۔چنانچہ بالآخر ایسا ہی ہوا اور الجزائر میں دین کے نام پر لاشیں گرائی گئیں اور ناحق معصوم انسانوں کا خون بہایا گیا۔
دینی جذبہ ٹھنڈا پڑ گیا
مذکورہ صورتحال کی وجہ سے مَیں نے تمام دینی جماعتوں سے علیحدگی اختیار کرلی اور اپنے فہم کے مطابق احکامِ اسلام کی پابندی کرنے لگا۔دینی رجحانات اور دین سے محبت کی وجہ سے کبھی کبھی میرا دل چاہتا تھا کہ میں کسی دینی مدرسہ میں پڑھ کر امام مسجد بن جاؤں اور لوگوں کو اسلام کی امن و سلامتی کی تعلیم کے بارہ میں بتاؤں ۔لیکن جب مَیں نے انہی مدارس کے پڑھے ہوئے آئمہ کے خطابات سنے اور ان میں تضاد دیکھا تو دل بہت بے زار ہوگیا۔ چنانچہ کہاں میری یہ حالت تھی کہ مَیں مسجد میں سب سے پہلے آتا اور پہلی صف میں بیٹھنے والا نمازی تھا اور کہاں اب یہ حالت ہو گئی کہ میرا دینی جوش اور جذبہ بالکل ٹھنڈا ہو گیااور ذہن میں عجیب عجیب سوالات جنم لینے لگ گئے۔
احمدیت سے تعارف
2006ء کے اواخر کی بات ہے کہ میرے دوست محمد فالی صاحب میرے گھر میں سیٹلائٹ ڈش لگانے کے لئے آئے توباتوں باتوں میں بعض مشکل دینی امور کے بارہ میں ایسی تشریحات پیش کیں جو میرے دل کو لگیں ۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ سے وہ جماعت احمدیہ کے بارہ میں تحقیق کررہے ہیں اور جو امور انہوں نے بیان کئے ہیں وہ دراصل جماعت احمدیہ کے لٹریچر سے ماخوذ ہیں ۔ میری دلچسپی کو دیکھ کر چند روز کے بعد وہ دوبارہ تشریف لائے اور نہ صرف مجھے ایم ٹی اے کی فریکوئینسی دی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ‘‘اسلامی اصول کی فلاسفی’’ کا عربی ترجمہ بھی پڑھنے کے لئے دیا۔
مطالعۂ تفسیر کبیر اور سجدات شکر
مَیں بعض مصروفیات کی بنا پر کتاب کو نہ پڑھ سکا۔ کچھ عرصہ کے بعد فالی صاحب دوبارہ آئے تو مجھے تفسیر کبیرکی ایک جلد پڑھنے کے لئے دی۔ مجھے بعض آیات کی تفسیر جاننے کا شوق تھا اس لئے میں نے فورًا تفسیر کبیر کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔اس تفسیر میں مَیں اس قدر ڈوبااور اس قدر اسے پسند کیا کہ میں کام سے آکر رات کو دیر تک اسے پڑھتا رہتا۔ پھرصبح کو بھی جلد اٹھنے کی کوشش کرتا تاکہ تفسیر کا کچھ اور حصہ پڑھنے کا موقع مل جائے۔ان دنوں میں مجھے یاد ہے کہ کئی بار مَیں خدا تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر بجالاتاتھا کہ اس نے ایسی تفسیر پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی۔
انکارِ حق کی گنجائش نہ رہی
اس کے بعد کتاب ‘‘السیرۃ المطہرۃ’’ پڑھنے کا موقع ملا اور پھرجب ‘‘القول الصریح’’ پڑھی تو حیران رہ گیا کیونکہ ان کتب کے مطالعہ کے بعد اس حقیقت کا انکار کرنے کی میرے پاس کوئی حجت نہ تھی۔مجھے ہر تمسخر اور تحقیر کرنے والے پر حیرت ہوتی تھی کہ اتنے مضبوط اور واضح دلائل کے باوجود تمسخرانہ رویہ کا کیا جواز ہو سکتا ہے۔بہرحال مجھے تو اپنی جان کے لالے پڑ گئے تھے اور مَیں سوچ رہا تھا کہ اس روشن حق کو مَیں نے اور میرے خاندان نے اگر نہ مانا تو نہ جانے ہمارا انجام کتنا برا ہوگا،کیونکہ یہ ایمان کا مسئلہ ہے۔
‘‘ خیر خواہ’’سے ملاقات
انہی ایام کی بات ہے کہ ایک روز ہمارے علاقے کی مسجد کے امام کو اپنی دانست میں لوگوں کی ‘‘خیر خواہی’’ کا خیال آیا اور اس نے خطبہ جمعہ میں کہا کہ قادیانیت نے ہمارے نوجوانوں کو ٹارگٹ کیا ہے اور ان کو دینی طورپر تباہ کرنے کی سازش کی جارہی ہے اور یہ مہم مختلف ٹی وی چینلز کے ذریعہ جنگل میں آگ کی طرح پھیل رہی ہے۔پھر وہ خطبہ کے دوران ہی جماعت کی نسبت ایسی باتیں کرنے لگ گیا جن کا جماعت کے عقائد سے دُور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ جب میں نے امام مسجد کی زبانی جمعہ کے روز ایسی بات سنی تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہ مولوی حضرات سنی سنائی باتیں کررہے ہیں اور انہوں نے اتنی بھی کوشش نہیں کی کہ خود جماعت کی کوئی کتاب پڑھ کر تحقیق کرلیں ۔ اور سنی سنائی باتوں کی بنا پر الزام تراشی جھوٹ اور افترا کے سوا کچھ نہیں ۔
اس مولوی نے اپنے خطبہ میں یہ بھی کہا کہ اگر کسی مسلمان نے اپنی بیٹی کی شادی کسی قادیانی سے کی ہے تو اسے چاہئے کہ فورًا اس رشتہ کو ختم کردے کیونکہ یہ ناجائز عقد ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
جب ہم نے یہ باتیں سنیں تو محمد فالی صاحب نے کہا کہ آؤ اس مولوی صاحب سے بات کرتے ہیں ۔ ہم اس کے پاس گئے۔ محمد فالی صاحب نے اسے کہا کہ ہم اسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بارہ میں آپ نے خطبہ میں غلط باتیں کی ہے۔وہ کہنے لگا کہ میں نے جو کچھ کہا ہے وہ درست ہے۔ تمہیں ضرورکوئی غلط فہمی ہو ئی ہے جو اس جماعت میں جاملے ہوکیونکہ یہ جماعت بہت خطرناک ہے اور تم اس کی حقیقت سے نا آشنا ہو۔
محمد فالی صاحب نے کہا کہ تم مجھے یہ کہہ رہے ہو کہ میں جماعت کو نہیں جانتا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ جماعت تو سرکے بالوں سے لے کر پاؤں کی انگلیوں کی پوروں تک میرے وجود کے ذرّہ ذرّہ میں بسی ہوئی ہے۔
مولوی صاحب فرمانے لگے کہ اگر تم اس بارہ میں تفصیلی بات کرنا چاہتے ہو تومیرے گھر آؤ وہاں بیٹھ کر بات ہوگی۔ چنانچہ ہم وقت مقررہ پر اس کے گھر جا پہنچے۔ محمد فالی صاحب کو بھی جماعت میں شامل ہوئے ابھی تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھا اس کے باوجود انہوں نے مولوی صاحب کے سامنے ایسے دلائل پیش کئے کہ وہ مبہوت ہو کر رہ گیا۔ بالآخر یہ کہہ کر اس نے بات ختم کردی کہ تم اگرکسی کی بات نہ ماننے کا فیصلہ کرکے آئے ہو تو ہم کیا کرسکتے ہیں ؟!
بیعت
مولوی صاحب کے ساتھ تو ملاقات ختم ہوگئی لیکن دوروز بعد ایک نوجوان جو مولوی صاحب کے ساتھ گفتگو کے دوران بھی موجود تھا ایک کتاب لئے میرے پاس آگیا۔ یہ کتاب احسان الٰہی ظہیر کی تھی اور عجیب اتفاق تھا کہ نہ صرف مَیں یہ کتاب پہلے ہی پڑھ چکا تھا بلکہ اس کے الزامات کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کے سامنے رکھ کربھی دیکھ چکا تھا۔ چنانچہ مَیں نے اس دوست سے کہا کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ، قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہیں ایسی تعریف مَیں نے آج تک کسی مولوی کی زبانی نہیں سنی۔ کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں اعلیٰ درجہ کے معارف اور دقائق کے کنوز اس شخص کو تو دے دئیے جسے مولوی حضرات جھوٹا اور مفتری اور دجال کہتے ہیں لیکن مولویوں کو اس خیر سے محروم کیوں رکھا؟! اس کا سوائے اس کے اور کیا جواب ہو سکتا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسے معارف دے کر بھیجا ہے۔
احسان الٰہی ظہیر کی اس کتاب کے نفرین انگیز اور توہین آمیز مندرجات کو پڑھ کر میری طبیعت بے چین ہو گئی اور میرے دل میں بیعت کی خواہش بشدّت جوش مارنے لگی۔ اس واقعہ کے بعد میں اتنا مجبور ہو گیا کہ اگلے ہی روز محمد فالی صاحب کے پاس جا کر بیعت فارم پُر کر کے ارسا ل کردیا۔
اہل خانہ کی بیعت
مَیں اپنے اہل خانہ کے بارہ میں بہت پریشان تھالیکن خدا کا ایسا فضل ہوا کہ میرے اہل خانہ کے اکثر افراد نے بیعت کرلی، حتی کہ میری والدہ صاحبہ بھی اپنی وفات سے قبل مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے مشرف ہو چکی تھیں ۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔
خدا کی قسم احمدیت میں مجھے ایسے لعل وجواہرملے اور ایسے ایسے بیش قیمت خزانے ملے ہیں کہ جن کو پاکر دل چاہتا ہے کہ انہیں ساری دنیا سے چھپا کر سنبھال کر رکھا جائے۔ لیکن انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے کہ یہ تمام انسانوں تک پہنچائے جائیں ۔ چنانچہ ہم نے بھی اپنے رشتہ داروں ، دوستوں اور ارد گرد کے لوگوں کو ان کے بارہ میں بتایا لیکن ہر طرف سے تکفیر اور لعن طعن شروع ہو گئی۔ مجھے حیرت ہوتی تھی کہ ہم تو ان کے لئے خیر چاہتے ہیں لیکن یہ نہ صرف خیر کو ر دّ کرتے ہیں بلکہ ایصال خیر کو ہمارا جرم بنا کر ہمیں اس کی سزا دینا چاہتے ہیں ۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حق اور حقیقت ان پر آشکار کردے اور انہیں امام الزمان کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
………………
(باقی آئندہ)




