بشیر احمد،شریف احمداور مبارکہ کی آمین(قسط ۱۱)
۹۳۔مجھے کب خواب میں بھی تھی یہ اُمید
کہ ہو گا میرے پر یہ فضلِ جاوید
جاوید jaaveed: دائمی، ہمیشہ رہنے والا Everlasting, perpetual
مجھے تو خواب و خیال میں بھی یہ امید نہیں تھی کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کے اتنےبےشمار اور لازوال فضل نازل ہوں گے
۹۴۔ملی یوسفؑ کی عزت لیک بے قید
نہ ہو تیرے کرم سے کوئی نَومید
اس عزت افزائی میں مجھے حضرت یوسف ؑ سے مشابہت ہوگئی ۔ مگر کچھ فرق ہے انہیں قید کی مشکلات برداشت کرنے کے بعد عزت ملی تھی مجھے بغیر یہ صعوبت اٹھانے کے ہی سرفراز فرمایا ۔ تو اتنا کریم ہے کہ کسی کو ناامید نہیں ہونا چاہیے ۔ تو سب پر رحم فرماتا ہے۔
۹۵۔مراد آئی۔ گئی سب نامرادی
فَسُبْحَانَ الَّذِی اَخزَیْ الْاَعَادِی
مراد muraad: مقصد، مدعا
Fulfilment of my hopes and objectives
مہربان اللہ تعالیٰ نے میرے سارے مقاصد پورے کردیے ہیں ۔ میں کسی طرح بھی نامراد نہیں رہا۔ پس پاک ہے وہ ذات جو میرے دشمنوں کو خود پکڑتی ہے۔
۹۶۔تری رحمت عجب ہے اے مرے یار
ترے فضلوں سے میرا گھر ہے گلزار
گلزار gulzaar: باغ Garden
اے میرے پیارے دوست تیری رحمت اتنی وسیع ہے کہ میرے گھر کو اپنے فضلوں کا باغ بنا دیا ہے ہر طرف تیری عنایات کے پھول کھلے ہوئے ہیں ۔
۹۷۔غریقوں کو کرے اِک دم میں تُو پار
جو ہو نَومید تجھ سے ہے وہ مردار
غریق ghareeq: ڈوبتا ہوا Drowned, a
drowning person
مردار murdaar: مرا ہوا Dead
میرے اللہ تعالیٰ تو ڈوب جانے والوں کو جو زندگی سے ناامید اور مایوس ہو چکے ہوتے ہیں اپنے فضل سے بچا لیتا ہے اور بچا کر ایک دم میں دوسرے کنارے پر پہنچا دیتا ہے ۔ اتنی نعمتیں اور بار بار اتنا رحم دیکھ کر کوئی اگر تیری ذات سے نا امید ہو وہ تو زندہ نہیں ہوگا بلکہ مردار ہی ہوگا جس کو یہ سب انعام و اکرام سوجھتے نہیں۔
۹۸۔وہ ہو آوارۂ ہر دشت و وادی
فَسُبْحَانَ الَّذِی اَخزَیْ الْاَعَادِی
آوارۂ ہردشت و وادی: aawaarah-e-har dasht-o-waadi
ہر جنگل اور وادی میں گھومنے والا Wanderer
(He wanders across every desert and vale)
دشت dasht: صحرا An arid plain land
or area, forest, desert
ایسا انسان جو تیری ذات سے نا امید ہو وہ ہر جنگل اور وادی میں بھٹکتا ہی رہے گا ۔ کیوں کہ وہ سیدھا راستہ چھوڑ چکا ہے۔
پاک ہے وہ ذات جو میرے دشمنوں کو خود پکڑتی ہے۔
۹۹۔ہوئے ہم تیرے اے قادر توانا
ترے دَر کے ہوئے اور تجھ کو مانا
قادر توانا qaadir -tawaanaa:
خدا تعالیٰ کی صفات، مضبوط، طاقتور، سب کچھ کرنے کی طاقت رکھنے والا۔ Eminent, Almighty
اے ساری قدرتوں کے مالک توانا خدا ہم تیرے ہوگئے ہیں۔ تیرے جمال اور طاقت کو دیکھ کر کسی اور کی طرف دیکھنے کو دل نہیں مانتا اس لیے ہم تیری چوکھٹ پر آگرے ہیں اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں
۱۰۰۔ہمیں بس ہے تری درگہ پہ آنا
مصیبت سے ہمیں ہر دَم بچانا
درگاہ dargaah
چوکھٹ، شاہی دربار
Threshold, a royal court, mansion
ہم تیری صفات پہچان کر تجھ پر توکل کرکے تیرے دروازے پر آگئے ہیں خود کو تیرے سپرد کردیا ہے ۔اب ہمیں از راہ کرم ہر مصیبت سے بچالینا۔
۱۰۱۔کہ تیرا نام ہے غفّار و ہادی
فَسُبْحَانَ الَّذِی اَخزَیْ الْاَعَادِی
غفّار Ghaffar: بخشنے والا، عفو و درگزر کرنے والا، ڈھانپنے والا(خدا تعالیٰ کی صفت)۔
Most Forgiving Merciful (an attribute of God)
ہادی Haadi: راستہ دکھانے والا، ہدایت دینے والا Guide
تیرا نام غفّار اور ہادی ہے ۔ تو ہی گناہوں کو بخشتا ہے اور سیدھا راستہ دکھاتا ہے ۔ پاک ہے وہ ذات جو میرے دشمنوں کو خود پکڑتی ہے۔
مزید پڑھیں: محمود کی آمین