متفرق شعراء

ہے یادِ حبیب کا کرشمہ

فرقت نے کمال کر دیا ہے
ہر لمحے کو سال کر دیا ہے

ہونٹوں کو کہاں تھی ایسی جرأت
آنکھوں نے سوال کر دیا ہے

چہرے کے گلاب کو شگفتہ
با وصفِ ملال کر دیا ہے

مجھ کو تو مرے کمال ہی نے
پھر رُو بہ زوال کر دیا ہے

ہم نے تجھے ایک خاص تحفہ
اندر سے نکال کر دیا ہے

تصویر جو دل میں تھی، بنا دی
لفظوں نے کمال کر دیا ہے

ہے یادِ حبیب کا کرشمہ
ماضی کو بھی حال کر دیا ہے

اس دولتِ غم نے تجھ کو اے دل!
کیا مالامال کر دیا ہے!

کس یار کی عاشقی نے تجھ کو
یکتائے جمال کر دیا ہے

احباب کی بدگمانیوں نے
جینا ہی محال کر دیا ہے

شاعر نے سبھی غبارِ خاطر
شعروں ہی میں ڈھال کر دیا ہے

اُٹھ! اب تو جنابِ صدر نے بھی
اظہارِ خیال کر دیا ہے

(میر انجم پرویز، مربی سلسلہ عربی ڈیسک)

مزید پڑھیں: ہے وعدہ آپ سے اِنّی مَعَکَ یا مَسْرُوْر

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button