خلافت ہی تو دینِ حق کی سچی ترجماں ہے آج

خدا کی رحمتوں اور برکتوں کا اک نشاں ہے آج
خلافت ہی تو دینِ حق کی سچی ترجماں ہے آج
زمانے کے سبھی دکھ درد کا درماں اسی میں ہے
جہاں میں چین اور تسکین کا ساماں اسی میں ہے
سبھی کے واسطے راحت بھرا اک آشیاں ہے آج
خلافت ہی تو دینِ حق کی سچی ترجماں ہے آج
بتاتی ہے ہمیں یہ زندگی کے کیا قرینے ہیں
سکھاتی ہے ہمیں یہ بندگی کے کیا قرینے ہیں
یہی تو چاہتوں کا ارمغانِ جاوداں ہے آج
خلافت ہی تو دینِ حق کی سچی ترجماں ہے آج
خلافت تو ہے اک شمع ہدایت اس زمانے میں
خلافت تو ہے اک نور بصارت اس زمانے میں
وہ جس کا حضرتِ مسرور میر کارواں ہے آج
خلافت ہی تو دینِ حق کی سچی ترجماں ہے آج
خدا کے فضل سے اس کو سدا قائم ہی رہنا ہے
یہ ہے اک دائمی قدرت اسے دائم ہی رہنا ہے
حسیں ابدی خزائن کی یہی تو رازداں ہے آج
خلافت ہی تو دینِ حق کی سچی ترجماں ہے آج
(’غنی ہاشمی‘)
مزید پڑھیں: میں کرتی ہوں ساری خطاؤں سے توبہ




