ایمان بالغیب(قسط دوم۔ آخری)
’’ہدایت کے راستوں کو پانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلا قدم جو ر کھا ہے وہ ایمان بالغیب ہے، اور یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔یہ ایمان بالغیب ہی ہے جو ایمان میں ترقی کا باعث بنتا ہے‘‘
(حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ)
يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ کے معنے اندھا دھند مان لینے کے نہیں
’’ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ کے یہ معنے ہر گز نہیں کہ اندھا دُھند مان لیتے ہیں۔یہ معنے نہ زبان عرب کے رُو سے درست ہیں اور نہ قرآن کریم ہی ان معنوں کی تصدیق کرتا ہے۔کیونکہ بےدلیل ماننے والوں کو قرآن نے بار بار الزام دیا ہے۔جیسے کہ سورۃالنجم …آیت ۲۴میں فرمایا۔اِنْ هِيَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ۔یعنی یہ تو چند نام ہیں جو تم لوگوں نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود ہی رکھ دیئے ہیں خدا تعالیٰ نے اس کی کوئی دلیل بیان نہیں کی۔یہ لوگ صرف اپنے وہموں کی یا اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم دشمنانِ اسلام پر اعتراض کرتا ہے کہ وہ بے دلیل باتوں کو جن کے لئے نہ آسمانی دلیل ہوتی ہے نہ عقلی، مانتے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور وہمی باتوں کے پیچھے چلتے ہیں۔پس جبکہ اللہ تعالیٰ وہمی باتوں کے ماننے کو قابل اعتراض قرار دیتا ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ قرآن کریم کی ابتدا ہی میں وہ مسلمانوں کو بے دلیل باتوں کے ماننے کا حکم دے اور اس امر کو تقویٰ کا جز قرار دے۔
قرآن کریم کی متعدد آیات میں اس امر پر زور دیا گیا ہےکہ ایمان دلائل اور براہین پر مبنی ہونا چاہیے نہ کہ وہم اور گمان پر۔چنانچہ…مومنوں کی نسبت قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوْا عَلَيْهَا صُمًّا وَّ عُمْيَانًا (الفرقان:۷۴)یعنی مومنوں کے سامنے جب اُن کے ربّ کی آیات بیان کی جاتی ہیں تو وہ اُنہیں اندھا دُھند نہیں مانتے بلکہ سوچ سمجھ کر اور دلائل کے ساتھ مانتے ہیں۔نیز فرماتا ہے قُلْ هٰذِهِ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ۫ عَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِيْ (یوسف:۱۰۹) اے ہمارے رسول! اپنے منکروں سے کہہ دو کہ میرا راستہ مذکورہ بالاراستہ ہے میں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں اور میں اور میرے متبع کسی بے دلیل بات کو نہیں مانتے بلکہ ہم سوچ سمجھ کر اور دلائل قطعیہ کی بناء پر جو شک و شبہ سے بالا ہوتے ہیں ایمان لاتے ہیں۔
قرآن کریم میں غیب کا لفظ جن معنوں میں استعمال ہوا ہے ان سے بھی ثابت ہے کہ اس سے مراد وہمی امور نہیں۔فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ (الحجرات :۱۹) اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین کے غیب کو جانتا ہے اس جگہ غیب کا لفظ حقیقت کے لئے بولا گیا ہے۔کیونکہ اگر غیب کے معنے محض وہمی اور بے دلیل باتوں کے ہوں تو اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ بے دلیل اور وہمی باتوں کو جانتا ہے اور یہ ترجمہ بالبداہت غلط ہے۔ اسی طرح فرماتا ہے ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ (السجدة:۷) یعنی خدا ہی غیب اور ظاہر کو جانتا ہے۔ اس آیت میں غیب کا لفظ یقینی مگر نظروں سے پوشیدہ امور کے لیے بولا گیا ہے۔ اس طرح فرماتا ہے وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ (الانعام: ۶۰) اللہ تعالیٰ کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں۔ اس آیت سے بھی ظاہر ہے کہ غیب وہمی باتوں کا نام نہیں بلکہ ان تمام مخفی خزانوں کا نام ہے جو انسانوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیب کے یہ معنے ہرگز نہیں کہ متقی وہ ہیں جو بغیر دلیل کے قرآن کریم کی باتوں کو مان لیتے ہیں کیونکہ یہ معنے قرآن کریم کی دوسری آیات کے خلاف ہیں۔
آیت يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ سے ریورنڈ ویری کا ایک غلط استدلال
ریورنڈ ویری نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے نیچے لکھا ہے کہ جب مسلمان اپنی کتاب کے اسرار کو مانتے ہیں تو کیوں پہلی کتابوں کے اسرار کو جیسے کہ تثلیث یا کفارہ ہیں نہیں مانتے؟ مگر جیسا کہ ظاہر ہے یہ اعتراض يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ کے معنوں کے نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ قرآن کریم کسی ایسے امر کو ماننے کی تلقین نہیں کرتا جو بے دلیل ہو بلکہ وہ تو ان دوسرے مذاہب پر جو بے دلیل باتیں مانتے ہیں اعتراض کرتا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے متبعین کی نسبت گواہی دیتا ہے کہ وہ ہر امر کو دلیل اور برہان سے مانتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان کفارہ اور تثلیث کا اس لئے انکار نہیں کرتے کہ وہ اسرار میں سے ہیں بلکہ اس لئے کہ یہ مسائل بے دلیل بلکہ خلاف عقل ہیں اگر ان کی کوئی دلیل ہوتی تو ان کے ماننے سے مسلمانوں کو ہرگز انکار نہیں ہو سکتا تھا۔
ایمان بالغیب سے مراد
اب رہا یہ سوال کہ پھر يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کے کیا معنے ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ…غیب کے معنے ان امور کے ہیں جو حواس ظاہری سے معلوم نہ ہو سکیں بلکہ ان کے ثابت کرنے کے لئے عقلی و تجرباتی دلائل کی ضرورت ہو۔ اور ظاہر ہے کہ ایسے امور بے دلیل نہیں کہلا سکتے۔ ہم ہزاروں اشیاء کو جو جسمانی دنیا سے تعلق رکھتی ہیں مانتے ہیں حالانکہ حواس خمسہ سے ان کو محسوس نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً انسانی حافظہ ہے اس کا کون انکار کر سکتا ہے؟ مگر کوئی نہیں جو قوت حافظ کو دیکھ سکے یا سونگھ سکے یا چکھ سکے یا سن سکے یا چھو سکے۔ اس طرح شرم ہے، جرات ہے، محبت ہے، نفرت ہے، خود عقل اور فکر کی قوتیں ہیں ان کو کون سا شخص حواس خمسہ سے معلوم کر سکتا ہے۔ مگر کیا اس وجہ سے کہ ان کا علم حواس خمسہ سے نہیں ہوتا ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح کئی اخلاقی مسائل ہیں جو حواس خمسہ سے معلوم نہیں ہو سکتے لیکن ہم ان پر یقین رکھتے ہیں۔ مثلاً یہ حقیقت کہ عفو بالعموم دلوں سے بُغض کو دور کرتا ہے۔ حسن سلوک مختلف انسانوں کو آپس میں رشتہ محبت سے جوڑ دیتا ہے سب دنیا کی تسلیم کردہ ہے مگر اس کو حواسِ خمسہ سے تو معلوم نہیں کیا جا سکتا۔ایک ماں اپنے بچہ سے حسنِ سلوک کرتی ہے لیکن وہ نہیں جانتی کہ اس حسن سلوک کے نتیجہ میں جو محبت پیدا ہو گی وہ اس کا کوئی مزہ بھی چکھ سکے گی یا نہیں؟ لیکن باوجود اس کے وہ محبت کرتی جاتی ہے۔ایک استاد شاگردوں کو پڑھاتا ہے وہ نہیں جانتا کہ اس کی تعلیم کے نتیجہ میں اس کے طلباء کسی اعلیٰ درجہ کو پہنچیں گے یا نہیں ؟مگر وہ پڑھانے سے باز نہیں رہتا۔حکومتیں ملک کی حالت سُدھارنے کے لئے ہزاروں جتن کرتی ہیں اور نہیں جانتیں کہ ان کے خوشگوار نتائج کب اور کس شکل میں پیدا ہوں گے؟ مگر وہ آئندہ کی امید پر اور سابقہ تجربہ کی بناء پر اپنی کوششوں میں لگی رہتی ہیں۔سپاہی نہیں جانتے کہ جنگ کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟لیکن اپنے ملک کی حفاظت میں جانیں دیتے چلے جاتے ہیں۔یہ سب ایمان بالغیب ہی ہوتا ہے یا کچھ اور؟
خلاصہ یہ کہ ایمان بالغیب سے مراد (۱) ان سب صداقتوں پر ایمان لانا ہے جو حواسِ خمسہ سے معلوم نہیں کی جا سکتیں بلکہ ان کا ثبوت اور ذرائع سے معلوم ہوتا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات ہے کہ اسے حواسِ خمسہ سے معلوم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے جاننے کے اور دلائل ہیں اور وہ دلائل ایسے یقینی اور قطعی ہیں کہ ظاہری حواس سے معلوم کی ہوئی باتوں سے کم نہیں بلکہ زیادہ یقین کے مقام پر انسان کو کھڑا کر دیتے ہیں۔مثلاً خدا تعالیٰ کا کلام ہے جسے مومن سنتے ہیں اور اس کے بتائے ہوئے علومِ غیبیہ ہیں جنہیں مومن پورا ہوتے دیکھتے ہیں اور اس کی زبردست قدرتیں ہیں جن کا ظہور مومن اپنے نفوس اور باقی دنیا میں دیکھتے ہیں مگر باوجود ان باتوں کے خدا تعالیٰ کی ہستی وَرَاءُالوَرَاء ہے وہ حواسِ خمسہ سے محسوس نہیں کی جا سکتی۔
اسی طرح ملائکہ کا وجود ہے۔ملائکہ ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتے نہ دوسرے حواس ظاہری سے معلوم کئے جا سکتے ہیں لیکن باوجود اس کے اُن کا وجود وہمی نہیں ہے بلکہ ان کے وجود پر قطعی دلائل ہیں جو قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر بیان کئے گئے ہیں۔یا مثلاً ایک غیب موت کے بعد کی زندگی ہے قرآن کریم اس پر بے دلیل ایمان لانے کا حکم نہیں دیتا بلکہ اس کے سچے ہونے پر زبردست دلائل دیتا ہے جو آئندہ مختلف مواقع پر بیان کئے جا ئیں گے۔
(۲) یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ کے یہ معنے بھی ہیں کہ متقی صرف ایسے کام نہیں کرتے کہ جن کے نتائج نقد بہ نقد مل جاتے ہیں۔جیسے کہ تاجر سودا فروخت کرتا ہے اور اس کی قیمت وصول کر لیتا ہے۔بلکہ ان کی زندگی اخلاقی زندگی ہوتی ہے اور وہ اخلاق کی قوت اور ان کے نیک نتائج پر ایمان رکھتے ہیں اور تاجرانہ ذہنیت کو ترک کر کے ایسی قربانیاں کرتے ہیں کہ جو آخر میں اُن کی قوم کو اور باقی دنیا کو اُبھار دیتی ہیں۔مثلاً دنیا میں امن کے قیام کے لئے جہاد کا کرنا ایمان بالغیب کا ہی نتیجہ ہے۔ورنہ کون جانتا ہے کہ وہ زندہ رہے گا اور لڑائی کے اچھے نتیجہ کو دیکھے گا۔سپاہی جب کسی اچھے مقصد کیلئے میدانِ جنگ میں جاتا ہے تو وہ ایمان بالغیب کا ایک مظاہرہ کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول میں کامیاب ہو گیا تو یہ بھی اچھا ہے لیکن اگر وہ اس کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے مر گیا تب بھی اس کا نتیجہ حق اور صداقت کے لئے اچھا نکلے گا۔
ایمان بالغیب کے شاندار نتائج
حق یہ ہے کہ جس قدر شاندار کام ہیں وہ سب ایمان بالغیب کے نتیجہ میں ہی پیدا ہوتے ہیں۔تعلیم، صدقہ، خیرات، غرباء کے اُبھارنے کے لئے کوششیں، ملکی تنظیم سب ایمان بالغیب ہی کی اقسام ہیں۔اگر انسان آئندہ نکلنے والے اچھے نتائج پر جوظاہر نگاہ سے پوشیدہ ہوتے ہیں یقین نہ رکھے تو کبھی ایسی قربانیاں نہ کر سکے پس متقی کی علامت ایمان بالغیب بتاکر قرآن کریم نے یہ بتایا ہے کہ مومن ضروری دینی امور پر ایمان رکھنے کے علاوہ اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قربانیاں کرتا ہے اور تاجرانہ ذہنیت سے بالا ہو جاتا ہے اور اس امر پر اصرار نہیں کرتا کہ میں وہی کام کروں گا جن کا نقد بہ نقد نتیجہ نکلے بلکہ جب اُسے یقین ہو جائے کہ جو کام اس کے سامنے پیش کیا گیا ہے اچھا اور نیک ہے تو وہ ظاہری حالات سے بے پروا ہو کر اس یقین سے اس کام کے کرنے میں لگ جاتا ہے کہ خواہ حالات کتنے ہی مخالف کیوں نہ ہوں نیک کام کا نتیجہ نیک ہی نکلے گا اور اس امر کی بھی پرواہ نہیں کرتا کہ وہ اس نتیجہ کو خود بھی دیکھے گایا نہیں۔
اگر کوئی شخص تعصّب سے آزاد ہو کر غور کرے تو ایمان بالغیب کا یہ مفہوم ایسا اہم ہے کہ اس کے ذریعہ سے قرآن کریم نے تمام قومی، ملّی اور بنی نوع انسان کی ترقی کے لئے قربانیوں کی بنیاد رکھ دی ہے۔یہ ایمان بالغیب ہی تھا کہ جس نے صحابہ نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے وہ قربانیاں کرائیں جنہوں نے عرب کی ہی نہیں بلکہ سب دنیاکی حالت بدل دی۔اگر وہ تاجرانہ ذہنیت دکھاتے اور ایمان بالغیب کے ماتحت کام نہ کرتے تو دنیا میں ایسے شاندار نتائج کس طرح پیدا ہو سکتے تھے؟
ایمان بالغیب کے معنی ادنیٰ درجہ کے متقیوں کے لحاظ سے
اوپر جو معنے بیان ہوئے ہیں وہ تو ایمان بالغیب کے کامل اور اعلیٰ معنے ہیں۔لیکن ایک معنے اس کے اور بھی ہیں جو ادنیٰ درجہ کے متقیوں سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ادنیٰ درجہ کا تقویٰ یہ ہے کہ انسان ایمان بالغیب رکھے یعنی دلائل عقلیہ کے ساتھ اسے خدا تعالیٰ اور ملائکہ اور بعث بعد الموت پر یقین ہو گو وہ اس مقام پر نہ پہنچا ہو کہ خدا تعالیٰ اُسے حواسِ باطنی کے ساتھ نظر آنے لگے۔یہ مقام تقویٰ کا ادنیٰ ہے یعنی اس تقویٰ کی بنیاد صرف دلائل پر ہوتی ہے مشاہدہ پر نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا (البقرۃ:۲۸۷) یعنی اللہ تعالیٰ کسی انسان پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ واری نہیں رکھتا۔پس ایک انسان جو ابھی تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر نہیں پہنچا اور اُسے ان امور غیبیہ پر جو ہیں تو یقینی اورقطعی لیکن ہیں انسانی ادراک سے بالا ابھی ایسا ایمان اور یقین پیدا نہیں ہوا جو مشاہدہ کی حد تک پہنچا ہوا ہو اس سے اللہ تعالیٰ اس امر کا مطالبہ نہیں کرتا کہ جب تک اسے مشاہدہ اور تجربہ والا ایمان نصیب نہ ہوا ہو اُسے متقی اور مومن نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اس سے صرف اس قدر مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان دلائل اور براہین پر غور کر کے جو امور غیبیہ کے ثبوت کےلئے اللہ تعالیٰ نے مہیا کئے ہیں ان پر ایمان لے آئے اور یہ امر اس کے متقی ہونے کے لئے ادنیٰ درجہ کے طور پر کافی ہو گا۔اب دیکھو کہ یہ کیسی اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے جو سب مدارج کے انسانوں کی ضرورت کو پورا کر دیتی ہے اور ایسی ہی تعلیم خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی کہلا سکتی ہے جو سب استعداد کے لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہو۔یہ ادنیٰ درجہ تقویٰ کا انسان کی نجات محض کے لئے کافی ہے۔ہاں جب وہ اس سے ترقی کرتا ہے تو اُسے ایمان بالغیب کا وہ درجہ میسّر ہو جاتا ہے جو امورِ غیبیہ کو مشاہدہ کے رنگ میں اُس کے سامنے لے آتا ہے۔ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں بھی اس فرق کو ظاہر کیا گیا ہے۔آپؐ فرماتے ہیں کہ احسان یہ ہے کہ اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ (مسلم کتاب الایمان با ب الایمان والاسلام والاحسان…)یعنی احسان اس کا نام ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرے کہ گویا روحانی نظروں سے وہ تیرے سامنے موجود ہے اور تو اُسے دیکھتا ہے لیکن اگر یہ درجہ تجھے حاصل نہ ہو تو کم سے کم اس درجہ پر فائز ہو کہ تجھے یقین اور وثوق سے عبادت کے وقت یہ معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ تجھے دیکھ رہا ہے۔اس حدیث میں ایمان بالغیب کے ان دونوں درجوں کو بیان کر دیا گیا ہے اعلیٰ درجہ کو بھی اور ادنیٰ درجہ کو بھی۔
غیب بمعنٰی غائب
…ایک معنے غیب کے غائب ہونے کی حالت کے بھی ہوتے ہیں۔ان معنوں کے رو سے ایمان بالغیب کے یہ معنے بھی ہیں کہ جب انسان غیب کی حالت میں ہو یعنی لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو تب بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو۔یعنی اس کا ایمان صرف قومی نہ ہو کہ جب اس کے ہم مذہب لوگ اس کے سامنے ہوں تب تو وہ ان عقائد کو تسلیم کرے جو اس کے مذہب نے اس کے سامنے پیش کئے ہیں لیکن جب وہ اپنے لوگوں سے جُدا ہو تو اس کا ایمان کمزور ہو جائے۔غیب کے یہ معنے قرآن کریم میں بھی استعمال ہوئے ہیں مثلاً فرماتا ہے۔اَلَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ (الانبیاء: ۵۰) وہ مومن جو علیحدگی میں بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے ڈرتے ہیں۔اسی طرح فرماتا ہے وَ لِيَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَيْبِ (الحدید : ۲۶) یعنی ہم نے جنگ کے سامان اس لئے پیدا کئے ہیں تاکہ ظاہر ہو جائے کہ کون خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا دل سے مددگار تھا ؟ اور صرف ظاہری دعویٰ نہیں کر رہا تھا۔حضرت یوسفؑ کی نسبت آتا ہے اَنِّيْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَيْبِ (یوسف : ۵۳) جس کے یہی معنے ہیں کہ میں نے پسِ پشت نظروں سے اوجھل اپنے آقا کی خیانت نہیں کی۔
ان معنوں کے رُو سے ان لوگوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ جو تقریریں سنتے ہیں یا وعظ کی مجالس میں بیٹھتے ہیں تو اُنہیں خوب جوش آ جاتا ہے لیکن جب وہ علیحدگی میں جاتے ہیں تو ان کا ایمان کمزور پڑ جاتا ہے۔ایسے لوگ در حقیقت معمولی مذہب رکھتے ہیں اور ان کی حالت بھیڑ چال کی ہوتی ہے۔وہ دوسروں کی آراء کی رَو میں بہ جاتے ہیں ان کا اپنا مذہب کچھ نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو متنبہ کرتا ہے کہ ایسا ایمان بے حقیقت ہے۔ایمان وہی ہے کہ جوذاتی ہو اور صرف دوسروں کے جو ش کو دیکھ کر بھڑک نہ اٹھتا ہو۔اور جو شخص ذاتی ایمان نہیں رکھتا او راپنی قوم اور جماعت اور پر جوش واعظوں کی صحبت سے الگ ہو کر اس کے دل کا جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے یا مٹ جاتا ہے وہ متقی نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ اس کا ایمان اپنا ایمان نہیں بلکہ عارضی طو رپر دوسرے لوگوں سے مانگا ہوا ایمان ہے ایسے لوگوں کی نسبت قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا ہے۔وَ اِذَا لَقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَيٰطِيْنِهِمْ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ (البقرة : ۱۵) بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب مومنوں کی مجالس میں آتے ہیں تو اُن کی باتوں کو سُن کر او راُن کے یقین اور ایمان کو دیکھ کر متاثر ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بھی ان باتو ں پر ایمان لاتے ہیں لیکن جب اُن سے الگ ہوتے ہیں اور اسلام کے دشمنوں کی مجلس میں جاتے ہیں تو پھر اُن کی سی کہنے لگتے ہیں۔اور ان کے خیالات سے متاثر ہو کر کہتے ہیں کہ ہم بھی تمہارے ہی ہم عقیدہ ہیں اور جو مومنوں کی ہاں میں ہاں ہم نے ملائی تھی یہ صرف ایک مذاق تھا۔ایسے لوگوں کا ایمان درحقیقت کوئی ایمان نہیں بلکہ یہ لوگ بے اصولے ہوتے ہیں۔
يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ میں غیرمتزلزل ایمان پیدا کرنے کی نصیحت
پس يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ متقی وہ ہوتا ہے جس کی زبان ہی ایمان کا دعویٰ نہیں کرتی بلکہ اس کا دل بھی صداقت کا مصدق ہوتا ہے اور وہ جب مومنوں کی صحبت سے دُور ہوتا ہے مثلاً غیرملکوں اور غیرمذاہب کے پیروؤں میں چلا جاتا ہے جہاں اس کے ہم مذہب نہیں ملتے تو بھی اس کا ایمان ڈگمگاتا نہیں یا کمزور نہیں ہوتا کیونکہ وہ دوسروں کی نقل کرنے والا نہیں تھا بلکہ یقین اور وثوق سے ایمان پر قائم تھا۔
اس مضمون سے اُن مسلمان طلباء کو جو تعلیم کی خاطر کالجوں میں داخل ہوتے ہیں یا دوسرے ممالک میں جاتے ہیں سبق حاصل کرنا چاہیے اور اپنے ایمان کا مطالعہ کرنا چاہیے کہ اگر وہ مومنوں کے ماحول سے جدا ہو کر کمزور ہو جاتا ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ انہوں نے اپنے مذہب کو سمجھ کر نہیں مانا تھا اور اُن کا ایمان ذاتی نہ تھا بلکہ صرف اپنے ماحول کی ایک صدائے باز گشت تھا۔
خلاصہ یہ کہ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِکہہ کر قرآن کریم نے بتایا ہے کہ قرآن کریم ان متقیوں کو جو مندرجہ ذیل صفات اپنے اندر رکھتے ہیں اعلیٰ روحانی مقامات تک پہنچاتا ہے (۱) ان متقیوں کو بھی جو دلائل اور براہین سے روحانی دنیا سے تعلق رکھنے والے عقائد پر ان کی صداقت واضح ہو جانے کے بعد پورا ایمان لے آتے ہیں خواہ ابھی اس مقام پر نہ پہنچے ہوں کہ دلیل سے بڑھ کر ذاتی تجربہ نے بھی ان کے ایمان کو مضبوط کر دیا ہو (۲) وہ ان متقیوں کو بھی ہدایت کی اعلیٰ راہوں پر چلاتا ہے جن کا ایمان منافقت سے پاک ہو اور ان کا دل اور زبان اور عمل ایک ہو (۳) وہ ان متقیوں کو بھی ہدایت کی اعلیٰ راہوں پر چلاتا ہے جن کا ایمان قومی نہ ہو بلکہ ذاتی ہو یہ نہ ہو کہ مومنوں کی مجلس میں مومن اور کافروں کی مجلس میں کافر بلکہ خواہ اُنہیں کیسی ہی مخالف سوسائٹی یا قوم میں رہنا پڑے اُن کا ایمان ڈانوا ڈول نہ ہو اور اُن کے مومنانہ عمل میں فرق نہ آئے (۴) وہ ان متقیوں کو بھی ہدایت دیتا ہے جو اِن ظاہری حواس سے محسوس نہ ہونے والی صداقتوں پر کامل یقین اور اعتقاد رکھتے ہیں جن کا وجود دوسرے دلائل اور براہین سے ثابت ہے اور ایسے ایمان کو اپنے تجارب کی بناء پر کمال تک پہنچاتے ہیں (۵) ایسے متقیوں کو بھی ہدایت کے اعلیٰ مقام تک پہنچاتا ہے جو تاجرانہ ذہنیت کو چھوڑ کر اخلاقی اور دینی نتائج پر یقین رکھتے ہیں اور ان قربانیوں کے نیک نتائج پر یقین رکھتے ہیں جو بظاہر حالات مقبول ہوتی نظر نہیں آتیں لیکن قومی ترقی اور ملی کامیابی کے لئے اُن کا وجود ضروری سمجھا جاتا ہے اور اپنے ذاتی فوائد کو قومی فوائد پر قربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔
جن متقیوں میں ان سے ایک یا زیادہ باتیں پائی جائیں وہ قرآن کریم کی اتباع میں حاصل ہونے والی اعلیٰ ہدایتوں کے مستحق سمجھے جاتے ہیں اور وہ ہدایت انہیں دی جاتی ہے۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد اول، صفحہ ۱۴۴تا ۱۵۱)
حضرت مصلح موعودؓ تقدیر خاص کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’دوسری قسم اس قسم کی تقدیر کی وہ ہے جس میں اسباب موجود بھی نہیں ہوتے اور ساتھ شامل بھی نہیں کئے جاتے۔ یہ تقدیر صرف نبیوں اور مومنوں کے سامنے ظاہر ہوتی ہے دوسروں کے سامنے نہیں ہوتی کیونکہ دوسروں کے سامنے اگر یہ تقدیر ظاہر ہو تو وہ ایمان حاصل کرنے کے ثواب سے محروم رہ جاویں۔ لیکن مومن جو ایمان بالغیب لا چکتے ہیں ان کو ایمان بالشہادت اس تقدیر کے ذریعے سے دیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے وہ خاص طور پر ایمان میں ترقی کرتے ہیں۔ اس قسم کی تقدیر کی مثال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں آپؑ کے کُرتہ پر چھینٹیں پڑنے کا واقعہ ہے۔‘‘(سوانح فضل عمر جلد دوم صفحہ ۲۴۹)
ارشادات حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ ایمان کے مفہوم میں بنیادی طور پر یہ بات پائی جاتی ہے کہ کچھ پہلو غیب میں ہے جس پر ہم ایمان لاتے ہیں اسی واسطے قرآن پاک کے شروع میں ہی يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کہا گیا ہے۔ پس غیب کی باتوں کو مان لینا یہ ایمان کا لازمی حصہ ہے۔ اسکے بغیر ایمان ایمان ہے ہی نہیں۔ مثلاً اس علم پر کہ آج جمعہ ہے اور اس وقت دن کا ایک حصہ ہے کوئی ثو اب نہیں کیونکہ یہ بات اتنی ظاہر ہے کہ نہ صرف انسان بلکہ چمگادڑ کو بھی پتہ ہے اسی لئے جب دن غائب ہو جاتا ہے تو وہ اپنے کمین گاہوں سے باہر نکل آتی ہے۔ پس دن کے وقت اس کا چھپ جانا اور رات کو باہر نکل آنا یہ بتاتا ہے کہ دن اور رات اتنی واضح چیز ہے کہ انسان کے علاوہ بہت سی دوسری مخلوقات کو بھی پتہ ہے۔ سارے جاندار حیوانات کو پتہ ہے۔ پھر درختوں کو پتہ ہے کیونکہ ان کا دن اور رات کا رد عمل مختلف ہے۔ انکار ردّ عمل دن کے وقت اور ہے اور رات کے وقت اور ہے مثلاً دن کے وقت درخت آکسیجن باہر نکالتے ہیں اور رات کے وقت کھا رہے ہوتے ہیں تو دن اور رات کے رد عمل میں فرق ہے کہ جس قسم کی بھی حس اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں دی گئی ہے وہ اس میں تمیز کر رہی ہے لیکن سب مخلوقات میں سے صرف انسان کو ثواب ملتا ہے ثو اب علم پر نہیں ملتا ایمان پر ملتا ہے اور ایمان کا لازمی حصہ غیب پر ایمان لانا ہے۔
غیب پر ایمان عقلاً آگے دو حصوں میں منقسم ہو جاتا ہے۔ ایک وہ غیب ہے جس کے حق میں قرائن مرجحہ نہیں ہیں۔ قرائن قویّہ نہیں ہیں اور جس غیب کا میلان یقین کی نسبت شک کی طرف زیادہ ہے۔ اسلام نے ہمیں اس غیب پر ایمان لانے کے لئے نہیں کہا جیسا کہ قرآن کریم کے بہت سے مقامات سے یہ بات عیاں ہے۔ ایک غیب وہ ہے جس کا میلان شک کی نسبت یقین کی طرف زیادہ ہے۔ پس قرائن قویّہ مرجحہ جہاں پائے جائیں ایک مومن اس پر ایمان لاتا ہے۔ مثلاً ایمان بااللہ ہے۔ اس ایمان کا ایک پہلو علم کی طرح عیاں ہے اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا تعلق ہے اس کا ایک پہلو عیاں بھی ہے لیکن جو تصوّر اسلام نے ہمیں اللہ تعالیٰ کا دیا ہے اس کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی وسعتوں کے مقابلہ میں یہ عیاں پہلو اتنا بھی نہیں جتنا سمندر میں سے ایک قطرہ اٹھا لیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کی صفات کے جلووں کی حد بندی نہیں کی جاسکتی وہ ذات غیر محدود ہے اور کسی محدود کی غیر محدود کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا ایک حصہ تو ہمارے سامنے آگیا لیکن بڑا حصہ ہم سے پوشیدہ ہے۔ اس پر ہم ایمان بالغیب لاتے ہیں یعنی خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے ان جلووں پر جو ہنوز پردہ غیب میں ہیں۔ پھر ایمان بالغیب کا تعلق ملائکہ اور حشر و نشر سے ہے۔وہ ایمان بالغیب کی ایک اور لائن ہے ایمان بالغیب کے کچھ اور پہلو بھی ہیں جنہیں میں مثال کے طور پر بیان کر دیتا ہوں۔ ایمان بالغیب کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپ کی شخصیت اور وجود پر ایمان لانے سے بھی ہے اس پاک و مطهر وجود کا ایک حصہ ایک دور کے انسان پر ظاہر ہوتا اور ایک بڑا حصہ ہر دور کے انسان کی نظر سے غائب رہتا ہے مثلاً ایک پہلو جو ہم آپ کی ذات کا لیں وہ محسن ہونے کا ہے ہر صدی کے حالات واحوال کے اختلافات کی وجہ سے اس احسان عظیم کی بعض پوشیدہ باتیں سامنے آتی ہیں۔پہلی صدی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس ایمان پر قائم ہونا کہ قیامت تک کے لئے آپ ایک عظیم محسن کی حیثیت رکھتے ہیں آپ پر ایمان لانے کا ایک پہلو ہے پہلی صدی میں اس احسان عظیم کے کچھ جلوے ظاہر ہوئے لیکن وہ جلوے تو ظاہر نہیں ہوئے جن کے نتیجہ میں ہم یہ کہہ سکیں کہ آپ قیامت تک کیلئے دنیا کے محسنِ اعظم ہیں پہلی صدی کے بعد قیامت تک آپ کے احسان کے جو پہلو انسان کے سامنے آنے تھے پہلی صدی کے لئے وہ جلوے پردۂ غیب میں تو تھے لیکن ان پر ایمان لانا ضروری تھا ورنہ ایمان بالرسول نہ ہوتا لیکن صرف یہ فقرہ کہ ہمارے محسن ہیں، حقیقی ایمان نہیں حقیقی ایمان یہ ہے کہ ہمارے بھی محسن ہیں اور قیامت تک بنی نوع انسان کے بھی محسن ہیں اور یہ ایمان بالغیب ہے جس کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہے مثلاً آج کی دنیا انقلابات کی دنیا ہے ایسے انقلابات بھی آئے کہ جن کا ایک حصہ غلبہ اسلام کی مہم میں ممد ثابت ہوا اور ہو رہا ہے لیکن ایک حصہ ایسا تھا جو نوع انسانی کے ایک بڑے حصہ کو خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے دور لے جانے والا تھا۔یہ جو مسائل آج کی دنیا کے لئے پیدا ہوئے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے ہمارے محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم بھی دی اور ان حالات میں اپنا ایک اُسوہ بھی ہمارے سامنے پیش کیا۔یہ باتیں پہلی صدیوں کے انسانوں کے لئے غیب کا حکم رکھتی ہیں اور آج کے بعد قیامت تک جو مسائل نوع انسانی کے لئے پیدا ہوں گے ان کے حل کے لئے قرآنی تعلیم کے وہ پہلو جن کا ان مسائل کے ساتھ تعلق ہے اور آپ کے اُسوہ کے وہ جلوے جن کا اس زمانہ کے انسان کے ساتھ تعلق ہے آج ہمارے لئے ’’غیب‘‘ ہیں۔
پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک کیلئے نوع انسانی کا محسن سمجھ کر ایمان لانا اس ایمان میں غیب کا ایک بڑا حصہ ہے اور قرائنِ قویّہ مرجّحہ کی وجہ سے ہم ایمان لاتے ہیں مثلاً پہلی صدی کے انسان نے کہا کہ میرے اوپر احسان کیا اور یہ کہنے کے بعد احسان کیا کہ میں تمہارے لئے محسنِ اعظم ہوں آپ نے جو کہا وہ ہماری زندگیوں میں پورا ہوا۔جو آئندہ کے متعلق کہا گیا ہے وہ پورا ہوگا۔اسی طرح اور بیسیوں پہلو پیش کئے جاسکتے ہیں جو قرآئن کا حکم رکھتے ہیں جن کے نتیجہ میں ترجیح اس بات کو دی گئی کہ ہم یقین کی طرف مائل ہو جا ئیں اور ایمان لے آئیں۔‘‘ (انوار القرآن جلد اول، تفسیر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ، صفحہ۱۰۴ تا ۱۰۷ )
ارشادات حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’ الہام، عقل، علم اور سچائی ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’ ضرورت اس بات کی ہے کہ لفظ ’’غیب ‘‘ کا وسیع تر مفہوم معلوم کیا جائے۔اولاً واضح رہے کہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا۔ممکن ہے کچھ اشیاء پردہ غیب میں موجود ہوں اور بعد میں کسی وقت انسانی تحقیق یا الہام الٰہی کے سبب سے عالم غیب سے عالم شہود میں آجائیں۔
’’غیب‘‘ کا لفظ اپنے وسیع تر معنوں میں ان تمام اشیاء کیلئے استعمال ہوتا ہے جو بصارت یا سماعت کی رسائی سے باہر ہیں۔اسی طرح اس میں وہ سب اشیاء بھی شامل ہیں جو حواس خمسہ کی حدود سے باہر ہوں۔اس پہلو سے ہم ’’غیب‘‘ سے مراد وہ عالم بھی لے سکتے ہیں جو انسان کے حواس خمسہ کی رسائی سے باہر ہیں۔اس زمرہ سے تعلق رکھنے والی چیزیں ضروری نہیں کہ ہمیشہ ہی حواس خمسہ کی رسائی سے باہر ہوں بلکہ ان کا انسانی پہنچ سے باہر رہنا ایک محدود مدت کیلئے ہوتا ہے۔
محسوس اشیاء کی تمام مخفی خصوصیات خواہ وہ ماضی سے متعلق ہوں یا حال یا مستقبل سے، علم غیب ہی کے زمرہ میں آتی ہیں۔بالفاظ دیگر ہم سے ان باتوں پر ایمان رکھنے کا تقاضا کیا جاتا ہے جن کا اگر چہ ایک معینہ مدت تک علم تو حاصل نہیں کیا جاسکتا لیکن وجود ضرور رکھتی ہیں اور کسی اور وقت پر ظاہر ہو جاتی ہیں۔ایسے ایمان کو اندھا اعتقاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔قرآن کریم مومنوں سے ہرگز کسی ایسی بات پر ایمان لانے کا تقاضا نہیں کرتا جو قطعی دلائل پر مبنی نہ ہو۔پس ’’غیب‘‘ کے لفظ کا اطلاق انہی اشیاء پر ہوتا ہے جن تک عقل و دانش، دلائل اور استخراجی منطق کے توسط سے رسائی ممکن ہو۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس تعریف کی رو سے اگر چہ ’’غیب‘‘ حواس خمسہ کی براہ راست پہنچ سے باہر ہے تا ہم اس کی تصدیق بھی کی جاسکتی ہے۔اس مدلل قرآنی موقف کی انسانی تجر بہ بھی پورے طور پر تائید کرتا ہے۔
کائنات کی بہت سی مادی صورتوں کا براہ راست معائنہ ممکن نہیں۔ان کے وجود اور مادی خواص کا علم منطقی استدلال سے ممکن ہے یا پھر ایسے جدید ترین حساس برقی آلات کے ذریعہ سے جو انہیں بالواسطہ انسانی حواس کے دائرہ میں لا سکتے ہیں۔آخر نیوٹر ینوز (Neutrinos) اور اینٹی نیوٹر ینوز (Anti-Neutrinos) کیا ہیں؟ مادہ (matter) اور ضد مادہ (Antimatter) میں فرق کیا ہے؟ باسنز (Bosons) اور اینٹی باسنز (Anti-Bosons) کسے کہتے ہیں؟ ان سوالات کے جوابات کسی بھی قسم کے براہ راست مشاہدہ سے ممکن نہیں۔اس کے باوجود یہ ان دیکھی دنیا ایک مسلّمہ حقیقت ہے۔‘‘
حضورؒ مزید فرماتے ہیں: ’’ایک ایسے معاشرہ کا تصوّر کریں جس کے تمام افراد ہی اندھے ہوں۔کیا انہیں کبھی روشنی اور قوت بصارت پر یقین ہو سکتا ہے؟ یقیناً نہیں۔اندھوں کو آنکھوں والوں کی ضرورت ہے جن کی مدد سے وہ ان اشیاء کے وجود کا ادراک کر سکیں جو ان کے اپنے حیطہ ادراک سے باہر ہیں۔اس مقام پر خوب ثابت کیا جاسکتا ہے کہ حصول علم کے جسمانی ذرائع پر وحی کو کس قدر فوقیت حاصل ہے۔انسان خواہ کتنا ہی دانا کیوں نہ ہو اپنے حواس کی حدود سے باہر نہیں جا سکتا۔البتہ بعض اور حواس کی موجودگی کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو انسان کو ان حقائق سے آگاہ کر سکتا ہے جو اس کی طاقت سے ماوراء ہوں۔…
واقعہ یہ ہے کہ یہ دشواری خدا تعالیٰ کو نہیں، انسان کو لاحق ہے جس کے حواس کی رسائی بہت محدود ہے۔مثال کے طور پر جب کوئی انسان پانچ میں سے دو حواس سے محروم ہو تو وہ کسی بھی شے کی صفات کو محسوس نہیں کر سکے گا۔مثلاً بہرا آواز کی حقیقت کو سمجھ ہی نہیں سکتا اور نا بینا بینائی کے تصوّر سے قاصر ہے۔لیکن سن سکنے اور دیکھ سکنے والے ان لوگوں کو اپنے تجربات کی روشنی میں ایک حد تک کچھ نہ کچھ سمجھانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں جو ان صلاحیتوں سے محروم ہیں۔اسی طرح جب قرآن کریم انسان کو آخرت کے بارہ میں متنبہ کرتا ہے کہ اس کی حقیقت انسانی فہم سے بالا ہے تو انسان کی قلت فہم کی نشاندہی مقصود ہے نہ کہ خدائی بیان کی کمزوری۔اس میں یہ اشارہ مضمر ہے کہ آخرت میں ہمارے حواس میں بعض نئے حواس کا اضافہ بھی ہو گا۔آخرت کے بارہ میں ہمارا موجودہ علم زیادہ سے زیادہ ویسا ہی ہے جیسا کہ کسی نابینا کا روشنی کے بارہ میں… انسان جس قدر غیب کے مضمون پر غور کرتا ہے اسی قدر نئے امکانات ابھرنے لگتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ مخفی حقائق کے انکشاف کیلئے انسان ہمیشہ وحی کا محتاج رہے گا۔ہمارے حواس کا محدود ہونا ہماری جستجو کی راہ میں حائل نہیں ہے۔حواس کی حدود کے اندر رہتے ہوئے بھی جو کچھ ہم محسوس کر سکتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہم سے مخفی ہے۔“ایمان بالغیب سے جو بھی مراد لیں اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ سرے سے کچھ موجود ہی نہیں۔یہ کہنا کہ کچھ بھی موجود نہیں گویا ایمان بالغیب کی نفی ہے۔‘‘(الہام، عقل، علم اور سچائی۔ صفحہ نمبر ۲۳۶ تا ۲۴۴)
ارشادات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :’’ہدایت کے راستوں کو پانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلا قدم جو ر کھا ہے وہ ایمان بالغیب ہے، اور یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔یہ ایمان بالغیب ہی ہے جو ایمان میں ترقی کا باعث بنتا ہے۔اور یہ ایمان میں ترقی ہدایت کے ان راستوں کی طرف لے جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کے پانے کے راستے ہیں۔خدا تعالیٰ کی تعلیم کو سمجھنے کے راستے ہیں۔خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں بڑھنے کے راستے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک جگہ اس کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے۔آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’ متقی کی حالت میں چونکہ رؤیتِ باری تعالیٰ اور مکالمات و مکاشفات کے مراتب حاصل نہیں ہوتے اس لئے اس کو اول ایمان بالغیب ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔اور وہ تکلف کے طور پر ایمانی درجہ ہوتا ہے کیونکہ قرائن قویّہ کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لاتا ہے جو بین الشک والیقین ہوتا ہے” (کہ شک اور یقین کے درمیان یہ چیزیں ہوتی ہیں)۔‘‘(خطبات مسرور جلد ہشتم، صفحہ ۴۳۱ ،۴۳۲)
’’ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ غیب پر ایمان کیوں لائیں آج کل تو کیوں کا سوال نوجوانوں میں، بچوں میں بہت اٹھتا ہے۔ جس چیز کا ہمیں پتہ ہی نہیں اس پر ایمان کیوں لائیں؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: غیب پر ایمان تو ابتدائی شکل ہے۔ یہ کتاب جو دی گئی ہے اس پر عمل کرو۔ ایمان لانے کے بعد اس پر عمل ضروری ہے جو تمہیں اللہ تعالیٰ کی صحیح پہچان دلائے گا۔ تو غیب سے باہر نکل کر مشاہدے کی حالت پیدا ہو گی۔ صرف غیب سے نہیں ہو گا بلکہ خود آدمی مشاہدہ کرے گا کہ کون خدا ہے۔ یہ تو دنیا کا اصول بھی ہے جو سائنٹسٹ (scientist) ہیں، ریسرچر (researcher) ہیں وہ جانتے ہیں کہ تجربات میں بھی پہلے ایک hypothesis بنتا ہے، اس پر بنیاد کر کے ریسرچ ہوتی ہے اور پتہ نہیں کہ وہ سچ ثابت ہو یا نہ ہو لیکن اس پر تصوّر میں ایک بنیاد بنائی جاتی ہے اور اس پر ریسرچ کی جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایمان بالغیب کی بنیاد بنا کر پھر قرآنی احکامات پر عمل کرو، محنت کرو، غور کرو، پھر دیکھو تم مشاہدہ بھی کرلوگے۔
سائنسدان تو صرف اپنی ریسرچ کے لیے، ایک تسلی کے لیے وہ ریسرچ کرتے ہیں اور ان کی تسلی ہوتی ہے تو پھر لوگوں کو بتاتے ہیں لیکن یہاں جو ایک تصوّر باندھا اور اس کے بعد ریسرچ کی اس سے ہر انسان فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہ ہے اسلام کی خوبی۔ یہ ہے ایمان بالغیب کی اصل حقیقت۔” (خطبہ جمعہ ۱۵؍ مارچ۲۰۲۴ء)
’’مذہب کے معاملہ میں بعض امور بڑے واضح ہوتے ہیں جو آسانی سے سمجھ آ جاتے ہیں لیکن بعض امور کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لا محدود علم کی بناء پر ایمان بالغیب کے پردہ میں رکھا ہے، جن کی حقیقت کو سمجھنا یا ان کا احاطہ کرنا انسان کے بہت ہی محدود علم کے بس کی بات نہیں۔لہٰذا مذ ہبی احکامات کے معاملہ میں جس طرح ہم آسانی سے سمجھ آجانے والے احکامات کی پابندی کرتے اور ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ بناتے ہیں، اسی طرح ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ان احکامات کی بھی اسی طرح اطاعت کریں جن کا ایمان بالغیب کے ساتھ تعلق ہے اور ان کے بارہ میں بلاوجہ اپنے ذہنوں میں شکوک و شبہات کو جگہ نہ دیں‘‘۔(قسط نمبر ۴۸، الفضل انٹرنیشنل ۳؍فروری۲۰۲۳ء صفحہ۱۲) (بنیادی مسائل کے جوابات، صفحہ ۳۳۳)
نوٹ: قارئین کرام کی خدمت میں درخواست ہے کہ ان حوالہ جات کے علاوہ کوئی اَور ارشادات ان کے علم میں ہوں تو ان سے مطلع فرمائیں تاکہ ان کو بھی اس مضمون میں شامل کیا جاسکے۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء۔
مزید پڑھیں: ایمان بالغیب(قسط اوّل)




