متفرق مضامین

بشیر احمد،شریف احمداور مبارکہ کی آمین(قسط ۱۹)

(امۃ الباری ناصر)

۱۶۷۔خدا کا ہم پہ بس لطف و کرم ہے

وہ نعمت کون سی باقی جو کم ہے

اللہ تعالیٰ کی تم پر بہت مہربانی ہے اور یہ اس کا پیار ہے کہ اپنے فضل و کرم سے اس نے تمہیں ان گنت بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ کوئی نعمت ایسی نہیں جو اس نے باقی رکھی ہو۔ تمہارے زمانے میں مسیح موعود کو نازل فرمایا ہے۔

۱۶۸۔زمینِ قادیاں اب محترم ہے

ہُجُومِ خَلق سے اَرضِ حَرَم ہے

ہجوم hujoom: لوگوں کا رش، کثیر تعداد Crowds, multitudes, masses of people

ارضِ حرم arz-e-haram: پاک مقام، متبرک زمین Holy land

اللہ تعالیٰ نے قادیان کی زمین کو مسیح زماں نازل کرنے کے لیے منتخب کرکے اس کی عزت میں اضافہ فرمایا ہے۔ یہ قابل احترام مبارک دار المسیح اب اسلام کے پروانوں کے جمع ہونے کا مرکز بن گیا ہے۔ یہاں لوگ کثرت سے آتے ہیں ۔

۱۶۹۔ظُہُورِ عون و نُصرت دَمبَدَم ہے

حسد سے دشمنوں کی پشت خم ہے

ظہور zuhoor: ظاہر ہونا Manifestation, appearance

عون ‘aun: مدد، تائید help

دَم بہ دَم dam ba dam: ہرپل، ہمہ وقت Constantly, continually

پشت pusht: کمر، پیٹھ Back

خم kham: دہری ہونا، جھکاؤ ہونا Bent, twisted

اللہ تعالیٰ کی تائیدو نصرت کے نظارے یہاں ہر گھڑی ہر پل نظر آتے ہیں ۔ اتنے نشانات دیکھ کر دشمنوں کی کمر دہری ہو گئی ہے۔ دشمنی ،حسد اور جلن کے مارے ان میں کھڑے ہونے کی طاقت نہیں رہی۔

۱۷۰۔سنو اب وقتِ توحیدِ اَتم ہے

سِتَم اب مائلِ مُلکِ عدم ہے

توحید اتم tauheed-e-atam: توحید- اکیلا، اتم- کامل، منفرد، یگانہ، تنہا، جس کے ساتھ دوئی کا تصور نہ ہو Perfect Unity of God

ستم sitam: ظلم، شعر میں مراد ہے شرک Cruelty (used for polytheism in this verse)

مائل maa’il: جھکنا Inclined, bent

ملک عدم mulk-e-’adam: ایسی جگہ جہاں کچھ بھی نہ ہو- وجود کا الٹ ، موت ، نیستی Shall vanish, is vanishing, nothingness, death, oblivion

یہ بات خوب کان کھول کر سن لو کہ اب توحید خالق کے ظہور کا وقت ہے۔ شرک چھوڑ کر وحدانیت کو اختیار کرو کیونکہ اب دہریت اور لا مذہبیت کے فنا ہونے کا وقت آگیا ہے۔

۱۷۱۔ خدا نے روک ظلمت کی اُٹھا دی

فَسُبْحَانَ الَّذِی اَخْزَی الْاَعَادِی

ظلمت zulmat: تاریکی، اندھیرا

اللہ تعالیٰ نے ایک عرصے سے اسلام پر چھائے ہوئے اندھیرے کو ختم کردیا ہے اسلام کا اصل چہرہ نمودار ہونے کا وقت آگیا ہے۔

پس پاک ہے وہ ذات جو میرے دشمنوں سے خود مؤاخذہ کرتی ہے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: عفو و در گزر کی اہمیت و افادیت

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button