متفرق شعراء
جل رہے ہیں بحر و بر، یہ سوچیے

جل رہے ہیں بحر و بر، یہ سوچیے
دکھ میں ہیں شمس و قمر، یہ سوچیے
امن جنگوں سے بھی آیا ہے کبھی
کچھ تو اے اہل نظر، یہ سوچیے
آگ کی پھیلی ہیں لہریں چار سُو
چین و راحت ہے کدھر، یہ سوچیے
مر گئی کب کی یہاں انسانیت
یوں ہے شیطاں کا اثر، یہ سوچیے
بن گئی خانہ بدوشوں سی زمیں
ایسے اجڑے ہیں نگر، یہ سوچیے
لہلہاتا تھا جو سبزہ کھیت میں
ہیں پڑے لاشے، ادھر یہ سوچیے
بن رہے ہیں اب وہ کھنڈر کے نشاں
شہر بستے تھے جدھر یہ سوچیے
ہے صلہ اپنے ہی یہ اعمال کا
ڈالیے خود پہ نظر یہ سوچیے
ہو تسلّی دل کو، دنیا سے کہِیں
آئے جو اچھی خبر یہ سوچیے
تم کو شکوہ ہے اگر تقدیر سے
کس نے لکھی ہے مگر یہ سوچیے
آج زاہدؔ ظلمتوں کے دور میں
کیسے پھوٹے گی سحر یہ سوچیے
(سید طاہر احمد زاہدؔ)
مزید پڑھیں: مرضیٔ مولا




