متفرق شعراء

نعت رسول کریم ﷺ

سخن میں اے خدا الفاظ اور جذبات مل جائیں
ہمیں ذکر محمدﷺ کے حسیں لمحات مل جائیں

وہ جن کے نور کی بارش سے عالم جگمگاتے ہیں
نگاہوں کو ہماری کچھ گہر خیرات مل جائیں

ہماری روح تک سیراب ہو جائے گی اے ساقی
اگر کچھ گھونٹ کوثر سے ہمیں سوغات مل جائیں

ترے پاؤں کی مٹی کو بنالوں آنکھ کا سرمہ
اگر اس خاکِ پا کے قیمتی ذرات مل جائیں

وہ جن میں نور کی مشکیں ملائک لے کے آتے ہیں
مرے مولا ہمیں وہ دلنشیں اوقات مل جائیں

نہیں ممکن بجھا پائیں کبھی وہ نور مصطفویؐ
شریروں منکروں کے گر سبھی طبقات مل جائیں

یہ صدیقوں، شہیدوں، انبیاء والے سبھی رُتبے
اطاعت کا ہی پھل ہیں جس کو جو ثمرات مل جائیں

ہمیں ملتے رہیں تازہ ثمر بستانِ احمد سے
تو اس دنیا میں ہی جنت کے میوہ جات مل جائیں

ظفرؔ کو بھی ملے قدموں میں تھوڑی سی جگہ ان کے
تو اس احقر کو عالم کے سبھی درجات مل جائیں

(مبارک احمد ظفرؔ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button