متفرق شعراء

حقیقی انصار

جب تمہیں گزرے ہوئے کچھ لوگ تڑپانے لگیں
جب پرانے دوست تم کو پھر سے یاد آنے لگیں
جب تمہیں معلوم ہو جائے کہ دنیا کھیل ہے
اک تماشہ ہے سراسر عارضی یہ میل ہے
تم بھی اس تمثیل کا اک مختصر کردار ہو
تب حقیقت میں سمجھ لینا کہ تم انصار ہو

جب تمہارے دل میں تقویٰ پھول پھل لانے لگے
جب گنہ کی جستجو کا پیڑ مرجھانے لگے
جب عبادت میں تضرّع کی کمی محسوس ہو
جب ارادوں میں تمہیں کچھ پختگی محسوس ہو
جب لگے تم کو کہ تم اک قوم کے معمار ہو
تب حقیقت میں سمجھ لینا کہ تم انصار ہو

جب تمہیں اسرارِ دنیا کی سمجھ آنے لگے
جب سیاہی سر کے بالوں سے اتر جانے لگے
جب حقیقت کی ملے تم کو شعور و آگہی
جب سمجھ آنے لگیں تم کو امورِ زندگی
جب لگے تم معرفت کے نور سے سرشار ہو
تب حقیقت میں سمجھ لینا کہ تم انصار ہو

جب تہجد کی عبادت میں مزہ آنے لگے
جب تمہارا دل نوافل میں سکوں پانے لگے
جب کسی کے غم میں تم غمگین ہو جانے لگو
جب خدا کے رنگ میں رنگین ہو جانے لگو
جب تمہیں اپنے خدا سے سب سے بڑھ کر پیار ہو
تب حقیقت میں سمجھ لینا کہ تم انصار ہو

جب دعائیں مانگتے ہو تم خلافت کے لیے
قدر رکھتے ہو نظر میں تم جماعت کے لیے
جب تمہارے دل پہ خطبے کا اثر ہونے لگے
زندگانی جب اطاعت میں بسر ہونے لگے
جب تمہیں محسوس ہو کہ تم تو خدمت گار ہو
تب حقیقت میں سمجھ لینا کہ تم انصار ہو

جب کتاب اللہ پڑھنا روز کا معمول ہو
دین کا پیغام پھیلانے میں تم مشغول ہو
جب سمجھداری نظر آئے تمہاری بات میں
نورِ فرقاں جب دکھائی دے تمہاری ذات میں
جب تمہیں لگنے لگے اسلام کے غمخوار ہو
تب حقیقت میں سمجھ لینا کہ تم انصار ہو

(مدثر احمد نقاشؔ)

مزید پڑھیں: اِنِّی قریب کہہ کے مرا منتظر ہے وہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button