متفرق شعراء
فرض ہے ہم پر کہ پھیلائیں سدا نُورِ ہُدیٰ

سختیاں ہوں یا کہ آویں، راستے میں دشت و خار
صبر کی رہ پر چلے جو، ہوں گے وہ ہی کامگار
یوں ہی پھونکوں سے بجھا سکتے نہیں نورِ خدا
پھیلتا جائے گا حق، دشمن ہوں چاہے بےشمار
مستقل مانگیں دعائیں، عاجزی کے ساتھ ہم
استقامت میں کوئی لغزش نہ ہو پروردگار
عافیت لکھ دی گئی، اُس کے لیے بارِ دگر
نوح کی کشتی میں جو ہو جائے گا، اب کے سوار
ہم وفا کے ہیں عَلَم بردار، سچ کے پاسباں
دین کی خدمت میں کر دیتے ہیں، جان و دل نثار
ظُلم کے تیروں کی بارش ہو، کہ طوفاں سامنے
ہم بڑھائیں گے قدم ہوں گے شہیدوں میں شمار
فرض ہے ہم پر کہ پھیلائیں سدا نُورِ ہُدیٰ
حق کے متوالے کبھی ہوتے نہیں ہیں شرمسار
(منصورہ فضل منؔ۔ قادیان)




