فتح مکہ کے بعد بعض مہمات اور غزوۂ تبوک کے تناظر میں سیرت نبوی ﷺ کا بیان نیز ربوہ میں مسجد مہدی پر دہشت گردانہ حملے کا ذکر۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۱۰؍اکتوبر ۲۰۲۵ء
٭… آپؐ نے فرمایا کہ شعر و بیان میں مفاخرت میری بعثت کا مقصد نہیں ہے، میرا مقصد تو الله تعالیٰ کی طرف لانا ہے
٭… آنحضرتؐ نے بنو تمیم کے اسلام قبول کر لینے کے بعد اُن کے قیدی واپس لَوٹا دیے اور سب کو انعام و اِکرام سے بھی نوازا
٭… قرآنِ کریم میں غزوۂ تبوک کا ذکر ساعۃ العُسر یعنی تکلیف کی گھڑی کے نام سے کیا گیا ہے، اِس لیے اِس غزوہ کو غزوۃ العُسر بھی کہا جاتا ہے، چونکہ مسلمانوں کو اِس میں بہت دشواری اور تنگی کا سامنا کرنا پڑا تھا
٭…ربوہ میں مسجد مہدی، گول بازار پر دہشت گردانہ حملے میں پانچ چھ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ ایک دہشت گرد کو بھی ہمارے سیکیورٹی والوں نے مار دیا ہے اور ایک دَوڑ گیا ہے
٭… الله تعالیٰ اِن دہشت گردوں اور قانون توڑنے والوں اور جماعت کے مخالفین کو جلد پکڑے
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۰؍اکتوبر۲۰۲۵ء بمطابق ۱۰؍اخاء۱۴۰۴؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفة المسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۱۰؍اکتوبر۲۰۲۵ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔جمعہ کي اذان دينے کي سعادت مکرم فیروز عالم صاحب (مربی سلسلہ)کے حصے ميں آئي۔ تشہد،تعوذاور سورة الفاتحہ کی تلاوت کےبعدحضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےفرمایا:
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے فتح مکّہ کے بعد، مدینہ واپس آنے کے بعد بھی آپؐ کو بعض مہمات پیش آئیں
جن کا مَیں ذکر کروں گا۔
ایک ذکر ہے
سریّہ قیس بن سَعْد بن عُبَادہ
کا، یہ سَداع کی طرف سن آٹھ ہجری میں ہوا۔
جب آنحضرتؐ جعرانہ سے مدینہ واپس آئے، تو آپؐ نے دعوتِ اسلام کے لیے مختلف علاقوں کی طرف لشکر روانہ کیے، چنانچہ مہاجر بن ابی اُمَیَّہؓ کوصنعا، جو یمن کا دارالحکومت ہے، اِس کی طرف اور زیاد بن لبیدؓ کو حضر موت کی طرف روانہ فرمایا۔ اور ایک لشکر تیار کیا، جس کا امیر قیس بن سَعْدؓ کو مقرر فرمایا، آپؐ نے قیس بن سَعْدؓ کو چار سو آدمیوں کے ساتھ روانہ فرمایا تاکہ وہ یمن کے قبیلہ سَداع کو اسلام کی دعوت دیں۔
آپؐ نے اِس کے لیے ایک سفید جھنڈا باندھا اور ایک سیاہ پرچم اُن کے حوالے کیا۔ اُنہوں نے قناہ وادی کے ایک جانب پڑاؤ ڈالا۔
حضرت قیسؓ خزرج کے سردار حضرت سَعْد بن عُبَادہؓ کے بیٹے تھے، یہ بہت صاحب الرّائے اور بہادر شہسوار سمجھے جاتے تھے۔ جُود و سخا میں بھی بہت مشہور تھے۔
آپؓ قناہ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے کہ قبیلہ سَداع کے ایک شخص زیاد بن حارث کا اِدھر سے گزر ہوا، یہ کچھ عرصہ پہلے مسلمان ہو چکا تھا، جب اِس کو علم ہوا کہ یہ لشکر اُن کے قبیلے پر حملہ کرنے جا رہا ہے، تو اُس کواِس وقت حیرانی کیوں نہیں ہوئی، یقیناً اُس کو پتا ہو گا کہ قبیلے والے مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور یہ اب اُس کے جواب میں آ رہے ہیں۔
بہرحال جب اُس نے یہ دیکھا کہ اِن کے قبیلے پر حملہ ہونے جا رہا ہے، تو وہاں سے سیدھا وہ رسولِ اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ آپؐ نے جو لشکر بھیجا ہے، وہ واپس بلوا لیں، مَیں اپنی قوم کی ضمانت دیتا ہوں اور اُس کے قبولِ اسلام کا بھی وعدہ کرتا ہوں۔
آپؐ نے اُس کی بات قبول کرتے ہوئے لشکر کو واپس بلوا لیا۔
اِس کے بعد جب اُنہوں نے آہستہ آہستہ تبلیغ کی، تو اُنہوں نے اسلام بھی قبول کر لیا، کیونکہ حملہ کرنا اور زبردستی مسلمان بنانا تو اسلام کی تعلیم کے بھی خلاف ہے اور آنحضرتؐ کےاپنے فعل اور سُنّت کے بھی خلاف ہے۔آپؐ نے حضرت زیادؓ کو ہی اِن کا امیر مقرر کر دیا۔
سریّہ حضرت عُیَیْنَہ بن حِصْن ؓ فَزاری بطرف بنی تمیم،
اِس کا بھی ذکر ملتا ہے، یہ سریّہ محرّم نو ہجری میں بنو تمیم کی طرف حضرت عُیَیْنَہ بن حِصْن ؓ کی قیادت میں ہوا۔
اِس کا پس منظر یہ ہے کہ آنحضرتؐ نے حضرت بِشْر بن سُفْیانؓ کو قبیلہ خُزاعہ کی شاخ بنو کعب کی طرف صدقات یعنی اموالِ زکوٰۃ کی وصولی کے لیے بھجوایا، یہ لوگ سُقْیَا اور بنو تمیم کی زمین کے درمیان آباد تھے، چنانچہ حضرت بِشْرؓ کے حکم پر بنو خُزاعہ کا مال ہر طرف سے اُن کی طرف جمع ہونے لگا۔ بنو تمیم جو مسلمان نہیں تھے، اُنہیں یہ اموال بہت زیادہ لگے، تو وہ کہنے لگےکہ یہ کیوں ناحق ہمارے اموال لے رہا ہے؟ اور اپنی تلواریں نکال لیں۔ بنو خُزاعہ نے کہا کہ ہم نے دینِ اسلام قبول کر لیا ہے اور یہ ہمارے دین کا حکم ہے، لیکن بنو تمیم نے کہا کہ یہ بِشْر بن سُفْیان کسی اونٹ تک بھی نہیں پہنچ سکتا!
جھگڑے اور جنگ و جدال کی اِس کیفیت کو دیکھ کر حضرت بِشْرؓ بغیر کسی قسم کی وصولی کے خودہی وہاں سے واپس چلے آئے۔
یہ بات بنو خُزاعہ پر نہایت گراں گذری، بنو خُزاعہ نے بنو تمیم پر حملہ کیا اور اُن کو یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکال دیا کہ اگر تمہاری رشتہ داری نہ ہوتی، تو تم اپنے شہروں تک نہ پہنچ پاتے۔ آنحضورؐ کی طرف سے ضرور ہمیں کسی آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تم لوگوں نے حضورؐ کے نمائندے سے اِعراض کیا ہے اور اُسے ہمارے اموال کی زکوٰۃ لینے سے روک دیا۔
دوسری طرف حضرت بِشْرؓ نبی کریمؐ کے پاس آئے اور آپؐ کو حالات سے آگاہ کیا، تو آپؐ نے فرمایا کہ کون اِس قوم کو سبق سکھائے گا؟ سب سے پہلے حضرت عُیَیْنَہ بن حِصْن ؓنے لبّیک کہا۔ آنحضرتؐ نے آپؓ کو پچاس عرب شہسواروں کے ہمراہ بنو تمیم کی طرف روانہ فرمایا، جن میں مہاجرین اور انصار میں سے کوئی بھی نہیں تھا۔
آپؓ اپنے ساتھیوں کے ساتھ روانہ ہوئے، وہ رات کو چلتے اور صبح کو چھپ جاتے، حتّی کہ وہ اُس صحرا میں پہنچ گئے جہاں بنو تمیم فروکش تھے اور اپنے مویشی چَرا رہے تھے۔
جب بنو تمیم نے اِس لشکر کو دیکھا، تو سب کچھ چھوڑ کر وہاں سے بھاگ گئے، اِن کے گیارہ مرد، گیارہ عورتیں اور تیس بچے قید ہوئے، جنہیں وہ مدینہ لے آئے، اور نبی کریمؐ کے حکم کے مطابق حضرت رملہ بنتِ حارث رضی الله عنہا کے گھر ٹھہرا دیا گیا۔
بعد میں بنو تمیم کے اسّی یا نوے سرکردہ افراد پر مشتمل ایک وفد آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوا، اُس وفد میں اِن کے قبیلے کے بعض قادر الکلام شعراء اور خطیب بھی شامل تھے، یہ سب مسجد میں اُس وقت آئے، جب لوگ نمازِ ظہر کے لیے رسول اللهؐ کا انتظار کر رہے تھے۔
پھر رسول اللهؐ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور نماز پڑھ کر مسجد کے صحن میں بیٹھ گئے، تو وفد کے امیر نے کہا کہ اشعار اور خطاب میں ہم آپؐ سے مفاخرت چاہتے ہیں، یعنی تقریر اور شعر میں ہم سے مقابلہ کر لیں کہ کس قوم کا خطیب اور شاعر بلند پائے کا ہے۔
آپؐ نے فرمایا کہ شعر و بیان میں مفاخرت میری بعثت کا مقصد نہیں ہے، میرا مقصد تو الله تعالیٰ کی طرف لانا ہے۔
لیکن تمہاری آمد کی یہی غرض ہے، تو اپنے فن کا مظاہرہ کرو، ہم اِس کا جواب دے دیں گے۔
اَقْرَع بن حَابِسْ جو اِس وفد کے ساتھ آئے تھے، اُنہوں نے اپنے ساتھیوں کے سامنے بے ساختہ تبصرہ کیا کہ اِن کا خطیب ہمارے خطیب سے بڑھ کر ہے اور اِن کا شاعر ہمارے شاعر سے کہیں زیادہ بلند پائے کا ہے، یہ ہم سے بہت آگے ہیں۔ پھر جب لوگ فارغ ہو گئے، تو اُنہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
آنحضرتؐ نے بنو تمیم کے اسلام قبول کر لینے کے بعد اُن کے قیدی واپس لَوٹا دیے اور سب کو انعام و اِکرام سے بھی نوازا۔
اِس وفد میں شامل عُطارِدْ بن حَاجِبْ نے اسلام قبول کرنے کے بعد آنحضرتؐ کی خدمت میں ایک چادر ہدیہ کے طور پر پیش کی، یہ چادر اُسے کسریٰ نے دی تھی، کہا جاتا ہے کہ یہ چادر بہت اعلیٰ قسم کی ریشمی چادر تھی۔ جس پر سونے کا کام کیا گیا تھا۔
صحابہؓ نے چادر کی نفاست اور ملائمت دیکھی، تو وہ بہت متأثر ہوئے اور اِس کو اپنے ہاتھوں سے چھو کر دیکھنے لگے۔ صحابہؓ کے یہ انداز دیکھ کر آپؐ نے فرمایا کہ تم اِس چادر پر اتنے حیران ہو رہے ہو، جنّت میں سعد کی چادریں اِن سے بہت زیادہ نرم اور بہت زیادہ اچھی ہیں۔
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے بھی ایک عمومی رنگ میں اِس واقعے پر تبصرہ کیا ہے کہ آپؐ کا یہ کلام ایک استعارے کے رنگ میں تھا، جس میں سعد کے اِس راحت کے مقام کی طرف اشارہ کرنا مقصود تھا، جو اُنہیں جنّت میں حاصل ہوا تھا۔
پھر ایک سریّہ،
سریّہ قُطبہ بن عامر
ہے، جو صفر نو ہجری میں ہوا۔ قُطبہ بن عامر کو بیس آدمی دے کر قبیلہ خَثْعَم کی طرف آنحضرتؐ نے بھیجا، ایک روایت کے مطابق اُنہیں قبالہ کے نواح میں بھیجا، جبکہ ایک روایت کے مطابق بِیْشَہ کے نواح میں بھیجا اور اُن کو یہ حکم دیا کہ ایک دَم سے اِن پر حملہ کریں۔
حضورانور نے فرمایا کہ یقیناً یہ لوگ شرارت کر رہے ہوں گے۔
راستے میں اُنہوں نے ایک آدمی کو پکڑا، اِس سے دریافت کیا، تو اُس نے اپنے آپ کو گونگا ظاہر کیا۔ لیکن جب یہ قبیلے کے قریب پہنچے، تو اِس نے چیخ چیخ کر اپنے قبیلے کو متنبّہ کرنا چاہا، چنانچہ اِس دھوکہ دہی پر اُس کو قتل کر دیا گیا۔ چونکہ اب قبیلے والے کچھ چوکنے ہو چکے تھے، اِس لیے رات ہونے کا انتظار کیا گیا اور جب ذرا اندھیرا ہو گیا، تو مسلمانوں نے ایک دَم اِن پر حملہ کر دیا، سخت جنگ ہوئی اور فریقین کثرت سے زخمی ہوئے اور مخالف قبیلے کے بہت سے لوگ مارے گئے اور حضرت قُطبہ مالِ غنیمت میں اونٹ، بکریاں اور عورتیں مدینے کی طرف لے کر آئے۔ خُمس نکالنے کے بعد اِن کے حصّے میں چار چار اونٹ یا چالیس چالیس بکریاں آئیں۔
پھر
سریّہ ضِحاک بن سُفْیان کِلابیؓ
کا ذکر ہے۔ یہ ربیع الاوّل نو ہجری میں بنو کِلاب کی طرف ہوا۔ آنحضرتؐ نے حضرت ضِحاک بن سُفْیان کِلابیؓ کو قِرْطاع کے مقام پر اُن کے اپنے قبیلہ بنو کِلاب کی طرف بھیجا، قِرْطاع، بنوبَکر کی ایک شاخ کا نام ہے۔ وہ اُنہیں نجد میں ذُوالْجَلاوَہ کے مقام پر ملے۔ اُنہوں نے اسلام کا پیغام پہنچایا، مگر قبیلے والوں نے انکار کر دیا اور نوبت لڑائی تک پہنچ گئی۔ اُنہوں نے اہلِ قِرْطاع کو شکست دی اور مالِ غنیمت حاصل کیا۔
پھر
سریّہ حضرت عَلْقَمَہ بن مُجَذّذؓ
بطرف جدّہ کا ذکر ہے، ابنِ سَعْد رحمہ الله نے لکھا ہے کہ یہ سریّہ ربیع الثانی نو ہجری میں ہوا، جبکہ بعض دوسری روایات کے مطابق صفر نو ہجری میں ہوا۔
آنحضرتؐ کو خبر ملی کہ اہلِ حبشہ میں سے کچھ جنگجو جدّہ کے ساحل پر اُترے ہیں، بعض روایات کے مطابق وہ اہلِ مکّہ کےخلاف ڈاکہ زنی کرنا چاہتے تھے، ایک کتاب میں لکھا ہے کہ اِن لوگوں نے سمندر پار کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
آپؐ نے حضرت عَلْقَمَہؓ کو تین سو افراد کی کمان دے کر اِن کی طرف بھجوایا، جو لوگ اہلِ حبشہ سے جدّہ کے ساحل پر اُترے تھے، اُن کو آپؓ کی آمد کا علم ہوا، تو وہ لوگ اپنی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر میں فرار ہو گئے۔ آپؓ نے ایک جزیرے تک اُن کا پیچھا کیا۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ اِس مہم کا ایک واقعہ قابلِ ذکر ہے، حضرت ابو سعید خُدریؓ کی روایت کے مطابق جب مہم سے فارغ ہو کر جلد واپس جانے کے لیے ایک گروہ نے اپنے امیر سے اجازت چاہی، تو اُنہوں نے اُس کو اجازت دی اور اُن پر عبدالله بن حُذافہ سَہْمِی کو امیر مقرر کیا۔ اُن کی طبیعت میں مزاح تھا۔ یہ لوگ راستے میں اُترے۔ اُن لوگوں نے آگ جلائی تاکہ وہ آگ تاپیں۔ سُنُنْ ابنِ ماجہ میں آیا ہے کہ عبدالله سَہْمِی نے کہا کہ کیا میرا تم پر حق نہیں کہ تم سنو اور اطاعت کرو، اُنہوں نے کہا کہ کیوں نہیں، اُس نے کہا کہ مَیں تمہیں حکم دیتا کہ تم اِس آگ میں کُود جاؤ۔ کچھ لوگ کھڑے ہو گئے اور کُودنے کے تیار ہو گئے۔ جب اُسے یقین ہو گیا کہ وہ تو کُودنے لگے ہیں، تو اُس نے کہا کہ اپنے آپ کو روک لو، کیونکہ مَیں تو صرف تم سے مذاق کر رہا تھا۔
جب واپس آئے، تو لوگوں نے اِس بات کا ذکر نبی کریمؐ سے کیا، تو آپؐ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ اگر وہ اِس میں داخل ہوتے، تو قیامت تک اِس میں سے نہ نکلتے، چونکہ اطاعت تو معروف بات میں ہوتی ہے۔
حضرت مصلح موعودؓ نے بھی اِس واقعے کو بیا ن کیا ہے کہ جو امور شریعت کے خلاف ہوں، اِن میں اطاعت نہیں ہوتی۔
پھر
سریّہ حضرت علیؓ
بطرف فُلس بنو طَے کا بھی ذکر آتا ہے، جو ربیع الثانی نو ہجری میں ہوا، فُلس نجد کے علاقے کا ایک بُت تھا اور قبیلہ طَے اِس کی عبادت کرتا تھا۔ اِس پر نذر و نیاز کے ساتھ ساتھ اسلحہ بھی نذر کیا کرتا تھا۔
رسول اللهؐ نے حضرت علیؓ کو ڈیڑھ سو انصار کے ہمراہ جس میں سو اونٹ اور پچاس گھوڑے تھے، بنو طَے کے بُت فُلس کو گرانے کے لیے روانہ فرمایا۔ اِس لشکر کی یہ خصوصیت تھی کہ سوائے حضرت علیؓ کےباقی سب لوگ انصار تھے، مہاجرین وغیرہ میں سے کوئی نہیں تھا۔
بنو طَے عرب کا ایک مشہور قبیلہ ہے، یہ لوگ شام کےقریب آباد تھے،
آپؐ نے اِس سریّہ کے لیے حضرت علیؓ کو ایک کالے رنگ کا بڑا جھنڈا اور سفید رنگ کا ایک چھوٹا پرچم عطا فرمایا۔
آپؓ صبح کے وقت حملہ آور ہوئے اور اُن کے بُت فُلس کو منہدم کر دیا، بہت سارے قیدی اور مال مویشی قبضے میں کیے۔ مشہور سخی حاتم طائی کا یہ قبیلہ تھا اور قیدیوں میں اِس کی بیٹی سفانہ بھی شامل تھی، اُس کا بیٹا عدی جو قبیلے کا سردار تھا، وہ بھاگ گیا اور ملک شام کی طرف نکل گیا۔ قیدیوں پر ابو قتادہؓ کو نگران بنایا گیا اور مال مویشی پر عبدالله بن عتیکؓ کو نگران مقرر کیا گیا۔ آنحضرتؐ کے لیے خُمس یعنی پانچواں حصّہ نکال کر باقی مالِ غنیمت تقسیم کر لیا گیا۔ البتّہ حاتم کی بیٹی سفانہ کو اُنہوں نے تقسیم نہیں کیا اور گرفتار کر کے مدینہ لے آئے۔
حاتم طائی کی بیٹی کو تمام قیدیوں کے ساتھ مسجدِ نبویؐ کے دروازے کے ساتھ ایک خیمے میں رکھا گیا، وہ بہت باہمّت اور زِیرک عورت تھی، جب آنحضرتؐ اِس کے خیمے کے پاس سے گذرے، تو وہ آپؐ کی تعظیم کے لیے کھڑی ہو گئی اور عرض کی کہ یا رسول اللهؐ! میرا باپ فوت ہو چکا ہے اور جو سرپرست بھائی تھا، وہ فرار ہو گیا ہے، پس مجھ پر احسان فرمائیں۔ الله آپؐ پر کرم فرمائے گا۔ آپؐ نے پوچھا کہ تیرا سرپرست کون ہے؟ اُس کے عدی بن حاتم طائی بتانے پر آپؐ نے فرمایا کہ وہی جو الله اور اُس کے رسولؐ سے بھاگا ہوا ہے۔ آپؐ یہ فرما کر وہاں سے رخصت ہو گئے۔ اگلے روز بھی ایسا ہی ہوا اَور وہ مایوس ہو گئی۔ تیسرے دن جب آنحضرتؐ اِس کے خیمے کے پاس سے گزرے، تو آپؐ کے ساتھ حضرت علیؓ بھی تھے، جو آپؐ کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ حضرت علیؓ نے سفانہ کو اشارہ کیا، وہ اُٹھ کر پھر اپنا مدّعا پیش کرے، وہ فوراً تعظیم کے ساتھ کھڑی ہو گئی اور اپنی وہی درخواست پھر آنحضرتؐ کی خدمت میں پیش کی۔ آپؐ نے فرمایا کہ مَیں نے تیری درخواست قبول کر لی ہے، تُو اب آزاد ہے، لیکن یہاں سے جانے میں جلد بازی سے کام نہ لینا۔ ایک روایت کے مطابق وہ آزادی کے فوراً بعد مسلمان بھی ہو گئی تھی۔
کچھ دن کے بعد بنو خُزاعہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، جو شام جانے کا ارادہ رکھتے تھے، سفانہ کو اِن کا علم ہوا، تو اِس نے آپؐ کی خدمت میں عرض کی کہ وہ اِن لوگوں پر اعتماد رکھتی ہے، اِس لیے اُسے اِن کے ہمراہ شام جانے کی اجازت دی جائے۔ آپؐ نے اُسے اجازت عطا فرمائی اور اُسے ساتھ کپڑے اور سواری اور زادِ راہ بھی مہیا فرمایا۔
وہاں سے وہ رخصت ہو کر اپنے بھائی عدی کے پاس شام پہنچ گئی۔ عدی نے اپنی بہن سے پوچھا کہ بتاؤ تو سہی کہ محمد(صلی الله علیہ وسلم) کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟
سفانہ، جو کہ آنحضرتؐ کے اخلاق دیکھ کر مسلمان ہو چکی تھی، کہنے لگی کہ الله کی قسم! میرا خیال ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے تم اُن کے پاس چلے جاؤ، اگر وہ واقعی نبی ہیں، تو اُن کی طرف جلدی جانے والا کامیاب و کامران ہو گا۔ اور اگر وہ بادشاہ ہیں، تو بھی تمہاری عزت و شرف میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ عدی کہنے لگا کہ یہ رائے تو بہت اچھی ہے۔ اور پھر وہ جلدی تیار ہو کر مدینہ پہنچ گیا۔
رسول اللهؐ نے ان سے گفتگو کا آغاز فرمایا، اِن کے مذہب اور اور اِن کے ذاتی معاملات کے بارے میں بھی کچھ باتیں بیان کیں، جن میں سے بعض باتیں ایسی تھیں کہ سوائے عدی کےکسی کو معلوم نہیں تھیں، جس پر عدی کو یقین ہو گیا کہ یہ واقعی رسول ہیں، اور عرض کیا کہ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ آپؐ واقعی الله کے رسول ہیں، کیونکہ آپؐ کو بعض مخفی باتوں سے بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
عدی کہتے ہیں کہ آپؐ کی خوش اخلاقی اور اِن تمام باتوں کو دیکھ کر مَیں مسلمان ہو گیا۔
حضرت علیؓ کی اِس مہم کے کچھ دیر بعد طَے قبیلے کا وفد آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اَور اُنہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
پھر
سریّہ عُکاشہ بن مِحْصَن ؓ
کا ذکر ہے، جو جناب کی طرف تھا، یہ سریّہ ربیع الثانی نو ہجری میں رونما ہوا۔ آپؓ کا یہ سریّہ مدینہ منورہ کے شمال میں عُذرہ اور بَلّی قبائل میں پیش آیا، جو جناب کے آس پاس رہتے تھے، بعض روایات میں اِس علاقے کا نام جِباب بھی بیان ہوا ہے۔ اِس سریّہ کی مزید تفصیلات زیادہ بیان نہیں ہوئیں۔ بس اتنا ہی ذکر ہے کہ یہ سریّہ ہوا تھا۔
حضور انور نے آخر پر فرمایا کہ اب
غزوۂ تبوک کے بارے میں بعض ابتدائی باتیں
پیش کر دیتا ہوں، جو رجب نو ہجری بمطابق ستمبر ۶۳۰ عیسوی میں ہوا،
غزوۂ طائف کے بعد ماہِ رجب نو ہجری میں آپؐ اِس غزوے کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ آنحضرتؐ کی حیاتِ مبارکہ کا آخری غزوہ تھا۔
تبوک نام کے چشمے پر ٹھہرنے کی وجہ سے اِس غزوے کو غزوۂ تبوک کہا جاتا ہے۔ رسول اللهؐ نے تبوک کے قریب پہنچ کر شرکائے قافلہ سے فرمایا کہ کل تم تبوک کے چشمے پر پہنچ جاؤ گے، ان شاء الله!
قرآنِ کریم میں غزوۂ تبوک کا ذکر ساعۃ العُسر یعنی تکلیف کی گھڑی کے نام سے کیا گیا ہے، اِس لیے اِس غزوہ کو غزوۃ العُسربھی کہا جاتا ہے، چونکہ مسلمانوں کو اِس میں بہت دشواری اور تنگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بعدازاں حضور انور نے غزوۂ تبوک کے اسباب، عوامل اور پسِ منظر کا تذکرہ فرماتے ہوئے، بنیادی سبب کی جانب نشاندہی فرمائی کہ بنیادی سبب یہی معلوم ہوتا ہے کہ مکّہ فتح ہونے کے بعد اور جنگِ حُنین میں بنو ھوازن جیسے طاقتور ترین قبیلےکو بھی عبرتناک شکست دینے کے بعد عرب کے اِرد گرد کے تمام قبائل پر مسلمانوں کو غلبہ ملنے کے بعد یہود و نصاریٰ اور منافقین ایک مرتبہ پھر سر جوڑ کر بیٹھے اور اپنی ہر کوشش کو ناکام ہوتے دیکھ کر اُس وقت کی سُپر پاور یعنی قیصرِ روم سے مدد مانگنے کا فیصلہ کیا اور اِس کے لیے اُنہوں نے ایک بہت بڑی اور بہت ہی خطرناک پلاننگ کی، ایک طرف قیصرِ روم سے رابطے کیے اور اُس کو تیار کیا کہ وہ اپنی فوج بھیجے تاکہ مسلمانوں کا قلع قمع کیا جائے اور دوسری طرف منافقین نے یہ کیا کہ مدینے میں پہلے سے ہی یہ افواہیں اُڑانا شروع کر دیں کہ قیصرِ روم اپنے لشکر بھیج رہا ہے، جو مدینے میں محمد صلی الله علیہ وسلم سمیت تمام مسلمانوں کا قلع قمع کر دے گا۔ اِس طرح سے منافقین اور دوسرے مخالف یہ چاہتے تھے کہ زیادہ ممکن ہے کہ آنحضرتؐ خود ہی لشکر کا مقابلہ کرنے کے لیے مدینہ سے شام کی طرف نکل جائیں گے اور دونوں صورتوں میں سفر کی مشکلات یا قیصرِ روم سے مقابلہ مسلمانوں اور آنحضرتؐ کی نعوذ بالله! ہلاکت کو یقینی بنا دے گا۔
مزید برآں حضور انور نے عندیہ دیا کہ بہرحال یہ اِن کی خواہش تھی، اِس کی اب مزید لمبی تفصیل ہے، جو ان شاء الله! آئندہ بیان کروں گا۔
خطبہ ثانیہ سے قبل حضور انور نے
ربوہ میں مسجد مہدی پر دہشت گردانہ حملہ
کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ آج ربوہ میں، مسجد مہدی، جو گولبازار میں ہے، اُس پر دہشت گردوں نے حملہ بھی کیا۔ اور ہمارے پانچ چھ لوگ وہاں زخمی ہیں، دو بہت زیادہ زخمی ہیں، اُن کا آپریشن وغیرہ بھی ہو رہا تھا۔ الله کرے کہ اُن کی حالت بہتر ہو گئی ہو، باقی زخمیوں پر بھی الله تعالیٰ فضل فرمائے، اور بعض جو دوسیریس زخمی ہیں، اُن کے پیٹ میں گولیاں لگی ہیں۔ ایک دہشت گرد کو بھی ہمارے سیکیورٹی والوں نے مار دیا ہے اور ایک دَوڑ گیا ہے، یہی ابھی تک کی رپورٹ ہے، تفصیلات ابھی آئیں گی۔
الله تعالیٰ اِن دہشت گردوں اور قانون توڑنے والوں اور جماعت کے مخالفین کو جلد پکڑے۔
پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ اور حکومت یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پنجاب میں سو فیصد جرائم کنٹرول ہو چکے ہیں اور اب کوئی مجرم نہیں رہا، لیکن احمدیوں پر جو آئے دن حملے ہوتے ہیں، قتل، شہید کیے جا رہے ہیں یا زخمی کیے جا رہے ہیں، اُن کے مالوں کو آگیں لگائی جا رہی ہیں، اِس کو شاید یہ جرم سمجھتے نہیں ہیں! الله تعالیٰ اِن حکومتوں کو بھی عقل دے اور جلد ہی الله تعالیٰ جماعت کے حق میں نشان ظاہر فرمائے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: غزوہ ٔ حنین کے تناظر میں سیرت نبوی ﷺ کا بیان نیز بعض مرحومین کا ذکر خیر۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۳؍اکتوبر ۲۰۲۵ء




