خدامِ احمدیت

(منظوم کلام حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ)
ہیں بادہ مست بادہ آشامِ احمدیت
چلتا ہے دور مینا ؤ جامِ احمدیت
تشنہ لبوں کی خاطر ہر سمت گھومتے ہیں
تھامے ہوئے سبوئے گلفامِ احمدیت
خدامِ احمدیت، خدامِ احمدیت
جب دہریت کے دم سے مسموم تھیں فضائیں
پھوٹی تھیں جابجا جب اِلحاد کی وبائیں
تب آیا اک منادی۔ اور ہر طرف صدا دی
آؤ کہ اِن کی زد سے اِسلام کو بچائیں
زور دُعا دکھائیں، خدامِ احمدیت
پھر باغ مصطفیؐ کا دھیان آیا ذُوالمِنَن کو
سینچا پھر آنسوؤں سے احمد نے اِس چمن کو
آہوں کا تھا بلاوا پھولوں کی اَنجمن کو
اور کھینچ لائے نالے مرغانِ خوش لحن کو
لوٹ آئے پھر وطن کو، خدامِ احمدیت
چمکا پھر آسمان مشرق پہ نامِ احمدؑ
مغرب میں جگمگایا ماہ تمامِ احمدؑ
وہم و گماں سے بالا عالی مقامِ احمدؑ
ہم ہیں غلامِ خاک پائے غلامِ احمدؑ
مرغان دامِ احمدؑ، خدامِ احمدیت
(کلام طاہر، ایڈیشن ۲۰۰۴ء صفحہ۱۳۔۱۴)
مزید پڑھیں: نام محمدؐ، کام مکرم، صلّی اللہ علیہ وسلّم




