متفرق شعراء

دارالوصال

بد تر ہر ایک سے ہوں میں اپنے خیال میں
’شاید اسی سے دخل ہو دارالوصال میں‘

حمد و ثنا میں جھوم رہے ہیں اسیرِ عشق
ہے جذب اس قدر ترے حسن و جمال میں

ہر تشنہ لب نے پائی نئی زندگی یہاں
تاثیر ہے عجب ترے آبِ زُلال میں

آیا جو رحم، فضل سے کشکول بھر دیا
صورت کچھ ایسی بن گئی میری سوال میں

اُمت کی داستاں پہ تدبر سے کھل گیا
قرآں ہے پہلی شرط عروج و زوال میں

پایا ہے میں نے فیض خلافت سے بے شمار
جاری رہے دعا ہے اب اولاد آل میں

(امة الباری ناصر۔ امریکہ)

مزید پڑھیں: لگے رہو دعاؤں میں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button