خطبہ عید

خطبہ عید الفطر سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ10؍اپریل 2024ء

ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ عید صرف کھانے پینے اور خوشیاں منانے کا نام نہیں ہے بلکہ تقویٰ پر چلتے ہوئے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا نام ہے

عید کی حقیقی خوشی تو ہمیں اس وقت پہنچ سکتی ہے جب ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہوں پر چلتے ہوئے اس کے انعاموں سے فیض پانے والے ہوں

ہمیں اپنے رمضان کو وہ پھلدار درخت بنانے کی ضرورت ہے جو مستقل پھل دینے والا ہو اور تبھی ہماری حقیقی عید ہو سکتی ہے

آج ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری بہتری کے لیے گذشتہ دنوں میں جو حالات ایک خاص ماحول مہیا فرما کر میسر فرمائے تھے اور ہر ایک نے اس سے فیض اٹھانے کی کوشش کی تھی، جن میں حقوق اللہ کی ادائیگی بھی تھی اور حقوق العباد کی ادائیگی بھی تھی اور اپنے نفس کی اصلاح بھی تھی، اپنے ماحول اور اپنے گھر میں نیکیاں پھیلانے کی طرف توجہ بھی تھی، اسے اب ہم نے جاری رکھنا ہے تا کہ اس کے پھل ہمیشہ ہم کھاتے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بنتے چلے جائیں

بیوی اور اس کے رشتہ داروں کا خیال رکھنا، اپنے رحمی رشتہ داروں کا خیال رکھنا، اپنے دوستوں کا خیال رکھنا، اپنے ہمسایوں کا خیال رکھنا یہ بہت ضروری ہے۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر نصیحت فرمائی ہے

ہر طرح کی آگ نے دنیا کو گھیرا ہوا ہے ایسے میں آگ سے نکلنے کے لیے خدائے ذوالعجائب سے پیار کی بہت ضرورت ہے

اگر ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد ادا نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دُور جا رہے ہوں گے اور اگر یہ کریں گے تو پھر ہماری مغفرت کے بھی سامان ہو رہے ہوں گے اور ہم شیطان کے چنگل سے نکل کر اپنے آپ کو آگ سے بھی محفوظ کر رہے ہوں گے اور یہی وہ حقیقی عید ہے جو ایک مومن چاہتا ہے اور چاہنی چاہیے

’’درستی اخلاق کے واسطے ایسی ہستی پر ایمان کا ہونا ضروری ہے جو ہر حال اور ہر وقت میں اس کے نگران اور اس کے اعمال اور افعال اور اس کے سینہ کے بھیدوں کی شاہد ہے۔‘‘ (حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)

یہ بھی یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کے لیے مستقل استغفار کی بھی ضرورت ہے۔ اور پھر یہی چیز ہے جواس فیض کو کبھی ختم نہ ہونے دے گی، جو ہمیشہ کی عید کا سامان کرتی ہے

نیکی کمانے اور عید کی خوشیاں منانے میں غریبوں کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ یہی حقیقی عید ہے

آپ سب کو عید مبارک ہو، دنیا میں بسنے والے تمام احمدیوں کو بھی عید مبارک ہو

پاکستان کے احمدیوں اور اسیران کے لیے، یمن کے اسیران کے لیے، دنیا کے دیگر ممالک میں مشکلات میں مبتلا احمدیوں کے لیے، عمومی طور پر ہر مظلوم اور معصوم کے لیے، شہدائے احمدیت بالخصوص شہدائے برکینا فاسو اور اُن کے لواحقین کے لیے، رمضان میں مالی قربانی کرنے والوں کے لیے نیز امّتِ مسلمہ کے لیے دعا کی تحریک

خطبہ عید الفطر سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ10؍اپریل 2024ءبمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، (سرے) یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج ہم عید منا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ موقع عطا فرمایا کہ ہم اپنی زندگی میں ایک اَور عید دیکھیں۔

عید کی حقیقی خوشی تو ہمیں اس وقت پہنچ سکتی ہے جب ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہوں پر چلتے ہوئے اس کے انعاموں سے فیض پانے والے ہوں۔

رمضان کے دوران سینکڑوں لوگوں نے مجھے یہ بات لکھی کہ ہم رمضان سے حقیقی فیض پانے والے ہوں اور رمضان میں وہ عمل کریں جن سے اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو جائے۔ اس کے لیے ہر احمدی نے اپنی اپنی بساط کے مطابق کوشش بھی کی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوششیں قبول بھی فرمائے اور انہیں پھل بھی لگیں۔ اچھا پھلدار درخت تو وہی ہوتا ہے جسے مستقل پھل لگتے رہیں نہ کہ ایک سال پھل لگے اور تھوڑے عرصہ کے لیے پھل لگے اور پھر ختم ہو جائے۔ پس

ہمیں اپنے رمضان کو وہ پھلدار درخت بنانے کی ضرورت ہے جو مستقل پھل دینے والا ہو اور تبھی ہماری حقیقی عید ہو سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ تو ہم پر اتنا مہربان ہے کہ ہمیں اپنی رضا کے حصول کے لیے مختلف مواقع فراہم کرتا رہتا ہے اور رمضان کا مہینہ ان میں سے ایک ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا عشرہ بھی ہے، پھر مغفرت کا عشرہ ہے، پھر آگ سے بچنے کا عشرہ ہے۔

پس اللہ تعالیٰ تو ایسے انعامات دینے والا ہے جس سے ہم اپنی دنیا و عاقبت سنوار سکیں لیکن اگر ہم اس سے فیض نہ اٹھائیں تو یہ ہماری کمزوری ہے۔ پس

آج ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری بہتری کے لیے گذشتہ دنوں میں جو حالات ایک خاص ماحول مہیا فرما کر میسر فرمائے تھے اور ہر ایک نے اس سے فیض اٹھانے کی کوشش کی تھی، جن میں حقوق اللہ کی ادائیگی بھی تھی اور حقوق العباد کی ادائیگی بھی تھی اور اپنے نفس کی اصلاح بھی تھی، اپنے ماحول اور اپنے گھر میں نیکیاں پھیلانے کی طرف توجہ بھی تھی، اسے اب ہم نے جاری رکھنا ہے تاکہ اس کے پھل ہمیشہ ہم کھاتے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بنتے چلے جائیں۔

پس ہمیں ان باتوں پر اب غور کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں جو ہم پر رحمت کے دروازے کھولے ہیں ان سے ہم کس طرح مستقل فیض پاتے چلے جانے والے بن سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صرف دس دن کے لیے رمضان میں رحمت کے دروازے نہیں کھولے تھے بلکہ ان رحمت کے دروازوں کے ذریعہ آگے مغفرت کے دروازوں میں داخل ہونے کا ذریعہ بنایاتھا اور پھر آگ سے بچانے کا ذریعہ بنایا تھا۔ رحمت کیا چیز ہے؟ اس کا مطلب ہے انتہائی رحم اور انتہائی ہمدردی کا سلوک اور جذبات ، انتہائی نرمی کا سلوک، بہت زیادہ مدد اور فائدہ پہنچانا، یہ ہے رحمت۔ غلطیوں کو معاف کرنا اور ان سے صرف نظر کرنا، یہ ہے رحمت۔ پس جب اللہ تعالیٰ یہ سلوک کرنا چاہتا ہے تو کیا کوئی عقل مند ہو گا جو یہ کہے کہ نہیں مجھے یہ سلوک نہیں چاہیے یا صرف دس دن کے لیے یا ایک مہینے کے لیے مجھے اس سلوک کی ضرورت ہے؟ بلکہ انسان تو کوشش کرے گا کہ یہ سلوک مجھ سے مستقل ہو اور جب یہ خواہش ہے کہ مستقل یہ سلوک مجھ سے ہو تو پھر اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو بھی ہمیں ڈھالنے کی ضرورت ہے تا کہ مغفرت کے دروازے میں ہم داخل ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو ڈھانپ لے، ہمیں بخش دے، ہمیں اپنی حفاظت کے حصار میں لے کر گناہوں کی سزا سے بھی محفوظ کرے۔ یہ تبھی ہوسکتا ہے جب ہم آئندہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرتے ہوئے گناہوں سے بچنے کی مستقل کوشش کرتے رہیں، نیکیاں بجا لانے کی مستقل کوشش کرتے رہیں۔ ایک دوسرے کے حق ادا کرنے کی مستقل کوشش کرتے رہیں۔

حقوق کی ادائیگی نہ کرنا بھی گناہوں میں شامل ہے۔

پس باریکی سے ہمیں اپنے جائزے لینے چاہئیں اور پھر جب یہ ہو تو پھر انسان آگ سے بچتا ہے۔ دنیا کی آگ سے بھی اور آخرت کی آگ سے بھی۔ ہر اس کام سے ہمیں پرہیز کرنا ہو گا جو شیطانی فعل ہے۔

شیطان ہی ہے جو ہمیں دنیا و آخرت کی آگ میں دھکیلتا ہے اور اس سے بچنے کے لیے ہمیں جہاں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کے لیے بہت زیادہ استغفار کرنا چاہیے وہاں اپنے اعمال بھی اس طریق پر بجا لانے چاہئیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے۔

ہمیں اپنے ایمان کو بھی مضبوط کرنا ہو گا اور اپنے عمل کا بھی جائزہ لینا ہو گا اور ایک مومن کے لیے یہی سب سے بڑا کام ہے کہ وہ اپنے ایمان میں روز بروز ترقی کرتا رہے اور اسے مضبوط سے مضبوط تر کرتا رہے اور اسی طرح نیکیاں بجا لا کر اپنے اعمال کو سجاتا رہے تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنتا رہے۔ آجکل جو دنیا کے حالات ہیں اس پر تو ہمیں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے اس سے قرب کے تعلق میں بڑھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

ہر طرح کی آگ نے دنیا کو گھیرا ہوا ہے۔ ایسے میں آگ سے نکلنے کے لیے خدائے ذوالعجائب سے پیار کی بہت ضرورت ہے۔

یہی ہمیں زمانے کے امام کی نصیحت ہے۔ یہی آپؑ نے ہمیں فرمایا۔

پس ایک احمدی کو اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔ عید میں صرف عید کی خوشیوں میں ہی مصروف نہ ہو جائیں بلکہ آج بھی ذکر الٰہی اور استغفار کی طرف بہت توجہ کریں۔ آج اگر ہم یہاں عید منا رہے ہیں تو ایسے لوگ بھی ہیں جن پر شیطانوں نے زمین تنگ کی ہوئی ہے، جن کو رہنے کو چھت تو کیا کھانے کو روٹی بھی میسر نہیں ہے۔ پس ایسے میں جہاں اپنے لیے استغفار کریں اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بنیں وہاں ان محروموں کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے بھی آسانیاں پیدا کرے اور انہیں بھی اس آگ سے نکالے۔ اللہ تعالیٰ انسانیت پر رحم فرمائے۔ اسی طرح

آج کی نیکیوں میں یہ بہت بڑی نیکی ہے کہ ان کے لیے چیریٹی اداروں کو مالی مدد بھی دیں۔ ان کے لیے بھی پیٹ بھر کر روٹی کھانے سے عید کا ماحول پیدا کریں۔

صرف یہی نہیں کہ جو فلسطین یا سوڈان میں جنگ میں تکلیف دہ ماحول میں ہیں ان کی تکلیف دُور کی جائے بلکہ عمومی طور پر دنیا میں جو بھی بھوک کی تکلیف ہے وہ دُور کی جائے اور بڑی طاقتیں صرف اس وقت مدد دیتی ہیں جب ان کو وہ رب ماننے کا اقرار کریں۔ یہ اقرار کریں کہ ہمیں یہی لوگ پال رہے ہیں۔ ان کے لیے بھی ہمیں ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہوئے، رحم کے جذبات رکھتے ہوئے مدد کی کوشش کرنی چاہیے۔ پھر جو ان کے چہروں پر خوشی دیکھ کر دل کو تسکین ہوتی ہے وہی عید کی حقیقی خوشی ہے۔ پس اس طرف بھی ہمیں خاص طور پر توجہ دینی چاہیے۔

حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک موقع پر رب العالمین اور تقویٰ کے مضمون کو بیان فرماتے ہوئے بڑی خوبصورت وضاحت بیان فرمائی۔ آپؓ نے فرمایاکہ’’جس طرح سے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر رحم کرتا اور شفقت اور پیار کی نگاہ سے دیکھتا ہے تم بھی اس کی مخلوق کے ساتھ سچی محبت اور حقیقی شفقت کرو اور رحم اور ہمدردی کے ساتھ ایک دوسرے سے برتاؤ کرو … خدا تعالیٰ کی صفت ہے کہ بدکار اور غافل بھی اس کی ربوبیت سے فیض پاتے ہیں اور حصہ لیتے ہیں۔ پس

تم بھی خدا کی مخلوق کے ساتھ مہربانی، نیکی اور سلوک کرنے میں مسلم غیر مسلم کی قید اٹھا دو اور تمام بنی نوع انسان سے جہاں تک ممکن ہو احسان کرو۔

خدا رب العالمین ہے یہ بھی رحیم للعالمین ہو جاوے‘‘ یعنی انسان بھی۔ فرمایا ’’پس یہ تقویٰ ہے۔‘‘

(خطبات نور صفحہ 3خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مورخہ 27؍جنوری 1899ء)

پس اللہ تعالیٰ کے حقیقی بندے کواُسی وقت خوشی پہنچتی ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا پرتَو بنے اور پھر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرے اور انسانیت کی خدمت اور اس سے ہمدردی بھی اس کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رمضان کے شروع میں ہی رحم اور ہمدردی دکھا کر ہم پر جو احسان کیا ہے اس کا تقاضا ہے کہ ہم بھی یہ فیض جاری رکھیں اور رمضان کی برکات سے فیض کو آگے بھی پہنچائیں۔ اگر ہم اسی طرح اپنی زندگی گزاریں گے، یہ اعمال کریں گے تو حقیقی رنگ میں اللہ تعالیٰ کی بات ماننے والے بھی ہوں گے جس کی ہمیں اللہ تعالیٰ نے خاص تاکید فرمائی ہے۔ ہمیں ہمیشہ یہ بات سامنے رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ہر حرکت و سکون کو دیکھ رہا ہے۔

اگر ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد ادا نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دُور جا رہے ہوں گے اور اگر یہ کریں گے تو پھر ہماری مغفرت کے بھی سامان ہو رہے ہوں گے اور ہم شیطان کے چنگل سے نکل کر اپنے آپ کو آگ سے بھی محفوظ کر رہے ہوں گے اور یہی وہ حقیقی عید ہے جو ایک مومن چاہتا ہے اور چاہنی چاہیے

ورنہ شیطان نے تو حملہ کرنے کا کھلا چیلنج دیا ہوا ہے۔ اور تقویٰ سے ہی اس کے حملوں سے بچا جا سکتا ہے ورنہ شیطان حملے کرتا چلا جائے گا اور تقویٰ کا ایک اہم جزو حقوق العباد کی ادائیگی ہے۔ پس

ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ عید صرف کھانے پینے اور خوشیاں منانے کا نام نہیں ہے بلکہ تقویٰ پر چلتے ہوئے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا نام ہے۔

یہ مقام جس کو حاصل ہو جائے اور جو اس کے لیے اپنی پوری کوشش کرے وہی حقیقی عید سے فیض پا سکتا ہے۔ وہ عید جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنانے والی عید ہے۔ وہ عید جو دنیا و عاقبت سنوارنے والی عید ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک جگہ فرماتا ہے کہ وَ اَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَہٗ جَزَآءَۨ الۡحُسۡنٰی ج وَ سَنَقُوۡلُ لَہٗ مِنۡ اَمۡرِنَا یُسۡرًا(الکہف : 89) اور جو بھی ایمان لایا اور نیک عمل کیے تو اس کے لیے جزا کے طور پر بھلائی ہی بھلائی ہے اور ہم ضرور اس کے لیے آسانی کا فیصلہ کریں گے۔ حسنیٰ کا مطلب ہے بہترین چیز، بہترین انجام، جنت اور کامیابی۔ پس یہ خوبصورت انعامات ہیں جس کو مل جائیں اس کی اس سے بڑھ کر اَور کیا عید ہو سکتی ہے۔

جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسانی کا فیصلہ کر دے اسے اَور کیا چاہیے لیکن ایمان میں مضبوطی اور نیک اعمال اللہ تعالیٰ نے شرط رکھی ہے۔ اور یہ معمولی ایمان نہیں بلکہ ایسا مضبوط ایمان ہے جسے کوئی چیز ہلا نہ سکے۔

یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ میرے ہر فعل اور عمل کو دیکھ رہا ہے۔ جب یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ میرے ہر عمل اور فعل کو دیکھ رہا ہے، میرے ہر قول کو سن رہا ہے تو پھر انسان دونوں قسم کے حقوق اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ادا کرتا ہے۔ اس میں کوئی دکھاوا ہو ہی نہیں سکتا۔ اور

جب اللہ تعالیٰ کے لیے ہر فعل ہو جائے تو پھر ایسے شخص کی دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں اور خدا تعالیٰ کا قرب بھی ملتا ہے۔

پس آج ہمیں یہ مقام حاصل کرنے کا عہد اور دعا کرنی چاہیے تا کہ ہم حقیقی نیکیاں حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب پا کر حقیقی عید منا سکیں۔

اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ

حقیقی نیکی کے واسطے خدا کے وجود پر ایمان لانا ضروری ہے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ’’حقیقی نیکی کے واسطے یہ ضروری ہے کہ خدا کے وجود پر ایمان ہو کیونکہ مجازی حکام کو یہ معلوم نہیں کہ کوئی گھر کے اندر کیا کرتا ہے اور پس پردہ کسی کا کیا فعل ہے۔‘‘ اندر چھپ کے جو کام کر رہے ہیں اس کا تو کسی کو نہیں پتہ لگتا ’’اور اگرچہ کوئی زبان سے نیکی کا اقرار کرے مگر اپنے دل کے اندر وہ جو کچھ رکھتا ہے اس کے لئے اس کو ہمارے مؤاخذہ کا خوف نہیں اور دنیا کی حکومتوں میں سے کوئی ایسی نہیں جس کا خوف انسان کو رات میں اور دن میں، اندھیرے میں اور اجالے میں ، خلوت میں اور جلوت میں ، ویرانے میں اور آبادی میں، گھر میں اور بازار میں ہر حالت میں یکساں ہو۔‘‘ کوئی دنیا کی حکومت ایسی نہیں جو ہر چیز کو جانتی ہو لیکن خدا جانتا ہے۔

’’پس درستی اخلاق کے واسطے ایسی ہستی پر ایمان کا ہونا ضروری ہے جو ہر حال اور ہر وقت میں اس کے نگران اور اس کے اعمال اور افعال اور اس کے سینہ کے بھیدوں کی شاہد ہے۔‘‘(ملفوظات جلد1صفحہ313 ایڈیشن 1984ء)

اعمال کو درست کرنا ہے تو یہ بڑی ضروری بات ہے کہ یہ ایمان ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی وہ ہے ہستی جو ہمیں ہر وقت، ظاہر میں بھی، باطن میں بھی، چھپے ہوئے بھی، اندر بھی ،گھر کے باہر بھی، بازار میں بھی ہر جگہ دیکھ رہا ہے اور ہمارے ہر عمل پر اس کی نظر ہے۔

پس یہ بات ہر مومن کے دل میں ہر وقت ہونی چاہیے کہ میرے ہر قول و فعل کو اللہ تعالیٰ سن رہا ہے، دیکھ رہا ہے اور جانتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ یہ حالت جب پیدا ہو جائے تو پھر انسان شیطان کے چنگل سے مکمل نجات پاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہے لیکن

یہ بھی یاد رہے کہ اس پناہ میں آنے کے لیے مستقل استغفار کی بھی ضرورت ہے اور یہی چیز ہے پھر جواس فیض کو کبھی ختم نہ ہونے دے گی جو ہمیشہ کی عید کا سامان کرتی ہے۔

پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ

نیکی کیا چیز ہے؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’نیکی ایک زینہ ہے اسلام اور خدا کی طرف چڑھنے کا۔ لیکن یاد رکھو کہ نیکی کیا چیز ہے۔ شیطان ہر ایک راہ میں لوگوں کی راہ زنی کرتا اور ان کو راہ حق سے بہکاتا ہے۔ مثلاً رات کو روٹی زیادہ پک گئی اور صبح کو باسی بچ رہی۔ عین کھانے کے وقت کہ اس کے سامنے اچھے اچھے کھانے رکھے ہیں ابھی ایک لقمہ نہیں لیا کہ دروازہ پر آ کر فقیر نے صدا کی اور روٹی مانگی۔ کہا کہ باسی روٹی سائل کو دے دو۔‘‘ یعنی گھر میں جو کھانے والے لوگ بیٹھے تھے، گھر والے، انہوںنےکہا کہ باسی روٹی جو کل کی بچی ہوئی ہے وہ اس کو دے دو۔ فرمایا کہ ’’کیا یہ نیکی ہو گی؟ باسی روٹی تو پڑی رہنی تھی۔ تنعم پسند اسے کیوں کھانے لگے؟‘‘ جن کو نعمتیں میسر ہیں ان کو کیا ضرورت ہے کہ اس باسی روٹی کو کھائیں۔ وہ تو پڑی رہے گی۔ یہ تو کوئی نیکی نہیں ہے۔ ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ یُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّ یَتِیۡمًا وَّ اَسِیۡرًا(الدھر :9) ‘‘ کہ اوروہ کھانے کو اس کی چاہت کے ہوتے ہوئے مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھلاتے ہیں۔ فرمایا کہ ’’یہ بھی معلوم رہے کہ طعام کہتے ہی پسندیدہ طعام کو ہیں۔‘‘ طعام کا مطلب ہی یہ ہے جو پسندیدہ کھانا ہو۔ ’’سڑا ہوا باسی طعام نہیں کہلاتا۔‘‘ سڑا ہو یا باسی کھانا جو ہے، پرانا کھانا جو ہے وہ طعام نہیں کہلاتا۔ ’’الغرض اس رکابی میں سے جس میں ابھی تازہ کھانا اور لذیذ اور پسندیدہ رکھا ہوا ہے۔ کھانا شروع نہیں کیا فقیر کی صدا پر نکال دے تو یہ تو نیکی ہے۔‘‘ فقیر کی صدا پہ اس تازہ کھانے میں سے نکال کے دو تو پھر یہ نیکی ہے۔ پس حقوق العباد ادا کرنے کی یہ نیکی ہے جو اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتی ہے اور جب انسان کو اس کا ادراک حاصل ہو جائے پھر جو خوشی انسان کو غریب کی مدد کر کے ہوتی ہے اس کا تو کوئی حساب اور شمار ہی نہیں۔ ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ دنیا میں بھوک کا کیا حال ہے۔ سوڈان میں بچے اپنے کپڑے بیچ کر ایک وقت کی روٹی کھا رہے ہیں۔ کسی نے بنیان بیچی، کسی نے اپنا ٹراؤزر بیچا اور کہتے ہیں کہ اگلے وقت کی روٹی کا پھر دیکھیں گے کیا کرنا ہے۔ اس وقت تو یہ بنیان بیچ دو یا اپنی ٹی شرٹ بیچو اور اس وقت کھاؤ۔ کہتے ہیں کہ فلسطین میں جتنی کیلوریز چاہئیں اس کا دسواں حصہ بھی ان کو میسر نہیں۔ یہ ان کا حال ہے جن کو کھانا مل رہا ہے اور جو بھوکے مر رہے ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔ پس ایسے میں

نیکی کمانے اور عید کی خوشیاں منانے میں غریبوں کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ یہی حقیقی عید ہے۔

پھر آپؑ فرماتے ہیں ’’بیکار اور نکمی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی آدمی نیکی کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ نیکی کا دروازہ تنگ ہے۔ پس یہ امر ذہن نشین کر لو کہ نکمی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی اس میں داخل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ نص صریح ہے لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ [آل عمران:93] جب تک عزیز سے عزیز اور پیاری سے پیاری چیزوں کو خرچ نہ کرو گے اس وقت تک محبوب اور عزیز ہونے کا درجہ نہیں مل سکتا۔ اگر تکلیف اٹھانا نہیں چاہتے اور حقیقی نیکی کو اختیار کرنا نہیں چاہتے تو کیونکر کامیاب اور بامراد ہو سکتے ہو۔‘‘(ملفوظات جلد1صفحہ75 ایڈیشن 1984ء)نیکیاں کرنے کے لیے تو تکلیف اٹھانی پڑتی ہے، قربانی کرنی پڑتی ہے۔ اگر یہ نہیں کرنا چاہتے تو پھر درجات نہیں ملتے، کامیابیاں نہیں ملتیں، بامراد نہیں ہو سکتے۔

پس حقیقی نیکی کے لیے دوسروں کی خاطر تکلیف اٹھانا بھی ضروری ہے اور یہی حقیقی خوشی پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ پھر آپؑ نے ایک جگہ فرمایا کہ ’’انسان کے لئے دو باتیں ضروری ہیں۔ بدی سے بچے اور نیکی کی طرف دوڑے۔‘‘ دو باتیں یاد رکھو۔ صرف بدی سے بچنا نیکی نہیں ہے بلکہ نیکی کی طرف دوڑنا، نیکی کی تلاش کرنا یہ بہت ضروری چیز ہے۔ ’’اور نیکی کے دو پہلو ہوتے ہیں۔‘‘ آگے پھر نیکی کے بھی دو پہلو ہیں۔ ’’ایک ترکِ شر دوسرا افاضہ خیر۔‘‘ ایک تو یہ ہے کہ شر کو ترک کرے اور دوسرا یہ ہے کہ دوسروں کو فیض پہنچائے۔ ’’ترکِ شر سے انسان کامل نہیں بن سکتا جب تک اس کے ساتھ افاضہ خیر نہ ہو۔ یعنی دوسروں کو نفع بھی پہنچائے۔ اس سے پتا لگتا ہے کہ کس قدر تبدیلی کی ہے اور یہ مدارج تب حاصل ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفات پر ایمان ہو اور ان کا علم ہو۔ جب تک یہ بات نہ ہو انسان بدیوں سے بھی بچ نہیں سکتا۔دوسروں کو نفع پہنچانا توبڑی بات ہے۔ بادشاہوں کے رعب اور تعزیراتِ ہند سے بھی تو ایک حد تک ڈرتے ہیں اور بہت سے لوگ ہیں جو قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتے پھر کیوں اَحکم الحاکمین کے قوانین کی خلاف ورزی میں دلیری پیدا ہوتی ہے۔‘‘ دنیاوی قانون سے تو ڈرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے قانون سے نہیں ڈرتے اور خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ’’کیا اس کی کوئی اَور وجہ ہے بجز اس کے کہ اس پر ایمان نہیں ہے؟‘‘اللہ تعالیٰ پہ ایمان کمزور ہے۔’’یہی ایک باعث ہے۔‘‘ جو انسان کو غلط کاموں کی طرف ترغیب دلاتا ہے۔

(ملفوظات جلد 2صفحہ238-239 ایڈیشن 1984ء)

پس ایمان لانے والوں کی یہ خصوصیت ہے کہ دوسروں کو نفع پہنچائیں اور یہی چیزہے جو نیک اعمال کے زمرے میں آتی ہے جس پر اللہ تعالیٰ انعامات فرماتا ہے۔

پھر آپؑ نے فرمایا :’’انسان جس قدر نیکیاں کرتا ہے اس کے دو حصے ہوتے ہیں ایک فرائض دوسرے نوافل۔ فرائض یعنی جو انسان پر فرض کیا گیا ہو جیسے قرضہ کا اتارنا۔‘‘ قرض کسی سے لیا ہے تو قرض اتارنا فرض ہے۔ خاص طور پر اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ ’’یا نیکی کے مقابل نیکی۔‘‘ یہ بھی فرائض میں شامل ہے کہ اگر کوئی نیکی کرے تمہارے سے تو تم اس کے مقابلے پہ اس سے نیکی کرو۔ یہ نہیں ہے کہ نیکی کر کے کوئی احسان کیا ہے بلکہ نیکی کرنے والے کے ساتھ نیکی کرنا یہ تمہارا فرض ہے۔ ’’ان فرائض کے علاوہ ہر ایک نیکی کے ساتھ نوافل ہوتے ہیں یعنی ایسی نیکی جو اس کے حق سے فاضل ہو‘‘ جو زائد ہو ’’جیسے احسان کے مقابل احسان کے علاوہ اَور احسان کرنا۔‘‘ کسی نے احسان کیا ہے تو اس احسان کا بدلہ بھی تو اتارو اور بڑھ کے اتارو۔ ’’یہ نوافل ہیں۔یہ بطور مکملات اور متمماتِ فرائض کے ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد1صفحہ13-14 ایڈیشن1984ء)

اسی ذریعہ سے نیکی مکمل ہوتی ہے۔ فرائض مکمل ہوتے ہیں اور اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں۔ یہی چیز ایمان کے اضافے کا باعث بنتی ہے اور اس ذریعہ سے پھر یہ اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے کا ذریعہ بنتی ہے اور جب یہ ملے تو پھر وہی بات کہ حقیقی عید بن جاتی ہے۔

اس بارے میں بھی بیان کرنا ضروری ہے کہ بعض لوگ باہر تو بڑے اچھے اخلاق دکھاتے ہیں، غریبوں پر اور جماعت پر خرچ بھی کر لیتے ہیں لیکن ان کی سختیوں کی وجہ سے ان کے گھروں میں فساد وغیرہ ہوتا ہے۔ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ بات ان کے اچھے اعمال کو ضائع کر دیتی ہے۔ اس لیے

بیوی اور اس کے رشتہ داروں کا خیال رکھنا، اپنے رحمی رشتہ داروں کا خیال رکھنا، اپنے دوستوں کا خیال رکھنا، اپنے ہمسایوں کا خیال رکھنا یہ بہت ضروری ہے۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر نصیحت فرمائی ہے۔

پس جیساکہ ابھی میں نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی دلوں پر بھی نظر ہے۔ انسان کو اس لحاظ سے بھی اپنے جائزے لیتے رہنا چاہیے۔ یہ نیک اعمال بجا لائیں گے تو رمضان سے حقیقی فیض اٹھاتے ہوئے عید کی حقیقی خوشیاں حاصل کرنے والے ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے ایمان میں مضبوط ہوں اور وہ اعمال حسنہ ہم سے سرزد ہوں اور ہمیشہ ہوتے چلے جائیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے قرب کو کھینچنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے رحم کی نظر ہمیشہ ہم پر پڑتی رہے۔ ہم ہمیشہ اس کی بخشش کی چادر میں لپٹے رہیں اور ہم ہمیشہ شیطان اور اس کی بھڑکائی ہوئی آگ سے محفوظ رہیں۔

آپ سب کو عید مبارک ہو، دنیا میں بسنے والے تمام احمدیوں کو بھی عید مبارک ہو۔ دعا میں پاکستان کے احمدیوں کو یاد رکھیں، اسیرانِ راہ مولیٰ کو یاد رکھیں۔

پاکستان کے احمدی مسلسل ابتلا اور امتحان سے گزر رہے ہیں۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے ایمانوں کو بچائے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جلد ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔

اسیران کی جلد رہائی کے لیے بھی دعا کریں۔ یمن کے اسیران کی رہائی کے لیے بھی دعا کریں۔

وہ لوگ بھی کافی مشکل میں ہیں۔

دنیا کے کسی بھی ملک میں احمدیت کی وجہ سے یا کسی بھی وجہ سے مشکلات میں گھرے ہوئے احمدیوں کے لیے اور ہر مظلوم اور معصوم کے لیے دعا کریں۔ شہدائے احمدیت کے خاندانوں کے لیے دعا کریں۔ خاص طور پر برکینا فاسو کے شہداء کو اور ان کے لواحقین کو بھی یاد رکھیں۔

آجکل پھر دشمن کی برکینا فاسو کے احمدیوں پر نظر ہے۔ خاص طور پر ڈوری کے علاقے میں جہاں ہمارے آٹھ شہید ہوئے تھے، جہاں جماعت نے اب ایک جگہ لے کر احمدیوں کو اکٹھا کیا ہے، نئی کالونی بھی بنی ہے۔ لگتا ہے دشمن شرارت کے منصوبے بنا رہا ہے۔ وہاں پھر رمضان میں بھی بعض لوگوں کو مشکوک نظر سے دیکھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے شر سے ان کو ہمیشہ محفوظ رکھے۔

رمضان میں مالی قربانی کرنے والوں کے لیے بھی دعا کریں۔

اللہ تعالیٰ ان کے اموال و نفوس میں برکت عطا فرمائے۔

امّت مسلمہ کے لیے دعا کریں۔

اللہ تعالیٰ ان کے افتراق کو دُور فرمائے اور یہ ایک ہو کر اپنے حقوق کی حفاظت کرنے والے ہوں۔ فلسطینیوں کو ان کا حق دلوانے کی کوشش کرنے والے ہوں۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والے ہوں۔ انصاف اور عدل قائم کرنے والے ہوں۔ مسلم دنیا کو بھی ایسے راہنما ملیں جو مفادپرست نہ ہوں بلکہ عوام کے لیے صاف دل ہوکر خدمت کرنے والے، ان کو فائدہ پہنچانے والے ہوں۔

اللہ تعالیٰ ان کو زمانے کے امام کو ماننے کی بھی توفیق عطا فرمائے تا کہ یہ حقیقی عید منانے والے ہوں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو عید کی حقیقی خوشیاں نصیب کرے۔

دنیا کے ظالم حکمرانوں کا اللہ تعالیٰ جلد خاتمہ کرے۔

یہ بڑی طاقتیں جو اپنے زعم میں انصاف کے نام پر ظلم پر ظلم کیے جا رہی ہیں اللہ تعالیٰ جلد ان کے لیڈروں کے بھی پکڑ کے سامان کرے اور دنیا کو انصاف پسند راہنما ملیں۔

٭٭٭خطبہ ثانیہ، دعا٭٭٭

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔ عید مبارک

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ جرمنی2024ء کے موقع پر اختتامی اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز خطاب

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button