تازہ ترین: برکینا فاسو کے چونتیسویں جلسہ سالانہ کا آخری روز

جلسہ سالانہ کا تیسرا روز۔ ۲۸؍دسمبر ۲۰۲۵ء
(۲۸؍دسمبر ۲۰۲۵ء، بستان مہدی برکینا فاسو، نمائندہ الفضل انٹرنیشنل) جلسہ کے تیسرے دن کا آغاز صبح سوا چار بجے نماز تہجد کی ادائیگی سے ہوا جو حافظ اچیدے سلام صاحب استاذجامعۃ المبشرین برکینافاسو نے پڑھائی۔ نماز فجر سے پہلے دوران سال وفات پا جانے والے مرحومین کے نام دعا کی غرض سے پڑھے گئے۔ پھر نماز ہوئی جس کے بعد ’’قرض کے متعلق اسلامی تعلیمات‘‘ کے موضوع پر درس گیمینوں ناصر صاحب سیکریٹری مال برکینا فاسو نے پیش کیا۔
اختتامی اجلاس: آج حسب پروگرام سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے قادیان کے جلسہ سالانہ سے اختتامی خطاب فرمانا تھا۔ برکینا فاسو جماعت کو بھی اس موقع پر ویڈیو لنک کے ذیریعہ ایم ٹی اے کی نشریات کے ساتھ شامل ہونے کی اجازت عطا ہوئی تھی۔ مقامی طور پر جلسہ کا اختتامی اجلاس بصدارت نمائندہ مرکز مکرم عمر معاذ کولی بالی صاحب صبح نو بج کر دس منٹ پر شروع ہوا۔ تلاوت اور نظم کے بعد مہمان خصوصی نے تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے احباب کو تعلیمی اسناد دیں۔ پھر بعض مہمانوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔

مکرم مہمان خصوصی صاحب نے اپنے اختتامی کلمات میں عبادات میں لذت پیدا کرنے، اللہ تعالیٰ سے ذاتی تعلق پیدا کرنے اور اپنے جائزے لیتے رہنے کی طرف توجہ دلائی۔ آپ نے دس بج کر پچیس منٹ پر اپنی تقریر ختم کی۔
جلسہ قادیان میں براہ راست شرکت
قادیان کے جلسہ میں مواصلاتی رابطہ کے ذریعہ براہ راست شامل ہونے اور خطاب سننے کے لیے مردانہ اور مستورات کی جلسہ گاہوں دونوں طرف بڑی اسکرین کا انتظام کیا گیا تھا۔ احباب جماعت نے نظم و ضبط سے بیٹھ کر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب سنا۔ خطاب کے بعد اختتامی دعا کے ساتھ ہی برکینا فاسو کا ۳۴واں جلسہ سالانہ اپنے اختتام کو پہنچا۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے تشریف لے جانے کے بعد جلسہ گاہ برکینا فاسو میں احباب نے جوش و جذبہ کے ساتھ نظمیں اور ترانے پڑھے۔ مکرم عمر معاذ صاحب نےاپنے خاص انداز سے ’’مسرور انی معک یا مسرور انی معک‘‘ والا ترانہ پیش کیا۔ تمام شاملین جلسہ ہاتھ اٹھا کر اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی جلسہ ختم ہوا اور احباب اپنے اپنے علاقوں کی جانب روانہ ہوئے۔

مہمان خصوصی کے ساتھ تصاویر: جلسہ برکینا فاسو کی ایک روایت بن گئی ہے کہ جلسہ کے آخری دن تمام مرکزی و لوکل مبلغین کا ایک گروپ فوٹو بنایا جاتا ہے۔ اس سال بھی اسٹیج پر مہمان خصوصی کے ساتھ یہ گروپ فوٹو بنایا گیا۔ اسی طرح نیشنل مجلس عاملہ اور بعض دیگر شعبہ جات نے گروپ فوٹوز بنائے۔

مقامی چیفس اور دیگر معززین کی جلسہ کی شرکت: ملک بھر سے سرکاری و غیر سرکاری عہدیداران، وزراء کے نمائندگان، ڈاکٹرز، ہائی کمشنر لیو، سپورٹس اینڈ نوجوانوں کے ڈائریکٹر کمبسری اور دیگرمعززین جلسہ میں شامل ہوئے۔ لیو کے علاقے سے ایک بڑے چیف اپنے بھر پور وفد کے ساتھ جلسہ میں شامل ہوئے۔ ایک مقامی چیف خاص طور پر تشریف لائے اور اپنے تاثرات میں بیان کیا کہ وہ جلسہ جماعت کے پیغام اور تعلیمات سے بہت متاثر ہیں۔ جب تک زندگی رہی وہ جلسہ میں شامل ہوتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ۔
جلسہ کی حاضری: برکینا فاسو میں دہشت گردی کی وجہ سے بہت سے علاقوں سے سفر کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے تمام ریجنز سے نمائندگی نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ ڈوری ریجن سے احباب جلسہ میں شامل ہونے کے لیے نہیں آسکے۔ ڈوری میں ویڈیو لنک کے ذریعہ تینوں دن جلسہ کی کارروائی دیکھی اور سنی جاتی رہی۔ مجموعی طور پر ڈوری میں سات سو سے زائد افرادمستفید ہوئے۔ ملکی حالات خراب ہونے کے باوجود احباب بہت قربانی کرکے جلسہ میں شامل ہوئے۔ سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے خطاب میں برکینا فاسو کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ’’برکینا فاسو کے حالات تو خاص طور پر بہت خراب ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال جلسہ کی حاضری ۶؍ہزار ۱۴۱؍رہی۔ اس میں ڈوری کے احباب شامل نہیں ہیں۔
وفود کی واپسی: جلسہ کے اختتام پر احباب جماعت وفود کی شکل میں واپس اپنےاپنے علاقوں کی طرف روانہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام قافلے خیریت سے واپس پہنچ گئے۔
عشائیہ: رات نو بجے بستان مہدی میں مہمان خصوصی کے ساتھ جلسہ کی ڈیوٹی دینے والے عہدیداران اور کارکنان کے ساتھ عشائیہ ہوا جس میں افسر جلسہ سالانہ مکرم کونے داؤدا صاحب نے تمام کارکنان اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے دن رات محنت کر کے اس جلسہ کو کامیاب بنانے کی کوشش کی۔ مکرم مہمان خصوصی صاحب نےخاص طور پر مبلغین کرام کو نصائح کرتے ہوئے انہیں میدان عمل میں زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی طرف توجہ دلائی۔
اللہ تعالیٰ اس جلسہ کی برکات سے ساری جماعت کو مستفید فرمائے اور جلسہ ترقیات کرتا رہے۔ آمین
