کیا عالم برزخ اس دنیا میں ہے یا کسی اَور جگہ؟
سوال: میرا سوال ہے کہ کیا عالم برزخ اس دنیا میں ہے یا کسی اور جگہ، کیونکہ حدیث کے مطابق جنت و دوزخ تواس دنیا میں ہیں؟
جواب: جنت،دوزخ اور عالم برزخ یہ سب ایسی چیزیں ہیں، جنہیں ظاہر پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ یہ خدا تعالیٰ کی تخلیق اور اس کی کائنات کا ہی حصہ ہیں لیکن انہیں ہم اس دنیاوی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتےبلکہ جیسا کہ آپ نے اپنے سوال میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ نے عالم کشف میں برزخ کو دیکھاہے، اسی طرح ان چیزوں کی ماہیت جاننے کے لیے کشفی اور روحانی آنکھ کا ہونا ضروری ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم اور احادیث میں جنت و دوزخ وغیرہ کے بارہ میں بیان امور کو نہ سمجھنے اور انہیں ظاہر پر محمول کر دینے کی وجہ سے لوگوں نے ان چیزوں کے بارے میں غلط قسم کے خیالات اپنے ذہنوں میں پیدا کرلیے ہیں۔ حالانکہ قرآن و حدیث نے انسان کو سمجھانے کے لیے جنت و دوزخ کے بارے میں استعارہ اور تمثیل کے طور پر یہ ظاہری الفاظ استعمال کیے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان تمثیلی الفاظ کے ساتھ قرآن کریم نے جنت کے متعلق یہ بھی فرمایا ہے کہ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَآءًم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔ (السجدۃ:۱۸) یعنی کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے ان کے اعمال کے بدلہ کے طور پر کیا کیا آنکھیں ٹھنڈی کرنے والی چیزیں چھپا کر رکھی گئی ہیں۔اسی طرح حدیث میں بھی آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جنت کی نعماء ایسی ہیں مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ۔(صحیح بخاری، کتاب تفسیر القرآن بَاب قَوْلِهِ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ)کہ انہیں نہ کبھی کسی انسانی آنکھ نے دیکھا، نہ کبھی کسی انسانی کان نے ان کا حال سنا اور نہ کبھی کسی انسان کے دل میں ان کے بارے میں کوئی تصور گزرا۔
پس جنت،دوزخ اور عالم برزخ یہ سب اشیاء ایسی ہیں کہ انہیں ہم نہ تو اپنی ظاہری آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی صرف عقل کے ذریعہ انہیں جان سکتے ہیں، بلکہ انہیں دیکھنے کے لیے کشفی اور روحانی آنکھ درکار ہے نیز ان کے بارے میں خداتعالیٰ نے خود یا اس کے رسول ﷺ نے ہمیں جو باتیں بتائی ہیں انہی پر ہماری معلوما ت کا انحصار ہے۔ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام جنت و دوزخ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’قرآن شریف کی رو سے دوزخ اور بہشت دونوں اصل میں انسان کی زندگی کے اظلال اور آثار ہیں۔ کوئی ایسی نئی جسمانی چیز نہیں ہے کہ جو دوسری جگہ سے آوے۔ یہ سچ ہے کہ وہ دونوں جسمانی طور سے متمثل ہوں گے مگر وہ اصل روحانی حالتوں کے اظلال و آثار ہوں گے۔ ہم لوگ ایسی بہشت کے قائل نہیں کہ صرف جسمانی طور پر ایک زمین پر درخت لگائے گئے ہوں اور نہ ایسی دوزخ کے ہم قائل ہیں جس میں درحقیقت گندھک کے پتھر ہیں بلکہ اسلامی عقیدہ کے موافق بہشت دوزخ انہی اعمال کے انعکاسات ہیں جو دنیا میں انسان کرتا ہے۔‘‘(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۴۱۳)
(بنیادی مسائل کے جوابات قسط ۱۰۴، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۱۳؍دسمبر ۲۰۲۵ء)
مزید پڑھیں: دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا مفہوم




