افریقہ (رپورٹس)

جماعت احمدیہ کینیا کے اٹھاون ویں جلسہ سالانہ کا با برکت انعقاد

٭… ’’خلافت، اخلاقی راہنمائی کا نور‘‘ کے مرکزی موضوع پر منعقدہ جلسہ سالانہ میں پنجوقتہ نمازوں، دروس اور روحانی و علمی تقاریر کا اہتمام

٭… مختلف زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم کی نمائش ٭… ایک ہزار ۹۲۳؍احباب کی شمولیت

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ کینیا کو مورخہ ۶و۷؍دسمبر ۲۰۲۵ء بروز ہفتہ و اتوار مسجد مبارک، نکورو میں اپنا ۵۸واں جلسہ سالانہ ’خلافت، اخلاقی راہنمائی کا نور‘ (Khilafat a Moral Guiding Light) کے مرکزی موضوع پر منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ الحمدللہ علیٰ ذالک۔

جلسہ کی مناسبت سے احمدیہ مشن ہاؤس نکورو کی تمام عمارات اور مسجد مبارک کو سادہ مگر باوقار طریقے پر سجایا گیا تھا اور جگہ جگہ تربیتی اور تبلیغی موضوعات پر نیز جلسہ سالانہ سے متعلق عبارات وہدایات پر مبنی بینرز اور جھنڈیاں لگائی گئیں اور مردانہ اور زنانہ جلسہ گاہ کے لیے دو الگ الگ بڑی مارکیز نصب کی گئی تھیں۔ اسی طرح کھانے کے لیے بھی دو مارکیز لگا کر خواتین و حضرات کے لیے الگ الگ انتظام کیا گیا تھا۔ سرکاری عہدیداران، میڈیا نمائندگا ن اور دیگر معزز مہمانوں کے لیے ریفریشمنٹ اور کھانے کے لیے علیحدہ انتظام کیا گیا تھا۔

جلسہ میں شرکت کے لیے کینیا کے مختلف ریجنز سے احباب جماعت ۴؍نومبر بروز جمعرات سے ہی پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔ اسی دن سے استقبال، رجسٹریشن اور لنگر خانہ وغیرہ تمام شعبہ جات مکمل طور پر فعال ہو چکے تھے۔ تاہم خصوصی بسوں اور قافلوں کی آمد جمعہ کی صبح شروع ہوئی۔

۶؍نومبر ہفتہ کا روز جلسہ سالانہ کینیا کا پہلا دن تھا جس کا آغاز حسب معمول نماز تہجد سے ہوا۔ مکرم حافظ سعید اندام صاحب مربی سلسلہ و انچارج مدرسۃ الحفظ کینیا نے نماز تہجد پڑھائی بعدہٗ مکرم ناصر محمود طاہر صاحب امیر و مبلغ انچارج کینیا نے نماز فجر کی امامت کی اور پھر خاکسار (مبلغ سلسلہ) نے درس قرآن دیا جس کے بعد ناشتہ اور تیاری کے لیے وقفہ ہوا۔

جلسہ کے افتتاحی اجلاس کے لیے ساڑھے دس بجے تمام احباب جلسہ گاہ میں جمع ہو گئے اور پونے گیارہ بجے مسجد مبارک کے سامنے پرچم کشائی کی تقریب ہوئی جس میں مکرم امیر صاحب نے لوائے احمدیت اور مکر م نعیم احمد شاہ صاحب جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ کینیا نے کینیا کا جھنڈا لہرایا۔ بعدازاں دعا ہوئی۔

مرکزی پنڈال میں مکر م امیر و مبلغ انچارج صاحب کینیا کی زیر صدارت افتتاحی اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔ مکرم حافظ سعید اندام صاحب کوتلاوت قرآن کریم و ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی جس کے بعد عزیزم بلال رجب نے نہایت مترنم آواز میں منظوم اردو کلام پیش کیا۔ بعدہٗ جلسہ میں مدعو کیے گئے حسب ذیل معزز مہمانوں نے جلسہ سے متعلق اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا:

Mr Rashid Kwanya, Deputy County Commissioner Nakuru West, representing Regional Coordinator, Mr David Mutuku, Personal Assistant to the County Commissioner Nakuru; Senior Chief Suswa, Mr Nicholas Nkunku; Sheikh Ibrahim Walid, Secretary Interfaith Nakuru, Chairman Jamia Mosque; Reverend Father Clement Karathi, representing Bishop Cleophas Oseso, Catholic Diocese of Nakuru; Pastor Rebecca Maritina, Sauti Kanisa Kenya; Sheila Keregi, Youth Leader ACK Church; Sakina Said, Muslim Youth Leader, Apostle Balla, Evangelist, Mercy Maina, Nakuru Manager, representing Senator Nakuru County; Margaret Ward, Manager, representing MCA Menengai Ward.

مہمانان گرامی کی تقاریر کے بعد مکرم امیر صاحب نے اپنی افتتاحی تقریر میں جلسہ سالانہ کے انعقاد پر احباب جماعت کو مبارکباد دی اور جلسہ سالانہ کی اہمیت و برکات بیان کرنے کے بعد حضرت مسیح موعودؑ کی مبارک تحریرات سے تقویٰ و طہارت اور اخلاقی پاکیزگی کی اہمیت بیان کی اور دعا کروائی جس کے بعد افتتاحی اجلاس ختم ہوا۔

پہلے دن کا دوسرا اجلاس ساڑھے بارہ بجے مکرم سمیر احمد شیخ صاحب نائب امیر کینیا کی صدارت میں شروع ہوا جس میں تلاوت قرآن کریم و ترجمہ پیش کرنے کی سعادت مکرم مسرور احمد رجب صاحب کو حاصل ہوئی۔ معلم رمضان سلمان صاحب نے جلسہ سالانہ اور جماعت احمدیہ کی ترقی سے متعلق سواحیلی نظم پیش کی۔ بعدہٗ مکرم معلم عبداللہ حاجی صاحب نے ’’خلافت احمدیہ کی راہنمائی میں باہمی محبت اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہماری اہم ذمہ داری ہے‘‘ کے موضوع پر سواحیلی زبان میں اور صدر اجلاس نے انگریزی میں ’’مذہبی رواداری کے لیے آنحضورﷺ کا اسوہ مبارک‘‘ کے موضوع پر تقاریر کیں۔ چند اعلانات کے بعد نماز ظہر و عصر اور دوپہر کے کھانے کے لیے وقفہ ہوا۔

سہ پہر ساڑھے تین بجے پہلے روز کا تیسرا اجلاس زیرصدارت خاکسار (مبلغ سلسلہ) منعقد ہوا۔ مکرم معلم ابراہیم امونڈی صاحب نے تلاوت قرآن کریم و ترجمہ پیش کرنے کی سعادت پائی۔ اس کے بعد مکرم اسماعیل بکاری صاحب نے سواحیلی نظم پیش کی۔ بعدہٗ ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’ہستی باری تعالیٰ کے زندہ ثبوت‘‘ از مکرم بشارت احمد طاہر صاحب مبلغ سلسلہ، ’’اسلامی تعلیمات معاشرتی و اخلاقی کمزوریوں سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہیں‘‘ از مکرم عبد اللہ حسین جمعہ صاحب مبلغ سلسلہ اور ایک نظم کے بعد ’’اسلام میں خلافت کی اہمیت‘‘ از مکرم عدی ابواء صاحب مبلغ سلسلہ۔ چند اعلانات کے بعد یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

نماز مغرب و عشاء اور کھانے کے بعد اس دن کا چوتھا اور آخری اجلاس مکرم عبد اللہ حسین جمعہ صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مجلس سوال و جواب منعقد ہوئی۔ اس دوران مبلغین سلسلہ نے حاضرین کے سوالات کے جواب دیے۔ یہ دلچسپ مجلس ساڑھے دس بجے اختتام پذیر ہوئی۔

دوسرا دن:۷؍دسمبر بروز اتوار جلسہ سالانہ کینیا کا دوسرا اور آخری دن تھا۔ اس دن کا آغاز بھی حسب معمول نماز تہجد سے ہوا۔ مکرم حافظ بکاری عبد اللہ صاحب نے نماز تہجد اور مکرم حافظ سعید اندام صاحب نے نماز فجر پڑھائی جبکہ مکرم قاسم مچیرے صاحب مبلغ سلسلہ نے درس قرآن دیا جس کے بعد ناشتہ اور تیاری کے لیے وقفہ ہوا۔

دوسرے دن کا پہلا اور مجموعی طور پر جلسہ کا پانچواں اجلاس صبح ساڑھے نو بجے منعقد ہوا جس کی صدارت مکرم عبدالعزیز گاکوریا صاحب صدر مجلس انصار اللہ و نیشنل سیکرٹری تربیت کینیا نے کی۔ مکرم معلم ادریس مویرے نیانجا صاحب نے تلاوت قرآن کریم و ترجمہ پیش کیا جس کے بعد قاسم رجب وکیسا صاحب نے نظم پیش کی۔ مکرم معلم محمد مواکریچوا صاحب نے ’’حضرت مسیح موعودؑ، آنحضور کے غلام صادق‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ اس کے بعد کسرانی جماعت کے اطفال نے عربی قصیدہ یاعین فیض اللّٰہ پیش کیا۔ اس اجلاس کی آخری تقریر مکرم فہیم احمد لکھن صاحب مبلغ سلسلہ نے ’’خلافت کے زیر سایہ جماعت احمدیہ کی عالمگیر ترقیات‘‘ کے موضوع سے کی جس کے بعد یہ اجلاس ختم ہوا۔

اجلاس مستورات: مستورات کے لیے جلسہ کی کارروائی مردانہ جلسہ گاہ سے ہی نشر ہوتی ہے لیکن اس روز صبح ساڑھے نو بجے سے لے کر بارہ بجے تک مستورات کا مکرمہ صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ کینیا کی زیر صدارت الگ اجلاس ہوا جس میں تلاوت اور نظم کے بعد مختلف تربیتی و تبلیغی موضوعات پر تقاریر ہوئیں۔ مکرمہ صدر صاحبہ نے اس اجلاس میں اختتامی تقریر کی۔ بعد ازاں اختتامی اجلاس کی کارروائی میں مستورات نے بھی شمولیت کی۔

اختتامی اجلاس:جلسہ سالانہ کا اختتامی اجلاس سوا بارہ بجے مکرم امیر صاحب کینیا کی زیر صدارت شروع ہوا۔ مکرم حافظ بکاری عبد اللہ صاحب نے قرآن کریم کی تلاوت و ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جس کے بعد مکرم سمیر احمد بٹ صاحب نے اردو نظم پیش کی۔ مکرم عبد العزیز گاکوریا صاحب صدر مجلس انصار اللہ و نیشنل سیکرٹری تربیت کینیا نے ’’اسلام میں نماز کی اہمیت‘‘ پر تقریر کی جس کے بعد مکرم مسرور رجب صاحب نے نظم پڑھی۔ بعدازاں مکرم امیر صاحب نے اختتامی تقریر میں جلسہ سالانہ کینیا کے بخیریت انعقاد پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور دُور دراز سے آنے والے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ بعدازاں حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے ارشادات کی روشنی میں توبہ، استغفار اور تربیتِ نفس کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی اور دعا کروائی۔ اس کے بعد مختلف جماعتوں کے اطفال اور خدام نے نظمیں اور ترانے پڑھے جس کے ساتھ یہ جلسہ سالانہ بخیر و خوبی اپنے اختتام کو پہنچا۔ الحمدللہ علیٰ ذالک

اللہ تعالیٰ کے فضل سے امسال جلسہ کی حاضری ایک ہزار ۹۲۳؍رہی جو گذشتہ کئی سال سے زیادہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ کے ایام میں قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں تراجم پر مشتمل ایک نمائش بھی لگائی گئی جسے احباب جماعت کے علاوہ مہمانان کرام نے بھی اس عمدہ نمائش کو دیکھا اور جماعت کی خدمت قرآن کی تعریف کی۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ کی کارروائی مختلف ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر دکھائی جاری رہی جن میں NTV اور چینل 47 خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

اللہ تعالیٰ اس جلسہ کے دُور رس اور شیریں ثمرات عطا فرمائے اور جماعت احمدیہ کینیا کو مزید ترقیات سے نوازے۔ آمین

(رپورٹ:محمد افضل ظفر۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ ساؤتومے و پرنسپ کے بارھویں جلسہ سالانہ ۲۰۲۵ء کا بابرکت انعقاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button