پرسیکیوشن رپورٹس

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان

(مہر محمد داؤد)

جولائی تا ستمبر ۲۰۲۵ءمیں سامنےآنے والے چند تکلیف دہ واقعات کا خلاصہ

جولائی تا ستمبر ۲۰۲۵ء کے دوران جماعت احمدیہ مسلمہ کے افراد نے مذہبی بنیاد پر مستقل تشدد،ہراسانی اور ریاستی سرپرستی کے تحت ہونے والے استحصال کا سامنا کیا۔اس عرصہ کے دوران احمدیہ مساجد پر بار بار حملے ،منظّم نفرت انگیز مہمات اور پاکستان کے امتیازی قوانین کو استعمال کرکے ملک میں احمدیوں کی روزمرہ مذہبی زندگی کو مجرمانہ سرگرمی بنانے کے واضح شواہد نظر آئے۔

پنجاب کے اندر دو اہم واقعات رونما ہوئے۔رلیوکے ضلع سیالکوٹ میں مولویوں اور اُن کے ہم نواؤں نے کئی ہفتے احمدیہ مسجد کی عمارت کے ظاہری خدوخال کے خلاف تحریک چلانے کے بعد اس کا محاصرہ کر لیا۔ یہ مخاصمت بڑھ کر اس قدر تشدد کی شکل اختیار کر گئی کہ وہاں پر گولیاں چل گئیں اور نتیجۃً کئی افراد زخمی ہو گئے۔

کرتارپور ضلع فیصل آباد میں تحریک لبیک کی ریلی احمدیہ مسجد پر حملہ آور ہو گئی۔مسجد کو آگ لگا دی گئی۔نمازیوں کو زدوکوب کیا گیا اور مسجد سے ملحقہ گھروں کو نقصان پہنچایا گیا۔

بعض اضلاع میں انتظامیہ نے خود احمدیہ مساجد کو نقصان پہنچایا کیا یا نقصان پہنچانے میں شرپسندوں کی مدد کی۔ ننکانہ صاحب میں پولیس نے دو احمدیہ مساجد کے منارے اور محراب بغیر کسی تحریری یا عدالتی حکم نامے کے ازخود مسمار کر دیے۔بہاولنگر میں انتظامیہ نے رات گئے احمدیہ مساجد کے وہ منار مسمار کر دیے جو کہ احمدیت مخالف قوانین سے بہت پہلے تعمیر کیے گئے تھے۔خانیوال اور گوجرانوالہ میں احمدیوں پر نمازیں پڑھنے اور دیگر مذہبی رسومات ادا کرنے پر فوجداری مقدمات درج کر لیے۔

تشدد اور دھمکیوں کا یہ سلسلہ اسی طرح ستمبر بھر چلتا رہا۔ انتظامیہ کی طرف سے احمدی متوفی کی تدفین کو روک دیے جانے کے بعد پیروچک ضلع سیالکوٹ میں عرصہ دو سال سے مشترکہ قبرستان پر چلنے والا جھگڑا سوگوار احمدیوں پر حملہ کی صورت میں اختتام پذیر ہوا۔ ضلع شیخوپورہ میں مولویوں نے کئی ریلیاں منعقد کیں اور کئی دیہات پر حملے کیے جن کے نتیجے میں ایک احمدی نوجوان شدید زخمی ہوا اورایک مسجد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

ستمبر کے اوائل میں انتظامیہ نے جماعت احمدیہ کے مرکز ربوہ میں دو روزہ احمدیہ مخالف کانفرنس کرنے اور جلوس نکالنے کی اجازت دی۔ مولویوں اور سیاسی شخصیات نے احمدیوں کے خلاف تقاریر کرتے ہوئے احمدیوں کو غدار قرار دیا اور احمدیوں کے خلاف تشدد پر اکسایا۔ دریں اثنا پولیس اس کانفرنس کو تحفظ فراہم کرتی رہی ۔ تاہم احمدی اپنے ہی شہر میں کوئی بھی مذہبی تقریب منعقد نہیں کر سکتے۔ یہ بات ریاست کے تعصب اوراپنی مرضی سے مذہبی آزادی پر قدغن کا کھلا ثبوت ہے۔

علاوہ ازیں پاکستان بھر میں انفرادی طور پر بھی احمدیوں کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ گوجرانوالہ میں ایک احمدی کو غرباء کی امداد میں کھانا تقسیم کرنے پرپولیس نے گرفتار کر لیا۔ حیدرآباد میں افسران نے جماعت احمدیہ کے قائدین کو بلایا اور حلف نامے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا کہ وہ کسی قسم کی عبادت یا تبلیغ نہیں کریں گے۔ بہاولنگر اور ننکانہ صاحب میں مسجدوں کے منارے مسمار کر دیے گئے اور میرپور میں احمدیوں کی قبروں پر سے مذہبی تحریرات مٹا دی گئیں۔ ساہیوال میں ایک احمدی ایک نامعلوم حملہ آور کی طرف سے کیے گئے حملے میں بال بال بچا۔

عدالتوں نے بھی تعزیراتِ پاکستان کے توہین اور احمدیت مخالف قوانین کے تحت چلنے والے مقدمات کی کارروائی کو اسی طرح سے جاری رکھا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پانچ سال بعد ایک احمدی کو مقدمے سے رہائی ملی لیکن سرگودھا،گوجرانوالہ اور خانیوال میں مقدمات التوا کا شکار ہیں۔ کوٹلی آزاد کشمیر کی انتظامیہ نے ہر حد پار کرتے ہوئے مولویوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جس کا کام احمدیوں کے جنازوں کی کارروائی کا جائزہ لینا اور مساجد کے اندر کسی بھی اسلامی تحریر کو تلاش کرنا ہے۔

اس سہ ماہی میں ہونے والے واقعات منظّم طور پر ریاستی سرپرستی میں جبرو تشدد کے غماض ہیں۔ جبر واستبداد،ناجائز انتظامی مداخلت اور قانون کا ناجائز استعمال کرکے امتیازی سلوک روا رکھنا ریاست کے اس سلوک کی اہم خصوصیات بن چکی ہیں جو اس نے احمدیوں کے ساتھ روا رکھا ہے۔ عموماً یہ سب جان بوجھ کر اور ایک منظّم انداز میں کیا جاتا ہے اور اس طرح سے کہ قانون پوری طرح انتظامیہ کی حمایت میں ہو۔

شماریاتی جائزہ

٭…پانچ جلاؤ گھیراؤ کے واقعات

٭…ایک احمدی کی تدفین میں رکاوٹ

٭…چھ مساجد پر حملے۔ مناروں کی مسماری اور کچھ حصے منہدم

٭…گیارہ احمدیوں پر حملے

٭…اٹھارہ احمدیوں کی قبروں کے کتبوں کی بے حرمتی

٭…تین احمدیوں کی گرفتاری

٭…چالیس مقدمات کا اندراج

٭…بارہ اسیرانِ راہ مولیٰ

پنجاب میں ہجوم کا احمدیہ مسجد پر حملہ

جولائی اور اگست ۲۰۲۵ میں پنجاب میں دو احمدیہ مساجد پر بڑے حملے کیے گئے۔ اور یہ امر جماعت کو ہدف بناتے ہوئے جماعت احمدیہ کے خلاف تشدد پر اکسانے والی تحریکوں اور ہراسانی کو عیاں کرتا ہے۔

۱۱؍جولائی ۲۰۲۵ء کو رلیوکے ضلع سیالکوٹ میں کئی ہفتوں تک مسجد کے محراب کے خلاف تحریک چلانے کے بعد مخالفین احمدیت ایک مقامی مسجد کے باہر جمع ہوگئے۔پولیس موقع پر موجود تھی اور ممکنہ خطرات سے بھی بخوبی آگاہ تھی۔ تاہم وہ جھگڑے کو روکنے میں ناکام ہو گئی۔ ہجوم نے پہلے نگرانی والے کیمرے توڑے اور پھر ایک ڈرل مشین کی مدد سے محراب کو مسمار کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ لوگ اس کوشش میں ناکام ہو گئے۔ بعد ازاں وہ مسجد کی اوپر والی منزل میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے لیکن وہ اس میں بھی ناکام رہے۔ اس کے بعد یہ ہجوم نماز جمعہ کے لیے منتشر ہوا اور نماز جمعہ کے بعد اور بھی بڑی تعداد میں جمع ہو کر پولیس پر حملہ آور ہو گیا۔یہ حملہ اس وقت سنگین صورت اختیار کر گیا جب ہجوم نے پولیس کے اوپر بوتلیں پھینکیں اور نتیجۃً پولیس کو ہجوم پر آنسو گیس استعمال کرنا پڑی۔ اس کے جواب میں ہجوم کی طرف سے پولیس پر فائرنگ کی گئی جس کے باعث تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ اس صورتحال میں پولیس کو بھی جواباًفائرنگ کرنا پڑی جس کے نتیجے میں کئی حملہ آور زخمی ہوئے۔ تھانہ موترہ میں ہجوم کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ جس میں سنگین دفعات بشمول دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئیں۔ اور کئی لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔

اس کے چند ہفتوں کے بعد ۱۴؍ اگست کو اس سے کئی گنا بڑا ہجوم کرتارپور ضلع فیصل آباد میں حملہ آور ہوا۔ تحریک لبیک کے راہنماؤں کی جانب سے یوم آزادی کی مناسبت سے منعقد کی گئی ریلی اس وقت پُرتشدد ہوگئی جب وہ گاؤں کی احمدیہ مساجد کے پاس سے گزری۔ تحریک لبیک کی جانب سے صوبائی اسمبلی کے ایک امیدوار کی زیرِقیادت ۳۰۰؍لوگوں پر مشتمل ریلی نے پہلے بھی بڑی مسجد پر شدید پتھراؤ کیا اور پھر چھوٹی مسجد پر حملہ آور ہو گئے۔ جہاں انہوں نے کھڑکیا ں اور دروازے توڑ دیے، میناروں کو مسمار کر دیا اور دو احمدیوں کو شدید زد و کوب کیا۔ اس کے بعد حملہ آور بڑی مسجد کی طرف گئے اور اس کی کھڑکیاں دروازے توڑنے کے بعد مسجد کو آگ لگا دی اور تمام فرنیچر، الیکٹرانکس اور مذہبی چیزوں کو جلا دیا۔ کئی احمدیوں کو بُری طرح زخمی کردیا گیا۔ دو احمدی احباب کو سر پر شدید چوٹیں آئیں اور مسجد کے قریب احمدیوں کے گھروں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ ان کی کھڑکیاں دروازے توڑ دیے گئے اور سکیورٹی سے متعلقہ سامان کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ پولیس نے سینتالیس معلوم اور تین سو نامعلوم افراد کے خلاف آگ لگانے، دہشتگردی اور تشدد کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ ان میں سے پچیس ملزمان کو فوراً گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بعد انتظامیہ نے گاؤں میں ایک پولیس چوکی قائم کر دی لیکن یہ سب اس تباہی کے بعد کیا گیا۔ یہ دو واقعات احمدیت مخالف جتھوں کی دیدہ دلیری کو اچھی طرح واضح کرتے ہیں اور پہلے سے ہی پرتشدد واقعات کے خطرے سے آگاہی کے باوجود قانون نافذکرنے والے اداروں کی کمزور جماعتوں کی حفاظت میں ناکامی کو عیاں کرتے ہیں۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خوشاب میں ایک احمدی مبشر احمد ورک پر قاتلانہ حملہ کاملزم تاحال گرفتار نہیں ہو سکا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button