پرسیکیوشن رپورٹس

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان

(مہر محمد داؤد)

ستمبر ۲۰۲۵ءمیں سامنےآنے والے چند تکلیف دہ واقعات کی جھلکیاں

پنجاب میں فرقہ وارانہ تشدد۔ضلع سیالکوٹ اور شیخوپورہ میں ہراسانی اور مار پیٹ

ستمبر ۲۰۲۵ء میں جماعت احمدیہ مسلمہ کے ممبران کے خلاف پنجاب کے مختلف علاقوں میں منظّم تشدّد کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ چند ہی دنوں میں یکے بعد دیگرے سیالکوٹ میں ہونے والی پُرتشدّد بد امنی اور ضلع شیخوپورہ میں ہونے والےلگاتار حملے اس بات کو عیاں کرتے ہیں کہ مقامی جھگڑے، مذہبی شورشیں اورانتظامی جمود کیسے کھلے ظلم و ستم میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ کیسے احمدی اپنے مذہب پر عمل کرنے اور قبرستانوں میں اپنے وفات یافتگان کی تدفین کرنے میں عدم تحفظ کا شکار ہیں اور اس کی وجہ ہے انتظامیہ کا ہر بار شدت پسندوں کے مطالبات کے سامنے ڈھیر ہو جانا۔

پیروچک ضلع سیالکوٹ میں تشدّد اور تدفین کے عمل میں روک

۲۱؍سے ۲۴؍ستمبر کے دوران پیروچک ضلع سیالکوٹ میں دو سال سے مقامی قبرستان تک رسائی کا معاملہ تشدد اور مارپیٹ کی صورت اختیار کر گیا۔ گذشتہ دو سال سے انتظامیہ کی جانب سے معاملے کے حل کی یقین دہانی کے باوجود احمدیوں کو قبرستان میں تدفین کے حق سے محروم کیا جا رہا تھا۔ انتظامیہ نے قبرستان کو دو حصوں میں بانٹنے کی تجویز دی جس میں قبرستان کا ایک حصہ احمدیوں او ر ایک غیر احمدیوں کے لیے مختص کیا جانا تھا لیکن وہ اس پر عمل پیرا ہونے سے گریزاں رہے جس کے باعث چھ احمدی احباب کی تدفین کسی اَور جگہ پر کرنی پڑی۔

یہ معاملہ پچپن سالہ قدسیہ تبسم کی تدفین کے موقع پر سنگین صورت حال اختیار کر گیا۔ جب انتظامیہ سے قبرستان میں ان کی تدفین کی اجازت مانگی گئی تو انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ عارضی طور پر ان کی تدفین کا انتظام کسی اَور جگہ کیا جائے۔ ان کے اہل خانہ نے ان کا جسد خاکی سرد خانے میں رکھا اور ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کی۔اُس نے اس معاملے سے لاعلمی کا اظہار کیا اور خود جائے وقوعہ کا جائزہ لینے کا وعدہ کیا۔ ساتھ ہی اس نے بھی یہ مطالبہ کیاکہ وقتی طور پر تدفین کسی اَور جگہ کر دی جائے۔

پیرو چک میں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد تدفین کے لیے انہیں احمدیہ قبرستان بھادل لے جایا جارہا تھا کہ تحریک لبیک کے شرپسندوں نے راستہ روک دیا۔ انہوں نے احمدیت مخالف نعرے بازی کی اور لوگوں کو تشدد پر اکسایا جس کے نتیجے میں چھ افراد زخمی ہو گئے۔ موقع پر موجود پولیس اس مشتعل ہجوم کو قابو کرنے میں ناکام رہی جس نے نہ صرف پتھر احمدیوں پر پھینکے بلکہ گھروں پر حملہ کیا اور مال وا سباب کو آگ لگا دی جس میں ایک موٹر سائیکل بھی شامل ہے۔ اس کے بعد انہی حملہ آوروں نے پولیس سے احمدیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

۲۴؍ستمبر کو بھڈال میں پولیس کی نگرانی میں تدفین کا عمل مکمل ہوا۔ تب سے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ یا تو پیروچک کے قبرستان کو دوحصوں میں بانٹیں گے یا پھر احمدیوں کے لیے کوئی نئی جگہ مختص کریں گے۔

یہ تنازعہ ۲۰۲۲ءمیں تب شروع ہوا جب مولویوں نے اس بات کو یکسر نظر انداز کرتےہوئے کہ تقسیم پاکستان سے پہلے سے یہ مشترکہ قبرستان ہے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ قبرستان ’مسلمانوں‘ کا ہے۔

شیخوپورہ میں بڑھتے ہوئے احمدیت مخالف واقعات

جس وقت سیالکوٹ میں تدفین کے معاملات میں پُرتشدد واقعات ہو رہے تھے اسی وقت شیخوپورہ میں ۲۷ سے۲۹؍ستمبر کے درمیان ہراسانی کے واقعات کا تسلسل دیکھنے کو ملا۔ صرف تین دن کے قلیل عرصے میں شیخوپورہ کے تین دیہات کلسیاں،آنبہ نوریہ اور آنبہ کالیہ میں احمدیوں کو ہراسانی،جسمانی تشدد اور مساجد کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

۲۷؍ستمبر کو کلسیاں میں تحریک لبیک کے مولویوں عرفان برق اورپیر ظہیر الدین نے ایک ریلی کی قیادت کی۔ اس اکٹھ کے دوران اشتعال انگیز تقاریر کی گئیں جن میں احمدیوں کے خلاف تشدد پر اکسایا گیا۔ پولیس موقع پر موجود تھی لیکن کوئی مؤثر کارروائی نہ کی۔

اگلے ہی روز آنبہ نوریہ میں دو لوگوں نے ایک نوجوان کا پیچھا کیا اور اس کو پیسوں کا لالچ دے کر احمدیوں کے جمعہ ادا کرنے کی جگہ کی تفصیل جاننے کی کوشش کی۔ اس کے انکار پر انہوں نے اس کو زدوکوب کیا اور وہاں سے بھاگ گئے۔ نوجوان کومعمولی زخم آئے۔

۲۹؍ستمبر کو آنبہ کالیہ میں نماز فجر کے بعد دو افراد دیوار پھلانگ کر احمدیہ مسجد میں داخل ہوگئے اور وہاں سے قرآن کےنسخے چرا لیے۔ اس کے بعد مخالفین نے پولیس پر زور دیا کہ وہ احمدیوں کے ہی خلاف مقدمہ کا اندراج کریں۔

دباؤ ڈالنے کا ایک منظّم طریقہ

سیالکوٹ اور شیخوپورہ میں ستمبر میں ہونے والے واقعات پنجاب بھر میں ایک منظّم طریقہ کار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مقامی مولوی اور کارکن تشدد پر اکساتے ہیں۔ہجوم قانونی گرفت سے مبرا ہو کر کارروائیاں سر انجام دیتے ہیں اور انتظامیہ مداخلت کرنے سے عاجز رہتی ہے یا ایسے قوانین کا سہارا لے کر کوئی بھی کارروائی کرنے سے گریز کرتی ہے جس سے یہ ظلم و بربریت قانونی جواز حاصل کرلیتے ہیں۔

ربوہ میں شدّت پسند جلوس اور احمدیت مخالف ریلیاں

جماعت احمدیہ کے مرکز ربوہ میں دو روز پر محیط احمدیت مخالف کانفرنس اور جلوس کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں مقامی انتظامیہ کے تعاون اور کسی حد تک تجاہل عارفانہ کی وجہ سے احمدیوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کی گئیں اور ہجوم کو احمدیوں کے خلاف تشدد پر اکسایا گیا۔

۶؍ستمبر کو ربوہ میں عید میلاد النبیؐ کے نام پر ایک جلوس نکالا گیا۔ عمومی طور پر ملک بھر میں اس قسم کے جلوس مقامی مذہبی نوعیت کے ہوتےہیں۔ لیکن ربوہ میں ایک لمبےعرصے سے یہ جلوس فرقہ وارانہ شر انگیزی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ جلوس کی قیادت مولوی توصیف نے کی جس میں ربوہ سے متصل آبادیوں سے آئے لوگوں نے شرکت کی۔ یہ جلوس مسلم کالونی سے شروع ہوا اور ربوہ کے مرکزی حصے سے گزرتا ہوا بس اڈے پر ختم ہوا۔

مختلف مقامات پر جہاں سے یہ جلوس گزرا مقررین نے انتہائی اشتعال انگیز قسم کی احمدیت مخالف تقاریر کیں اور ساتھ ہی اس بات کا مطالبہ کیا کہ اس شہر سے قادیانیوں (احمدیوں) کے غلبہ کو ختم کیا جائے۔ اور ساتھ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو نشانہ بنانے کےلیے اکسایا۔ ایک مقرر نے اندازاً چار سو کے قریب حاضرین کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ براہ راست احمدیوں کا سامنا کریں اور اگلے روز بڑی احمدیت مخالف کانفرنس میں بھی شرکت کریں۔ سارا وقت نہ صرف احمدیوں کے خلاف تحقیر آمیز زبان استعمال کی گئی بلکہ احمدیوں کے درمیان اندورنی تقسیم کے جھوٹے دعوے کر کے تشدد پر اکسایا گیا۔

۷؍ستمبر کو مسلم کالونی میں بین الاقوامی تحفظ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جو ۱۹۷۴ء کے اس دن کی یاد کے طور پر منایا جاتا ہے جب احمدیوں کو آئین پاکستان کے تحت اپنی شناخت بطور مسلمان رکھنے سے محروم کر دیا گیا تھا۔ اس موقع پر سینکڑوں حاضرین موجود تھے۔ اور اس تقریب میں مولویوں اور سیاسی حلقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی جن میں تحریک مدح صحابہ،علماء کونسل پاکستان اور عالمی تحفظ ختم نبوت کے اراکین شامل تھے۔

مقررین نے بار بار احمدیوں کو اسلام اور ملک کے غدّار قرار دیا اور جماعت احمدیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے توہین مذہب اور احمدیت مخالف قوانین کے تحفظ کا اعادہ کیا اور اس بات کی قسم کھائی کہ اگر ان قوانین کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو حکومت کو ایک پُرتشدّد مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔متعدد مقررین نے اشتعال انگیز تقاریر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ احمدی قوم کو دھوکا دے رہے ہیں اور معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کے ذمہ دار ہیں۔ مولوی طاہر اشرفی نے اعلانیہ طور پر حکومت کو متنبہ کیا کہ ’’قادیانیوں کو قانون کے دائرے میں لائیں‘‘ او ران کی عبادتگاہوں کو مسجد کہنے سے گریز کریں۔

رات گئے تک ایسی تقاریر کا سلسلہ جاری رہا۔ کئی مولویوں نے عجیب و غریب قسم کے بیانات دیے جیسے کہ اگر احمدی چاند پر بھی چلے جائیں تو بھی ہم ان کا پیچھا کریں گے۔ یہ دو روزہ تقریب اس بات کو عیاں کرتی ہے کہ جماعت احمدیہ مسلمہ کے خلاف نفرت پر مبنی بیان بازی اور تشدد پر اکسانے کا عمل قانونی گرفت سے عاری سمجھا جانا زیادہ عام ہو رہا ہے۔ نفرت انگیزی کو روکنے والی آئینی شقوں اور پاکستان کے عالمی بنیادی انسانی حقوق کے عہد و پیمان کی کھلی پامالی کے باوجود نہ تو انتظامیہ کی جانب سے کانفرنس کے منتظمین کو روکا گیا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی گئی۔

پاکستان میں جماعت احمدیہ کا مرکز بھاری انتظامی پابندیوں کی زد میں ہے۔احمدیوں کو اپنے ہی شہر میں اپنے مذہبی اجتماع کرنے کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے جبکہ شدت پسند گروہوں کو اس شہر میں داخل ہونے او رپولیس کے تحفظ میں احمدیت مخالف ریلیاں کرنے کی عام اجازت ہے۔ احمدیوں کی مذہبی آزادی پر پابندیاں اوران کے خلاف اشتعال انگیزی پر آنکھیں موند لینے کا تضاد منظم نوعیت کے امتیازی سلوک اور پاکستان کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عمل میں ناکامی کو واضح کرتا ہے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: پیروچک ضلع سیالکوٹ میں انتہا پسندوں کی احمدیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button