صنعت وتجارت
ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’تجارت کے لیے تقویٰ بہت ضروری ہوا کرتا ہے۔ تجارت کو فروغ دینے کے ساتھ تقویٰ کا بڑا گہرا تعلق ہے۔ چنانچہ تقویٰ کا جو معیار ہے، وہ دنیا کی کسی اور جماعت کو حاصل نہیں بلکہ کسی کو یہ توفیق ہی نہیں ہے کہ اس کے قریب ہی پھٹک سکے۔ پھر قربانی کا بے نظیر جذ بہ موجود ہے۔ قوموں کے لیے عملی میدان میں آگے بڑھنے کے لیے جس Spirit یعنی روح کی ضرورت ہوتی ہے ،وہ جتنی جماعت احمدیہ میں پائی جاتی ہے اتنی اور کسی جماعت میں نہیں پائی جاتی۔ پھر ایثار کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایثار بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ میں موجود ہے۔ غرض یہ سارے خزانے ہیں ۔ ان خزانوں کو عملی خزانوں کی صورت میں تبدیل کرنا اور پھر حمد کے اظہار کے طور پر شکر کے جذبے سے سرشار ہوکر اللہ کی راہ میں پیش کرتے چلے جانا۔ یہ ایک ایسا نہ ختم ہونے والا جاری نظام بن جائے گا کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہم بہت تیزی کے ساتھ دنیا کی دینی ضروریات کو پورا کرنے کے اہل ہو جائیں گے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے اس کی طرف بہت گہری اور فوری توجہ کی ضرورت ہے۔‘‘
(رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۸۳ء)
(مرسلہ: وکالت صنعت و تجارت)




