متفرق مضامین

حضرت مولانا حکیم فضل الرحمٰن صاحب۔ مبلغ افریقہ

(غلام مصباح بلوچ۔ استاد جامعہ احمدیہ کینیڈا)

’’حکیم فضل الرحمان صاحب … کی قربانیوں سے ہمیشہ ہی میرا دل بہت متاثر رہا ہے۔‘‘
(حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب ’’فتح اسلام‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’اس جگہ مَیں اس بات کے اظہار اور اس شکر کے ادا کرنے کے بغیر رہ نہیں سکتا کہ خداتعالیٰ کے فضل و کرم نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا۔ میرے ساتھ تعلق اخوت پکڑنے والے اور اس سلسلہ میں داخل ہونے والے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے محبت اور اخلاص کے رنگ سے ایک عجیب طرز پر رنگین ہیں۔ نہ مَیں نے اپنی محنت سے بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص احسان سے یہ صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا کی ہیں۔‘‘ (فتح اسلام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۳۵)

حضرت مولانا حکیم فضل الرحمٰن صاحب حضورؓ کی بائیں جانب کھڑے ہیں

ان صدق سے بھری ہوئی روحوں کا وجود جہاں حضرت اقدس علیہ السلام کی زندگی میں ہمیں دکھائی دیتا ہے وہاں آپؑ کے بعد جاری ہونے والی خلافت کے ادوار میں بھی ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے۔ خلافت ثانیہ میں محبت اور اخلاص کے رنگ سے ایک عجیب طرز پر رنگین وجودوں میں ایک نام حضرت مولانا حکیم فضل الرحمان صاحب کا بھی ہے جن کی خدمت اسلام، اطاعتِ خلافت، وابستگیٔ جماعت اور ہمدردیٔ انسانیت وغیرہ کی شاندار مثالوں نے جہاں غیروں پر حیرت انگیز اثر ڈالا وہاں آنے والی نسلوں کے لیے بھی قابل تقلید نمونہ چھوڑا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’حکیم فضل الرحمان صاحب … کی قربانیوں سے ہمیشہ ہی میرا دل بہت متاثر رہا ہے۔‘‘ (خطبات طاہر جلد۷ صفحہ ۱۴۱)

محترم مولانا حکیم فضل الرحمٰن صاحب اندازاً ۱۸۹۶ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد حضرت حافظ نبی بخش صاحب رضی اللہ عنہ (بیعت: ۱۸۹۰ء ۔ وفات: ۲۳؍مارچ ۱۹۴۲ء) آف تلونڈی جھنگلاں ضلع گورداسپور ابتدائی اور نہایت مخلص صحابہ میں سے تھے۔ اس طرح آپ نےایک احمدی گھرانے میں آنکھ کھولی اور بچپن سے ہی ایک پاکیزہ اور دعاؤں کے حصار میں پرورش پائی۔ آپ کے قریبی ساتھی محترم سردار مصباح الدین صاحب سابق مبلغ انگلستان (وفات: اگست ۱۹۸۸ء) بیان کرتے ہیں: ’’۱۹۱۵ء کی بات ہے … وہ سکول کی نویں جماعت میں آکر داخل ہوئے تھے۔ اسی سال حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک خطبہ میں اپنے عہد کی پہلی وقفِ زندگی کی تحریک فرمائی۔ اس تحریک میں لبیک کہنے والوں میں ایک حکیم صاحب مرحوم بھی تھے … مکرم حکیم صاحب میٹرک کی کلاس تک پہنچ گئے، امتحان دیا مگر فیل ہوگئے۔ چونکہ زندگی کسی کی نذر کر چکے تھے اس لیے دوبارہ تیاری امتحان کے لیے اجازت طلب کی۔ اس کے جواب میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تم لوگوں سے ایسا کام لینا ہے جس کے لیے یونیورسٹیوں کی ڈگریوں کی ضرورت نہیں۔ یہ جواب پڑھ کر خدا کے فرمانبردار بندے نے پورے صمیم قلب سے مزید رواجی تعلیم میں آگے بڑھنے کا خیال ترک کر دیا۔‘‘ (میری پونجی مصنفہ صفیہ بشیر سامی لندن صفحہ ۳۴۔ سنہ اشاعت ۲۰۱۳ء)

مغربی افریقہ میں احمدیت کا آغاز ہوچکا تھا اور حضرت مولانا عبدالرحیم نیّر صاحبؓ نے اس علاقے میں احمدیہ مشن کا آغاز فرمایا اور کئی سعید روحوں کو قبول حق کی توفیق ملی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے گولڈ کوسٹ مشن سنبھالنے کے لیے حضرت حکیم فضل الرحمان صاحب کو روانہ فرمایا۔چنانچہ آپ ۲۳؍جنوری ۱۹۲۲ء کو قادیان سے روانہ ہوئے اور براستہ لندن مورخہ ۱۷؍اپریل کو پہلے لیگوس (نائیجیریا) اور پھر ۱۳؍مئی کو گولڈ کوسٹ (موجودہ غانا) کے شہر سالٹ پانڈ پہنچے، سفر کی روداد آپ کے قلم سے اخبار الفضل ۱۴؍ستمبر ۱۹۲۲ء میں شائع شدہ ہے۔ قادیان سے روانگی کے وقت حضورؓ نے دیر تک آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اور پھر ہاتھ اٹھاکر دعا فرمائی اور آپ کی کاپی پر اپنے قلم سے ہدایات لکھ کر دیں اور کچھ زبانی بھی ارشاد فرمائیں۔ (الفضل ۲۰؍مارچ ۱۹۲۲ء صفحہ ۷)

دنیا کے باقی حلقوں کی طرح افریقہ میں بھی مسیحی مشنریز سرگرم عمل تھے، مغربی افریقہ بھی اس کی لپیٹ میں تھا اور مسلمانوں کی حالت بھی نا گفتہ بہ تھی۔ آپ بفضلہ تعالیٰ خلیفہ وقت کی دعاؤں سے مسیح محمدیؐ کا پیغام لے کر اس خطۂ زمیں میں وارد ہوئے تھے لہٰذا آپ نے شروع دن سے ہی عزم و ہمت باندھتے ہوئے تبلیغ دین کا کام شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں کئی تبلیغی سفر کیے، لیکچروں اور گفتگوؤں کے ذریعہ ہزاروں لوگوں کو پیغام اسلام پہنچایا۔ ٹریکٹ شائع کیے، حکام بالا سے بھی روابط قائم کیے اور انہیں بھی احمدیت کا پیغام پہنچایا۔ عیسائیت کے مقابلے میں اسلام کا بول بالا کیا اور ہزارہا لوگوں کو مسیحیت کے جال سے بچایا۔ مساجد تعمیر کروائیں اور نو مبائعین کو نظام جماعت کے ساتھ منسلک کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مخلصین کی ایک جماعت تیار ہوگئی۔ آپ خود بیان کرتے ہیں: ’’جب میں یہاں پہنچا تو اسلام میں داخل ہونے والوں کو عجیب حالت میں پایا۔ وجہ صاف عیاں ہے کہ ان کی تربیت کے لیے کوئی مدرس ان میں فورًا نہ بھیجا جا سکا … اللہ نے میری یاوری کی اور ان لوگوں کو سمجھ دی اور اب خدا کے فضل سے بہت ہیں جن کا ایمان عاشقانہ رنگ میں تبدیل ہو رہا ہے اور جنہوں نے سمجھا ہے کہ ہاں اسلام کیا ہے … احباب کرام دعاؤں سے امداد فرماویں۔ لندن، امریکہ، جرمنی کے لیے تو احباب نے روپیہ بھیجا اور بھیج رہے ہیں یہاں دعاؤں کی تھیلیاں ہی ارسال فرما دیں۔‘‘ (الفضل ۲۱؍اگست ۱۹۲۳ء صفحہ ۹)

نائیجیریا کے اخبار The Daily Service میں چھپنے والی احمدیہ مسجد کی خبر

مسیحی مشنریز کے اثر سے بچانے کے لیے آپ نے اپنے سکول کی ضرورت محسوس کی جس کو پورا کرتے ہوئے غانا کے شہر سالٹ پانڈ میں تعلیم الاسلام احمدیہ سکول کی بنیاد رکھی جس کا افتتاح جون ۱۹۲۷ء میں سالٹ پانڈ ضلع کے کمشنر Capt. J. H. West نے کیا جنہوں نےاپنی تقریر میں آپ کی مساعی کو سراہتے ہوئے کہا:

“Mr. Hakeem came to this country about five years ago… He came as a stranger to a strange land without a following, without a school, without pupils. During these five years he has built this school and has carried on his educational work. The school building is a testimony in itself to his labours. He and I have had many conversations on education; I know that his ideals are of a very high standing …”

(Review of Religions, Oct 1927 page 17)

۱۹۲۹ءسال کی آمد پر آپ نے ایک احمدیہ کیلنڈر تیار کروایا جس میں مسجد فضل لندن، مسجد احمدیہ شکاگو اور حضرت مسیح ناصریؑ کے مقبرہ کی تصاویر کے ساتھ حضرت مسیحؑ کے صلیبی موت سے بچنے کے چودہ واضح دلائل شائع کیےاور عیسائیوں کو ’’نئے سال کا پیغام‘‘ کے عنوان سے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ اس کیلنڈر کو لوگوں نے خرید کر اپنے گھروں میں لگایا جس سے ایک مستقل پیغام سارا سال گھروں میں لگا رہا اور مثبت اثرات ظاہرہوئے مثلاً ایک عیسائی عورت نے آپ سے کہا کہ تمہارے کیلنڈر نے ہم عیسائیوں کو عجیب پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ (الفضل ۱۴؍مئی ۱۹۲۹ء صفحہ ۷)

Nigerian Daily Times میں چھپی آپ کی ایک تصویر

غرضیکہ خلیفہ وقت کی دعاؤں کے طفیل آپ کی انتھک محنت اور مسلسل جدو جہد نے کئی سعید روحوں کو دین اسلام قبول کرنے کی توفیق دی۔ مغربی افریقہ میں مذہبی حالت کے بدلتے ہوئے اس خوش کن نقشے کو دیکھ کر سیرالیون میں مقیم ایک لبنانی تاجر السید حسن محمد ابراہیم الحسینی نے لبنان سے شائع ہونے والے ایک علمی و ادبی رسالے ’’العرفان‘‘ میں احمدیت کے متعلق اپنے ایک مضمون میں لکھا: ’’…ھکذا حال المبشرین (الأحمدیین) فقد إنتشروا فی سائر إنحاء المعمورۃ و وقفوا و مبشری الفرق المسیحیۃ وجھا لوجہ و منوھم بھزیمۃ لم یکونوا لیحملوا بمثلھا، لو لا ھم لا سیما لو اتکل الأمر علیٰ علماء الأمۃ العربیۃ المستسلمین لسلطان الکری و القانعین من دنیاھم ….و ھلمّ جرًا حتی کان الأمر لا یعنیھم البتۃ … دخلت (الأحمدیۃ) بلاد (الساحل الذھبی) (أفریقیا الغربیۃ) منذ بضع سنین، فتجاوز عدد من إنتظم فی سلکِھا مِمن إعتنق الإسلام العشرین ألفا و أربی ما بَنوہ من مساجد علی المئۃ و إحدی و عشرین، کل ذالک راجع لِنشاط مبشریھا و إجتھادھم الذی لم یسبق لہٗ مثیل فی العالم الإسلامی فھم یمثلون انی حلوّا و إرتحلوا الحرکۃ الدائمۃ لا یبالون بشظف العیش و لا بِحر البلاد التی یحلون بھا او قرھا، فأین بقیۃ الفرق الإسلامیۃ عن التشبہ بِھا و بِھم؟(العرفان، الجزء ۸ ،۹ المجلد ۲۹ – ذوالقعدۃ و ذوالحجۃ ۱۳۵۸ھ کانون الاول و الثانی ۱۹۳۹ – ۱۹۴۰ء صفحہ ۸۵۰) ترجمہ: … یہی حال اس جماعت کے مبلغین کا ہے کہ وہ ساری دنیا میں پھیل گئے ہیں اور مسیحی مشنریز کو ایسی شکست فاش دی ہے کہ عیسائیوں نے خواب میں بھی اس کا نہ سوچا ہوگا۔ اگر وہ [احمدی مبلغین]نہ ہوتے تو معاملہ عرب قوم کے علماء پر منحصر ہوتا جو کردوں کی طاقت کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے دنیوی معاملات پر مطمئن ہیں … اور انہیں اس (تبلیغ دین کے) معاملے سے کوئی سروکار نہیں۔…چند سال ہوئے جب احمدیت مغربی افریقہ کے ملک گولڈ کوسٹ میں داخل ہوئی اور جن لوگوں نے اِس (احمدیت) کے ذریعے اسلام قبول کیا اُن کی تعداد بیس ہزار سے بھی بڑھ گئی ہے۔ اور ۱۲۱ بلکہ اس سے کچھ زائد ان لوگوں کی مختلف مقامات میں مساجد ہیں۔ یہ سب اس جماعت کے مبلغین کی جانفشانی اور ان کے زبردست جہاد کا نتیجہ ہے جس کی فی زمانہ عالم اسلامی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ یہ لوگ فریضہ تبلیغ ادا کرنے میں نہ سامان معیشت کی تنگی کی پرواہ کرتے ہیں اور نہ ہی کسی ملک کی گرمی یا سردی ان کو اپنے کام میں پورے منہمک اور مصروف رہنے سے روکتی ہے۔پس باقی اسلامی فرقوں کی اس (جماعت) اور ان (کے مبلغین) سے کیا مشابہت!

۱۹۲۴ء میں جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سفر انگلستان پر تشریف لے گئے تو آپ کو بھی افریقہ سے لندن بلا لیا چنانچہ آپ اس موقع پر حضور کی خدمت میں لندن حاضر ہوئے۔ حضورؓ نے اس موقع پر اظہار خوشنودی کے طور پر ایک خوبصورت فاخرہ جُبہ جو زیب تن کیا ہوا تھا، آپ کو عطا فرمایا۔(میری پونجی صفحہ ۸۸)

جون ۱۹۲۵ء کو شہزادی Louise جو برطانوی شاہ جارج پنجم کی بہن تھیں، سیر اور شکار کی غرض سے غانا آئیں تو آپ نے اس موقع پر انہیں تحفہ شہزادہ ویلز وغیرہ کتب کے تحفے کے ساتھ جماعت احمدیہ کی طرف سے خوش آمدید کی چٹھی لکھی جس پر ان کے پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف سے شکریہ کا خط آیا۔ اسی طرح غانا کے آشانٹی قوم کے تیرھویں بادشاہ Prempeh I انگریزوں کے طرف سے جلا وطن کیے جانے کے ۲۸سال بعد دوبارہ اپنی قوم میں آئے اور اپنا پہلا بت پرستی کا مذہب ترک کر کے عیسائی ہوگئے تھے، انہوں نے اپنے متعلقین کو جمع کر کے عیسائیت کا پیغام دیا۔ آپ نے یہ دیکھ کر وفات مسیحؑ اور حضرت مسیح موعودؑ کے پیغامات پر مشتمل ایک مفصّل خط ان کو لکھا۔ (الفضل یکم ستمبر ۱۹۲۵ء صفحہ ۲) غرضیکہ تبلیغ اسلام کا کوئی موقع آپ نےہاتھ سے جانے نہ دیا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے انہی دنوں ایک موقع پر فرمایا: ’’ہمارے حکیم فضل الرحمٰن صاحب افریقہ گئے …. خدا نے انہیں خوب کامیابی عطا کی۔ مشن کو پہلے سے زیادہ انہوں نے مضبوط بنایا۔‘‘(الفضل ۲۶؍نومبر ۱۹۲۹ء صفحہ ۶)

آپ کو افریقہ گئے سات سال ہوگئے تھے چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے آپ کی جگہ حضرت مولوی نذیر احمد علی صاحب کو افریقہ بھجوایا۔ آپ دار التبلیغ کا کام ان کے سپرد کر کے ۲۹؍ستمبر کو گولڈ کوسٹ سے روانہ ہوئے۔آپ کی روانگی کے وقت جماعت کے احباب پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ (الفضل ۱۴؍جنوری ۱۹۳۰ء صفحہ ۲)واپسی کے اس سفر میں آپ نے سیرالیون کا دورہ بھی کیا جہاں سے پھر انگلستان سے ہوتے ہوئے مورخہ ۲۷؍جنوری ۱۹۳۰ء کو قادیان پہنچے جہاں حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ایک بڑے مجمع کے ساتھ آپ کا استقبال فرمایا۔ اگلے روز آپ کی آمد کی خوشی میں دفاتر اور سکولوں میں چھٹی کی گئی۔ (الفضل ۳۱؍جنوری ۱۹۳۰ء صفحہ ۱)

افریقہ سے واپس آنے کے بعد آپ کی شادی محترمہ ثریا بیگم صاحبہ بنت حضرت شیخ فضل حق رضی اللہ عنہ (وفات: ۳؍جولائی ۱۹۵۵ء) کے ساتھ ہوئی، شادی کے کچھ عرصہ بعد فروری۱۹۳۳ء میں آپ کو دوبارہ مغربی افریقہ بھجوایا گیا اور آپ انگلستان سے ہوتے ہوئے پہلے سیرالیون اور پھر گولڈکوسٹ پہنچے، دونوں جگہوں پر کچھ قیام کرتے ہوئے بالآخر جولائی ۱۹۳۴ء میں نائیجیریا پہنچے۔ آپ کے نائیجیریا پہنچتے ہی آپ کو ایک خطرناک اندرونی کشمکش کا سامنا کرنا پڑا، بعض اشرار کی بغاوت کی وجہ سے ایک مدت تک آپ کو سخت مخالفت اور مقدمات جھیلنا پڑے، یہ پُر فتن حالات ۱۹۳۹ء تک جاری رہے۔ ۱۹۴۰ء میں آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ارشاد پر جماعت احمدیہ نائیجیریا کی تشکیل نو فرمائی اور پوری توجہ اور محنت سے اس کی ترقی اور استحکام کی کوشش کی اور بہت جلد بفضلہ تعالیٰ احمدیہ دار التبلیغ کو مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر قائم کیا اور احباب جماعت کو نظام خلافت کے ساتھ مربوط کیا۔ مجلس خدام الاحمدیہ کے قیام پر آپ نے بھی فوراً نائیجیریا میں مجلس خدام الاحمدیہ بنائی اور پھر مجلس اطفال کی بھی بنیاد رکھی۔ (الفضل ۲۱؍جولائی ۱۹۳۸ء صفحہ۲) تعلیم و تربیت و تبلیغ کے سلسلے میں آپ لیگوس کی جیل کے مسلمانوں میں ہر اتوار کے روز لیکچر دیتے، اسی طرح لیگوس میں Kings College کے مسلمان طلبہ کو دینیات کے متعلق لیکچر دینے کا بھی آپ کو موقع ملتا رہا۔ (الفضل ۲۶؍اپریل ۱۹۳۸ء صفحہ ۸)

اس عظیم مجاہد کی قربانی کا ایک رنگ یہ بھی ہے کہ آپ کے افریقہ قیام کے دوران ہی ۱۹۲۵ء میں آپ کی والدہ حضرت عظیم بی بی صاحبہ نے وفات پائی اور دوسری مرتبہ افریقہ بھجوائے جانے کے دوران ۱۹۴۲ء میں آپ کے والد صاحب نے وفات پائی اور اپنے والدین کی جدائی کا صدمہ آپ نے خدمت دین کی خاطر دیار غیر میں برداشت کیا۔

آپ کی کوششوں سے لیگوس، نائیجیریا میں Oja Giwa Street پر جماعت احمدیہ کی پہلی مرکزی مسجد تعمیر ہوئی جس کا سنگ بنیاد ۱۲؍مارچ ۱۹۴۳ء کو حضرت چودھری سر ظفر اللہ خان صاحبؓ نے ایک نہایت باوقار تقریب میں رکھا جس میں سر عزیز الحق صاحب ہائی کمشنر فار انڈیا، گورنر آف بمبئی Sir John Colville سمیت شہر کی کئی معززین شخصیات شریک ہوئیں۔ اس تقریب کی صدارت گورنر آف نائیجیریا Sir Bernard Henry Bourdillon نے کی۔ سنگ بنیاد کی اس تقریب کی خبر نائیجیریا کے اخبارات میں شہ سرخیوں کے ساتھ وسیع پیمانہ پر شائع ہوئی۔

اس مسجد کی تعمیر بفضلہ تعالیٰ آپ کی نگرانی اور مقامی احمدیوں کی دن رات محنت سے بہت جلد پایہ تکمیل کو پہنچی اور اسی سال مورخہ ۲۷؍اگست کو آپ نے اس کا افتتاح فرمایا اورحضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس کا نام ’’مسجدفضل‘‘ رکھا۔ آپ لکھتے ہیں: ’’ہمارے اندر کہاں طاقت تھی کہ ہم ایسی عالی شان مسجد تو درکنار مٹی کا ایک کچا جھونپڑہ بھی بنا سکتے۔ یہ ہمارے آقا کا کرم تھا کہ حضور نے پانچ ہزار روپے کی گرانقدر رقم ہمیں بطور امداد عطا کیے جانے کے واسطے ناظر صاحب بیت المال کو ارشاد فرمایا۔‘‘ (الفضل ۲۴؍نومبر ۱۹۴۳ء صفحہ۴)

مسجد جیسی اس عظیم الشان نعمت کے کچھ عرصہ بعد ہی مورخہ ۶؍اگست ۱۹۴۵ء کو آپ نے Idunmagbo Avenue, Lagos پر احمدیہ مشن ہاؤس لیگوس کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا اور ایڈریس پڑھا جو رسالہ ریویو آف ریلیجنز نومبر ۱۹۴۵ء میں شائع شدہ ہے۔ اس تقریب سے تین دن پہلے لیگوس کے اخبار Nigerian Daily Times کی ۳؍اگست کی اشاعت میں ایک غیر احمدی نامہ نگار کے قلم سے جماعت احمدیہ کے متعلق ایک مضمون چھپا جس میں اس نے لکھا کہ

“The local branch of the Sadr Anjuman Ahmadiyya is fortunate in having the active leadership of their energetic Emir Alhaji F. R. Hakeem, whose unbounded energy and outstanding organising ability is what known to all who know him. Alhaji Hakeem’s work on the Gold Coast from where within a few years he admirably succeeded in establishing an extensive Mission with an ambitious and steadily expanding educational programme, marks him out as a man who possesses not only vision, but also the necessary energy and organising ability to translate his dreams into reality.

Still greater things are expected of the local branch of the Ahmadiyya Movement under his lead, for the welfare and uplift, not only of those who belong to that particular act, but of the Muslim Community of Nigeria as a whole.” (Nigerian Daily Times, Lagos, Friday, Aug 3, 1945 page 2)

ترجمہ: ’’مقامی جماعت احمدیہ بہت ہی خوش قسمت ہے کہ اسے مولوی حکیم فضل الرحمان صاحب جیسے مستعد رہنما کی قیادت نصیب ہے جن کی غیر معمولی استعداد اور بڑھی ہوئی تنظیمی قابلیت سے ہر وہ شخص آگاہ ہے جو انہیں جانتا ہے … الحاج حکیم صاحب کے گولڈ کوسٹ (غانا) میں کام سے چند سالوں کے اندر آپ ایک پرجوش اور مسلسل توسیع پذیر تعلیمی پروگرام کے ساتھ ایک وسیع مشن قائم کرنے میں قابل ستائش طور پر کامیاب ہو گئے۔آپ ایک ایسے انسان ہیں جو کسی بڑے کام کا تصور ہی نہیں کرتے بلکہ اپنی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی قدرت بھی رکھتے ہیں اور ان کی راہنمائی میں ابھی بہت بڑے بڑے کاموں کے سر انجام پانے کی توقع ہے …‘‘(الفضل ۲۲؍اکتوبر ۱۹۴۵ء صفحہ ۵)

اسی دار التبلیغ کی تقریب کے دوران آپ نے یہ بھی بتایا کہ ’’جماعت احمدیہ کی ایک شاخ نائیجیریا میں ۱۹۱۶ء کے قریب قائم ہوئی۔ اس ملک میں اس جماعت کے قیام کی ہسٹری بالکل ویسی ہی ہے جیسی کہ خدائی جماعتوں کی ہوا کرتی ہے جو آرام و آسائش کی نہیں بلکہ مصائب و آلام سے پُر ہوتی ہے … سب سے پہلے الحاج مولوی عبدالرحیم صاحب نیرؔ ۱۹۲۱ء میں یہاں آئے، ان کے بعد میں ۱۹۲۲ء میں آیا اور اسی وقت سے ہمارے لیے مصائب کا سلسلہ شروع ہوگیا، ہم پر پتھر پھینکے گئے، چاقوؤں سے زخمی کیا گیا، سوسائٹیوں سے خارج کیا گیا، گھروں سے نکالا گیا اور مقدمات میں گھسیٹا گیا لیکن آج ماہتاب احمدیت بدر کامل کی طرح آسمان نائیجیریا میں درخشندہ ہے …‘‘ (الفضل ۲۴؍اکتوبر ۱۹۴۵ء صفحہ ۴)

اسی تقریب کے دوران ہی مرکز سے بھیجے گئے نئے مبلغ محترم مولانا نسیم سیفی صاحب مغربی افریقہ کے بعض دیگر مبلغین کے ساتھ پہنچ گئے۔ آپ دار التبلیغ کے معاملات ان کو سمجھاتے ہوئے اور مشن کا چارج ان کے سپرد کرتے ہوئے ۱۹۴۷ء میں واپس مرکز سلسلہ روانہ ہوئےجبکہ ہندوستان تقسیم ہو چکا تھا۔ جماعت احمدیہ نائیجیریا نے اپنے اس محسن مربی کی الوداعی تقریب نہایت محبت کی راہ سے لیگوس کے معروف Glover Memorial Hall میں منعقد کی جس کی صدارت وہاں کے ایک مشہور و معروف ڈاکٹر Afrinolu Maja نے کی اور سینکڑوں غیر احمدی اور عیسائی صاحبان نے بھی اس میں شامل ہوکر آپ کی عزت افزائی کی۔ (الفضل ۵؍نومبر ۱۹۴۷ء صفحہ ۴) نائیجیریا سے روانہ ہوکر آپ پہلے بیروت گئے جہاں سے احمدی احباب کی ملاقات کے لیے شام پہنچے اور دمشق میں کچھ دن قیام کیا، اس قیام کا حال محترم شیخ نور احمد منیر صاحب مبلغ دمشق نے اخبار الفضل ۷؍دسمبر ۱۹۴۷ء صفحہ ۶ پر کیا ہے۔ دمشق میں آپ کے نزیل ہونے کا سن کر جماعت احمدیہ فلسطین نے آپ کو فلسطین آنے کی دعوت دی چنانچہ لکھا ہے: ’’ثم أجبرتہٗ محبتنا و دعوتنا الملحۃ علی زیارتنا، فشرفنا بقدومہٖ الی فلسطین فی ذی الحج، و نزل عندنا، و فی ذالک شرف لنا ضیفًا کریمًا و أخًا مبجلًا و مکث لدینا عشرۃ أیام، احتفلت بہ الجماعۃ الاحمدیہ بالکبابیر و حیفا و أقامت حفلات عدۃ لتکریمہٖ، القیت فیھا الخطب و القصائد و أخذت لہٗ الصور و نشرت أحادیثہٗ فی الجرائد …. ان نزول حضرتہٖ عندنا کان نعمۃ من النعم و برکۃ من البرکات فقد رأینا بأعیننا فی شخصہٖ الکریم بطلًا من أبطال الاسلام و مفخرۃ من مفاخر الأحمدیۃ الذی قضیٰ عامًا فی سبیل خدمۃ الاسلام … (البشریٰ ستمبر ۱۹۴۷ء صفحہ ۱۲۹، ۱۳۰) ترجمہ: پھر آپ کو ہماری محبت اور دعوت نے ہماری زیارت پر مجبور کیا چنانچہ آپ ۲۰؍ذوالحجہ کو فلسطین تشریف لائے اور ہمارے ہاں نزیل ہوکر ہمارے معزز مہمان اور قابل احترام بھائی ہونے کا شرف بخشا۔ آپ ہمارے پاس دس دن رہے جس دوران جماعت احمدیہ نے کبابیر اور حیفا میں آپ کے اعزاز میں کئی تقاریب منعقد کیں جس میں تقاریر اور نظمیں ہوئیں اور تصاویر لی گئیں اور اخبارات میں ان کا ذکر شائع کیا گیا … آپ کی ہمارے ہاں آمد یقیناً ایک نعمت اور برکت تھی کیونکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے آپ کی عزت مآب شخصیت میں اسلام کا ایک ہیرو اور جماعت احمدیہ کا فخر دیکھا جس نے ۲۲ سال (بیرون ملک) تبلیغ اسلام میں گزارے۔

دمشق اور فلسطین کے مقامی اخبارات میں بھی آپ کی آمد کی خبریں شائع ہوئیں۔ (الشعب، یافا، فلسطین۔ منگل ۴؍نومبر ۱۹۴۷ء صفحہ ۲ کالم ۴) (فلسطین ۷؍نومبر ۱۹۴۷ء صفحہ ۲)

آپ نومبر ۱۹۴۷ء میں پاکستان پہنچے جبکہ ملک تقسیم ہوچکا تھا اور ابھی ربوہ کی بنیاد بھی نہ پڑی تھی۔ اخبار الفضل نے آپ کی آمد کی خبر دیتے ہوئے لکھا: ’’… ہم تمام جماعت کی طرف سے آپ کی کامیاب مراجعت کے موقعہ پر آپ کی خدمت میں أھلًا و سھلًا و مرحبًا عرض کرتے ہیں۔‘‘ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپ عالمی شہرت یافتہ سائنسدان محترم ڈاکٹر عبدالسلام کے حقیقی ماموں تھے، ان کی پڑھائی کے دوران آپ بھی احباب جماعت کو دعاؤں کے لیے کہتے، ایک جگہ لکھا ہے: ’’خاکسار کے بھانجے عزیز عبدالسلام کا امتحان کیمبرج میں ۲۹؍مئی ۱۹۴۸ء سے شروع ہے۔ مہربانی فرما کر اُس کی اعلیٰ کامیابی کے لیے دعا فرمائی جائے … خاکسار فضل الرحمٰن حکیم مبلغ آمدہ از مغربی افریقہ (الفضل ۴؍جون ۱۹۴۸ء صفحہ ۶)

جب آپ واپس تشریف لائے تو آپ بڑھاپے میں قدم رکھ چکے تھے اور آپ کی اہلیہ محترمہ بھی ادھیڑ عمر کو پہنچ چکی تھیں اور بچے جوان ہو چکے تھے۔ افریقہ سے مراجعت پر ۱۹۴۸ء کی ابتدا سے کچھ عرصہ تک آپ نے وکالت تبشیر اور نظارت دعوۃ و تبلیغ میں خدمات انجام دیں جس کے بعد حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے آپ کو افسر لنگرخانہ و مہمان خانہ مقرر فرمایا اور یہ اہم فریضہ بھی آپ نے بڑی محنت سے سر انجام دیا، اسی دوران آپ ہائی بلڈ پریشر اور یرقان کی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوگئے لیکن اس بیماری میں بھی آپ مسلسل کام کرتے رہے یہاں تک کہ بعض بزرگوں کے اصرار پر جولائی ۱۹۵۵ء میں مناسب علاج معالجے کے لیے لاہور چلے گئے لیکن آپ کو کوئی افاقہ نہ ہوا اور تبلیغ اسلام کا یہ احمدی بطل عظیم ۲۸؍اگست ۱۹۵۵ء کو ۵۹ سال کی عمر میں راہیٔ ملک بقا ہوا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ بوجہ موصی ہونے کے آپ کی قبر بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ جمعہ میں فرمایا: ’’اسی طرح حکیم فضل الرحمٰن صاحب جو حال ہی میں میرے پیچھے فوت ہوئے ہیں، وہ شادی کے تھوڑا عرصہ بعد ہی مغربی افریقہ میں تبلیغ اسلام کے لیے چلے گئے اور تیرہ چودہ سال تک باہر رہے۔ جب وہ واپس آئے تو اُن کی بیوی کے بال سفید ہو چکے تھے اور ان کے بچے جوان ہو چکے تھے۔‘‘ (الفضل ۲۲؍اکتوبر ۱۹۵۵ء صفحہ ۳) آپ کی اہلیہ محترمہ ثریا بیگم صاحبہ نے ۱۳؍اکتوبر ۱۹۹۶ء کو ماڈل ٹاؤن لاہور میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئیں۔

مزید پڑھیں: سیم ہیرس صاحب کا اسلام کے خلاف اعلانِ جنگ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button