پرسیکیوشن رپورٹس

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان

(مہر محمد داؤد)

جولائی تا ستمبر ۲۰۲۵ءمیں سامنےآنے والے چند تکلیف دہ واقعات کی جھلکیاں

۴؍جولائی ۲۰۲۵ء:باغبان پورہ لاہور میں ایک احمدی نوجوان کو تحریک لبیک کے شدت پسندوں نے گھیر لیا۔ اس احمدی نوجوان کو ایک تصویر کی بنا پر جو کہ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھی زبردستی قریبی تھانے میں لے گئے اور اس کے فون کی تلاشی لی اور پولیس پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کریں۔ پولیس نے موصوف کو رات بھر تھانے میں ہی رکھا اور اگلی صبح اس کے خاندان کے افراد سے بھاری رقم لے کر اس کو رہا کیا۔

۶؍جولائی۲۰۲۵ء:علی پارک گوجرانوالہ میں پولیس نے ایک احمدی کو گرفتار کر لیا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ اور ان کے بھائی نے عاشورہ کے روز اپنے علاقے میں کھانا تقسیم کیا تھا۔ ایک مقامی رہائشی کے کہنے پر ان کے خلاف تعزیرات پاکستان دفعہ ۲۹۸ ج کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ان کی درخواست ضمانت پہلے ۱۵؍جولائی کو مجسٹریٹ اور پھر ۲۳؍جولائی کو سیشن کورٹ نے مسترد کر دی۔وہ تا حال قید میں ہیں اور ان کی درخواست ضمانت لاہور ہائی کورٹ کے پاس زیر سماعت ہے۔

۱۷-۱۸؍جولائی۲۰۲۵ء:لالو لاشاری ،حیدر آباد میں پولیس نے مقامی مولویوں اور انتظامیہ کے کہنے پر احمدی احباب پر نمازوں کی ادائیگی پر پابندی عائد کر دی۔جماعت کے افراد سے اس بات پر زبردستی دستخط کروائے گئے کہ وہ نہ تو نماز ادا کریں گے اور نہ ہی کوئی تبلیغ کریں گے۔ ۱۸؍جولائی کو پولیس نے احمدیوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے اس وقت روک دیا جبکہ مقامی غیر احمدی مسجد میں احمدیوں کے خلاف خطبے دیے جارہے تھے اور ساتھ ہی احمدیت مخالف پمفلٹ تقسیم کیے جارہے تھے۔

۱۸؍جولائی ۲۰۲۵ء:کوٹ مرزا جان ضلع گوجرانوالہ میں پولیس نے تحریک لبیک کے ایک شدت پسند کے کہنے پر ایک مقامی رہائش گاہ پر جمعہ کی نماز ادا کیے جانے کے الزام پر گیارہ نامزد احمدی احباب اور پانچ نامعلوم افراد کے خلاف توہین مذہب کے مختلف مقدمات درج کر لیے۔ پولیس نے پہلے نمازیوں کو باحفاظت وہاں سے نکالا لیکن بعد میں ان پر ایف آئی آر درج کر دی۔ پھر ان میں سے آٹھ لوگوں کو جانے دیا لیکن ۲۶؍اگست ۲۰۲۵ء کی تاریخ اس واقعے کی سماعت کے لیے مقرر کی گئی۔

۱۸؍جولائی۲۰۲۵ء:کجر ضلع شیخوپورہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران احمدیت مخالف شدت پسندوں نے احمدیہ مسجد کو گھیرلیا اور نمازیوں کو مسجد میں محبوس کرلیا۔ نمازی ایک دوسرے دروازے سے نکلنے میں کامیاب تو ہوگئے مگر دوسری جانب بھی شدت پسندوں سے ان کا سامنا ہو گیا۔ اس موقع پر سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔مخالفین کی جانب سے پولیس کو بلا لیا گیا۔ پولیس نے ایک احمدی کو گرفتار کر لیا اور ساتھ مسجد کو سِیل کردیا۔

۲۴؍جولائی ۲۰۲۵ء:پولیس نے ایک احمدی دوست کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ علامہ اقبال ٹاؤن سے گزر رہے تھے۔ یہ گرفتاری دس ماہ قبل لٹن روڈ تھانے میں درج ایک ایف آئی آر کے تحت ہوئی جس میں توہین مذہب کی بہت سی دفعات شامل ہیں۔ اس ایف آئی آر کا سبب اسلامیہ پارک میں مسجد کے مشابہ عبادت گاہ بنانا اور خود کو مسلمان ظاہر کرنا ہے۔

۲۰-۲۸؍جولائی ۲۰۲۵ء:170/10R خانیوال میں احمدیت مخالف شدت پسندوں نے احمدیوں کے گھروں کے باہر قابل مذمت احمدیت مخالف نعرے لکھ دیے۔ احمدی احباب نے جب پولیس سے رابطہ کیا تو پولیس نے انہیں خود سے انہیں مٹانے سے منع کیا۔ کچھ احمدیوں نے کچھ دیواروں سے وہ الفاظ مٹا دیے۔ مخالفین نے اس کارروائی کی ویڈیو بنالی اور پولیس پر مولویوں اور مقامی وکیلوں نے دباؤ ڈالا جس کے باعث پولیس نے چھ نامزد اور پانچ نامعلوم احمدیوں کے خلاف توہین کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ گو کہ ان کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہوچکی ہے لیکن گرفتاری کا خطرہ تا حال موجود ہے۔

۳۰؍جولائی۲۰۲۵ء:سانگلہ ہل ضلع ننکانہ میں پولیس نے احمدیت مخالف شدت پسند کی شکایت پر ایک احمدی تاجر کا سائن بورڈ مسخ کر دیا جس پر کلمہ اور ماشاءاللہ کے الفاظ درج تھے۔ حالانکہ یہ بورڈ گذشتہ دو سال سے وہاں آویزاں ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک اور احمدی کے خلاف بھی اسی طرح کی ایک شکایت کورٹ میں درج کروانے کی کوشش کی لیکن سیشن جج نے یہ درخواست اس بنا پر خارج کر دی کہ یہ بورڈ کافی عرصے سے وہاں پر آویزاں ہے اور کسی کو اس سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ اور پولیس پہلے ہی اس سے متعلق اپنی کارروائی کر چکی ہے۔

اگست ۲۰۲۵ء :میرپور آزاد کشمیر میں انتظامیہ نے پولیس کی ہمراہی میں نیو سٹی قبرستان میں احمدیوں کی سولہ قبروں سے لفظ ’محمد‘ مٹا دیا۔ اس کارروائی کا سبب مخالفین احمدیت کی جانب سے پولیس کے اوپر ناجائز دباؤ تھا۔وہاں موجود ایک سنگ تراش نے اس کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔

۲۹؍اگست ۲۰۲۵ء:پولیس نے کلسیاں بھٹیاں ضلع شیخوپورہ میں تحریک لبیک کے شدت پسندوں کے احمدیہ مسجد کے باہر ایک جلوس نکالنے اور احمدیوں کے خلاف فرقہ وارانہ نعرے بازی کرنے کے بعد مقامی صدر جماعت سمیت دو غیر احمدیوں اور پندرہ نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ جب احمدیوں نے اس ہنگامہ آرائی کو روکنے کی کوشش کی تو تصادم کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ مخالفین کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے ایک غیراحمدی بدر منیر کو حراست میں لے لیا۔ دیگر افراد نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی۔

۱۸؍اگست ۲۰۲۵ء:چک نمبر۲۰۱ مراد، بہاولنگر میں پولیس نے اپنی نگرانی میں گاؤں کے سرپنچ کے بیٹے کے ذریعہ احمدیہ مسجد پر کندہ کلمے اور دیگر مذہبی الفاظ کو سرکاری سرپرستی میں مٹایا۔ یہ کارروائی مخالفین احمدیت مولویوں کے دباؤ اور پولیس کی جانب سے دی گئی اس وارننگ کے بعد عمل میں آئی کہ وہ تمام تختیاں ہٹا دی جائیں جن پر مذہبی الفاظ کندہ ہیں۔

۲۷؍اگست تا ۳؍ستمبر ۲۰۲۵ء:فتح شاہ ضلع ننکانہ میں جب کچھ احمدی فلٹر پلانٹ سے پانی لے رہے تھے تب ان پر کچھ شدت پسندوں نے حملہ کردیا۔ جس کے بعد پولیس نے کئی مقدمات درج کرلیے۔ دو احمدیوں اور ایک غیراحمدی کو اقدام قتل اور ہتھیا ر رکھنے کی دفعات کے تحت حراست میں لیا گیا لیکن بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

۲؍ستمبر ۲۰۲۵ء:چہور مغلیاں اور چہور کوٹلی ضلع ننکانہ میں پولیس نے اپنے زیر نگرانی دو احمدیہ مساجد کے مینار مسمار کروائے۔ مسمار کیے جانے کا یہ عمل بغیر کسی تحریری یا عدالتی حکم نامے کے عمل میں لایا گیا۔ اور جب افراد جماعت نے اس کارروائی کے غیرقانونی ہونے کے باعث اعتراض کیا تو پولیس نے ان کی بات ان سنی کر دی۔

۹؍ستمبر۲۰۲۵ء:ڈپٹی کمشنر کوٹلی آزاد کشمیر نے مخالفین احمدیت کے دباؤ میں آکر مقامی مفتی کے زیر نگرانی سات رکنی کمیٹی تشکیل دی جس کا کام احمدیوں کے جنازوں میں ہونے والی رسومات اور احمدیہ مساجد میں اسلامی علامات کو تلاش کرنا ہے۔

۱۲؍ستمبر۲۰۲۵ء:چک نمبر ۱۱۶-۶ ضلع ساہیوال میں ایک احمدی دوست پر دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے آتشیں اسلحے سے حملہ کیا اور فرار ہوگئے۔ احمدی دوست حملے میں محفوظ رہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیق کا آغاز کر دیا۔

۲۹؍ستمبر۲۰۲۵ء:فورڈوا ضلع بہاولنگر میں پولیس نے رات گئے احمدیہ مسجد کے مینار مسمار کر دیے۔ انتظامیہ کے افسران گیارہ بجے جائے وقوعہ پر پہنچے۔ پہلے بجلی منقطع کی اور پھر وہاں موجود لوگوں کے موبائل فون ضبط کر لیے تا کہ کوئی اس کارروائی کی ویڈیو نہ بنا سکے۔ احمدیوں کو بھی گھروں سے نکلنے سے منع کیا۔اور پھر رات دو بجے مینار مسمار کر دیے۔ یہ مسجد احمدیت مخالف قوانین سے قبل ۱۹۸۰ء میں تعمیر کی گئی تھی۔

مقدمات کے متعلق آگاہی اور قانونی پیشرفت

حالیہ مہینوں میں جماعت احمدیہ کے افراد کے متعلق کئی اضلاع میں گذشتہ مقدمات میں پیش رفت،نئے مقدمات کی سماعت،ضمانتوں اور مقدمات کے فیصلے دیکھنے میں آئے۔

پیر محل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پانچ سال تک مقدمہ چلنے کے بعد احمدیوں کی رہائی

۱۵؍اگست ۲۰۲۰ء تا ۳۰؍ستمبر۲۰۲۵ء:پیر محل کے مجسٹریٹ احمد حیات نے منور سعید اور فضل سعید کو پانچ سال مقدمہ چلنے کے بعد۳۰؍ستمبر۲۰۲۵ء کو باعزت بری کردیا۔ پانچ سال قبل ان پر قربانی کا گوشت تقسیم کرنے پر توہین مذہب کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اسی مقدمے کے دوران تیسرے نامزد احمدی دوست سعید احمد وفات پا گئے تھے۔ ان دو مدعیان علیہ کی نمائندگی شورکوٹ کے ایڈووکیٹ رانا عبد الکریم نے کی۔

سرگودھا میں ۲۳؍احمدی احباب کے خلاف نماز جمعہ کی ادائیگی پر ایف آئی آر

۲۸؍فروری تا ۱۸؍ستمبر۲۰۲۵ء:بھاگٹانوالہ تھانے میں توہین مذہب کی دفعات کے تحت درج ہونے والا ایک مقدمہ ہائی کورٹ کے سامنے تاحال التوا کا شکار ہے۔ فروری ۲۰۲۵ء میں ان لوگوں پرمقدمہ درج کیاگیا۔ ان میں سے سولہ افراد نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی۔ سات افراد کو پولیس نے بے قصور قرار دیا۔ اس پر ان لوگوں نے اپنی درخواست واپس لے لی۔بچ جانے والے سات افراد کی درخواست ضمانت سیشن کورٹ نے ۲۳؍ اپریل کو مسترد کر دی لیکن۲۸؍ اپریل کو ہائی کورٹ کے جج راجہ غضنفر علی نے انہیں ضمانت دے دی۔

جسٹس شہرام سرور کے روبرو ۱۸؍ستمبر کو مقرر شدہ سماعت انجام پذیر نہ ہو سکی۔ جس کو اب دوبارہ مقرر کیا جائے گا۔

خانیوال میں ایک احمدی کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ

جولائی تا ستمبر۲۰۲۵ء:تھانہ صدر خانیوال میں ایڈووکیٹ محمد افضل کی مدعیت میں توہین کی دفعات کے تحت چھ نامزد اور پانچ نامعلوم احمدیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ ۲۸؍جولائی ۲۰۲۵ء کو ایڈیشنل سیشن جج راجہ فیصل رشید نے مقدمہ میں نامزد احمدی احباب کو ضمانت قبل از گرفتاری دے دی اور اس کے فیصلے کی تاریخ ۲۰؍ستمبر مقرر کی۔لیکن مقررہ تاریخ کو اس نے انہیں ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ ۲۱؍ستمبر کو پولیس نے چھاپہ مار کر ان نامزد احمدی احباب کے پانچ رشتہ داروں کو بھی گرفتار کرلیا اور انہیں وہ غیر نامزد افراد قرار دیا جن کا مقدمے میں ذکر ہے۔

مزید پڑھیں: خوشاب میں ایک احمدی مبشر احمد ورک پر قاتلانہ حملہ کاملزم تاحال گرفتار نہیں ہو سکا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button