حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

تیسری شرط بیعت

’’ یہ کہ بلا ناغہ پنج وقتہ نماز موافق حکم خدا اوررسول کے ادا کرتا رہے گا۔ اورحتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریمﷺ پردرود بھیجنے اور ہر روز اپنے گناہوںکی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا۔ اور دلی محبت سے خداتعالیٰ کے احسانوں کو یاد کرکے اس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہرروزہ ورد بنائے گا ‘‘

پنج وقتہ نمازوں کا التزام کرو

اس شرط میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں ان میں نمبر ایک تو یہی ہے کہ اللہ اوررسول کے حکم کے مطابق پانچ وقت نمازیں بلاناغہ ادا کرے گا۔ اللہ اوررسول کا حکم ہے مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے۔ اور ان بچوں کے لئے بھی جو دس سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں کہ نماز وقت پر ادا کرو۔ مردوں کے لئے یہ حکم ہے کہ نماز باجماعت کی ادائیگی کا اہتمام کرو۔ مسجدوں میں جائو، ان کو آباد کرو، اس کے فضل تلاش کرو۔ پنج وقتہ نماز کے بارہ میں کوئی چھوٹ نہیں۔ اورسفر میں بھی کچھ رعایت تو ہے یا بیماری میں بھی رعایت ہے۔ یا جیسے یہ ہے کہ جمع کرلو،قصر کرلو۔اور اگر بیماری میں مسجد نہ جانے کی چھوٹ ہے تو ان باتوں سے اندازہ ہو جانا چاہئے کہ نماز باجماعت کی کتنی اہمیت ہے۔اس کی اہمیت کے بارہ میں اب میں مزید کچھ اقتباسات پڑھتاہوں لیکن یہ عرض کرنا چاہتاہوں کہ ہر بیعت کنندہ کو اپنا جائزہ لیناچاہئے کہ ہم اپنے آپ کو بیچنے کاعہد کررہے ہیں لیکن کیا اس واضح قرآنی حکم کی پابندی بھی کررہے ہیں۔ ہر احمدی اپنے نفس کے لئے خود مذکر ہے، خود اپنا جائزہ لیں، خود دیکھیں۔ اگرہم خود ہی اپنے آپ کو،اپنے نفس کو ٹٹولنے لگیں تو ایک عظیم انقلاب برپا ہوسکتاہے۔

قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے : وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ(النور:۵۷)۔ اور نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

پھر سورۃ طٰہٰ آیت ۱۵میں ہے۔ اِنَّنِیْٓ اَنَا اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدْنِی وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ۔یقیناً مَیں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں۔پس میری عباد ت کرو اور میرے ذکرکے لئے نماز کو قائم کرو۔

اوراس طرح بے شمار دفعہ قرآن مجید میں نماز کے بارہ میں احکامات آئے ہیں۔ ایک حدیث مَیں پیش کرتاہوں۔ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے آنحضرتﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ نماز کو چھوڑنا انسان کو شرک اورکفرکے قریب کر دیتاہے۔ (مسلم کتاب الایمان۔ باب بیان اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلوٰۃ)

آنحضرت ﷺنے فرمایاکہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔(سنن النسائی۔ کتاب عِشرۃالنّساء۔ باب حُبّ النّساء)

حضرت ابوہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺنے فرمایا :قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کابندوں سے حساب لیا جائے گا وہ نمازہے۔اگریہ حساب ٹھیک رہا تو وہ کامیاب ہوگیا اوراس نے نجات پالی۔ اگر یہ حساب خراب ہوا تووہ ناکام ہو گیا اورگھاٹے میں رہا۔ اگراس کے فرضوں میں کوئی کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ دیکھو! میرے بندے کے کچھ نوافل بھی ہیں۔ اگر نوافل ہوئے تو فرضوں کی کمی ان نوافل کے ذریعہ پوری کردی جائے گی۔اسی طرح اس کے باقی اعمال کا معائنہ ہوگا اوران کا جائزہ لیاجائے گا۔(سنن ترمذی۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب انّ اوّل ما یحاسب بہ العبد)

پھر حدیث میں آتا ہے: حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرتﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر کسی کے دروازے کے پاس سے نہر گزر رہی ہو اور وہ اس میں دن میں پانچ بار نہائے تو اس کے جسم پر کوئی میل رہ جائے گی؟ صحابہؓ نے عرض کیا: رسول اللہ ! کوئی میل نہیں رہے گی۔ آپؐ نے فرمایا۔ یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ گناہ معاف کرتا ہے اور کمزوریاں دُور کردیتا ہے۔(صحیح بخاری۔ کتاب مواقیت الصلوٰۃ۔ باب الصلوٰۃ الخمس کفارۃ للخطاء)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیںکہ’’نماز پڑھو، نماز پڑھو کہ وہ تمام سعادتوں کی کنجی ہے‘‘۔(ازالہ اوہام۔ صفحہ۸۲۹۔ طبع اول۔ روحانی خزائن۔ جلد نمبر۳۔ صفحہ۵۴۹)

حضورؑ مزید فرماتے ہیں:۔’’نماز کا مغز اور روح بھی دعا ہی ہے‘‘۔(ایام الصلح۔ روحانی خزائن جلد نمبر۱۴۔صفحہ۲۴۱)

آپ مزید فرماتے ہیں:’’ اے وہ تمام لوگو! اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو۔ آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جائوگے جب سچ مچ تقویٰ کی راہوں پر قدم ماروگے۔ سو اپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو۔ اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ ہر ایک جو زکوٰۃ کے لائق ہے وہ زکوٰۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔ نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔ یقیناً یاد رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو تقویٰ سے خالی ہے۔ ہرایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے۔ جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہو گی۔ وہ عمل بھی ضائع نہیں ہو گا۔‘‘(کشتی نوح۔ روحانی خزائن۔ جلد۱۹۔ صفحہ ۱۵)

آپؑ فرماتے ہیں :’’نماز کیا چیز ہے۔ وہ دعا ہے جو تسبیح تحمید تقدیس اور استغفار اور درود کے ساتھ تضرع سے مانگی جاتی ہے۔ سو جب تم نماز پڑھو تو بیخبر لوگوں کی طرح اپنی دعائوں میں صرف عربی الفاظ کے پابند نہ رہو۔ کیونکہ ان کی نماز اور ان کا استغفار سب رسمیں ہیں جن کے ساتھ کوئی حقیقت نہیں۔ لیکن تم جب نماز پڑھو تو بجز قرآن کے جو خدا کا کلام ہے۔ اور بجز بعض ادعیہ ماثورہ کے کہ وہ رسول کا کلام ہے باقی اپنی تمام عام دعائوں میں اپنی زبان میں ہی الفاظ متضرعانہ ادا کر لیا کرو تاکہ تمہارے دلوں پر اس عجز و نیاز کا کچھ اثر ہو‘‘۔(کشتی نوح۔روحانی خزائن۔ جلد۱۹۔ صفحہ۶۸-۶۹)

پھر آپؑ نے فرمایا :’’نماز ایسی شئے ہے کہ اس کے ذریعہ سے آسمان انسان پر جھک پڑتاہے۔ نماز کا حق ادا کرنے والا یہ خیال کرتاہے کہ مَیں مر گیا اور اس کی روح گداز ہو کر خدا کے آستانہ پر گر پڑی ہے… جس گھر میں اس قسم کی نماز ہوگی وہ گھر کبھی تباہ نہ ہوگا۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر نوحؑ کے وقت میں نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی۔ حج بھی انسان کے لئے مشروط ہے، روزہ بھی مشروط ہے،زکوٰۃ بھی مشروط ہے مگرنماز مشروط نہیں۔ سب ایک سال میں ایک ایک دفعہ ہیں مگر اس کا حکم ہر روز پانچ دفعہ ادا کرنے کاہے۔ اس لئے جب تک پوری پوری نماز نہ ہوگی تو وہ برکات بھی نہ ہوں گی جو اس سے حاصل ہوتی ہیں اور نہ اس بیعت کا کچھ فائدہ حاصل ہوگا‘‘۔(ملفوظات۔ جلد سوم۔ صفحہ ۶۲۷۔ ایڈیشن۱۹۸۸ء)

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۴۷ تا ۵۱)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button