صحت

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۱۰)(قسط ۱۳۵)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

بیلا ڈونا

Belladonna

(Deadly night shade)

بیلا ڈونا دوران خون پراثر انداز ہونے والی دوا ہے۔دل،پھیپھڑے،دماغ اور اعصابی نظام بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ایکونائٹ کی طرح بیماری کا اچانک حملہ بیلا ڈونا کی خاص علامت ہےلیکن بیلا ڈونا ایکونائٹ کے مقابل پر زیادہ لمبا اثر رکھنے والی دوا ہے۔بیلا ڈونا کی نمایاں خصوصیت سوزش ہےجس سےخصوصاً دماغ،پھیپھڑے ،جگر اور انتڑیاں متاثر ہوتے ہیں۔ (صفحہ۱۳۳)

بیلا ڈونا کی علامات رکھنے والی بیماریوں میں اچانک پن تو بالکل ایکونائٹ کی طرح ہی پایا جاتا ہےلیکن اس میں کوئی خاص خوف نہیں پایا جاتا۔مریض دبے لفظوں میں تکلیف کا اظہارکرتا ہےورنہ خاموش رہتا ہے،زیادہ بولنا پسند نہیں کرتا سوائے اس کے رات کو ڈراؤنی خوابیں آنے لگیں تو شورمچا کر اٹھ جاتا ہےورنہ عام طور پر چادر لے کر الگ تھلک پڑا رہنے والا مریض ہے۔قدموں کی ہلکی سی چاپ یا روشنی دردوں کو بڑھا دیتی ہے،جلد بہت حساس ہوتی ہے اور درد کے مقام پر ذرا سا کپڑا لگنا بھی ناقابل برداشت ہوجاتا ہے۔ماؤف حصہ میں سرخی نمایاں ہوتی ہے،شدید جلن کا احساس ہوتا ہے‘خون کا دباؤزیادہ ہونے سے تشنجی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور جھٹکے لگتے ہیں۔اگر معدہ اور اعصابی نظام بگڑنے کی وجہ سے سوتے میں جسم کو جھٹکے لگیں تو گرائنڈیلیا (Grindelia) بہترین دوا ہے۔بیلا ڈونا میں بھی جسم کو جھٹکے لگنے کی علامت پائی جاتی ہے۔گرائنڈیلیا میں سارے جسم کو جھٹکا نہیں لگتا بلکہ محسوس ہوتا ہےکہ دل کو جھٹکا لگا ہے۔بیلا ڈونا میں تمام جسم اچانک لرز اٹھتا ہےاور اسی جھٹکے سے مریض کی آنکھ کھل جاتی ہے اور بار بار ایسا ہوتا ہے،مریض سو نہیں سکتا۔بیلا ڈونا کی ایک خوراک دینے سے ہی بعض اوقات تکلیف فی الفور ختم ہوجاتی ہے۔اگر سر اور آنکھوں کی بیماریوں میں روشنی ناقابل برداشت ہو تو یہ بھی بیلاڈونا کی علامت ہے۔ (صفحہ۱۳۳-۱۳۴)

بیلاڈونا کے مریض کی جلد پر نکلنے والے دانوں اور غدودوں کی تکلیف میں سوزش نمایاں ہوتی ہے۔ گلا اچانک پھول جاتا ہے اور سخت سوزش ہوتی ہے ، گھونٹ بھرنا بھی دو بھر ہو تا ہے۔ ایسی تکلیف میں بیلاڈونا بہت مفید ہے۔ اس کی ایک خاص علامت یہ ہے کہ بیرونی طور پر گلینڈ ز کے اوپر چھوٹے چھوٹے سرخ دانے بن جاتے ہیں۔ کچھ دیر تک یہ سرخی رہتی ہے پھر میلے میلے سے رنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جوڑوں کے درد میں بھی سوزش اور سرخی نمایاں ہوتی ہے جن پر بڑے بڑے سرخ دانے بھی بنتے ہیں جو بعد میں رنگ بدل لیتے ہیں لیکن ان میں پیپ نہیں بنتی۔ (صفحہ۱۳۵-۱۳۶)

بیلا ڈونا کے مزاج میں سوجن بھی داخل ہے۔چوٹوں کے نسخہ میں آرنیکا کے ساتھ بیلا ڈونا ملا کر دینا آرنیکا کا فائدہ بڑھا دیتا ہےکیونکہ چوٹ لگنے کے رد عمل کے نتیجہ میں خون تیزی سے متاثرہ عضو کی طرف حرکت کرتا ہے۔اسی وجہ سے ڈاکٹر عموماً فوری علاج کے طور پر ٹھنڈی ٹکور تجویز کرتے ہیں۔بیلاڈونا ٹھنڈی ٹکور سے بھی زیادہ زود اثر ہوتا ہے۔اگر آرنیکا کے ساتھ ملا کر دیں تو ہر چوٹ کے آغاز کے لیے یہ بہترین نسخہ ہے۔بیلا ڈونا کے مریض کی عام تکلیفیں گرمی سے بڑھتی ہیں لیکن ماؤف حصہ پر ٹھنڈی ٹکور سے آرام آتا ہے۔اگر جگر اور انتڑیوں میں ورم اور سوزش ہو تو سارا جسم ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔اس صورت میں اگر مریض بیلا ڈونا کا بھی ہو گا تو اسے بیرونی گرمی فائدہ پہنچائے گی ۔ (صفحہ۱۳۶-۱۳۷)

بیلا ڈونا میں ہر ماؤف مقام پر دھڑکن پائی جاتی ہے ۔ بعض دفعہ تو سارا جسم دھڑکتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔جہاں بھی درد ہو اگر وہ اچانک ہو اور اس میں دھڑکن بھی پائی جائے، جھٹکے اور شور سے تکلیف بڑھتی ہو،گرمی کا احساس ہو تو بیلاڈونا کام آئے گا۔اس میں تشنج کا رجحان بہت نمایاں ہوتا ہے۔ بیلاڈونا ان اعصابی ریشوں کی دوا ہےجو وریدوں اور رگوں وغیرہ کے ارد گرد لپٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ان کو طبی اصطلاح میں سرکولرفائیبرز(Circular fibres)کہا جاتا ہے۔ جہاں بھی کہیں سرکولرفائیبرز میں تشنج ہوگا اگر وہ گرمی سے بڑھے توبیلا ڈونا ایسے تشنج کو دور کرنے میں بہت مؤثر ہے۔ بعض دفعہ حمل کے وقت رحم کے منہ کی نالی میں تشنج ہوجاتا ہے۔ بیلا ڈونا کی دوسری علامتیں ہوں تو فوراً اثر ظاہر ہوگا ورنہ کولوفائیلم اکثر اس تشنج کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جن بچوں کی عارضی بیماریوں میں بیلا ڈونا کام آئے ان کی مزمن بیماریوں میں کلکیریا کارب مفید ثابت ہوتی ہے۔ (صفحہ۷۱۳)

جو تشنج حرکت اور جھٹکے سے بڑھ جائے اس کا علاج بھی بیلاڈونا ہے۔اس کی ایک اور عجیب علامت یہ ہےکہ بیماری کے دوران کھانا کھانے سے طبیعت کچھ سنبھل جاتی ہے۔یہاں تک کے اگر پاگل کو بھی کچھ کھلا دیں تو اس کا جوش کچھ دیر کے لیے ٹھنڈا پڑجائے گا۔یہ علامت فاسفورس اور سورائینم میں بھی پائی جاتی ہے۔پاگل کو بھوک لگتی ہےلیکن چونکہ وہ بتاتا نہیں اس لیے اگر اسے کچھ کھانا دیا جائے تو اس کے اندر کی طلب اور بے چینی دور ہوجاتی ہے۔فاسفورس کا مریض بھی سخت بھوکا ہوتا ہےاور کھانا کھانے کے فوراًبعد اسے دوبارہ بھوک لگ جاتی ہے۔ (صفحہ۱۳۷)

بیلا ڈونا میں مریض کے دماغ پر خون کا دباؤ زیادہ ہوجائے تو اسے طرح طرح کے نظارے اور جن بھوت نظر آنے لگتے ہیں۔ڈراؤنے خواب مثلاً آگ لگنے کے خواب بھی آتے ہیں۔ایسے مریض کو بیلا ڈونا دیں تو آگ لگنےکے خواب آنے بند ہوجائیں گے۔بیلا ڈونا میں گہری بےہوشی کا رجحان ملتا ہےجس میں آنکھ کی ایک پتلی پھیل جاتی ہے۔یہ علامت اوپیم سے بھی ملتی ہےجبکہ اوپیم باقی علامتوں میں بیلا ڈونا سے مختلف ہے۔ (صفحہ۱۳۷-۱۳۸)

خیالات کے ہجوم اور ہیجانی کیفیت کی وجہ سے نیند اُڑجائے تو بیلا ڈونا ،کافیا اور فاسفورس سب مفید ہیں۔اعصابی ہیجان کی وجہ سے نیند اڑ جائے تو ذرا سے شور یا بستر کو ٹھوکر لگنےسے سخت اذیت پہنچتی ہےاور مرض میں ایک دم اضافہ ہوجاتا ہے۔نکس وامیکا میں بھی شور سے تکلیف بڑھتی ہے۔ چونکہ نکس وامیکا میں بیلا ڈونا کا عنصر پایا جاتا ہے۔اس لیے نکس وامیکا کی کئی علامتیں بیلا ڈونا سے ملتی ہیں۔(صفحہ۸۱۳)

بیلا ڈونا میں آرام کرنے سے آرام آتا ہےاور حرکت کرنے سے تکلیف بڑھتی ہے۔بیلا ڈونا کی اکثر مزاجی تکلیفیں اوپر سے نیچے کی طرف اترتی ہیں۔اگر سر ٹھیک ہوجائے تو جوڑوں اور اعصاب میں اوپر سے نیچے کی طرف دردیں حرکت کریں گی۔نیچے سے اوپر کی طرف حرکت کرنے والی بیماریوں کے علاج میں لیڈم (Ledum) نمایاں شہرت رکھتی ہے۔ (صفحہ۹۱۳)

اگر دماغ کے اعصابی ہیجان کی وجہ سے جسم کانپنے لگے یا خون کا دباؤ بہت بڑھ جائے ۔اس وقت اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے بیلا ڈونا استعمال ہوتا ہےاور یہ مؤثر اور فوری دواہے بعض دفعہ بیلا ڈونا کی پیاس برائیونیا سے ملتی ہےیعنی بہت شدید پیاس ،لیکن پانی پینےسے تسکین نہیں ملتی اور بعض دفعہ آرسینک کی طرح منہ خشک ہوتا ہےاور مریض تھوڑا تھوڑا پانی پی کر پیاس بجھانے کی کوشش کرتا ہے۔آرسینک اور برائیونیا کی دوسری علامتیں بیلا ڈونا سے مختلف ہیں مگر منہ کی خشکی میں تینوںمشترک ہیں۔ (صفحہ۱۴۰)

بیلا ڈونا مزاج کی عورتوں میں کھٹی چیزیں کھانے کا شوق ہوتا ہے۔ (صفحہ۱۴۰)

بیلا ڈونا کی ایک علامت ٹانگوں میں Crampsیعنی اینٹھن کا رجحان بھی ہے۔بیلا ڈونا میں تشنج سر کو پیچھے کی طرف کھینچتا ہے۔بیلا ڈونا کی طرح ایپس میں بھی گرمی کی شدت اور سوجن کی علامات پائی جاتی ہیں۔بیلا ڈونا اور ایپس میں فرق یہ ہےکہ بیلا ڈونا میں چونکہ ماؤف حصہ کے علاوہ باقی جسم ٹھنڈا ہوتا ہےاس لیے مریض گرم ہونا چاہتا ہےاور اپنے آپ کو گرم کپڑوں میں لپیٹتا ہے۔ایپس میں مریض کا سار ا جسم جلتا ہےاور اس سے کسی قسم کی گرمی برداشت نہیں ہوتی بلکہ اگر ایسے مریض کو آگ کے سامنے بٹھا دیا جائےتو تشنج شروع ہوجاتا ہے۔ (صفحہ۱۴۱)

بیلا ڈونا کی علامات میں چھونے،جھٹکا لگنے ،شوروغل اور ہوا کے جھونکوں سے اضافہ ہوجاتا ہے۔نیم دراز ہونے کی حالت میں افاقہ محسوس ہوتا ہے۔ (صفحہ۱۴۲)

بیلس

Bellis perennis

بیلس ٹخنے کی موچ، پٹھوں کے درد اور چوٹ کے نتیجہ میں اجتماع خون کے لیے بہترین دوا ہے لیکن یہ آرنیکا اور روٹا کی طرح بہت کثرت سے استعمال نہیں ہوتی حالانکہ ان تکالیف میں یہ بہت اہم ہے۔ ٹخنے کی موچ بہت تکلیف دہ چیز ہے اور زندگی بھر ٹھیک نہیں ہوتی لیکن بیلس دینے سے ٹخنے کا بہت پرانا درد بھی رفتہ رفتہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ بسا اوقات چلتے چلتے ٹخنے مڑ جاتے ہیں اور شدید درد ہوتا ہے۔ آرنیکا سے وقتی فائدہ ہو جا تا ہے لیکن کچھ عرصہ کے بعد درد دوبارہ ظاہر ہو تا ہے ۔ ایسی تکلیف کے دائمی ہونے کا رجحان بیلس کے استعمال سے ختم ہو جاتا ہے۔بیلس کی تکالیف ٹھنڈی ہوا سے شدت اختیار کرلیتی ہیں۔محنت کش کسانوں اور مزدورو ں کی جسمانی تھکاوٹ اور درد کو دور کرنے کے لیے بیلس بہترین دوا ہے۔لمبے عرصہ کی مسلسل محنت کے نتیجہ میں جوڑ جواب دے جائیں تو بیلس دینے سے فائدہ ہوتا ہے۔ (صفحہ۱۴۳)

بیلس کا ریڑھ کی ہڈی کے عضلات سے گہرا تعلق ہے۔ عضلات میں کمزوری آ جاتی ہے جس کی وجہ سے ہڈی کے مہرے ادھر ادھر مڑ جاتے ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی کےعضلات کو طاقت بخشنے کے لیے بیلس بہترین ثابت ہوتی ہے۔ ایک آدھ مہرے میں بھی تکلیف ہو تو چلنا پھرنا دو بھر ہو جاتا ہے اس صورت حال میں بیلس بہت نمایاں اثر دکھاتی ہے۔ ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ اور اعصاب میں سوزش کے لیے بھی بیلس بہت اچھی ہے۔دمچی کی تکلیف کے لیے ہائی پیریکم(Hypericum) بہت خاص دوا ہے۔ اسے بیلس یا آرنیکا سے ملا کر دیں تو انشاء اللہ فائدہ اور بھی زیادہ ہو گا۔ٹھنڈے پانی سے نہانے سے اور ٹھنڈی ہوا سے مرض بڑھتا ہے۔ (صفحہ۱۴۳۔۱۴۴)

بنزوئیکم ایسڈم

Benzoicum acidum

(Benzoic Acid)

بنزوئیک ایسڈ کی سب سے واضح علامت پیشاب میں شدید بو ہے جو گھوڑے کے پیشاب کی بدبو سے مشابہ ہوتی ہے اور اس سے پیچھا چھڑوانا بہت مشکل ہوتا ہے۔یہ ایسی ہی غیرمعمولی بدبو ہوتی ہےکہ بعض دفعہ کپڑے دھونے سے بھی ختم نہیں ہوتی۔جس گھر میں ایسے مریض ہوں اگر وہ کپڑوں کی صفائی کا خاص اہتمام نہ کریں تو ایسے گھر میں داخل ہوتے ہی شدید بو کا جھونکا آتا ہےبعض بچے رات کو بستر گیلا کردیتے ہیں جس سے دوہری مصیبت بن جاتی ہے۔سارا گھر بدبو سے بھر جاتا ہےاور کپڑوں پر ایسے داغ لگ جاتے ہیںجو دھونے سے بھی نہیں اترتے ۔پیشاب بہت گہرے رنگ کا سیاہی مائل ہوتا ہے۔ایسے مریضوں میں اگر یورک ایسڈ کی زیادتی ہو تو یہ دوا کام آتی ہے۔گردوں میں درد اور اس کے دیگر افعال میں کمزوری واقع ہوجاتی ہے۔عموماً کھلا پیشاب آتا ہےلیکن پیشاب کی مقدار کم ہوجائے تو جوڑوں میں درد ہونے لگتا ہے۔ (صفحہ۱۴۵)

بنزوئیک ایسڈ میں صبح کے وقت مریض کی آواز بیٹھی ہوئی ہوتی ہے۔سبزی مائل بلغم خارج ہوتی ہے۔کھانسی رات کو بڑھ جاتی ہے۔رات کو سوتے ہوئے درد میں اضافہ ہوتا ہے۔آدھی رات کے بعد شدید دھڑکن اور گرمی کی شدت کی وجہ سے مریض کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ (صفحہ۱۴۶)

(ڈاکٹر لئیق احمد)

(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)

مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۹)(قسط ۱۳۴)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button