یورپ (رپورٹس)

جرمنی میں دوسرے نیشنل سوشل میڈیا سیمینار کا کامیاب انعقاد

اللہ تعالیٰ کے فضل سے ڈیٹسن باخ، جرمنی کی مسجد بیت الباقی میں مورخہ ۱۸؍جنوری ۲۰۲۶ء کو دوسرا نیشنل سوشل میڈیا سیمینار منعقد کیا گیا۔ اِس سیمینار میں جرمنی کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا پر سرگرم احباب نے شرکت کی۔ تقریباً پانچ گھنٹے پر مشتمل یہ ایک جامع تربیتی ورکشاپ تھی جس میں مربیان سلسلہ اور ماہرینِ سوشل میڈیا نے شاملین کو نظریاتی اور عملی دونوں پہلوؤں سے تربیت فراہم کی۔

اس پروگرام کی صدارت مکرم حافظ فرید احمد خالد صاحب نیشنل سیکرٹری تبلیغ و چیئرمین سوشل میڈیا کمیٹی نے کی جبکہ تقریب کی نظامت کے فرائض مکرم عطاء الوحید خان صاحب اسسٹنٹ نیشنل سیکرٹری تبلیغ نے انجام دیے۔

سیمینار کا آغاز صبح ساڑھے دس بجے تلاوت قرآن کریم و ترجمہ سے ہوا۔ صدر اجلاس نے افتتاحی تقریر میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشادات کی روشنی میں سیمینار کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ مکرم عدیل احمد خالد صاحب مبلغ سلسلہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ سوشل میڈیا پر تبلیغ کرتے ہوئے ہمیں ہر حال میں اسلامی تعلیمات کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ نیز سوشل میڈیا پر تبلیغ کرنے کے اصولوں کی طرف توجہ دلائی۔

مکرم عطاء الوحید خان صاحب نے شاملین کے لیے ایک مرکزی واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا جس میں QRکوڈ کے ذریعے شاملین بآسانی شامل ہوئے۔ اس گروپ کا مقصد یہ تھا کہ سیمینار کی تمام سلائیڈز، اہم نکات، ویڈیوز اور مثالیں اسی وقت سب کے ساتھ شیئر کی جا سکیں۔

مکرم ناصر احمد صاحب پروفیشنل سوشل میڈیا ایڈوائزر نے دوستانہ اور مؤثر انداز میں مختلف پلیٹ فارمز پر گفتگو کی: فیس بُک، انسٹا گرام، یوٹیوب، ایکس (سابق ٹوئٹر)۔ موصوف نے بتایا کہ الگورتھم یہ طے کرتا ہے کہ کون سا مواد زیادہ پھیلے گا۔ اشتعال انگیز اور جذباتی مواد اکثر زیادہ وائرل ہوتا ہے۔ بعض لوگ جان بوجھ کر نفرت انگیز موضوعات چھیڑتے ہیں تاکہ ناظرین تک رسائی بڑھے۔ مثبت اور منفی رجحانات ایک ساتھ چلتے ہیں۔ آپ نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا بیک وقت فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے اور نقصان دہ بھی، اس کا دارومدار استعمال کرنے والے پر ہے۔

اسی طرح ’’سوشل میڈیا، بیانیہ اور جرمنی میں مسلمانوں کی عوامی شبیہ‘‘ کے موضوع سے ایک تفصیلی مباحثہ ہوا۔ شرکاء نے اس سوال پر غور کیا کہ جرمنی میں مسلمانوں کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے؟نیز ہمیں کون سا مثبت بیانیہ طویل مدت تک قائم رکھنا چاہیے؟

مکرم احیاء الدین صاحب مبلغ سلسلہ نے سیمینار میں مختلف سوشل میڈیا پوسٹس اور ویڈیوز کو دکھا کر تجزیہ کرتے ہوئے ان نکات کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ بعض پوسٹس میں سیاق و سباق موجود نہیں تھا۔ کئی ویڈیوز میں لوگو یا شناخت غائب تھی۔ بعض کے مواد میں واضح مخاطب ہی معلوم نہیں ہو رہا تھا۔ لہذا کمزور پیشکش نیک نیتی کے باوجود نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ موصوف نے شاملین کو بتایا گیا کہ۱۰تا ۱۵؍سیکنڈ کی سادہ ویڈیوز بغیر موسیقی اور ایڈیٹنگ کے اپنے واضح پیغام کے ساتھ لاکھوں ویوز حاصل کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک سادہ ویڈیو دکھائی گئی جس نے دو ملین سے زائد ویوز حاصل کیے۔

شرکاء کو بتایا گیا کہ پہلی تصویر، پہلا جملہ اور ویڈیو کے پہلے تین سیکنڈ انتہائی فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ صرف نیک نیتی کافی نہیں بلکہ مواد واضح، زبان سادہ، پیغام مختصر اور ہدف متعین ہونا چاہیے۔ اس موضوع پر خصوصی گفتگو ہوئی کہ ہر وائرل ٹرینڈ اپنانا ضروری نہیں۔ بعض آوازیں سیاسی یا انتہاپسندانہ تاثر دے سکتی ہیں۔ بعض رجحانات قانونی مسائل کا باعث بھی بن سکتے ہیں، لہٰذا توازن ضروری ہے۔

عملی ورکشاپ میں شاملین کوبعض نفرت انگیز جملے دیے گئے تاکہ وہ اس کے جواب میں ویڈوز پیغام تیارکریں۔ شرکاء سے کہا گیا کہ فوری ردعمل سوچیں، پھر باوقار اور مختصر جواب تیار کریں۔ شرکاء کو یہ اصول سکھائے گئے کہ الزام دہرانا نہیں، طنز نہیں کرنا، سختی کے بدلے نرمی اختیار کرنی ہے نیز بحث نہیں بلکہ محبت کا پیغام دینا ہے۔

مکرم فرہاد احمد طاہر صاحب جو کہ برلن سے آن لائن ہوکر اس سیمینار کے شرکاء سے مخاطب تھے، نے بتایا کہ TikTok جذباتی اور تیز مواد کا ذریعہ ہے۔ YouTube سنجیدہ اور تفصیلی مواد مہیا کرتا ہے جبکہ Instagram اور Facebook درمیانی درجے کے لیے سمجھے جاتے ہیں۔ ہر پلیٹ فارم کے لیے الگ الگ حکمت عملی ضروری ہے۔

اس بات پر زور دیا گیا کہ ہر ویڈیو میں واضح لوگو، چینل کا نام اور آفیشل شناخت ہونی چاہیے تاکہ ناظرین جان سکیں کہ یہ مستند جماعتی مواد ہے۔ سوشل میڈیا صرف تکنیک کا نام نہیں بلکہ نیت اور دل کی کیفیت بھی اثر ڈالتی ہے۔ ایک ہی جملہ مختلف افراد کی زبان سے مختلف اثر پیدا کرتا ہے۔ لہذا ہمیں شور نہیں بلکہ نمونہ بننا ہے۔ اپنی واضح شناخت رکھنی ہے۔ مثبت اور باوقار پیغام دینا ہے۔ مستقل مزاجی ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے اس میں بیان کی گئی معلومات کو سراہا اور کہا کہ آج ہمیں اُن باتوں کو علم ہوا ہے جو ہمارے وہم وگمان میں بھی نہ تھیں۔ نیز علمی و عملی دونوں طریق سے ہماری مشق ہوئی ہے۔ آخر پر مکرم حافظ لقمان جٹ صاحب مقامی مبلغ سلسلہ نے دعا کروائی اور یہ سیمینار شام ساڑھے چار بجے اختتام پذیر ہوا۔

اللہ تعالیٰ تمام شاملین کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق تبلیغی جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین

(رپورٹ:صفوان احمد ملک۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ فن لینڈ کے وفد کی Karkkilaکے میئر کے ساتھ ملاقات نیز لائبریری کا دورہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button