متفرق شعراء

قرآں جواہرات کی تھیلی ہے، دوستو

قلب و نظر کو ذکر سے پُر نور کیجیے
فرقاں سے روح اپنی یوں مسرور کیجیے

تسخیر ہوں گے دل سبھی رب کے کلام سے
دنیا کو اس کے سحر سے مسحور کیجیے

قرآں جواہرات کی تھیلی ہے، دوستو
افلاسِ روح اب اسی سے دور کیجیے

ہے شرک و دجل و کفر کا طوفان ہر جگہ
قلعے میں رب کے نفس کو محصور کیجیے

سامانِ خیر اس میں ہیں دنیا و دین کے
معمولِ زیست کا اسے دستور کیجیے

محفوظ کیجیے اسے حتی الوسع ضرور
سینے کو اس طریق سے پھر طور کیجیے

یہ جام ہے خدا کا جو اترا ہے عرش سے
جامِ خدا سے روح کو مخمور کیجیے

اپناؤ اس کو دل سے، کہ اگلے جہان میں
رب کے حضور خود کو ماجور کیجیے

زینت بنائیے نہ اسے طاقچوں کی بس
رکھیے لگا کے دل سے، نہ مہجور کیجیے

اے دشمنان حق! ذرا اس کو تو دیکھیے
راہ ہدیٰ سے خود کو نہ مفرور کیجیے

ثانی کوئی زمانے میں اس کا نہیں ہوا
ہے مثل کوئی تو ذرا مذکور کیجیے؟

ہر حرف اس کا رب کی کامل شفا، شفا
کیوں زخم دل کے بے جا ناسور کیجیے

عرفاں فیوضِ خاص کا احمد نے ہے دیا
تفسیر سے افادہ سو بھرپور کیجیے

امن و سکون کی ہے ضمانت اسی نے دی
سائے میں اس کے غم سبھی کافور کیجیے

‘‘اَلخَیرُ کُلُّہٗ’’ کی بشارت اسی نے دی
جیون کو اپنے حقّ سے معمور کیجیے

بہتر نہیں جہان میں اس سے کوئی بھی شے
منظوم کیجیے اسے منثور کیجیے

قرآن پر عمل سے ہی سرور ہے زندگی
رب کی نظر میں خود یوں منظور کیجیے

(محمد ابراہیم سرور۔ قادیان)

مزید پڑھیں: دعا دینا دعا کرنا دعا لینا عبادت ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button