علومِ ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا
جیسا کہ پیشگوئی کے الفاظ ہیں کہ وہ لڑکا علومِ ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا خدا تعالیٰ نے خود ان کی ذہانت کو جلا بخشی اور علوم سے پُر کیا۔
دنیاوی لحاظ سے تو آپ کی تعلیم شاید پرائمری تھی بلکہ یہ بھی نہیں تھی۔ ہاں سکول جاتے رہے لیکن امتحانوں میں حضرت مصلح موعودؓ نے خود لکھا ہے، بتایا ہے کہ کبھی پاس نہیں ہوتے تھے۔ دنیاوی مضمونوں میں بہت کمزور تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپؓ سے ایسے ایسے علمی اور دینی اور انتظامی کام کروائے ہیں کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے بھی آپؓ کے سامنے طفلِ مکتب لگتے ہیں، بالکل بچے لگتے ہیں اور آپؓ کا باون سالہ دورِ خلافت اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
آپؓ نے دنیا کے مختلف موضوعات پر بےشمار تقاریر کیں، مضامین لکھے۔ دینی اور قرآنی علوم کی تو کوئی انتہا ہی نہیں ہے۔ آپؓ نے دنیاوی موضوعات پر بھی، ملکی سیاست، بین الاقوامی سیاست کے بارے میں تقاریر کیں، مضمون لکھے۔ تاریخی حوالے سے غیر معمولی معیار کے مضامین لکھے اور تقاریر کیں۔ اقتصادی امور اور دنیا کے مختلف نظاموں سوشل ازم، کمیونزم، کیپٹل ازم کے بارے میں بھی ان کا تجزیہ کیا اور ایک تقریر کی جو بعد میں کتابی صورت میں بھی چھپ گئی۔ یہ جماعت کے لٹریچر میں موجود ہے۔ حتٰی کہ عسکری معاملات، فوجی معاملات اور سائنسی اور علمی موضوعات پر بھی علم و معرفت کی وہ باتیں بیان فرمائیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ بہت سی تقاریر آپؓ نے غیروں کے سامنے کیں اور وہ ان کی گہرائی اور معرفت کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکے۔ ہزاروں صفحات پر یہ مضامین اور تقاریر حاوی ہیں۔…
اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پیشگوئی میں جو وعدہ فرمایا تھا اسے ہر پہلو سے حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد میں پورا ہوتا دکھایا۔ چند مثالیں میں نے ابھی آپ کو دی ہیں۔آپؓ کے علم و عرفان کے اس لٹریچر کو ہمیں پڑھنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے اوربہت ساری ایسی باتیں ہیں جو آجکل کے حالات میں بھی منطبق ہو رہی ہیں اور اس سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے۔
(خطبہ جمعہ ۲۱ فروری ۲۰۲۵ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۱۴؍مارچ۲۰۲۵ء)




